بار جفتی اختراع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
CCD.jpg
ایک بار جفتی اختراع کا نمونہ، جس سے اسکی جسامت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ یہ سی سی ڈی بطور خاص بالاۓ بنفشہ عکاسی کے لیۓ تیار کردہ ہے ۔
CCD 3Phases 3D-Layout.png
ایک بارجفتی اختراع کی تشریح (anatomy) جو کہ اس میں موجود مختلف کیمیائی تہوں کی وضاحت کرتی ہے، مزید تفصیل کیلیۓ مضمون کا متن دیکھیۓ۔

چند اہم الفاظ

بار
جفت
جفتی
اختراع

charge
couple
coupled
device

بار جفتی اختراع (چارج کپلڈ ڈیوائس / Charge coupled devise) کو سادہ سے الفاظ میں تو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ایسی اختراع ہوتی ہے کہ جس کو روشنی کے ذریعے سے بار دار (charge) کیا جاسکتا ہے۔ اسکو انگریزی میں اوائل الکلمات کو استعمال کرتے ہوۓ CCD (سی سی ڈی) کے نام سے پکارا جاتا ہے جبکہ اردو میں اسکو اختصار کے ساتھ بجا، کہا جاتا ہے۔ اسے 1969ء میں Bell Labs کے دو معاصر موجدوں بنام Willard Boyle اور George E. Smith نے ایجاد کیا تھا جسکے بعد سے اس نے موجودہ سائنسی آلات میں اپنی جگہ انتہائی تیز رفتاری سے بنائی. ان دونوں سائنس دانوں کو 2009 میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ آج عکاسے کو رقمی عکاسے (digital camera) کی جانب لے جانے میں اس سی سی ڈی یا بجا کہلائی جانے والی اختراع کا کردار اہم ترین ہے۔

آلیہ[ترمیم]

بار جفتی اختراع کا آلیہ یعنی mechanism کچھ اسطرح کام کرتا ہے کہ اس میں کیمیائی مرکبات (جن کا ذکر قطعۂ تشریح میں آجاۓ گا) کے الگ الگ خانے ہوتے ہیں اور ان خانوں کا آپس میں تعلق کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک خانے کا اخراج (output) دوسرے خانے کے ادخال (input) کے طور پر کام کرتا ہے۔ اسی اخراج و ادخال کے پھراؤ کی وجہ سے اسکو ایک مضاہی یعنی اینالوگ پھراؤ مسجل (shift register) کہا جاسکتا ہے جو کہ مضاہی اشاروں یعنی (برقی باروں) کو درجہ بدرجہ مختلف خانوں میں پھراتا ہے ، ان خانوں کو (جنکا ذکر اوپر بھی آیا) مکثف (capacitor) بھی کہا جاسکتا ہے۔

یہ اختراع کرتی کیا ہے؟[ترمیم]

اگر آسان اور ہر ایک کی سمجھ میں آجانے والے الفاظ میں کہا جاۓ تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ اس اختراع جسکو سیسیڈی یا بجا کہا جاتا ہے کی سطح ایسی ہوتی ہے کہ جب کسی عکس یعنی روشنی کے ذرات جنکو نوربرقیات (photoelectrons) کہا جاتا ہے کی توانائی اس پر پڑتی ہے تو یہ اس عکس کے میں موجود نوربرقیات کی توانائی کو برقی بار میں تبدیل کر دیتی ہے ، اور اس دوران یہ اختراع اس عکس میں موجود ان نوربرقیات کو جنکی توانائی زیادہ ہوتی ہے یعنی زیادہ روشن یا منور حصوں والی جگہ پر زیادہ اور کم روشن یا تاریک حصوں کی جگہ پر کم ، ردعمل کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسکی اسی صلاحیت کی وجہ سے یہ اختراع اپنی سطح پر پڑنے والے عکس کو اس عکس میں موجود تصویر یا شکل کو برقرار رکھتے ہوۓ اسے برقی اشاروں (electric signals) میں تبدیل (یا یوں کہہ لیں کہ محفوظ) کر دیتی ہے۔

اس اختراع کا ایسا مفید رویہ فی الحقیقت سیلیکون کی قلمی ساخت کی وجہ سے دائرۂ امکان میں آتا ہے جو کہ روشنی کے نوربرقیات کی توانائی کو جذب کر کے آزاد برقیات یا free electrons پیدا کرسکتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب آزاد برقیات وجود میں آجائیں تو پھر برق کا ایصال (conduction) ممکن ہو جاتا ہے یعنی باالفاظ دیگر برقی بار فعال ہوجاتا ہے اور اسی وجہ سے اس مضمون کی ابتداء میں کہا گیا تھا کہ یہ اختراع روشنی کو برقی بار میں تبدیل کرسکتی ہے۔


بیرونی ربط[ترمیم]