ابوبکر بن سالم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو بكر بن سالم
معلومات شخصیت
پیدائش 16 اگست 1513  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تریم، یمن  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 30 دسمبر 1584 (71 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت یمن
لقب صاحب عينات
مذہب اسلام
فرقہ شافعي
رشتے دار عمر بن عبد الرحمن العطاس (حفيد أخ)
خاندان باعلویہ
عملی زندگی
وجۂ شہرت جد آل الشيخ أبي بكر بن سالم

شیخ ابوبکر بن سالم درود تاج کے مصنف اورولایت و امامت کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔

ىسب[ترمیم]

ان کا مکمل نام ابوبكر بن سالم بن عبد اللہ السقاف صاحب عينات باعلوی ہے۔[1] جبکہ نسباس طرح ہے ابو بكر بن سالم بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عبد الرحمن السقاف بن محمد مولى الدويلة بن علي بن علوي الغيور بن الفقيہ المقدم محمد بن علي بن محمد صاحب مرباط بن علي خالع قسم بن علوي بن محمد بن علوي بن عبيد اللہ بن احمد المهاجر بن عيسى بن محمد النقيب بن علي العريضي بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علي زين العابدين بن الحسين السبط بن علي بن ابي طالب، وعلي زوج فاطمة بنت محمد صلى اللہ عليہ وسلم۔

ولادت[ترمیم]

آپ 13 یا 23 جمادی الاول 919ھ بمطابق 1513ءحضرموت کے شہر تریم میں پیدا ہوئے۔ ساداتِ باعلویہ کے کتنے ہی ائمہ نے آپ کی ولادت سے قبل آپ کی آمد کی بشارت دی جن میں سے ایک سیدنا الامام حبیب ابوبکر العیدروس صاحب العدن بھی ہیں۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ کے والدشیخ سالم اپنے فرزند شیخ ابوبکر کو شیخ شھاب الدین احمد بن عبدالرحمن کے پاس لے گئے جو شہر تریم کے اکابر بزرگانِ دین میں سے تھے۔ شیخ کے پاس پہنچ کر اپنے فرزند کی حفظِ قرآن اور قوتِ حافظہ سے متعلق دشواریوں کا ذکر کیا تو شیخ نے فرمایا کہ اس پر زیادہ بوجھ نہ ڈالو اور اس کے حال پر چھوڑدو، وہ خود ہی اپنے آپ کو اس کے لیے وقف کرے گا اور اس کے معاملات بہت اعلیٰ ہوں گے۔ شیخ شہاب الدین کاکہنا ہی تھا کہ شیخ ابوبکر نے خود کو قرآن کے لیے وقف کر دیا اور صرف چار ماہ میں قرآنِ مجید کے حفظ سے فارغ ہوئے۔ بعد ازاں علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل کے لیے بڑھے اور فنون عقلیہ و نقلیہ میں مہارت حاصل کرلی اور ان علوم کے محقق کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔

علمی شغف[ترمیم]

شیخ ابوبکر بن سالم نے امام نووی کی المنھاج کو تین مرتبہ اور امام غزالی کی احیاء العلوم کو چالیس مرتبہ اساتذۂ کرام کے پاس مکمل پڑھا اور اجازت حاصل کی

اساتذہ کرام[ترمیم]

آپ نے کثیر علما سے استفادۂ علمی کیا جن میں حبیب عمر باشیبان، شیخ شھاب الدین احمد بن عبدالرحمن، شیخ احمد باجحدب، شیخ عبد اللہ باقشیر، فقیہ و صوفی شیخ عمر بامخرمۃ اور شیخ معروف باجمال مشہور ترین ہیں۔

اسفار و سکونت[ترمیم]

اوائلِ عمر میں شیخ ابوبکر بن سالم نے اپنی زندگی شہر تریم کے جنوب میں واقع ’’اللسک‘‘ نامی گاؤں میں بسر کی اور ہررات کئی میل پیادہ چل کر شہر تریم آکر آباء و اجداد کی مزارات کی زیارت کرتے اور مساجد میں نمازیں پڑھتے تھے۔ آپ مساجد میں وضوء کا پانی بھرتے تھے اور جانوروں کی سیرابی کے لیے حوض میں پانی رکھ کر فجر سے پہلے اپنے گاؤں واپس لوٹتے تھے۔ جوانی کی عمر میں شہر تریم واپس آئے لیکن چند سال کے قیام کے بعد جبکہ عمر مبارک ابھی تقریباً (ستائیس )27 سال ہی تھی کہ آپ نے ’’عینات‘‘ نامی قریہ کو اپنا مسکن بنانے کا فیصلہ کیا اور جابسے، جہاں آپؒ نے تبلیغ دین، علومِ شریعت کی تعلیم اور دعوت الی ﷲ جیسے فرائض انجام دیے۔ آپ نے عینات میں ایک مسجد اور ایک گھر تعمیر کروایا جہاں سے آپؒ نے تمام علوم سکھائے اور قوم کی روحانی صدارت و قیادت اور رشد و ہدایت کے اُمور کو انجام دیا۔

سیرت و خصائص[ترمیم]

شیخ ابوبکر بہت ہی سخی اور رحم دل انسان تھے۔ آپ اپنے مشہور مطبخ کی نگرانی خود ہی فرمایا کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے غرباء و مساکین میں تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ لاتعداد مہمانوں کا کھانا الگ سے تیار کیا جاتا تھا۔ آپ سال کے تین سب سے گرم ماہ کے روزے رہتے اور سخت مجاہدات کرتے اور عمر کے آخری پندرہ سال صرف دودھ اور قھوہ کے علاوہ کچھ اور غذا استعمال نہ فرمائی۔

تصنیفات[ترمیم]

آپ متعدد کتب کے مصنف تھے اس کے علاوہ آپ نے رسول ﷲ ﷺ پر متعدد درودِ پاک بھی لکھا اور پڑھا ہے جس میں سے مشہور ’’درودِ تاج‘‘ ہے جو تمام عالم میں اور خصوصاً برصغیر میں بہ کثرت پڑھا جاتا ہے علاوہ ازیں آپ کا بہترین دیوان ہے جس میں عشق الٰہی میں ڈوبے ہوئے اشعار و قصائد، حقیقی محبت، علم اور حکمت سے لبریز کلام موجود ہے۔

  • «فتح باب المواهب وبغية مطلب الطالب»
  • «معارج التوحيد»
  • «معراج الأرواح إلى المنهج الوضاح»
  • «مفتاح السرائر وكنز الذخائر»[2]

تلامذہ[ترمیم]

آپ کے شاگردوں اور تلامذہ میں آپ کی اولادِ امجاد امام احمد بن محمد الحبشی صاحب الشعب، امام عبدالرحمن بن محمد الجفری صاحب تریس، امام عبدالرحمن البض صاحب الشحر، سید یوسف بن عابد الحسنی المغربی، علامہ محمد بن سراج الدین باجمال صاحب الغرفۃ، امام جلال الدین المحلی صاحب تفسیر جلالین، شیخ حبیب عبدالرحمن بن عقیل العطاس اور شیخ حسن بن احمد باشعیب وغیرہ جیسے عظیم ترین علمائے کاملین کی فہرست ملتی ہے۔

وفات[ترمیم]

سیدنا شیخ ابوبکر بن سالم نے27 ذوالحجۃ 992ھ بمطابق 1584ء کو وفات پائی۔ آپ کی تدفین عینات کے قبرستان میں عمل میں آئی[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الأعلام، خير الدين الزركلي دار العلم للملايين بيروت، لبنان:۔
  2. معراج الارواح والمنهج الوضاح، احمد فريدالمزيدي۔۔دار الكتب العلمية بيروت، لبنان
  3. هدية العارفين أسماء المؤلفين وآثار المصنفين