باہمی فنڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ميوچل فنڈ (انگریزی: Mutual fund)جسے اردو میں باہمی فنڈ کہتے ہیں، لیکن اس کا انگریزی نام زیادہ مقبول ہے، ایک قسم کی اجتماعی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ اس میں بہت سے سرمایہ کاروں سے پیسہ جمع کر کے سیکورٹیز خرید کردوسرے طریقے سے سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ ميوچل فنڈ میں ایک فنڈ مینیجر ہوتا ہے جو فنڈ کے سرمایہ کاریوں کا تعین کرتا ہے اور منافع اور نقصان کا حساب رکھتا ہے۔ اس طرح ہوئے فوائد-نقصان کو کمپنیوں یا کاروباری اداروں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کی کافی معلومات نہ ہونے پر بھی سرمایہ کاری کی خواہش رکھنے والوں کے لیے ایک قابل رسائی راستہ ميوچل فنڈ ہوتا ہے۔ ميوچل فنڈ آپریٹر (کمپنی) تمام سرمایہ کاروں کے سرمایہ کاری کی رقم کو لے کر جمع کرتی ہے اور ان سے کچھ سہولت فیس بھی لیتی ہے۔ پھر اس رقم کو ان کے لیے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ ان میں میں سرمایہ کاری کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ سرمایہ کار کو اس بات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ آپ کب شیئر خريدے یا فروخت کیے، کیونکہ یہ فکر فنڈ منیجر کی ہوتی ہے۔ وہی سرمایہ کار کے سرمایہ کاری کی بحالی کرنے والا ہوتا ہے۔ ایک دوسرا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ چھوٹے سرمایہ کار بہت کم رقم جیسے 100 روپے۔ ماہانہ تک کی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ایسے میں انہیں سسٹماٹک انویسٹمنٹ پلان (ترتیب شدہ سرمایہ کاری منصوبہ) لینا ہوتا ہے، جس میں بینک سے یہ رقم ماہانہ براہ راست فنڈ میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔

ميوچل فنڈ کے اشتراک کی قیمت نیٹ اسیٹ ویلیو (NAV) کہلاتی ہے۔ اس فنڈ کے کل قیمت کو سرمایہ کار طرف سے خریدے گئے جملہ شئیر کی تعداد کے حساب سے دیا جاتا ہے۔

اقسام[ترمیم]

ميوچل فنڈ کی ایکوئٹی منصوبہ بندی میں انڈیکس فنڈ، ڈائورسی فائڈ فنڈ، لارج-کیپ فنڈ، مڈ-کیپ سکیم اور ٹیکس-دفاع منصوبہ (ٹیکس سیونگ اسکیم) جیسے بہت سے اختیارات دستیاب ہوتے ہیں۔ سرمایہ کار سرمایہ کاری کے مقاصد اور اہداف پر صحیح بیٹھنے والے اسکیم یا منصوبہ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

انڈیکس منصوبہ[ترمیم]

جو سرمایہ کار کسی خاص حصہ کے لیے کال نہیں چاہتے وہ انڈیکس مبنی منصوبہ یعنی انڈیکس اسکیم میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں کیونکہ انڈیکس اسکیم ان خصوصی اسٹاک میں سرمایہ کاری کرتی ہے جو کسی خاص انڈیکس کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر انڈیکس اوپر جاتا ہے تو سرمایہ کار فائدے میں رہتے ہیں۔

ڈايورسیفائڈ اسکیم[ترمیم]

اگر کسی خاص سیکٹر میں سرمایہ کاری کو لے کر نہیں رہنا چاہتے تو ڈايورسفائڈ اسکیم کا اختیار دستیاب ہوتا ہے۔

اوپن ینڈ اور کلوز ینڈ فنڈ[ترمیم]

یونٹ جاری کرنے کے مطابق دو قسم کے ہوتے ہیں اوپن ینڈ فنڈ اسکیم کے زندگی میں کسی بھی وقت یونٹ جاری کیے جا سکتے ہیں یا ان کا ادا کر سکتے ہیں۔ کلوز ینڈ فنڈ بونس یا رائٹ نرگم کو چھوڑ کر منصوبہ بندی کے تحت کوئی نیا یونٹ جاری نہیں کر سکتے ہیں۔ اس ہی وجہ سے اوپن ینڈیڈ منصوبہ کی یونٹ سرمایہ میں اسٹاک کی ہی طرح اتار چڑھاؤ ہو سکتے ہیں، جبکہ کلوز اینڈیڈ کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا۔ اوپن اینڈ منصوبہ بندی میں کبھی بھی داخل لیا جا سکتا ہے یا اس سے باہر نکلا جا سکتا ہے اور کئی بار ان میں ایک لاک ان پیریڈ ہوتا ہے، جس کے اندر ريڈے پشن نہیں ہو سکتا، اس لیے ان میں داخلہ کے وقت ہی مطمئن ہو جانا چاہیے۔ کلوز اے ڈے ڈ منصوبہ بندی میں سبسكرپشن ایک ہی بار لیا جا سکتا ہے اور ريڈیمپشن Redemption بھی کم طے وقت کی حد کے وقفے پر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح کلوز ینڈیڈ اسکیم کی لیکویڈیٹی Liquidity (لكوڈیٹی) کم ہو جاتی ہے۔

لارج کیپ اور مڈ کیپ[ترمیم]

زیادہ خطرے لینے کی صلاحیت والے لوگ اسمال یا مڈ کیپ اسکیم کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ یہ اسکیم اچھے امکانات والی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ ان میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے لیکن ان میں زیادہ ریٹرن دینے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں طویل مدت کی سرمایہ کاری فائدہ مند ہوتی ہے اور مختصر مدت کی سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ لارج کیپ ميوچل فنڈ میں سرمایہ کاری کسی بلوچپ کمپنی کے اسٹاک میں کیا جاتا ہے۔ ان میں سرمایہ کاری محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ان کے بارے میں معلومات ہر جگہ دستیاب ہوتی ہیں۔ مڈ کیپ ميوچل فنڈ میں سرمایہ کاری درمیانہ یا اوسطی اور چھوٹے سائز کی کمپنیوں میں کیا جاتا ہے۔

بیلینسڈ فنڈ[ترمیم]

بیلینسڈ فنڈ Balanced کو ہائبرڈ Hybrid فنڈ کہتے ہیں۔ یہ کامن اسٹاک، ترجیح اسٹاک Preferred stock، بانڈ اور مختصر مدت بانڈ ہوتا ہے۔ یہ فنڈ فائدہ مند ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں خطرے کا عنصر بھی کم ہو جاتا ہے اور بہت حد تک سرمایہ کا تحفظ یقینی ہوتا ہے۔

نمو فنڈ[ترمیم]

نمو فنڈ کی مدد سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان میں سرمایہ کاری ان کمپنیوں میں کیا جاتا ہے جو مارکیٹ میں تیز ترقی کرتی ہیں۔ ان فنڈ میں سرمایہ کاری زیادہ منافع کے لیے کرتے ہیں اور اس وجہ سے خطرے زیادہ ہوتا ہے۔

ویلیو فنڈ[ترمیم]

یہ ایسے فنڈ ہیں جو سلامتی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان میں نسبتاً کم فائدہ ہوتا ہے، لیکن نقصان کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

منی مارکیٹ فنڈ[ترمیم]

عام منی مارکیٹ سب سے محفوظ فنڈ مانے جاتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد سرمایہ محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔

باہمی فنڈ کا قیام کیسے کیا جاتا ہے؟[ترمیم]

باہمی فنڈ کا قیام ایک ٹرسٹ کے طور پر کیا جاتا ہے جو اسپانسر (اسپانسر)، ٹرسٹی، ایسیٹ مینج مینٹ کمپنی (اے۔ یم-سی) اور كسٹوڈين کے تحت ہوتا ہے۔ ٹرسٹ کا قیام ایک یا اس سے زیادہ اسپانسر کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ کمپنی میں جس طرح پروموٹر ہوتے ہیں اسی طرح ميوچيول فنڈ میں اسپانسر ہوتے ہیں۔ ميوچيول فنڈ کے ٹرسٹی لوگ سرمایہ کاروں کے فائدہ کے لیے فنڈ کی پراپرٹي اختیار رکھتے ہیں۔ سیبی SEBI کی طرف سے تسلیم شدہ ایسیٹ مینجمنٹ کمپنی (اے۔ یم۔ سی۔ ) مختلف سیکیوریٹیز میں سرمایہ کاروں کی طرف سے سرمایہ کاری کا انتظام کرتی ہے۔ سیبی کی طرف سے درست كسٹوڈين متنوع اسكيموں کی سییوریٹیز اپنے قبضے میں رکھتا ہے۔ اے۔ یم۔ سی۔ پر معمولی نگرانی اور کنٹرول کے اقتدار ٹرسٹيوں کی ہوتی ہے۔ وہ فنڈ کے کام کو منظم کرتے ہیں اور سیبی کے قوانین پر عمل ہو، یہ دیکھتے ہیں۔ سیبی کے اصولوں کے مطابق ٹرسٹی کمپنی کے ڈائریكٹر یا ٹرسٹی بورڈ کے دو تہائی رکن آزاد ہونی چاہیے تاکہ وہ اسپانسر کے ساتھ جڑے نہ ہوں۔ اس کے علاوہ اے۔ یم۔ سی کے 50 فیصد ڈائریكٹر آزاد ہونی چاہیے۔ تمام ميوچيول فنڈز کو کوئی بھی اسکیم کھولنے سے پہلے سیبی کا رجسٹریشن حاصل کرنا پڑتا ہے۔

بھارت میں ميوچل فنڈ[ترمیم]

مارکیٹ میں کوئی بھی فنڈ ہاؤس جب کوئی نیا منصوبہ نکالتا ہے، تب اس سے منسلک تمام قوانین، شرائط اور دوسری باتوں کی معلومات سكيورٹيز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی SEBI) کو بنیادی طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ معلومات جس دستاویز کی طرف سے سیبی کو دی جاتی ہے، اسے 'اسکیم کا آفر ڈاکومینٹ' کہتے ہیں۔ اس میں انویسٹمنٹ کا مقصد، خطرے کا عنصر، لوڈ و دیگر اخراجات وغیرہ سے منسلک کافی معلومات دی گئی ہوتی ہیں۔ ميوچیول فنڈ آپریشن کرنے میں اڈوائزري، كسٹوڈيل، آڈٹ منتقلی ایجنٹ و ٹرسٹی فیس اور ایجنٹ کمیشن وغیرہ کئی اشیاء میں اخراجات ہوتے ہیں، آفر ڈاکومینٹ میں ان اشیاء میں کیے جانے والے اخراجات کے بارے میں مکمل اطلاعات دی گئی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ بھی بتایا گیا ہوتا ہے کہ اسکیم میں سرمایہ کاری کرنے پر سرمایہ کار کو کون کون سے فیس دینے ہوں گے، جیسے انٹری لوڈ، ایگزٹ لوڈ، سوئچ چارجیس، ریکرنگ ایکس پینسس وغیرہ۔ جس کی منصوبہ بندی میں اخراجات کم آتے ہوں، فنڈ ہاؤس کے پاس سرمایہ کار کے لیے رقم زیادہ ہو گی اور اس سے منافع بھی زیادہ ملنے کی امید بنے گی۔ ایسے منصوبے سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ منافع بخش ہوتی ہیں۔ کسی بھی منصوبہ کے تحت 65 فیصد سے زیادہ رقم اگر ایکوئٹی میں لگائی جانے والی ہے تو ایسے منصوبہ کو ایکوئٹی منصوبہ کہا جاتا ہے۔ اگر کمپنی ایکوئٹی و قرض (ڈیٹ) میں برابر-برابر رقم سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہے، تو ایسی منصوبہ بے لے سڈ اسکیم کے تحت آتی ہے۔ بیلنسڈ اسکیم کے مقابلے میں ایکوئٹی اسکیم زیادہ کشیدہ ہوتی ہیں۔ بھارت میں 2010 تک ميوچل فنڈ میں سرمایہ کاری کے لیے درمیاں والے اداروں کا کردار ختم ہو جائے گا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج یعنی این ایس ای اور ین۔ یس۔ ڈی۔ یل۔ مل کر ایک ٹریڈنگ پلیٹ فارم تیار کر رہے ہیں، جس کے ذریعہ ميوچل فنڈ کے یونٹ براہ راست خریدے یا فروخت کیے جا سکیں گے۔ اجارہ داری سے بچنے کے لیے ایسوسی ایشن آف ميوچل فنڈ ان انڈیا (اے۔ یم۔ ف۔ ای۔ ) نے بي یس سی کی اعضاء سنٹرل ڈیپازیٹری سرویسز اور رجسٹرار سي۔ اے۔ یم۔ یس-كاروائی کو اسی طرح کا پلیٹ فارم تیار کرنے کے لیے کہا ہے۔

اسلامی میوچل فنڈ[ترمیم]

اسلامی میوچل فنڈ چار بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں :

  1. ایسی کمپنیاں جن کی سرگرمیوں کی بنیاد جائز امور پر مشتمل ہو ان کا انتخاب کیا جائے، بنکوں اور دیگر حرام اشیاء بنانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری درست نہیں۔
  2. ایسی کمپنیاں جن کے حصص (shares) حرام آمدنی مثلا بنک کے سود وغیرہ پر مشتمل ہوں، فنڈ مینیجر ان کا حساب رکھے اور فنڈ کے ذریعہ سرمایہ کار کو حاصل ہونے والی آمدنی میں سے اس کو منہا کرے۔
  3. خرید و فروخت کے تمام شرعی ضوابط کو ملحوظ رکھا جائے، مثلا ایسی کمپنیوں کے حصص نہیں خریدے جائیں گے جو مقروض ہو۔
  4. فنڈ مینیجر ناجائز امور مثلا حصص کی short selling یا امتیازی حصص (Preferred stock) کی فروخت وغیرہ سر انجام نہ دے۔[1]


مصر کے فیصل اسلامی بنک نے سب سے پہلے اسلامی میوچل فنڈ کا آغاز 2004ء میں کیا تھا اور اب تک مصر میں تقریبا 42 سے زائد میوچل فنڈز قائم ہوچکے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]