اشتہا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

طویل عرصے تک نہ کھانے پینے کے باوُجُود جینے اور زندگی کے معمولات میں فرق نہ آنے کے مُعاملات ''خواص '' کے ہیں، انہیں روحانی غذائیں ملتی ہیں۔ ''عوام '' اِن طویل فاقوں کے مُتَحَمِّل نہیں ہو سکتے، اگر کوئی جذبات میں آ کر فاقہ شروع کر بھی دے تو چند روز کے بعد حوصلہ ہار جائے اور پھر شاید آئندہ ہمّت بھی نہ کر سکے۔ ایک ڈاکٹر کی تحقیق کے مطابِق بِغیر کچھ کھائے 18دن اور اگر بَہُت طاقتور ہو تو زیادہ سے زیادہ 25 دن نیز بِغیر پانی پئے تین دن اور آکیسجن کے بِغیر ایک مِنَٹ سے لیکر زیادہ سے زیادہ پانچ مِنَٹ تک انسان زندہ رہ سکتا ہے۔

(فیضان سنت جلد باب1پیٹ کا قفل مدینہ صفحہ704 امیر اہل سنت علامہ مولانا الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم عالی)

اشتہا یا بھوک (انگریزی: Appetite) ایک ذہنی احساس جسے انسان غذا کی ضرورت کے وقت محسوس کرتا ہے۔ اشتہا کا یہ احساس دماغ کے مرکزیحصہ میں ہوتا ہے جسے فیڈنگ سینٹر کہا جاتا ہے۔ مختلف محرکات اس سینٹر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض مرکز میں خلیوں میں ہیجان بڑھاتے ہيں اور بعض کم کرتے ہیں۔ جو اشتہا کے ہیجان کو کم کرتے ہیں ان سے اشتہا یعنی بھوک مر جاتی (یا کم ہو جاتی) ہے۔

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔