امام المجاہدین (سیرت)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

امام المجاہدین جس میں محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کی سیرت کے مجاہدانہ پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے اور بطور سپہ سالار محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کی حکمت عملی کو موضوع بنایا گیا ہے۔

مصنف[ترمیم]

یہ کتاب جناب نذر الحسن نذر کی تصنیف ہے۔ کتاب کا یہ پہلا ایڈیشن علم و عرفان، لاہور سے 2001ء سے شائع ہو۔ یہ کتاب 288 صفحات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

سیرت مبارکہ[ترمیم]

امام المجاہدین صل للہ علیہ والہ وسلم محمد صل للہ علیہ والہ وسلم پر لکھی گئی بے شمار کتابوں میں ایک منفرد اضافہ ہے۔

  • امام المجاہدین صل للہ علیہ والہ وسلم‘ میں مدلل حوالہ جات کے ساتھ محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کی جنگی حکمت عملی، غزوات کے دوران میں محمد صل للہ علیہ والہ وسلم پر مصائب و آلام اور نصرت حق کے نزول کو بیان کیا گیا ہے۔
  • اس کتاب کی تحریر میں نذر الحسن صاحب کا انداز بیان سادہ، سلیس اور دلنشیں ہے۔ انہوں نے عرب کا محل وقوع حدود اربعہ اور خاندان قریش کا شجرہ نسب عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔
  • ’’موضوع جس قدر عظیم اور وسیع ہے، نذر الحسن نذر نے اسی قدر تحقیق کا حق ادا کیا ہے۔ زبان وبیان کی سادگی اور واقعات کی درایت کو بالخصوص پیش نظر رکھا ہے کہ یہ کسی معمولی شخصیت کا تذکرہ نہیں ہے(۔۔۔۔) اس کتاب میں کوئی واقعہ ایسا نہیں ہے، جو سند کے بغیر دیا گیا ہو۔ یا جس کی صحت مشکوک ہو (اور سیرت نگار کی یہی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے) اس طرح مصنف کے وسیع مطالعہ کا پتہ بھی چلتا ہے۔
  • محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کے مجاہدانہ کا رناموں پر اس اچھوتے اور مستند انداز میں قلم اٹھانا بھی نذر الحسن نذر کے سپاہیانہ کمال کی جدت ہی کہی جا سکتی ہے۔ ‘‘ [1]
  • گویا محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کی جنگی اور مجاہدانہ زندگی جو کمالات صفحہ قرطاس پر بکھرے ہوئے ہیں نذر الحسن نذر صاحب نے ان کے ایک ایک گوشہ کو جامع انداز میں نمایاں کیا ہے۔
  • اردو کتب سیرت کے وسیع سمندر میں سے یہ صرف ان چند کتب کا تعارف ہے جنہوں نے سیرت نگاری کے میدان میں بے پناہ شہرت ومقبولیت حاصل کی اور اپنے دلکش انداز بیان، منفرد اسلوب اور اپنی اہمیت وافادیت کے پیش نظر تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نذر الحسن نذر، امام المجاہدین، نذر فاؤنڈیشن، پنجاب، 2008ء: ص 17
  2. امام المجاہدین، نذر الحسن نذر، علم و عرفان، لاہور۔ 2001ء