بجوکا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دیگر استعمالات کے لیے، دیکھیے بجوکا (ضد ابہام)۔
فرضی کرداروں کے لیے، اسکیر کرو (آز)کے لیے، بجوکا (ڈی سی کامکس)، و اسکیر کرو (مارویل کامکس) ملاحظہ فرمائیں۔
جاپان میں چاول کے دھان کے کھیت میں تنصیب کیے گئے چند بجوکے۔

بِجوکا یا بِجھوکا (انگریزی: Scarecrow) عام طور سے گھاس، بھوسے یا کوئی اور ٹھوس مادے کے استعمال سے تیار کیا گیا ایک ڈھانچہ ہوتا ہے، جسے کھیتوں میں کسان لکڑی کے کھمبوں کے سہارے تنصیب کرتے ہیں۔ اس ڈھانچے کو انسانی شکل و صورت دی جاتی ہے، جس کے لیے عمومًا ڈھانچے کو انسانی جسم کی طرح سی دیا جاتا ہے۔ پھر اس ڈھانچے کو انسان کی صورت دی جاتی ہے یا انسانی صورت کو مکھوٹا پہنایا جاتا ہے۔ کئی بار ٹوپی بھی پہنائی جاتی ہے یا اس ٹوپی کو بھی سی دیا جاتا ہے یا چپکا دیا جاتا ہے۔ نجوکا چونکہ ساخت میں انسان سے مشابہ ہوتا ہے، اس لیے اس کا مقصد پروندوں کو اڑانا اور آوارہ جانوروں کو کھیت سے دور رکھنا ہے۔ اس مقصد کے لیے وقتًا فوقتًا بجوکے بدلے بھی جا سکتے ہیں یا پھر تنصیب کردہ ڈھانچے میں تبدیلیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔

سالانہ تہوار[ترمیم]

  • شمالی یارک شائر کے ماسٹن گاؤں میں ہر سال بجوکا کا تہوار منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار اگر چیکہ روایتی ہے، تاہم 1999ء سے پہلے یہ بہت ہی مختصر پیمانے پر منایا جاتا تھا۔ تاہم اس کے بعد سے اس میں کئی لوگ شامل ہونے لگے اور یہ شاندار پیمانے پر منایا جا رہا تھا۔ ان تہواروں میں مختلف رنگوں کے بجوکے تیار کیے گئے تھے۔ اس میں شامل مقامی شراکت داروں کے علاوہ سینکڑوں لوگ دیکھنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔[1]
  • جاپان میں ایک گاؤں ہے، جس کا نام ناگورو ہے۔ یہ کسی زمانے میں کثیر الناس تھا، مگر اب کثیر تعداد میں لوگ نقل مقام کر چکے ہیں۔ باقی ماندہ لوگوں میں زیادہ تر ضعفا ہیں۔ ایسے میں دل بہلانے کے لیے گُڑیوں کا جشن اور ان کا تہوار منایا جاتا ہے۔ اس تہوار میں بجوکوں کو بھی خاص جگہ دی جاتی ہے۔[2]

بجوکا ادب کی دنیا میں[ترمیم]

  • بھارت کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو مشہور اردو قلمکار سعادت حسن منٹو نے 1954ء جو خط لکھا تھا، وہ اسی عنوان سے مشہور ہے۔[3]
  • اردو افسانہ نگار سریندر پرکاش نے اسی عنوان سے ایک افسانہ تحریر کیا ہے۔ایہ افسانہ خالصتاً ہندوستانی معاشرے کی آب و ہوا کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ افسانہ ہوری ایک نامی ہندوستانی کسان کی ترجمانی کر رہا ہے۔اس کے کھیتوں میں فصل تیار کھڑی ہے۔اس کو اس بات کی خوشی ہے کہ اس کی فصل اب صرف اس کی ہے اور اس پر کسی ظالم و جابر حکوت کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے کیوںکہ اب ملک آزاد ہو چکا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے کھیت پر فصل کاٹنے جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ کوئی اس کی فصل کانٹ رہا ہے۔یہ کوئی اور نہیں اس کے ذریعہ بنایا ہو ’بجوکا‘ ہے۔جس کو کھیتوں کی حفاظت کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔[4][5]

حوالہ جات[ترمیم]