باغبان (فلم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
باغبان (فلم)
Baghban.jpg
باغبان کا پوسچر
ہدایت کار روی چھوپڑا
پروڈیوسر ر۔ب۔ چھوپڑا
منظر نویس اچالہ نگر
ستیش بھٹنگر
رام گوویند
شفیق انصاری
کہانی ب۔ر۔چھوپڑا
اچالہ نگر
ستیش بھٹنگر
رام گوویند
شفیق انصاری
ستارے امیتابھ بچن
ہیما مالنی
سلمان خان
امن ورمہ
سمیر سونی
مہیما چودھری
موسیقی ادیش شیریواستاؤ
اوٹم سنگھ
سنیماگرافی برون مکھرجی
ایڈیٹر شیلیندر ڈوک
گوڈفرے گونسلو
ششی مانی
تقسیم کار بی آر فلمز
تاریخ اشاعت
  • 3 اکتوبر 2003ء (2003ء-10-03)
دورانیہ
183 دقیقہ
ملک بھارت
زبان ہندوستانی
باکس آفس 120 ملین (امریکی $1.9 ملین)

باغبان یا باغباں ایک بولیوڈ ہندوستانی فلم ہے جو والدین کی اہمیت پر مبنی ہے۔ اس فلم میں اداکارہ ہیما مالنی اور مشہور اداکار امیتابھ بچن نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

کہانی[ترمیم]

اس فلم میں والدین کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کہانی یوں ہے کہ راج اور پوجا کے چار بیٹے ہوتے ہیں۔ والدین بیٹوں کے بچپن سے لے کر جوانی تک ان کے لیے ہر کوشش کرتے ہیں اور چاروں بیٹوں کو اپنے پاوں پر کھڑے کردیتے ہیں نوکریوں اور گھروں کا بھی بندوبست کرلیتے ہیں۔ پھر دونوں والدین یہ سوچتے ہیں کہ زندگی تو گزرگئی ہے اب کیوں نا بڑھاپے کے آخری دن اپنے اولاد کے ساتھ گزارے جائے۔ یہیں خواہش لے کر وہ اپنے بیٹوں سے اظہار کرتے ہیں کہ ہم زندگی کی آخری دن تمام بیٹوں کے سے گزارنا چاہتے ہیں۔ بدبخت بیٹوں کے دل میں والدین کے لیے بغض ہوتی ہے اور ہر ایک یہ سوچتا ہے کہ اگر میں ان دونوں (ماں باپ) کو اپنے ساتھ لے گیا تو میرے اخراجات بھی بڑھ جائے گے اور ذاتی زندگی میں مداخلت بھی کریں گے۔ اس لیے چاروں بیٹے بندر بانٹ کے طرح یہ پلان بناتے ہیں کہ ماں ایک بیٹے کے پاس رہی گی اور باپ دوسرے بیٹے کے پاس، پھر چھ مہینے کے بعد ماں تیسرے اور باپ چھوتے بھائی کے پاس رہی گی۔ اسی طرح وہ اپنے بڑھے والدین کو الگ کرلیتے ہیں۔ والدین اس امید میں ہوتے ہیں کہ دونوں چاروں بیٹوں میں سے کبھی ایک اور کبھی دوسرے کے پاس رہے نگے پر بیٹے اس بات سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں باپ ایک اور ماں دوسرے کے پاس رہی گی تاکہ اخراجات زیادہ نہ ہو۔ اسی طرح بڑھے ماں باپ کو خون کے آنسوں بہانے پہ مجبور کرتے ہیں اور دونوں کو الگ کردیتے ہیں۔ اسی طرح چھ مہینوں میں جتنی زیادتی ہوسکتی ہے بیٹے اپنے والدین پر کردیتے ہیں۔ بالآخر راج ملھوترا جو چار بیٹوں کا والد ہوتاہے،اپنے زندگی کے ساری کہانی ایک کتاب میں لکھ لیتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر وہ کتاب مقبول بن جاتا ہے۔ راج کا پانچواں بیٹا جو حقیقت میں اس نے یتیم پالا ہوتا ہے وہ لندن سے آتا ہے اور اس کو جب اپنے والدین پر ظلم اور جدائی کا پتہ چلتا ہے تو وہ اپنے کوششوں سے والدین کو ملا لیتا ہے۔