بیکلائٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بیکلائٹ
شناختساز
کاس عدد

[9003-35-4]

ChemSpider ID none
خـواص
سالماتی_صیغہ

(C6H6O·CH2O)n

مولرکمیت

Variable

ظہور Brown solid
کثافت

1.3 g/cm3[1]

Thermal conductivity 0.2 W/(m·K)[1]
Refractive index (nD) 1.63[2]
حر کیمیاء
0.92 kJ/(kg·K)[1]
Except where noted otherwise, data is given for materials in their standard state (at 25 °C (77 °F), 100 kPa)
خانہ معلومات حوالہ جات

بیکلائٹ (/ˈbkəlt/ BAY-kə-lyt، یاBaekelite)، یا polyoxybenzylmethyleneglycolanhydride، ایک ابتدائی پلاسٹک ہے۔ یہ ایک حر جماؤ فینول فارمل ڈیہائڈ رال، ہے جو فینول مع فارمل ڈیہائڈ کے عمل تکثیف تعامل سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے پہلی بار 1907ء میں بلجمی-امریکی پیشہ ور کیمیاگر لیو بیکلینڈ نے یونکرز، نیو یارک میں تیار کیا تھا۔

مصنوعی اجزا سے تیار ہونے والا یہ پہلا پلاسٹک ہے، بیکلائٹ اپنے غیر موصل اور حرارت دینے پر نہ پگھلنے کی خاصیتوں کی وجہ سے بجلی کی موصلیت (سوئج، ساکٹ، بورڈ اور بٹن وغیرہ بنانے)، ریڈیو اور ٹیلی فون کے کیس اور ایسے متنوع مصنوعات جیسے باورچی خانے کا سامان، زیورات، پائپ اسٹیمس، بچوں کے کھلونے، اور آتشبازی وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔ دی "رٹرو" نے اپیل کر کے پرانے بیکلائٹ مصنوعات کو جمع کیا ہے۔[3]

بیکلائٹ کو بتاریخ 9 نومبر 1939ء، امریکی کیمیکل سوسائٹی نے بیکلائٹ کی اہمیت کی شناخت بطور دنیا کے پہلے پلاسٹک ہونے کی وجہ سے قومی تاریخی کیمیائی لینڈ مارک نامزد کیا۔[4]

تالیف[ترمیم]

بیکلائٹ بنانے کا عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا آغاز فینول اور فارمل ڈیہائڈ کو ہائیڈروکلورک ایسڈ، زنک کلورائیڈ، یا بیس امونیا کی موجودگی میں عمل اںگیز سے ہوتا ہے۔ یہ عمل اس کو رقیق بنا دیتا ہے، جس کو بیکلائٹ اے کہا جاتا ہے، اس میں حل پذیر الکحل، ایسی ٹون یااضافی فینول ہوتی ہیں۔ مزید حرارت دینے پر، یہ جزوی حل پزیر ہو جاتا ہے، اور مزید نرم کرنے کے لیے اس کو مزید حرارت دی جا سکتی ہے۔ اور حرارت دیت رہنے سے یہ حل ناپذیر سخت گوند بن جاتا ہے۔ البتہ، یہ مرکب حاصل کرنے کے لیے بلند درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس مرکب کو مطلوبہ شکل عطا کر سکے۔ جس کے نتیجے منجمد مسام دار خام اور قابل انقطاع مسالا بنتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Electrical Engineer's Reference Book۔ Elsevier۔ 2013۔ صفحہ 1.21۔ آئی ایس بی این 978-1-4831-0263-4۔ 
  2. The techniques of sedimentary mineralogy۔ Elsevier۔ 2011۔ صفحہ 57۔ آئی ایس بی این 978-0-08-086914-8۔ 
  3. Patrick Cook؛ Catherine Slessor (1998)۔ An illustrated guide to bakelite collectables۔ London: Quantum۔ آئی ایس بی این 978-1-86160-212-1۔ 
  4. "Bakelite: The World's First Synthetic Plastic"۔ اخذ کردہ بتاریخ فروری 23, 2015۔ 

بیرونی روابط[ترمیم]