آسی جونپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آسی جونپوری (1834ء - 1917ء ) جونپور ، ہندوستان کے ایک عالم دین ،بزرگ اور شاعر تھے ، ان کا اصل نام شاه عبدالعلیم تھا اور آسی تخلص کرتے تھے۔ آپ 19شعبان 1250 ہجری بمطابق 21 دسمبر1834 عیسوی کو ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے علاقے غازی پور میں پیدا ہوئے۔ آپ خانقاہ رشیدیہ جونپور کے سجادہ نشین تھے۔ آپ ایک جید عالم دین اور کامل صوفی بزرگ تھے۔

آپ ہندوستان کے ان باکمال شعرا میں سے ایک ہیں ،جن کے کلام پر قلم اٹھاتے ہوئے بڑے بڑے نقاد بھی گھبراتے ہیں مجنوں گورکھپوری جیسے “ میں نہ مانوں “ قسم کے نقاد نے بھی آپ کے فن کو سراہا ہے۔آپ کا کلام معرفت و حقیقت میں ڈوبا ہوا ہے۔

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے نانا مفتی احسان علی سے حاصل کی پھر شاہ غلام معین الدین کے ہاں خانقاہ رشیدیہ میں عربی میں استعدادعلمی حاصل کی۔ میر قطبی تک پہنچے کہ حاجی منشی امام بخش نے اپنی جائداد سے چار آنے وقف کر کے مدرسہ حنفیہ کی بناڈالی بقیہ علم آپ نے وہیں سے حاصل کیا۔ قطب الہندی حضرت شیخ غلام معین الدین کے مرید ہوئے طبابت کو ذریعہ معاش بنایا اور ایک کتاب” رسالہ فی المنطق “ لکھی۔

آپ میں عجزو انکسای ، حکمت و حلیمی اور انسانیت سے محبت اعلی درجے کی تھی۔ آپ نے کبھی کسی کو ذات پات ، رنگ نسل ، قوم مذہب کی بنا پر حقیر یا قابل نفرت نہیں سمجھا۔ آپ کے پاس مسلمان ، ہندو ، سکھ بلا تفریق آتے جاتے تھے۔ اور آپ اپنے مریدین ، معتقدین اور شاگردوں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔ اخلاق محمدی کی تصویر تھے۔ آخری عمر میں نوعمری کی کژت ریاضت کی وجہ سے کمزور ری پیدا ہو گئی تھی ۔ زانو کے درد کی وجہ سے نقل وحرکت کرنے سے مجبور ہو گئے۔ بعد ازاں بصارت بھی جاتی رہی۔ وفات سے پانچ برس پہلے متلی کا مرض لا حق ہو گیا تھا۔ اس لیے کھانے پینے سے پرہیز ہو گیا اور صرف چائے پر گزارا ہوتا رہا۔ اپنی خلافت سید شاہد علی سبز پوش کو عطا کرکے 85 برس کی عمر میں 2 جمادی الاول 1335 ہجری بمطابق 24 فروری 1917 عیسوی کو انتقال کر گئے۔ آپ کا مزار محل نور الدین اور غازی پور میں سسرالی مکان کی مشرقی سمت میں واقع ہے۔

آپ کی فضیلت و بزرگی کے بہت سے واقعات ہیں ۔ آپ کا کلام تصوف ، ایمان اورمعرفت سے مرصع ایک نادر مرقع ہے ۔

نمونہ کلام[ترمیم]

اشعار[ترمیم]

جنون عشق سے ممکن نہیں ہی چھٹکارا

غبار ہو کے بھی آسی پھرو گے آوارہ

اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا

پھر اس کے آگے بڑھ کے خدا جانے کیا ہوا

حوالہ جات[ترمیم]

1۔‎ معلومات انسائیکلو پیڈیا، جلد 29 ، صفحہ 592/593