بین الاقوامی معاہدہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معاہدہ بریسٹ لیٹووسک کے پہلے دو صفحات جو جرمن، ہنگیریئن، بلغاری، قدیم طرز کی ترکی اور روسی میں لکھا تھا۔

بین الاقوامی معاہدہ (انگریزی: Treaty) ایک رسمی تحریر شدہ معاہدہ ہے جو بین لاقوامی قانون کے ماتحتین کے بیچ انجام پاتا ہے، جو خود مختار ریاستوں اور بین الاقوامی تنظیموں پر مشتمل ہوتے ہیں۔[1] ایک بین الاقوامی معاہدہ کئی اور ناموں سے بھی موسوم ہو سکتا ہے، جیسے کہ بین الاقوامی سمجھوتہ، پروٹوکول، کانویننٹ، کنونشن، پیکٹ یا خطوط کا تبادلہ (exchange of letters) اور اسی طرح سے چند اور الفاظ اس کے لیے مستعمل ہیں۔ اصطلاح سے قطع نظر، صرف وہی آلات جو فریقین کو تابع بناتی ہیں، وہ یہ ہے کہ یہ معاہدات کس طرح سے بین الاقوامی قانون کے تحت طے کیے جاتے ہیں۔[2]

کچھ عالمی معاہدے[ترمیم]

بریٹن وڈز کا معاہدہ[ترمیم]

بریٹن وڈز کا معاہدہ جولائی، 1944ء میں بریٹن ووڈز، نیو ہیمپشائر، امریکا میں کچھ ممالک کے درمیان ہونے والا ایسا معاہدہ ہے جس کا مقصد دنیا کو ایک نیا مالیاتی اور زری نظام دینا اور جنگ زدہ ممالک کی تعمیر و ترقی تھا۔ اسی معاہدہ کے تحت عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا قیام عمل میں آیا۔

جب کوئی ایک ملک کسی دوسرے ملک کی کاغذی کرنسی پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے تو وہ بڑے پوشیدہ طریقے سے اُس دوسرے ملک کی معیشت، صنعت، تجارت اور دولت پرحاوی ہو جاتا ہے۔ بریٹن اوڈز سسٹم بنانے کا اصل مقصد بھی اسی طرح سے دنیا بھر پر امریکی بینکاروں کی حکمرانی قائم کرنا تھا۔ جس سال بریٹن ووڈز کا معاہدہ طے پایا اسی سال نوبل انعام یافتہ مصنف Friedrich Hayek نے اپنی کتاب "غلام مملیکت کا رستہ" (The Road to Serfdom) میں لکھا "سارے لوگوں پر جو حاکمیت معاشی کنٹرول عطا کرتا ہے اس کی سب سے بہترین مثال فورین ایکسچینج کے شعبہ میں واضح ہے۔ جب (مارکیٹ کی بجائے) ریاست فورین ایکسچینج کنٹرول کرنا شروع کرتی ہے تو شروع میں تو کسی کی ذاتی زندگی پر کوئی اثر پڑتا محسوس نہیں ہوتا اور زیادہ تر لوگ اسے بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن بہت سے یورپی ممالک کے تجربات کے بعد دانشوروں نے اس طرز عمل کو مکمل عالمی حاکمیت (Totalitarianism) کی جانب فیصلہ کن پیشرفت قرار دیا ہے۔ یہ درحقیقت سارے لوگوں کو ریاست کی مطلق العنانی کے حوالے کر دینا ہے۔ یہ فرار ہونے کے سارے راستے بند کر دیتا ہے، نہ صرف امیروں کے بلکہ ہر کسی کے۔ [3]"

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Treaty | international relations". Encyclopedia Britannica (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 26 جولا‎ئی 2019. 
  2. In United States constitutional law, the term "treaty" has a special meaning which is more restricted than its meaning in international law; see United States law in the English Wikipedia article
  3. Nobel Prize winning economist Friedrich Hayek’s 1944 classic, The Road to Serfdom: غلامی کا رستہ