انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر (کتاب)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر، یہ ابو الحسن علی حسنی ندوی کی کتاب ہے جو انھوں نے اصلاً ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین کے نام سے عربی زبان میں تحریر کیا تھا۔ سب سے پہلے یہ کتاب بھارت میں لکھنؤ سے چھاپی گئی۔ اس کے بعد دوسری مرتبہ مصر میں اس کی اشاعت ہوئی۔ جب عرب میں اس کتاب کا چرچا ہوا تو اس کو بے انتہا پزیرائی ملی اور بیسیوں قانونی و غیر قانونی ایڈیشن نکل گئے۔ اس کتاب میں ابواب و فصول کی ترتیب رکھی گئی ہے اور انتہائی دردمندانہ انداز سے مسلمانوں کے زوال کی کہانی اور دنیا کو اس سے پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کیا گیا ہے۔

کتاب کا موضوع[ترمیم]

اس کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح امت محمدیہ میں زوال و انحطاط کا آغاز ہوا، اس کو دنیا کی قیادت و امامت سے ہاتھ دھونا پڑا اور کس طرح یہ قیادت مادہ پرست یورپ کی طرف منتقل ہوئی۔ اس وقت مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہے اور وہ اس سے کس طرح عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ ان تمام سوالات کے تشفی بخش جوابات اس کتاب کا موضوع ہیں۔

کتاب کے ایڈیشن[ترمیم]

کتاب کی مقبولیت کا اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کے عربی، اردو، انگریزی، ترکی، فارسی اور فرآبدیدہ زبانوں میں تراجم ہوئے اور ان کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں، محض اردو میں اس کتاب کے گیارہ ایڈیشن نکل چکے ہیں۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]