اخلاق ہندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اخلاق ہندی کی دوسری طباعت، لندن سے 1868 میں ہوئی، اس نسخے کا سرورق

1803میں اردو زبان کی تاریخ میں نثر کی جو پہلی کتاب چھاپے خانے سے چھپ کر کر نکلی وہ اخلاق ہندی تھی۔ یہ کتاب فارسی کتاب مفرح القلوب کا ترجمہ تھا جو فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے میر منشی میر بہادر علی حسینی نے کیا تھا۔[1]

تاریخ[ترمیم]

انگریز عہدہ داروں اور فوجیوں کو مقامی زبانیں اور رسم و رواج کی تعلیم کے لیے کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج قائم کیا گیا۔ مقامی لوگوں کو ملازم رکھا گیا جن کا کام گلی محلے کی بولی کو کتابی صورت میں پیش کرنا تھا۔ ان ملازمین کو منشی کا نام دیا گیا۔ انہی میں سے ایک کو ان سب پر میر مقرر کیا گیا جن کا نام منشی بہادر علی حسینی تھا۔ پہلی کتاب ان کی ہی لکھی ہوئی تھی جو ایک فارسی کتاب مفرح القلوب کا ترجمہ ہے۔[2][3]اس کتاب کے دیباچے سے معلوم ہوتا ہے کا یہ کتاب جان گلكرسٹ کے فرمان پر ترجمہ ہوئی۔ اس کے بعد یہ کتاب 1868 میں برطانیہ سے سید عبد اللہ نے شائع کروائی۔ اس کی ایک جدید طباعت 2010 میں بھارت سے ہوئی، پاکستان میں اس کو عرصہ پہلے مجلس ترقی ادب لاہور نے چھاپہ تھا جو اب نایاب ہے۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. رضا علی عابدی، کتابیں اپنے آباء کی، صفحہ25-28
  2. (یہ کتاب "ھتو پدیش" نامی کتاب سے فارسی میں ترجمہ ہوئی پھر اس فارسی سے اردو میں ترجمہ ہوئی) دیباچہ کتاب
  3. بابو رام سکینہ، تاریخ ادب اردو (حصہ نثر) صفحہ 7
  4. فہرست مجلس ترقی ادب لاہور، جولائی 2009