مندرجات کا رخ کریں

آندرس بحرنگ بریوک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
آندرس بحرنگ بریوک
(بوکمول میں: Anders Behring Breivik)، و(بوکمول میں: Fjotolf Hansen)[1]، (بوکمول میں: Far Skaldigrimmr Rauskjoldr av Northriki)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (بوکمول میں: Anders Behring Breivik ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 13 فروری 1979ء (47 سال)[3][4][5][6]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اوسلو [7]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش اوسلو   ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت ناروے   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب پروٹسٹنٹ (Church of Norway)[8][9]
عارضہ غیرسماجی شخصیت کی خرابی کا عارضہ [10][11]
نرگسی شخصیت کا مرض [10][11]  ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ اوسلو (2015–)[12]  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ کارجو [13]،  دہشت گرد ،  سازشی نظریہ ساز   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ناروی [14]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل دہشت گردی [15]  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الزام و سزا
جرم قتل فی: 24 اگست 2012)[13][16]
دہشت گردی فی: 24 اگست 2012)[16][13]
قتل فی: 24 اگست 2012)[13][16]
دہشت گردی فی: 24 اگست 2012)[13][16]  ویکی ڈیٹا پر (P1399) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اینڈرز برِیوِک (پیدائش: 13 فروری 1979ء) ناروینی جس نے 22 جولائی 2011ء کو ناروے قتل واقعہ میں شہرت پائی۔ اینڈرز قدامت پسند مسیحی، دائیں بازو رحجان اور مسلم مخالف خیالات رکھتا ہے۔ اوسلو سے 25 میل دور جزیرہ پر ناروے حکومتی جماعت کے لگائے گئے نوجوانوں کے لیے کیمپ میں سرگرمیوں سے بیزار ہو کر، پاسبان لباس پہنے، اس نے اپنی بندوق کا دہانہ کھول دیا۔ اس کارروائی میں 85 کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔[17][18] بتایا جاتا ہے کہ اس سے پہلے اس نے اوسلو میں بم دھماکا کیا اور پھر کشتی پر بیٹھ کر جزیرہ پر پہنچا۔ پاسبان ڈیڑھ گھنٹہ بعد جزیرہ پر پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔[19]

حالات زندگی

[ترمیم]

بریوِیک 1979ء میں اوسلو میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین نے پہلے کی شادیوں سے بھی بچے پیدا کیے تھے۔ وہ بریوِک کی پیدائش سے کچھ ہی عرصہ پہلے شادی کیے تھے اور بیرون ملک چلے گئے، جہاں اس کے والد ناروے کے خارجہ امور کی خدمات میں کام کرتے تھے۔ 1980ء میں ان کا طلاق ہو گیا اور بریوِیک اپنی ماں اور سوتیلی بہن کے ساتھ اوسلو میں پلا بڑھا، اپنے والد سے اس کا رابطہ صرف چھٹیوں میں ملاقاتوں تک محدود رہا۔ اس کی ماں نے دو بار چائلڈ ویلفیئر سروسیز سے مدد مانگی کیونکہ وہ اسے ایک مشکل بچہ سمجھتی تھیں اور 1983ء میں بریوِیک کو چائلڈ سائیکاٹری سروسیز (بچوں کی نفسیات سے جڑی خدمات) نے معائنہ کیا۔ ماہرین نے اس کی پرورش کی صورت حال کو اتنی زیادہ خراب قرار دیا کہ یہ خدشہ ظاہر کیا کہ وہ شدید ذہنی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے اور انھوں نے اسے فوسٹر کیئر (رضاعی دیکھ بھال) میں دینے کی سفارش کی۔ تاہم اسی چائلڈ ویلفیئر سروسیز والے ادارے نے اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور مختصر مدت کی ہوم سپرویژن (گھریلو نگرانی) کے بعد 1984ء میں بچے کی طبی دیکھ ریکھ سے جڑا کیس بند کر دیا گیا۔[20]

بریوِک نے اپنے خوش حال مقامی علاقے کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی، جہاں وہ ایک گروپ کا حصہ تھا جس کے دیگر افراد نے بعد میں اسے قدرے شرمیلا مگر بہت ہی ملنسار اور وفادار قرار دیا۔ نو عمری میں وہ اپنے جسمانی خد و خال پر بہت توجہ دیتا تھا، ورزش کرتا، انابولک سٹیرائڈز (anabolic steroids) استعمال کرتا اور بیس کی دہائی کے اوائل میں اس نے ناک کی پلاسٹک سرجری بھی کروائی۔ اگرچہ وہ ذہین تھا، لیکن اس نے ہائی اسکول کے حتمی امتحانات سے قبل ہی اسکول چھوڑ دیا۔ اس نے کئی کاروبار شروع کیے، جن میں جعلی ڈگریاں انٹرنیٹ پر بیچنا بھی شامل تھا۔ اس دور میں وہ خود کو کامیاب کاروباری شخص ظاہر کرتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ اس نے کروڑوں کمائے، جب کہ پولیس کے مطابق اسے جعلی ڈگریوں اور اسٹاک ایکسچینج کی فروخت سے تقریباً 45 لاکھ نارویجن کرونر (تقریباً 6 لاکھ یورو) حاصل ہوئے۔[20]

2006 میں وہ دیوالیہ قرار پایا اور اپنی ماں کے ساتھ رہنے لگا۔ اس کے دوستوں کے مطابق اس وقت سے اس کے رویوں میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ وہ دن کا زیادہ تر وقت "ورلڈ آف وارکرافٹ" نامی آن لائن گیم کھیلنے میں گزارتا، گوشہ نشین ہو گیا اور دوستوں سے رابطہ ختم کر دیا۔ اس کے دوستوں کو خدشہ ہوا کہ وہ جوا کھیلنے کی لت میں مبتلا ہو چکا ہے۔ 2009 میں اس نے ایک زرعی کمپنی قائم کی اور 2011 کے موسم بہار میں اوسلو کے باہر ایک دیہی علاقے میں ایک فارم کرائے پر لیا، جس سے اسے بڑی مقدار میں کھاد خریدنے کا موقع ملا، بغیر کسی شک و شبہ کے۔[20]

یہ پس منظر کی معلومات بریوِیک کی جانب سے 22 جولائی 2011 کو آن لائن پوسٹ کیے گئے دستاویز، جسے وہ "مینی فیسٹو" یا منشور کہتا ہے، میں دی گئی تفصیل سے مختلف ہے۔ اس کے 1500 صفحات پر مشتمل زیادہ تر مواد مختلف ذرائع سے نقل کیا گیا ہے، جن میں شدت پسند گروہ، دائیں بازو کے بلاگرز، کارل مارکس، ٹونی بلیئر، اسامہ بن لادن اور جارج بش شامل ہیں۔ اس دستاویز میں وہ نہ صرف کثیر الثقافتی معاشروں، اسلام اور مارکسزم کے بارے میں اپنے انتہا پسند خیالات پیش کرتا ہے، بلکہ اپنی زندگی کی ایک ایڈیٹ شدہ (ترمیم شدہ) کہانی بھی سناتا ہے۔ تاہم دوسروں سے حاصل شدہ معلومات اس کی بیان کردہ کہانی پر شدید شکوک و شبہات ڈالتی ہیں۔ اسی طرح "نائٹس ٹیمپلر" (Knights Templars) نامی تنظیم کی موجودگی پر بھی شدید شبہات ہیں، جس کا بریوِیک بار بار ذکر کرتا ہے کہ یہ تنظیم اس کے حملوں کی محرک تھی۔ دیگر دائیں بازو کے گروہوں نے اس تنظیم سے لاعلمی ظاہر کی ہے اور نارویجین و بین الاقوامی پولیس تحقیقات میں اس تنظیم کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔[20]

اس طرح سے یہ واضح ہوتا ہے بریویک ایک تباہ کن تخیلی دنیا کے تصور میں جی رہا تھا، جیسا کہ اس منشور سے ظاہر ہوتا ہے جو اس نے 2011ء کے اپنے حملے سے پہلے جاری کیا تھا۔ اس حمے اور منشور میں مذکور باتوں کی دنیا کے بیش تر افراد نے پر زور مذمت کی۔ مگر دنیا کے چند دائیں بازو کے لوگ جو قومی یا مذہبی انتہا پسندی کے حامی سمجھے جاتے ہیں، نے واضح طور پر یا در پردہ اس حملے اور منشور کی تائید کی۔[20]


جائزہ

[ترمیم]

اینڈرز بریوِک ایک نارویجین شہری ہے جس نے 22 جولائی 2011 کو اوسلو میں بم دھماکا اور بعد ازاں ایک جزیرے پر فائرنگ کرکے تقریباً 85 افراد کو قتل کر دیا۔ وہ دائیں بازو کے خیالات، مسلم مخالف نظریات اور ایک خیالی شدت پسند تنظیم "نائٹس ٹیمپلر" سے وابستگی کا دعویٰ کرتا تھا۔ اس کا بچپن مسائل سے بھرپور تھا، ذہنی صحت پر سوالات اٹھے، مگر وہ فوسٹر کیئر میں نہیں گیا۔ نوجوانی میں وہ ظاہری شکل و صورت کا دلدادہ، مگر سماجی طور پر محدود رہا۔ تعلیم ادھوری چھوڑ دی، جعلی کاروبار کیے اور بالآخر دیوالیہ ہوا۔ حملے سے قبل اس نے ایک زرعی کمپنی بنا کر بڑی مقدار میں کھاد حاصل کی، جس سے بم بنانے میں مدد ملی۔ اس کا 1500 صفحات پر مشتمل منشور مختلف نظریات اور شخصیات سے چُرایا گیا مواد تھا، جس میں وہ اپنے نظریات اور زندگی کو ایک "ہیرو" کے طور پر پیش کرتا ہے، تاہم تحقیق سے ثابت ہوا کہ اس کی اکثر باتیں غلط اور خیالی تھیں۔ وہ اس حملے بعد 21 سال کی سزا بھی کاٹ رہا ہے، جس میں ممکن ہے توسیع بھی ہو۔ اس طرح سے اس نے خراب بچہن، خاندانی مسائل، صحیح نفسیاتی رہنمائی کے فقدان اور سب سے بڑھ کر انتہا پسند نظریات کی وجہ سے کئی معصوموں کا قاتل تو بنا ہی، مگر بالاًًخر اس نے اپنی خود کی زندگی بھی تباہ و برباد کی اور آزادانہ زندگی کی بجائے سالہا سال قید و بند اور عوامی رسوائی کی زندگی اختیار کی۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. تاریخ اشاعت: 9 جون 2017 — Anders Behring Breivik har skiftet navn — اخذ شدہ بتاریخ: 28 جنوری 2022 — اقتباس: Massedrapsmannen har ifølge folkeregisteret skiftet navn til Fjotolf Hansen.
  2. تاریخ اشاعت: 4 مارچ 2025 — Aftenposten
  3. Aftenposten - 24-07-2011 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 جنوری 2024
  4. تاریخ اشاعت: 23 جولا‎ئی 2011 — Profile: Anders Behring Breivik — اخذ شدہ بتاریخ: 9 جنوری 2024
  5. انٹرنیٹ مووی ڈیٹابیس آئی ڈی: https://www.imdb.com/name/nm5008063/ — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اکتوبر 2015
  6. عنوان : Store norske leksikon — ایس این ایل آئی ڈی: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=4342&url_prefix=https://snl.no/&id=Anders_Behring_Breivik — بنام: Anders Behring Breivik
  7. تاریخ اشاعت: 23 جولا‎ئی 2011 — Profile: Anders Behring Breivik — اخذ شدہ بتاریخ: 9 جنوری 2024
  8. https://web.archive.org/web/20160321130139/http://www.dagbladet.no/f/cfakepathrmk.pdf
  9. https://web.archive.org/web/20160321130139/http://www.dagbladet.no/f/cfakepathrmk.pdf
  10. تاریخ اشاعت: 17 جولا‎ئی 2015 — Breivik får tilbud om studieplass ved Universitetet i Oslo
  11. ^ ا ب تاریخ اشاعت: 24 اگست 2012 — Her er hele dommen mot Anders Behring Breivik
  12. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=pna2016932582 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مارچ 2022
  13. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=pna2016932582 — اخذ شدہ بتاریخ: 7 نومبر 2022
  14. تاریخ اشاعت: 24 اگست 2012 — https://lovdata.no/dokument/TRSTR/avgjorelse/toslo-2011-188627-24/KAPITTEL_6-2
  15. "Norway mourns twin attack victims"۔ بی بی سی۔ 23 جولائی 2011ء۔ 2018-12-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-07-22
  16. "فعل وحشیانہ مگر ضروری تھا: حملہ آور"۔ بی بی سی۔ 24 جولائی 2011ء۔ 2018-12-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-07-22
  17. "Unanswered questions in Norway terror attack"۔ عالمی اشتراکی موقع۔ 28 جولائی 2011ء۔ 2018-12-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-07-27
  18. ^ ا ب پ ت ٹ Ingrid Melle۔ "The Breivik case and what psychiatrists can learn from it"۔ PubMed Central۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-04-16