تبادلۂ خیال:فقہا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

Untitled[ترمیم]

اس عنوان سے پورے مضمون میں کوئی چیز مطابقت ہی نہیں رکھتی بہتر ہوگا کہ اس کا کوئی اور مناسب نام رکھ دیا جائے--ابوالسرمد 20:34, 2 جولا‎ئی 2015 (م ع و)

کیا اس مضمون کو باقی رکھا جائے؟ :) یہ صارف منتظم ہے—خادم—  07:57, 25 اگست 2016 (م ع و)
اگر اسے باقی رکھنا ہے تو مہربانی فرما کر اسے چھوٹا کر دیں یا مجھے اجازت دیں کوئی سرا تلاش کروں--ابو السرمدمحمد یوسف (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:32, 30 دسمبر 2016 (م ع و)
قیمتی مواد تھا کیا ہی اچھا ہو کہ عنوان بدل کر محفوظ کر لیا جائے۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:20, 26 فروری 2018 (م ع و)
@Syedalinaqinaqvi: بھائی یہ رہا حذف شدہ مواد:

اہل تشیع یا شیعہ (عربی: شيعة) اہل سنت کے بعد مسلمانوں کا دوسرا سب سے بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی کی امامت کا قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہ کا جانشین مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع پہلے تین خلفاء کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ نے دعوت ذوالعشیرہ اور خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر حضرت علی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ "جو میری مدد کرے گا وہ میرا وزیر میرا وصی اور خلیفہ ہوگا"۔ تینوں دفعہ امام علی علیہ السلام کھڑے ہوئے اور کہا کہ اگرچہ میں چھوٹا ہوں اور میری ٹانگیں کمزور ہیں مگر میں آپ کی مدد کروں گا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ "اے علی تم دنیا اور آخرت میں میرے وزیر اور وصی ہو"۔ اس کے علاوہ حضور نے حجۃ الوداع کے بعد غدیر خم کے علاقے میں ایک خطبہ میں فرمایا کہ "جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔

شیعہ کا لفظی مفہوم

عربی زبان میں شیعہ کا لفظ دو معنی رکھتا ہے۔ پہلا کسی بات پر متفق ہونا اور دوسرا کسی شخص کا ساتھ دینا یا اس کی پیروی کرنا۔ قرآن میں کئی جگوں پر یہ لفظ اس طرح سے آیا ہے جیسے سورہ قصص کی آیت 15 میں حضرت موسی کے پیروان کو شیعہ موسی کہا گیا ہے اور دو اور جگہوں پر ابراہیم کو شیعہ نوح کہا گیا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں شیعہ کا لفظ کسی شخص کے پیروان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے اختلافات کے زمانے میں ان کے حامیوں کو بالترتیب شیعان علی ابن ابو طالب اور شیعان معاویہ بن ابو سفیان کہا جاتا تھا۔ صرف لفظ شیعہ اگر بغیر تخصیص کے استعمال کیا جائے تو مراد شیعانِ علی ابن ابو طالب ہوتی ہے، وہ گروہ جو اس اختلاف میں حضرت علی ابن ابی طالب کا حامی تھا اور جو ان کی امامت کا عقیدہ رکھتا ہے۔ اہل تشیع کا تاریخی پہلو

شیعہ عقائد کے مطابق شیعیت کا آغاز پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور حیات میں اس وقت ہوا جب پہلی بار حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیہ [اولئک هم خیر البریه] کے تفسیر میں علی سے خطاب کرکے کہا "تو اور ترے شیعان قیامت کے دن سرخرو ہونگے اور خدا بھی تو اور تیرے شیعوں سے راضی ہوگا۔ اس وقت صحابہ میں سے چار لوگوں کو حضرت علی کا شیعہ کہا جاتا تھا: سلمان فارسی، ابوذر غفاری، مقداد بن اسود اور عمار بن یاسر[حوالہ درکار] اہلسنت سے اختلاف

اہل تشیع کے اہل سنت سے اختلافات ہیں جن میں سے چند قابل ذکر ہیں۔

  1. امامت
  2. عدل

امامت[ترمیم]

عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معانی راہنما یا سالار کے ہیں جو کسی بھی جماعت کی ‍قیادت کرے۔ روز مرّہ میں یہ لفظ مسجدوں میں نماز کی قیادت کرنے والے حضرات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کسی بھی فقہ کے بانی یا کسی بھی مذہبی و دیگر سوچ کے بانی کے لیے ان کے پیروکاروں کی طرف سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

عدل[ترمیم]

عدل سے مراد کسی شے کو اس کے اصل مقام پر رکھ دینا ہے۔ عدل کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق دے دیا جائے۔ یعنی حق دار کو اس کا حق دینا عدل ہے، حق چھین لینا عدل نہیں ہے، ظلم ہے۔

خدا عادل اور انصاف کرنے والا ہے کیونکہ ظلم ایک قبیح فعل ہے اور خداوند متعال میں کوئی بھی عیب موجود نہیں ہو سکتا۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ خداوند متعال برے کام کرنے والے کو جنت عطا کر دے اور اچھے کام کرنے والے کو دوزخ میں بھیج دے۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خداوند متعال تمام مخلوقات سے انصاف کرے گا۔ خدا کے تمام افعال حکمت اور مصلحت کے ساتھ ہوتے ہيں۔ وہ کوئي بُرا کام نھيں کرتا اور نہ کسي ضروري کام کو ترک کرتا ہے۔ اُس ميں حسب ذيل نکات داخل ہیں :

  1. دنيا کے تمام افعال بجائے خود يا اچھے ہیں يا برے۔ يہ اور بات ہے کہ کسي بات کي اچھائي، برائي ھماري عقل پورے طور پر نہ سمجہ سکے ليکن اس کے معني يہ نھيں کہ حقيقةً بھي وہ اچھے يا برے نھيں ہیں۔ خدا جو کام کرتا ہے وہ اچھا ھي ہوتا ہے۔ برا کام وہ کبھي نھيں کرتا۔ خدا ظلم اور نا انصافي سے بري ہے، يہ نھيں ھو سکتا کہ وہ بندوں کو غير ممکن باتوں کا حکم دے يا ايسے کام کرنے کا حکم دے جو بالکل فضول ھوں اور جن کا کوئي فائدہ نہ ھو۔ اس لیے کہ يہ تمام باتيں نقص ہیں اور خدا ھر نقص سے بري ہے ۔
  2. خدا نے انسان کو اُس کے افعال ميں خود مختار بنايا ہے يعني وہ جو کچھ کام کرتا ہے اپنے ارادہ و اختيار سے کرتا ہے۔ بے شک يہ قدرت خدا کي طرف سے عطا کي ھوئي ہے اور جب وہ چاھتا ہے تو اس قدرت کو سلب کر ليتا ہے ليکن جب وہ قدرت کو سلب کرلے تو انسان پر ذمہ داري باقي نھيں رہ سکتي يعني اُ س صورت ميں جو کچھ سرزد ھو اُس پر کوئي سزا نھيں دي جاسکتي جيسے پاگل آدمي۔ خدا بندوں کو اچھي باتوں کا حکم ديتا ہے اور بري باتوں سے روکتا ہے۔ اچھے کاموں پر وہ انعام عطا کرتا ہے اور برے کاموں پر سزا ديتا ہے۔ اگر اُس نے انھيں مجبور پيدا کيا ھو يعني وہ خود ان کے ھاتھوں سب کچھ کام کراتا ھو تو احکام نافذ کرنا اور جزا و سزا دينا بالکل غلط اور بے بنياد ھو گا۔ خدا کي ذات ايسے غلط اور بے جا طرز عمل سے بري ہے ۔
  3. خدا کو بندوں کے تمام افعال کا علم ھميشہ سے ہے ليکن اُس کا علم ان لوگوں کے افعال کا باعث نھيں ہوتا بلکہ چونکہ يہ لوگ ان افعال کو اپنے اختيار سے کرنے والے ہیں اس لیے خدا کو ان کا علم ہے ۔
  4. خدا کے لیے عدالت کو ضروري قرار دينے کے يہ معني نھيں ہیں کہ وہ ظلم،فعل شر يا فعل عبث پر قادر نھيں ہے بلکہ يہ معني ہیں کہ خدا کي کامل ذات اور اُس کے علم و قدرت کے لیے يہ مناسب نھيں ہے کہ وہ ظلم وفعل شر وغيرہ کا ارتکاب کرے۔ اس لیے اُس سے ان افعال کا صادر ہونا بالکل غير ممکن ہے۔ خداوندِ متعال کی عدالت کو ثابت کرنے کے لیے متعدد دلائل هيں جن ميں سے هم بعض کاتذکرہ کريں گے:١۔هر انسان، چاہے کسی بهی دين ومذهب پر اعتقاد نہ رکهتاہو، اپنی فطرت کے مطابق عدل کی اچهائی و حسن اور ظلم کی بدی و برائی کو درک کر سکتا ہے۔ حتی اگر کسی ظالم کو ظلم سے نسبت ديں تو اس سے اظهار نفرت اور عادل کهيں تو خوشی کا اظهار کرتا ہے۔ شہوت وغضب کا تابع ظالم فرمانروا،جس کی ساری محنتوں کا نچوڑ نفسانی خواهشات کا حصول ہے، اگر اس کا واسطہ محکمہ عدالت سے پڑ جائے اور قاضی اس کے زور و زر کی وجہ سے اس کے کسی دشمن کا حق پامال کر کے اس ظالم کے حق ميں فيصلہ دے دے، اگر چہ قاضی کا فيصلہ اس کے لیے باعث مسرت وخوشنودی ہے ليکن اس کی عقل وفطرت حکم کی بدی اور حاکم کی پستی کو سمجه جائيں گے۔ جب کہ اس کے برعکس اگر قاضی اس کے زور و زر کے اثر ميں نہ آئے اور حق وعدل کا خيال کرے، ظالم اس سے ناراض تو ہو گا ليکن فطرتاً وہ قاضی اور اس کے فيصلے کو احترام کی نظر سے ديکہے گا۔ تو کس طرح ممکن ہے کہ جس خدا نے فطرت انسانی ميں ظلم کو برا اور عدل کو اس لیے اچهاقرار ديا ہو تاکہ اسے عدل کے زيور سے مزين اور ظلم کی آلودگی سے دور کرے اور جو <إِنَّ اللّٰہَ يَا مُْٔرُبِالْعَدْلِ وَاْلإِحْسَانِ> ٢، <قُلْ ا مََٔرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ> ٣،<يَادَاودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِيْفَةً فِی اْلا رَْٔضِ فَاحْکُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْهَوٰی> ٤جيسی آيات کے مطابق عدل کا حکم دے وہ خود اپنے ملک وحکم ميں ظالم ہو؟! ٢۔ ظلم کی بنياد يا تو ظلم کی برائی سے لاعلمی، يا مقصد و هدف تک پهنچنے ميں عجز يالغووعبث کام ہے، جب کہ خداوندِمتعال کی ذات جهل، عجز اور سفا ہت سے پاک ومنزہ ہے۔ لہٰذا، علم، قدرت اور لا متناهی حکمت کا تقاضا يہ ہے کہ خداوند متعال عادل ہو اور ظلم وقبيح سے منزہ ہو۔٣۔ ظلم نقص ہے اور خداوندِمتعال کے ظالم ہونے کا لازمہ يہ ہے کہ اس کی ترکيب ميں کمال ونقصان اور وجود وفقدان بيک وقت شامل ہوں، جب کہ اس بات سے قطع نظر کہ يہ ترکيب کی بدترين قسم ہے، کمال ونقص سے مرکب ہونے والا موجود محتاج اور محدود ہوتا ہے اور يہ دونوں صفات مخلوق ميں پائی جاتی هيں نہ کہ خالق ميں۔ لہٰذا نتيجہ يہ ہوا کہ وہ تخليق کائنات <شَهِدَ اللّٰہُ ا نََّٔہ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِکَةُ وَ ا ؤُْلُوالْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُ> ٥،قوانين واحکام <لَقَدْ ا رَْٔسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَ ا نَْٔزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ> ٦ اور قيامت کے دن لوگوں کے حساب وکتاب <وَقُضِیَ بَيْنَہُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُوْنَ> ١ ميں عادل ہے۔ --------------2 سورہ نحل، آيت ٩٠ ۔"باتحقيق خدا وند متعال عدل واحسان کا امر کرتا ہے"۔ 3 سورہ اعراف، آيت ٢٩۔ "کہو ميرے رب نے انصاف کے ساتھ حکم کيا ہے"۔ 4 سورہ ص، آيت ٢۶۔ "اے داو دٔ (ع)!هم نے تم کو روئے زمين پر خليفہ بنايا ہے تو تم لوگوں کے درميان بالکل ٹهيک فيصلہ کرو اور ہویٰ وہوس کی پيروی مت کرو"۔ 5 سورہ آل عمران، آيت ١٨ ۔"خدا نے خود اس بات کی شهادت دی کہ سوائے اس کے کوئی معبود نهيں ہے و کل فرشتوں نے اور صاحبان علم نے جو عدل پر قائم هيں (يهی شهادت دی) کہ سوائے اس زبردست حکمت والے کے اور کوئی معبود نهيں ہے"۔ 6 سورہ حديد، آيت ٢۵۔ "هم نے يقينا اپنے پيغمبروں کو واضح و روشن معجزے دے کر بهيجا ہے اور ان کے ساتھکتاب (انصاف کی)ترازو نازل کی تاکہ لوگ قسط وعدل پر قائم رهيں"۔ عن الصادق (ع) :((إنہ سا لٔہ رجل فقال لہ :إن ا سٔاس الدين التوحيد والعدل، وعلمہ کثير، ولا بد لعاقل منہ، فا ذٔکر ما يسهل الوقوف عليہ ويتهيا حفظہ، فقال: ا مٔا التوحيد فا نٔ لا تجوّز علی ربک ماجاز عليک، و ا مٔا العدل فا نٔ لا تنسب إلی خالقک ما لامک عليہ)) ٢ اور هشام بن حکم سے فرمايا: ((ا لٔا ا عٔطيک جملة في العدل والتوحيد؟ قال: بلی، جعلت فداک، قال: من العدل ا نٔ لا تتّهمہ ومن التوحيد ا نٔ لا تتوهّمہ)) ٣ اور امير المومنين (ع) نے فرمايا:((کل ما استغفرت اللّٰہ منہ فہومنک،وکل ما حمدت اللّٰہ عليہ فہومنہ))

ذیلی فرقے[ترمیم]

اثنا عشری[ترمیم]

اثنا عشریہ (یعنی بارہ امام)، اہل تشیع (یعنی شیعہ) کا سب سے بڑہ گروہ ماننا جاتا ہے۔ قریبا 80 فیصد شیعہ اثنا عشریہ اہل تشیع ہیں۔ ایران، آذربائجان، لبنان، عراق اور بحرین میں ان کی اکثریت ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ہیں۔ پاکستان میں اہل سنت کے بعد اثنا عشریہ اہل تشیع کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اثنا عشریہ کی اصطلاح بارہ ائمہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کا سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد اور داماد علی علیہ السلام سے شروع ہوتا۔ یہ خلافت پر یقین نہیں رکھتے اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین امام علی علیہ السلام ہیں اور کل بارہ امام ہیں جن کا تذکرہ احدیث میں آتا ہے۔ کم و بیش تمام مسلمان ان ائمہ کو اللہ کے نیک بندے مانتے ہیں تاہم اثنا عشریہ اہل تشیع ان ائمہ پر اعتقاد کے معاملہ خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ ان بارہ ائمہ کے نام یہ ہیں:

  1. حضرت امام علی علیہ السلام
  2. حضرت امام حسن علیہ السلام
  3. حضرت امام حسین علیہ السلام
  4. حضرت امام زین العابدین علیہ السلام
  5. حضرت امام محمد باقر علیہ السلام
  6. حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
  7. حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام
  8. حضرت امام علی رضا علیہ السلام
  9. حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
  10. حضرت امام علی نقی علیہ السلام
  11. حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
  12. حضرت امام مھدی علیہ السلام

1) حضرت امام علی بن ابی طالب علیہ السلام[ترمیم]

حضرت علی علیہ السلام (599ء (24 ق‌ھ) – 661ء (40ھ) ) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب علیہ السّلام اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔ [1] حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی۔ حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا۔ آپ کی عمر اس وقت دس یا گیارہ سال تھی

فاطمہ سلام اللہ علیھا اور علی علیہ السلام کی زندگی گھریلو زندگی کا ایک بے مثال نمونہ تھی مرد اور عورت اپس میں کس طرح ایک دوسرے کے شریک ُ حیات ثابت ہوسکتے ہیں۔ اپس میں کس طرح تقسیم عمل ہونا چاہیے اور کیوں کر دونوں کی زندگی ایک دوسے کے لیے مددگار ہوسکتی ہے، وہ گھر دنیا کی ارائشوں سے دور , راحت طلبی اور تن اسانی سے بالکل علاحدہ تھا , محنت اور مشقت کے ساتھ ساتھ دلی اطمینان اور اپس کی محبت واعتماد کے لحاظ سے ایک جنت بناہوا تھا، جہاں سے علی علیہ السلام صبح کو مشکیزہ لے کر جاتے تھے اوریہودیوں کے باغ میں پانی دیتے تھے اورجو کچھ مزدوری ملتی تھی اسے لا کر گھر پر دیتے تھے .بازار سے جو خرید کر فاطمہ سلام اللہ علیھا کو دیتے تھے اور فاطمہ سلام اللہ علیھا چکی پیستی , کھانا پکاتی اور گھر میں جھاڑو دیتی تھیں , فرصت کے اوقات میں چرخہ چلاتی تھیں اور خود اپنے اور اپنے گھر والوں کو لباس کے لیے اور کبھی مزدوری کے طور پر سوت کاتتی تھیں اور اس طرح گھر میں رہ کر زندگی کی مہم میں اپنے شوہر کاہاتھ بٹاتی تھیں .

  1. جہاد
  2. خدمات
  3. اعزاز
  4. بعدِ رسول
  5. خلافت
  6. شہادت
  7. اولاد

جہاد

مدینہ میں آکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا . آپ کے وہ پیرو جو مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں بعض کو قتل کیا . بعض کو قید کیا اور بعض کو زد وکوب کیااور تکلیفیں پہنچائیں .پہلے ابو جہل اور غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان کی قیادت میں مشرکینِ مکہ نے جنگی تیاریاں کیں، یہی نہیں بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑھائی کردی , اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کرتے جنھوں نے کہ آپ کوانتہائی ناگوار حالات میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت وامداد کاوعدہ کیا تھا , آپ نے یہ کسی طرح پسند نہ کیا آپ شہر کے اندرر کر مقابلہ کریں اور دشمن کو یہ موقع دیں کہ وہ مدینہ کی پر امن ابادی اور عورتوں اور بچوں کو بھی پریشان کرسکے۔ گو آپ کے ساتھ تعدادبہت کم تھی لیکن صرف تین سو تیرہ آدمی تھے , ہتھیار بھی نہ تھے مگر آپ نے یہ طے کر لیا کہ آپ باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کریں گے چنانچہ پہلی لڑائی اسلام کی ہوئی۔ جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے . اس لڑائی میں زیادہ رسول نے اپنے عزیزوں کو خطرے میں ڈالا چنانچہ آپ کے چچا زاد بھائی عبید ہ ابن حارث ابن عبد المطلب اس جنگ میں شہید ہوئے . علی ابن ابو طالب علیہ السلام کو جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا . 25 برس کی عمر تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا حضرت علی علیہ السلام کے سر رہا .جتنے مشرکین قتل ہوئے تھے ان میں سے آدھے مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین یہ وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں حضرت علی علیہ السلام نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے . تقریباًان تمام لڑائیوں میں حضرت علی علیہ السلام کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا . اس کے علاوہ بہت سی لڑائیاں ایسی تھیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو تنہا بھیجا اورانھوں نے اکیلے ان تمام لڑائیوں میں حضرت علی علیہ السلام نے بڑی بہادری اور ثابت قدمی دکھائی اور انتہائی استقلال، تحمّل اور شرافت ُ نفس سے کام لیاجس کا اقرار خود ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔ غزوہ خندق میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمر وبن عبد ود کو جب آپ نے مغلوب کر لیااور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پر بیٹھے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعب دہن پھینک دیا . آپ کو غصہ آ گیااور آپ اس کے سینے پر سے اتر ائے . صرف اس خیال سے کہ اگر غصّے میں اس کو قتل کیا تو یہ عمل محض خدا کی راہ میں نہ ہوگا بلکہ خواہش نفس کے مطابق ہوگا۔ کچھ دیر کے بعد آپ نے اس کو قتل کیا , اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش برہنہ کردیتے تھے مگر حضرت علی علیہ السلام نے اس کی زرہ نہیں اُتاری اگرچہ وہ بہت قیمتی تھی . چنانچہ اس کی بہن جب اپنے بھائی کی لاش پر ائی تو اس نے کہا کہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی مگر مجھ یہ دیکھ کر صبر اگیا کہ اس کا قاتل حضرت علی علیہ السلام سا شریف انسان ہے جس نے اپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔ آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یا بچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ نہیں کیا۔

خدمات جہاد سمیت اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے کسی کام کے کرنے میں آپ کو انکار نہ تھا۔ یہ کام مختلف طرح کے تھے رسول کی طرف سے عہد ناموں کا لکھنائ خطوط تحریر کرنا آپ کے ذمہ تھا اور لکھے ہوئے اجزائے قرآن کے امانتدار بھی آپ تھے- اس کے علاوہ یمن کی جانب تبلیغ اسلام کے ليے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو روانہ کیا جس میں آپ کی کامیاب تبلیغ کا اثر یہ تھا کہ سارا یمن مسلمان ہو گیا جب سورہ براَت نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ کے ليے بحکم خدا آپ ہی مقرر ہوئے اور آپ نے جا کر مشرکین کو سورئہ براَت کی آیتیں سنائیں- اس کے علاوہ رسالت مآب کی ہر خدمت انجام دینے پر تیار رہتے تھے- یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ رسول کی جوتیاں اپنے ہاتھ سے سی رہے ہیں حضرت علی علیہ السّلام اسے اپنے ليے باعثِ فخر سمجھتے تھے۔

اعزاز

حضرت علی علیہ السّلام کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب حضرت علی علیہ السّلام کے بارے میں احادیث نبوی میں موجود ہیں، کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔ مثلا آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہ الفاظ »علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں« .کبھی یہ کہا کہ »میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے .,, کبھی یہ کہا »تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے۔ کبھی یہ کہا»علی کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی۔ کبھی یہ کہا»علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے۔

کبھی یہ کہ»وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ,, یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا۔ عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا۔ جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغمبر نے اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیا اور سب سے اخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔

بعدِ رسول

جس نے زندگی بھر پیغمبر کا ساتھ دیا وہ بعد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کے جسد اطہر مبارک کو کس طرح چھوڑتا، چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تجہیز وتکفین اور غسل وکفن کاتمام کام حضرت علی علیہ السلام ہی کے ہاتھوں ہوا اورقبر میں آپ ہی نے رسول کو اتارا۔ اس کے علاوہ بطور خود خاموشی کے ساتھ اسلام کی روحانی اور علمی خدمت میں مصروف رہے . قرآن کو ترتیب ُ نزول کے مطابق ناسخ و منسوخ اور محکم اور متشابہ کی تشریح کے ساتھ مرتب کیا . مسلمانوں کے علمی طبقے میں تصنیف وتالیف کااور علمی تحقیق کاذوق پیدا کیااور خود بھی تفسیر اور کلام اور فقہ واحکام کے بارے میں ایک مفید علمی ذخیرہ فراہم کیا . بہت سے ایسے شاگرد تیار کیے جو مسلمانوں کی آئندہ علمی زندگی کے لیے معمار کاکام انجام دے سکیں , زبان عربی کی حفاظت کے لیے علم نحوکی داغ بیل ڈالی اور فن صرف اور معانی بیان کے اصول کو بھی بیان کیا اس طرح یہ سبق دیا کہ اگر ہوائے زمانہ مخالف بھی ہوا اور اقتدار نہ بھی تسلیم کیا جائے تو انسان کو گوشہ نشینی اور کسمپرسی میں بھی اپنے فرائض کو فراموش نہ کرنا چاہیے . ذاتی اعزاز اور منصب کی خاطر مفادملّی کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو انسان اپنی ملّت , قوم اور مذہب کی خدمت ہر حال میں کرتا رہے .

خلافت

پچیس برس تک رسول کے بعد حضرت علی علیہ السّلام نے خانہ نشینی میں بسر کی 35ھ میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کامنصب حضرت علی علیہ السّلام کے سامنے پیش کیا . آپ نے پہلے انکار کیا , لیکن جب مسلمانوں کااصرار بہت بڑھ گیا تو آپ نے اس شرط سے منظو رکیا کہ میں بالکل قران اور سنت ُ پیغمبر کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا . مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کیا اور آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص مذہبی سلطنت کو برداشت نہ کرسکا , آپ کے خلاف بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ کھڑے ہو گئے جنھیں آپ کی مذہبی حکومت میں اپنے اقتدار کے زائل ہونے کا خطرہ تھا , آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا اور جمل اور صفین# اور نہروان# کی خون ریز لڑائیاں ہوئیں . جن میں حضرت علی بن ابی طالب علیہ السّلام نے اسی شجاعت اور بہادری سے جنگ کی جو بدر واحد و خندق وخیبر میں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی .ان لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے آپ کو موقع نہ مل سکا کہ آپ جیسا دل چاہتا تھا اس طرح اصلاح فرمائیں . پھر بھی آپ نے اس مختصر مدّت میں اسلام کی سادہ زندگی , مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے کے باوجود کجھوروں کی دکان پر بیٹھنا اور اپنے ہاتھ سے کھجوریں بیچنا بُرا نہیں سمجھتے تھے , پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے , غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھاناکھالیتے تھے . جو روپیہ بیت المال میں آتا تھا اسے تمام مستحقین پر برابر سے تقسیم کرتے تھے , یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نے یہ چاہا کہ کچھ انہیں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ مل جائے مگر آپ نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو خیر یہ بھی ہو سکتا تھا مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے . مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے کسی اپنے عزیز کو دوسروں سے زیادہ دوں , انتہا ہے کہ اگر کبھی بیت المال میں شب کے وقت حساب وکتاب میں مصروف ہوئے اور کوئی ملاقات کے لیے اکر غیر متعلق باتیں کرنے لگا تو آپ نے چراغ بھجادیا کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہ ہونا چاہیے . آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں آئے وہ جلد حق داروں تک پہنچ جائے . آپ اسلامی خزانے میں مال کاجمع رکھنا پسند نہیں فرماتے تھے . شہادت

حضرت علی علیہ السّلام کو 19 رمضان40ھ (660ء) کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک حضرت علی علیہ السلام بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن علیہ السلام و حضرت حسین علیہ السلام نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔ اولاد

آپ کے بچوں کی تعداد 28 سے زیادہ تھی۔ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا سے آپ کو تین فرزند ہوئے۔ حضرت محسن علیہ السّلام، امام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام، جبکہ ایک صاحبزادی حضرت زینب علیہ السّلام بھی حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا سے تھیں۔ باقی ازواج سے آپ کو جو اولاد ہوئی، ان میں حضرت حنیفہ، حضرت عباس بن علی علیہ السّلام شامل ہیں۔ علی ابن طالب علیہ السلام کی اولاد یہ ہیں :

۔ سیدنا حسن علیہ السّلام۔ سیدنا حسین علیہ السّلام۔ زینب علیہ السّلام۔ ام کلثوم علیہ السّلام۔ عباس علیہ السّلام۔ عمر ابن علی۔ جعفر ابن علی۔ عثمان ابن علی۔ محمد الاکبر ( محمد بن حنفیہ)۔ عبد اللہ۔ ابوبکر۔ رقیہ۔ رملہ۔ نفیسہ۔ خدیجہ۔ ام ہانی۔ جمانی۔ امامہ۔ مونا۔ سلمیٰ [حوالہ درکار]

2) حضرت امام حسن ابن علی علیہ السلام

امام حسن ابن علی (15 رمضان 3ھ تا 28 صفر 50ھ) اسلام کے دوسرے امام تھے اور حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمۃ الزھرا علیہا السلام کے بڑے بیٹے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ علیہا السلام کے بڑے نواسے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث کے مطابق آپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کا نام حسن , لقب 'مجتبیٰ' اور کنیت ابو محمد تھی .

1 ولادت با سعادت
1.1 تربیت
2 خلافت
3 صلح
4 شرائط صلح
4.1 صلح کے بعد
5 اخلاق وانصاف
6 وفات

ولادت با سعادت

آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی . جب مکہ مکرمہ میں رسول کے بیٹے یکے بعد دیگرے دنیا سے جاتے رہے اور سوائے لڑکی کے آپ کی اولاد میں کوئی نہ رہا تو مشرکین طعنے دینے لگے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچا اور آپ کی تسلّی کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپ نہیں بلکہ آپ کا دشمن ہوگا . آپ کی ولادت سے پہلے حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم کا ایک ٹکرا ان کے گھر آ گیا ہے۔ انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعبیر پوچھی تو انہوں فرمایا کہ عنقریب میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے ایک بچہ پیدا ہوگا جس کی پرورش تم کرو گی۔ حضرت امام حسن علیہ السلام کی مدینہ میں انے کے تیسرے ہی سال پیدائش گویا سورۃ کوثر کی پہلی تفسیر تھی . دنیا جانتی ہے کہ انہی امام حسن علیہ السلام اور ان کے چھوٹے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ذریعہ سے اولادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ کثرت ہوئی کہ باوجود ان کوششوں کے جو دشمنوں کی طرف سے اس خاندان کے ختم کرنے کی ہمیشہ ہوتی رہیں جن میں ہزاروں کوسولی دے دی گئی . ہزاروں تلواروں سے قتل کیے گئے اور کتنوں کو زہر دیا گیا . اس کے باوجوداج دُنیا الِ رسول کی نسل سے چھلک رہی ہے۔ عالم کا کوئی گوشہ مشکل سے ایسا ہوگا جہاں اس خاندان کے افراد موجود نہ ہوں . جبکہ رسول کے دشمن جن کی اس وقت کثرت سے اولاد موجودتھی ایسے فنا ہوئے کہ نام ونشان بھی ان کا کہیں نظر نہیں اتا . یہ ہے قران کی سچائی اور رسول کی صداقت کا زندہ ثبوت جو دنیا کی انکھوں کے سامنے ہمیشہ کے لیے موجود ہے اور اس لیے امام حسن علیہ السّلام کی پیدائش سے پیغمبر کو ویسی ہی خوشی نہیں ہوئی جیسی ایک نانا کو نواسے کی ولادت سے ہونا چاہیے۔ بلکہ آپ کو خاص مسرت یہ ہوئی کہ آپ کی سچائی کی پہلی نشانی دنیاکے سامنے آئی۔ ساتویں دن عقیقہ کی رسم ادا ہوئی اور پیغمبر نے بحکم خدا اپنے اس فرزند کا نام حسن علیہ السلام رکھا۔ یہ نام اسلام کے پہلے نہیں ہوا کرتا تھا۔ یہ سب سے پہلے پیغمبر کے اسی فرزند کا نام قرار پایا . حسین علیہ السلام ان کے چھوٹے بھائی کانام بھی بس انہی سے مخصو ص تھا۔ ان کے پہلے کسی کا یہ نام نہ ہوا تھا۔ آپ کی ولادت کے بعد آپ کے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت فرمانے کے بعد اپنی زبان اپنے نواسے کے منہ میں دی جسے وہ چوسنے لگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ اسے اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا۔

تربیت

حضرت امام حسن علیہ السلام کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سایہ عاطفت میں رہنے کا موقع ملا۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن علیہ السّلام اور حسین علیہ السّلام دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔ مثلاً حسن علیہ السّلام وحسین علیہ السّلام جوانانِ بہشت کے سردار ہیں .»دونوں گوشوارئہ عرش ہیں .,, »یہ دونوں میرے گلدستے ہیں .,, »خداوندا میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان کو محبوب رکھنا،, اور اس طرح کے بے شمار ارشادات پیغمبر کے دونوں نواسوں کے بارے میں کثرت سے ہیں , اُن کے علاوہ ان کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ عام قاعدہ یہ ہے کہ اولاد کی نسبت باپ کی جانب ہوتی ہے مگر پیغمبر نے اپنے ان دونوں نواسوں کی یہ خصوصیت صراحت کے ساتھ بتائی کہ انھیں میرا نواساہی نہیں بلکہ میرا فرزند کہنا درست ہے . یہ حدیث حضرت کی تمام اسلامی حدیث کی کتابوں میں درج ہے .حضرت نے فرمایا خدا نے ہر شخص کی اولاد کو خود اس کے صلب سے قرار دیا اور میری اولاد کو اس نے علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کی صلب سے قرار دیا . پھر بھلا ان بچوں کی تربیت میں پیغمبر کس قدر اہتمام صرف کرنا ضروری سمجھتے ہوں گے جب کہ خود بچّے بھی وہ تھے جنھیں قدرت نے طہارت وعصمت کالباس پنا کر بھیجا تھا , ایک طرف ائینے اتنے صاف اس پر رسول کے ہاتھ کی جلا، نتیجہ یہ تھا کہ بچے کم سنی ہی میں نانا کے اخلاق واوصاف کی تصویر بن گئے , خود حضرت نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ حسن میں میرا رعب وداب اور شان سرداری ہے اور حسین علیہ السّلام میں میری سخاوت اور میری جراYPت ہے . شان سرداری گویامختصر سالفظ ہے مگر اس میں بہت سے اوصاف وکمال کی جھلک نظر ا رہی ہے . اس کے ساتھ مختلف صورتوں سے رسول نے بحکمِ خدا اپنے مشن کے کام میں ان کو اسی بچپن کے عالم میں شریک بھی کیا جس سے ثابت بھی ہوا کہ پیغمبر اپنے بعد بمنشا الٰہی حفاظت ُ اسلام کی مہم کو اپنے ہی اہلیبت علیہ السّلام کے سپرد کرنا چاہتے ہیں . اس کاایک موقع مباہلہ کے میدان میں تھا .حضرت حسن علیہ السلام بھی اپنے ناناکے ساتھ ساتھ تھے 2 1ربیع الاوّل 11ھ کوجناب رسالتماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہو گئی او ر امام حسن علیہ السلام اس مسرت اور اطمینان کی زندگی سے محروم ہوئے . نانا کی وفات کے تھوڑے ہی دن بعد امام حسن علیہ السلام کو اپنی مادرِ گرامی حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا . اب حسن علیہ السّلام کے لیے گہوارہ تربیت اپنے مقدس باپ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات تھی .حسن علیہ السّلام اسی دور میں جوانی کی حدوں تک پہنچے اور کمال شباب کی منزلوں کوطے کیا .پچیس برس کی خانہ نشینی کے بعد جب حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو مسلمانوں نے خلیفہ ظاہری کی حیثیت سے تسلیم کیا اور اس کے بعد جمل , صفین اور نہروان کی لڑائیاں ہوئیں تو ہر ایک جہاد میں حسن علیہ السّلام اپنے والد بزرگوار کے ساتھ ساتھ بلکہ بعض موقعوں پر جنگ میں آپ نے کار نمایاں بھی دکھلائے .

خلافت

21ماہ رمضان 40ھ میں حضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کی شہادت ہوئی . اس وقت تمام مسلمانوں نے مل کر حضرت امام حسن علیہ السّلام کی خلافت تسلیم کی . آپ پر اپنے والد بزرگوار کی شہادت کا بڑااثر تھا . سب سے پہلا خطبہ جو آپ نے ارشاد فرمایا اس میں حضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کے فضائل ومناقب تفصیل کے ساتھ بیان کیے . جناب امیر علیہ السّلام کی سیرت اور مال دُنیا سے پرہیز کا تذکرہ کیا . اس وقت آپ پر گریہ کااتنا غلبہ ہوا کہ گلے میں پھندا پڑ گیا اور تمام لوگ بھی آپ کے ساتھ بے اختیار رونے لگے۔ پھر آپ نے اپنے ذاتی اور خاندانی فضائل بیان کیے . عبد اللهابن عباس رض نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی . سب نے انتہائی خوشی اور رضا مندی کے ساتھ بیعت کی آپ نے مستقبل کے حالات کاصحیح اندازہ کرتے ہوئے اسی وقت لوگوں سے صاف صاف یہ شرط کردی کہ »اگر میں صلح کروں تو تم کو صلح کرنا ہوگی او راگر میں جنگ کروں تو تمھیں میرے ساتھ مل کر جنگ کرنا ہوگی , سب نے اس شرط کو قبول کر لیا . آپ نے انتظامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لیا . اطراف میں عمال مقرر کیے , حکام متعین کیے اور مقدمات کے فیصلے کرنے لگے . یہ وقت وہ تھا کہ دمشق میں حاکم شام معاویہ کا تخت ُ سلطنت پر قبضہ مضبوط ہوچکا تھا .حضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کے ساتھ صفین میں جو لڑائیاں حاکمِ شام کی ہوئی تھیں ان کا نتیجہ تحکیم کی سازشانہ کارروائی کی بدولت حاکم ُ شام کے موافق نکل چکا تھا ادھر حضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب کی سلطنت کے اندر جہاں اب حضرت امام حسن علیہ السّلام حکمران ہوئے تھے باہمی تفرقے اور بددلی پیدا ہو چکی تھی خود جناب امیر علیہ السّلام احکام کی تعمیل میں جس طرح کوتاہیاں کی جاتی تھیں وہ حضرت کے اخر عمر کے خطبوں سے ظاہر ہے ,خوارج نہروان کا فتنہ مستقل طور پر بے اطمینان کاباعث بنا ہوا تھا جن کی اجتماعی طاقت کو اگرچہ نہروان میں شکست ہو گئی تھی مگر ان کے منتشر افراد اب بھی اسی ملک کے امن وامان کو صدمہ پہنچانے پر تلے ہوئے تھے یہاں تک کہ بظاہر اسی جماعت کا ایک شخص تھا جس نے حضرت امیر علیہ السّلام کے سر پر مسجد میں ضربت لگائی اور جس کا صدمہ سے آپ کی وفات ہوئی تھی . ابھی ملک حضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کے غم میں سوگوار تھا اور حضرت امام حسن علیہ السّلام پورے طور پر انتظامات بھی نہ کرچکے تھے کہ حکام شام کی طرف سے آپ کی مملکت میں دراندازی شروع ہو گئی اور ان خفیہ کارکنوں نے اپنی کاروائیں جاری کر دیں چنانچہ ایک شخص قبیلہ حمیر# کا کوفہ میں ا ورایک شخص بنی قین میں سے بصرہ میں پکڑا گیا یہ دونوں اس مقصد سے ائے تھے کہ یہاں کے حالات سے دمشق میں اطلاع دیں اور فضا کو امام حسن علیہ السّلام کے خلاف ناخوشگوار بنائیں غنیمت ہے کہ اس کاانکشاف ہو گیا حمیر والا آدمی کوفہ میں ایک قصائی کے گھر سے اور قین والاا دمی بصرہ میں بنی سلیم کے یہاں سے گرفتار کیا گیا اور دونوں کو جرم کی سز ادی گئی .اس واقعہ کے بعد حضرت امام حسن علیہ السّلام نے معاویہ کو ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ تم اپنی دراندازیوں سے نہیں باز آتے . تم نے لوگ بھیجے ہیں کہ میرے ملک میں بغاوت پیدا کرائیں اور اپنے جاسوس یہاں پھیلا دیے ہیں . معلوم ہوتا ہے کہ تم جنگ کے خواہشمند ہو ایسا ہو تو پھر تیار ہو , یہ منزل کچھ دور نہیں . نیز مجھ کو خبر ملی ہے کہ تم نے میرے باپ کی وفات پر طعن وتشنیع کے الفاظ کہے . یہ ہر گز کسی ذی ہوش آدمی کا کام نہیں ہے . موت سب کے لیے ہے اج ہمیں اس حادثے دوچار ہونا پڑا تو کل تمھیں ہوناہوگا اور حقیقت یہ ہے کہ »ہم اپنے مرنے والے کو مرنیوالا سمجھتے نہیں . وہ تو ایسا ہے . جیسے ایک منزل سے منتقل ہو کر اپنی دوسری منزل میں جا کر ارام کی نیند سو جائے .,,

اس خط کے بعد حاکم شام اور امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام کے درمیان بہت سے خطوط کی ردوبدلی ہوئی . حاکم شام کواپنے جاسوسوں کے ذریعہ سے اہل کوفہ کے باہمی تفرقہ اور بددلی اور عملی کمزوریوں کا علم ہو گیا . اس لیے وہ سوچنے لگا کہ یہی موقع ہے کہ عراق پر حملہ کر دیا جائے . چنانچہ وہ اپنی فوجوں کو لے کر عراق کی حدود تک پہنچ گئے . اس وقت حضرت امام حسن علیہ السّلام نے بھی مقابلہ کی تیاری کی حجر بن عدی کو بھیجا کہ وہ دورہ کرکے اطراف ُ ملک کے احکام کو مقابلے کے لیے امادہ کریں اور لوگوں کو جہاد کے لیے تیار کریں مگر جو خیال تھا وہی ہوا کہ عام طورپر سردمہری سے کام لیا گیا . تھوڑی فوج تیار ہوئی تو ان میں کچھ فرقہ خوارج کے لوگ تھے کچھ شورش پسند اور مال غنیمت کے طلبگار او رکچھ لوگ صرف اپنے سردارانِ قبائل کے دباؤ سے شریک تھے , بہت کم وہ لوگ تھے جو واقعی حضرت علی علیہ السّلام اور امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام کے شیعہ سمجھے جاسکتے تھے .

ادھر معاویہ نے عبد الله ابن عامر ابن کریز کو اگے روانہ کیااور اس نے اس مقام انبار میں جاکر چھاؤنی بنائی ادھرحضرت امام حسن علیہ السّلام اس کے مقابلہ کے لے روانہ ہوئے اور مقامِ دیر کعب کے قریب ساباط# میں قیام کیا . یہاں پہنچ کر آپ نے لوگوں کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے سب کو جمع کرکے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا مضمون یہ تھا کہ »دیکھو مجھے کسی مسلمان سے کینہ نہیں ہے , میں تمھارا اتنا ہی بہی خواہ ہوں جتنا خود اپنی ذات کی نسبت مجھے ہونا چاہیے . میں تمھارے بارے میں ایک فیصلہ کن رائے قائم کرتا رہا ہوں .امید ہے کہ تم میری رائے سے انحراف نہ کرو گے . میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے اکثر کی ہمت جہاد سے پست ہو گئی ہے اور میں کسی طرح یہ صحیح نہیں سمجھتا کہ تمھیں بادل ناخواستہ کسی مہم پر مجبور کروں .,,اس تقریر کاختم ہونا تھا کہ مجمع میں ہنگامہ پید اہو گیا . یقینی علی علیہ السّلام جیسے بہادر باپ کا بہادر فرزند تن تنہا اس ہنگامہ اور جماعت کا مقابلہ کرنے کے لے کافی تھا .اگر یہ کھلم کھلا دشمنوں کی جماعت ہوتی مگر اس کے پہلے خود حضرت علی علیہ السّلام بھی اس وقت بظاہر بے بس ہو گئے تھے . جب نیزوں پر قران اونچے کیے جانے کے بعد صفین میں خود آپ کی فوج کے آدمی آپ کو گھیر کر کھڑے ہو گئے تھے کہ آپ جنگ کو روکئے۔ نہیں تو ہم آپ کو قید کر کے دشمن کے سپرد کر دیں گے۔ اس وقت جناب امیر علیہ السّلام نے ایسا نہیں کیا کہ تلوار لے کر لڑنے لگتے بلکہ مجبوراً جنگ کو ملتوی فرمایا۔ اس سے زیادہ سخت صورت سے اس وقت امام حسن علیہ السّلام کو سامنا کرنا پڑا کہ مجمع نے آپ پر حملہ کر دیا اور مصلّٰی قدم کے نیچے سے کھینچ لیا . چادر آپ کے دوش سے اتارلی .آپ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اواز بلند کی کہ کہاں ہیں ربیعہ او ہمدان# , فوراً یہ دونوں جانثار قبیلے اَدھر اُدھر سے دوڑ پڑے اور لوگوں کو آپ سے دورکیا . آپ یہاں سے مدائن کی طرف روانہ ہوئے مگر جراح ابن قبیصہ اسدی ایک شخص انہی خوارج میں سے کمین گاہ میں چھپ گیااور اس نے آپ پر خنجر سے وار کیا جس سے آپ کی ران زخمی ہو گئی , حملہ اور گرفتار کیا گیا اور اسے سزا دی گئی . عرصہ تک مدائن میں علاج ہونے کے بعد آپ اچھے ہوئے او پھر معاویہ کی فوج سے مقابلہ کی تیاری کی . صلح

حاکم شام کو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی فوج کی حالت اور لوگوں کی بے وفائی کا علم ہوچکا تھا اس لیے وہ سمجھتا تھا کہ امام حسن علیہ السّلام کے لے جنگ کرنا ممکن نہیں ہے مگر اس کے ساتھ وہ یہ بھی یقین رکھتے تھے کہ حضرت امام حسن علیہ السّلام کتنے ہی بے بس اور بے کس ہوں مگر وہ علی علیہ السّلام وفاطمہ کے بیٹے اور پیغمبر کے نواسے ہیں اس لیے وہ شرائط پر ہر گز صلح نہ کریں گے جو حق پرستی کے خلاف ہوں اور جن سے باطل کی حمایت ہوتی ہو . اس کو نظر میں رکھتے ہوئے انھوں نے ایک طرف تو آپ کے ساتھیوں کو عبد اللهابن عامر کے ذریعے سے یہ پیغام دلوایا کہ اپنی جان کے پیچھے نہ پڑو اور خونریزی نہ ہونے دو . اس سلسلے میں کچھ لوگوں کو رشوتیں بھی دی گئیں اور کچھ بزدلوں کو اپنی تعداد کی زیادتی سے خوف زدہ بھی کیا گیا اور دوسری طرف امام حسن علیہ السّلام کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ جن شرائط پر کہیں انہی شرائط پر میں صلح کے لیے تیار ہوں .

امام حسن علیہ السّلام یقیناً اپنے ساتھیوں کی غداری کو دیکھتے ہوئے جنگ کرنا مناسب نہ سمجھتے تھے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ ضرور پیش نظر تھا کہ ایسی صورتِ پیدا ہوکہ باطل کی تقویت کادھبہ میرے دامن پر نہ آنے پائے . اس گھرانے کوحکومت واقتدار کی ہوس تو کبھی تھی ہی نہیں . انھیں تو مطلب اس سے تھا کہ مخلوقِ خدا کی بہتری ہو اورحدودوحقوق الٰہی کا اجرا ہو اب معاویہ نے جو آپ سے منہ مانگے شرائط پر صلح کرنے کے لیے امادگی ظاہر کی تو اب مصالحت سے انکار کرناشخصی اقتدار کی خواہش کے علاوہ اور کچھ نہیں قرار پاسکتا تھا . یہ حاکم شام صلح کے شرائط پر عمل نہ کریں گے بعد کی بات تھی . جب تک صلح نہ ہوتی یہ انجام سامنے اکہاں سکتا تھا او رحجت تمام کیونکر ہوسکتی تھی , پھر بھی اخری جواب دینے سے قبل آپ نے ساتھ والوں کو جمع کیا اور تقریر فرمائی .»اگاہ رہو کہ تم میں دو خونریز لڑائیں ہوچکی ہیں جن میں بہت لوگ قتل ہوئے کچھ مقتول صفین# میں ہوئے جن کے لیے اج تک رو رہے ہو , اور کچھ فضول نروان کے جن کا معاوضہ طلب کر رہے ہو اب اگر تم موت پر راضی ہوتوہم ا س پیغام صلح کو قبول نہ کریں اوران سے الله کے بھروسے پر تلواروں سے فیصلہ کرائیں اور اگر زندگی کو دوست رکھتے ہو تو ہم اس کو قبول کر لیں اور تمھاری مرضی پر عمل کریں« جواب میں لوگوں نے ہر طرف سے پکارنا شروع کیا کہ »ہم زندگی چاہتے ہیں , آپ صلح کرلیجئے .,, اس کا نتیجہ تھا کہ آپ نے صلح کے شرائط مرتب کرکے معاویہ کے پاس روانہ کیے۔ شرائط صلح

اس صلح نامہ کے مکمل شرائط حسبِ ذیل تھے۔

یہ کہ معاویہ حکومتِ اسلام میں کتاب خدااور سنتِ رسول پر عمل کریں گے۔
دوسرے یہ کہ معاویہ کو اپنے بعد کسی خلیفہ کے نامزد کرنے کا حق نہ ہوگا۔
یہ کہ شام وعراق وحجازویمن سب جگہ کے لوگوں کے لیے امان ہوگی۔
یہ کہ حضرت علی علیہ السّلام کے اصحاب اور شیعہ جہا ں بھی ہیں ان کے جان ومال اور ناموس واولاد محفوظ رہیں گے .
معاویہ حسن علیہ السّلام ابن علی علیہ السّلام اور ان کے بھائی حسین علیہ السّلام ابن ُ علی علیہ السّلام اور خاندانِ رسول میں سے کسی کو بھی کوئی نقصان پہنچانے یاہلاک کرنے کی کوشش نہ کرئے گا نہ خفیہ طریقہ پر اور نہ علانیہ اور ان میں سے کسی کو کسی جگہ دھمکایا اور ڈرایا نہیں جائے گا .
جناب امیر علیہ السّلام کی شان میں کلمات ُ نازیبا جو اب تک مسجدجامع اور قنوت نماز میں استعمال ہوتے رہے ہیں وہ ترک کر دیے جائیں . اخری شرط کی منظوری میں معاویہ کو عذر ہو اتو یہ طے پایا کہ کم از کم جس موقع پر امام حسن علیہ السّلام موجود ہوں اور اس موقع پر ایسانہ کیا جائے . یہ معاہدہ ربیع الاول یاجمادی الاول41ھئ کو عمل میں ایا۔

صلح کے بعد

فوجیں واپس چلی گئیں .معاویہ کی شہنشاہی ممالک اسلامیہ میں عمومی طور پر مسلّم ہو گئی اور اب شام ومصر کے ساتھ عراق وحجاز , یمن اور ایران نے بھی اطاعت کرلی . حضرت امام حسن علیہ السّلام کو اس صلح کے بعد اپنے بہت سے ساتھیوں کی طرف سے جس طرح کے دلخراش اور توہین امیز الفاظ کاسامنا کرنا پڑا .ان کابرداشت کرنا انہی کاکام تھا .وہ لوگ جو کل تک امیر المومنین کہہ کے تسلیم بجا لاتے تھے اج »مُذلّ المومنین «»یعنی مومنین کی جامعت کو ذلیل کرنے والے ,, کے الفاظ سے سلام کرنے لگے پھر امام حسن علیہ السّلام نے صبرو استقلال اور نفس کی بلندی کے ساتھ ان تمام ناگوار حالات کو برداشت کیااور معاہدہ پر سختی کے ساتھ قائم رہے مگر ادھر یہ ہوا کہ حاکمِ شام نے جنگ کے ختم ہوتے ہی اور سیاسی اقتدار کے مضبوط ہوتے ہی عراق میں داخل ہو کر نخیلہ میں جسے کوفہ کی سرحد سمجھنا چاہیے قیام کیااور جمعہ کے خطبہ کے بعد یہ اعلان کر دیا کہ »میرا مقصد جنگ سے کوئی یہ نہ تھا کہ تم لوگ نماز پڑھنے لگو . روزے رکھنے لگو . حج کرو یا زکوٰة ادا کرو , یہ سب تو تم کرتے ہی ہو میرا مقصد تو بس یہ تھا کہ میری حکومت تم پر مسلّم ہو جائے اور یہ مقصد میرا حسن علیہ السّلام کے اس معاہدہ کے بعد پورا ہو گیا اور باوجود تم لوگوں کی ناگواری کے خدانے مجھے کامیاب کر دیا . رہ گئے وہ شرائط جو میں نے حسن علیہ السّلام کے ساتھ کیے ہیں وہ سب میرے پیروں کے نیچے ہیں ان کاپورا کرنا یا نہ کرنا میرے ہاتھ کی بات ہے »مجمع میں ایک سناٹا چھایا ہوا تھا مگر اب کس میں دم تھا کہ وہ اس کے خلاف زبان کھولتا .انتہا ہے کہ کوفہ میں امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام کی موجودگی میں حاکم شام نے حضرت امیر علیہ السّلام اور امام حسن علیہ السّلام کی شان میں کلماتِ نازیبا استعمال کیے جن کو سن کر امام حسین علیہ السّلام بھائی کی جانب سے جواب دینے کے لیے کھڑے ہو گئے مگر امام حسن علیہ السّلام نے آپ کو بیٹھا دیا اور خود کھڑے ہو کر نہایت مختصر اور جامع الفاظ میں حاکم شام کی تقریر کا جواب دیا اسی طرح جتنی معاہدہ کی شرطیں تھیں حاکم شام نے سب کی مخالفت کی اور کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا .

باوجودیہ کہ آپ بالکل خاموشی کی زندگی گزار رہے تھے مگر آپ خود بھی اس دور میں بنی امیہ کی ایذارسانیوں سے محفوظ نہیں تھے . ایک طرف غلط پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات جن میں سے ان کی بلندی مرتبہ پر عام نگاہوں میں حرف ائے مثلاًکثرتِ ازدواج اور کثرتِ طلاق یہ چیز اپنی جگہ پر شریعت ُ اسلام میں جائز ہے مگر بنی امیہ کے پروپیگنڈے نے اس کو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی نسبت ایسے ہولناک طریقہ پر پیش کیاکو ہر گز قابل قبول نہیں ہے . دوسرے بنی امیہ کے ہواخواہوں کا بُرا برتاؤ , سخت کلامی اور دشنام دہی اس کااندازہ اما م حسین علیہ السّلامکے ان الفاط سے ہوتا ہے کہ جو آپ مروان سے فرمائے تھے . جب امام حسن علیہ السّلام کے جنازے کے ساتھ مروان رو رہا تھا , امام حسین علیہ السّلام نے فرمایا .»اج تم روتے ہو ,حالانکہ ا سکے پہلے تم انھیں غم وغصہ کے گھونٹ پلاتے تھے جنھیں دل ہی خوب جانتا ہے۔,,مروان نے کہا . ٹھیک ہے مگر وہ سب کچھ ایسے انسان کے ساتھ کرنا تھا جو پہاڑ سے زیادہ قوتِ برداشت رکھنے والا تھا . اخلاق وانصاف

امام حسن علیہ السّلام کی ایک غیر معمولی صفت جس کے دوست اور دشمن سب معترف تھے . وہ یہی حلم کی صفت تھی جس کا اقرار بھی مروان کی زبان سے آپ سن چکے ہیں . حکومت ُ شام کے ہواخواہ صرف اس لیے جان بوجھ کر سخت کلامی اور بد زبانی کرتے تھے کہ امام حسن علیہ السّلام کو غصہ اجائے اور کوئی ایسا اقدام کر دیں جس سے آپ پر عہد شکنی کاالزام عائد کیا جاسکے اورا س طرح خونریزی کا ایک بہانہ ہاتھ ائے مگر آپ ایسی صورتوں میں حیرتناک قوت ُ برداشت سے کام لیتے تھے جو کسی دوسرے انسان کاکام نہیں ہے . آپ کی سخاوت اور مہمان نوازی بھی عرب میں مشہور تھی . آپ نے تین مرتبہ اپنا تما م مال راہ خدا میں لٹا دیا اور دو مرتبہ ملکیت . یہاں تک کہ اثاث البیت اور لباس تک کو ادھوں ادھ خدا میں دے دیا .

سائلوں کو ایک دفعہ میں ہزاروں روپے دے دیے ہیں اور حقیقت میں معاویہ کے ساتھ شرائط ُصلح میں جو بہت سے مورخین کے بیان کے مطابق ایک خاص رقم کی شرط ملتی ہے کہ معاویہ کی جانب سے ہر سال امام حسن علیہ السّلام کے پاس روانہ کی جائے وہ اگر صحیح ہو تو اس کامقصد صرف یہی تھاکہ اس ذریعہ سے مسلمانوں کے بیت المال کا کچھ روپیہ مستحقین تک بھی پہنچ سکے , ہر گز اپنی ذات پرصرف کرنے کے لیے آپ نے اس رقم کی شرط قرار نہیں دی تھی چنانچہ جوکچھ پاس موجود ہوتا تھا چاہیے زیادہ سے زیادہ رقم کیوں نہ ہو آپ خود فوراً سائلوں کوعطا فرمادیتے تھے , کسی نے آپ سے پوچھا کہ باوجود کہ آپ خود ضرورت مند ہیں پھر بھی کیا بات ہے کہ سائل کو رد نہیں فرماتے , آپ نے فرمایا .»میں خود خدا کی بارگاہ کا سائل ہوں ,مجھے شرم اتی ہے کہ خود سائل ہوتے ہوئے دوسرے سائلوں کے سوال کے پورا کرنے کی تمنا رکھوں .,,

اس کے ساتھ آپ کے علمی کمالات بھی وہ تھے جن کے سامنے دُنیا سرخم کرتی تھی اگرچہ عبد الله بن عباسرض امیر المومنین علیہ السّلام سے حاصل کیے ہوئے علوم سے دُنیا ئے علم میں اپنا ڈنکا بجا رہے تھے مگر امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام کے خدا داد علم کاسامنا ہوجاتا تھا تو خاندانِ رسالت کی بزرگی کا دنیا کو اقرار کرنا پڑتا تھا . چنانچہ ایک سائل نے مسجد نبوی میں اکر ایک ایت کی تفسیر ابن عباسرض سے بھی پوچھی۔ عبد الله ابن رض عمیر سے بھی پوچھی اور پھر امام حسن سے دریافت کی اور اخر میں اس نے اقرار کیا کہ امام حسن علیہ السّلام کا جواب یقیناً ان دونوں سے بہتر تھا . اکثر آپ نے اپنے دشمن معاویہ کے دربار میں اور وہاں کے مخالف ماحول میں فضائل اہلبیت علیہ السّلام اور مناقب امیر المومنین علیہ السّلام پر ایسی مئوثر تقریریں فرمائی ہیں کہ دشمنوں کے سرجھک گئے اور آپ کی فصاحت وبلاغت اورحقانیت کا ان کے دلوں پر سّکہ قائم ہو گیا .

عبادت بھی آپ کی امتیازی حیثیت رکھتی تھی بیس یاپچیس حج پاپیادہ کیے . جب موت، قبر , قیامت اور صراط کو یاد فرماتے تھے تو رونے لگتے تھے . جب بارگاہ الٰہی میں اعمال کے پیش ہونے کا خیال اتا تو ایک نعرہ مار کر بے ہوش ہوجاتے تھے اور جب نماز کو کھڑے ہوتے تھے تو جسم لرزنے لگتاتھا وفات

اس بے ضرر اور خاموش زندگی کے باوجود بھی امام حسن علیہ السّلام کے خلاف وہ خاموش حربہ استعمال کیا گیا جو سلطنت بنی امیہ میں اکثر صرف کیا جا رہا تھا . حاکم شام نے اشعث ابن قیس کی بیٹی جعدہ کے ساتھ جو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی زوجیت میں تھی ساز باز کرکے ایک لاکھ درہم انعام اور اپنے فرزند یزید کے ساتھ شادی کا وعدہ کیا اور اس کے ذریعہ سے حضرت حسن علیہ السّلام کو زہر دلوایا .امام حسن علیہ السّلام کے کلیجے کے ٹکڑے ہو گئے اور حالت خراب ہوئی .آپ نے اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السّلام کو پاس بلایا اوروصیت کی , اگر ممکن ہو تو مجھے جدِ بزرگوار رسولِ خدا کے جار میں دفن کرنا لیکن اگر مزاحمت ہو تو ایک قطرہ خون گرنے نہ پائے . میرے جنازے کو واپس لے انا اور جنت البقیع میں دفن کرنا۔ 28 صفر 50ھ کو امام حسن علیہ السّلام دنیا سے رخصت ہو گئے . حسین علیہ السّلام حسبِ وصیت بھائی کا جنازہ روضہ رسول کی طرف لے گئے مگر جیسا کہ امام حسن علیہ السّلام کو اندیشہ تھا وہی ہوا . ام المومنین عائشہ اور مروان وغیرہ نے مخالفت کی .نوبت یہ پہنچی کہ مخالف جماعت نے تیروں کی بارش کردی اور کچھ تیر جنازئہ امام حسن علیہ السّلام تک پہنچے , بنی ہاشم کے اشتعال کی کوئی انتہا نہ رہی مگر امام حسین علیہ السّلام نے بھائی کی وصیت پر عمل کیا اورا مام حسن علیہ السّلام کاتابوت واپس لا کر جنت البقیع میں دفن کر دیا۔

3) حضرت امام حسین ابن علی علیہ السلام

حسین نام اور ابو عبد اللہ کنیت ہے، پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفے ٰ کے چھوٹے نواسے علی و فاطمہ زہرا کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ ان کے بارے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ 'حسین منی و انا من الحسین' یعنی 'حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔

1 ولادت
2 نشوو نما
3 رسول کی محبت
4 رسول کی وفات کے بعد
5 اخلاق و اوصاف
6 متعلقہ مضامین
ولادت

ہجرت کے چوتھے سال تیسری شعبان پنجشنبہ کے دن آپ کی ولادت ہوئی . اس خوشخبری کو سن کر جناب رسالت ماب تشریف لائے , بیٹے کو گود میں لیا , داہنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنی زبان منہ میں دے دیدی . پیغمبر کا مقدس لعاب دہن حسین علیہ السّلام کی غذا بنا . ساتویں دن عقیقہ کیا گیا . آپ کی پیدائش سے تمام خاندان میں خوشی اور مسرت محسوس کی جاتی تھی مگر انے والے حالات کاعلم پیغمبر کی انکھوں میں انسو برساتا تھا . اور اسی وقت سے حسین کے مصائب کاچرچا اہلیبت ُ رسول کے زبانوں پر انے لگا۔

نشوو نما

پیغمبراسلام کی گود میں جو اسلام کی تربیت کاگہوارہ تھی اب دن بھردو بچّوں کی پرورش میں مصروف ہوئی ایک حسن دوسرے حسین اور اس طرح ان دونوں کا اور اسلام کا ایک ہی گہوارہ تھا جس میں دونوں پروان چڑھ رہے تھے . ایک طرف پیغمبر ُ اسلام جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی اور دوسری طرف حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب جو اپنے عمل سے خدا کی مرضی کے خریدار بن چکے تھے تیسری طرف حضرت فاطمہ زہرا جو خواتین کے طبقہ میں پیغمبر کی رسالت کو عملی طور پر پہنچانے کے لیے ہی قدرت کی طرف سے پیدا ہوئی تھیں اس نورانی ماحول میں حسین کی پرورش ہوئی۔

رسول کی محبت

جیسا کہ حضرت امام حسن کے حالات میں لکھا جاچکا ہے کہ حضرت محمد مصطفے ٰ اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے . سینہ پر بیٹھاتے تھے . کاندھوں پر چڑھاتے تھے اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے تھے کہ ان سے محبت رکھو . مگر چھوٹے نواسے کے ساتھ آپ کی محبت کے انداز کچھ امتیاز خاص رکھتے تھے .ایسا ہو اہے کہ نماز میں سجدہ کی حالت میں حسین پشت ُ مبارک پراگئے تو سجدہ میں طول دیا . یہاں تک کہ بچہ خود سے بخوشی پشت پر سے علاحدہ ہو گیا .اس وقت سر سجدے سے اٹھایا اور کبھی خطبہ پڑھتے ہوئے حسین مسجد کے دروازے سے داخل ہونے لگے اور زمین پر گر گئے تو رسول نے اپنا خطبہ قطع کر دیا منبر سے اتر کر بچے کوزمین سے اٹھایا اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ »دیکھو یہ حسین ہے اسے خوب پہچان لو اور اس کی فضیلت کو یاد رکھو « رسول نے حسین کے لیے یہ الفاظ بھی خاص طور سے فرمائے تھے کہ »حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں،, مستقبل نے بتادیا کہ رسول کا مطلب یہ تھا کہ میرا نام اور کام دُنیا میں حسین کی بدولت قائم رہیگا .

رسول کی وفات کے بعد

امام حسین کی عمر ابھی چھ سال کی تھی جب انتہائی محبت کرنے والے کاسایہ سر سے اٹھ گیا .اب پچیس برس تک حضرت علی ابن ابی طالب کی خانہ نشینی کادور ہے .اس زمانہ کے طرح طرح کے ناگوار حالات امام حسین دیکھتے رہے اور اپنے والد بزرگوار کی سیرت کا بھی مطالعہ فرماتے رہے . یہ وہی دور تھا جس میں آپ نے جوانی کے حدود میں قدم رکھا اور بھر پور شباب کی منزلوں کو طے کیا .35ھ میں جب حسین کی عمر 31 برس کی تھی عام مسلمانوں نے حضرت علی ا بن ابی طالب کو بحیثیت خلیفہ اسلام تسلیم کیا . یہ امیر المومنین کی زندگی کے اخری پانچ سال تھے جن میں جمل صفین اور نہروان کی لڑائیں ہوئی اور امام حسین ان میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی نصرت اور حمایت میں شریک ہوئے اور شجاعت کے جوہر بھی دکھلائے .40ھ میں جناب امیر مسجد کوفہ میں شہید ہوئے اور اب امامت وخلافت کی ذمہ داریاں امام حسن کے سپرد ہوئیں جو حضرت امام حسین کے بڑے بھائی تھے .حسین نے ایک باوفااور اطاعت شعار بھائی کی طرح حسن کاساتھ دیااور جب امام حسن نے اپنے شرائط کے ماتحت جن سے اسلامی مفاد محفوظ رہ سکے امیر معاویہ کے ساتھ صلح کرلی تھی تو امام حسین بھی اس مصلحت پر راضی ہو گئے اور خاموشی اور گوشہ نشینی کے ساتھ عبادت اور شریعت کی تعلیم واشاعت میں مصروف رہے مگر امیر معاویہ نے ان شرائط کو جو امام حسن کے ساتھ ہوئے تھے بالکل پورا نہ کیا خود امام حسن کو سازش ہی سے زہر دیا گیا- حضرت علی بن ابی طالب کے شیعوں کو چن چن کے قید کیا گیا- سر قلم کیے گئے اور سولی پر چڑھایا گیا اور سب سے آخر اس شرط کے بالکل خلاف کہ امیر معاویہ کو اپنے بعد کسی کو جانشین مقرر کرنے کا حق نہ ہو گا۔ معاویہ نے یزید کو اپنے بعد کے ليے ولی عہد بنا دیا اور تمام مسلمانوں سے اس کی بیعت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور زور و زر دونوں طاقتوں کو کام میں لا کر دنیائے اسلام کے بڑے حصے کا سر جھکوا دیا گیا- محمد ابن جریر طبری، ابن خلدون، ابن کثیر غرض بہت سے مفسرین اور مورخین نے لکھا ہے کہ ابن زیاد نے خاندان رسالت کوکربلا میں قتل کیااور قیدیوں کو اونٹوں پر شہیدوں کے سروں کے ساتھ دمشق بھیج دیا۔ دمشق میں بھی ان کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہ ہوا۔ یزید نے امام حسین کے سر کو اپنے سامنے طشت پر رکھ کر ان کے دندان مبارک کو چھڑی سے چھیڑتے ہوے اپنے کچھ اشعار پڑھے جن سے اس کا نقطہ نظر معلوم ہوتا ہے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے

کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے : شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کاانتقام لے لیا، بنی ہاشم سلطنت سے کھیل رہے تھے اور نہ آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئي نہ کوئي فرشتہ آیا ہے۔

امام حسین عراق میں کربلا کے مقام پر مدفون ہیں۔

اخلاق و اوصاف

امام حسین سلسلہ امامت کے تیسرے فرد تھے- عصمت و طہارت کا مجسمہ تھے- آپ کی عبادت، آپ کے زہد، آپ کی سخاوت اور آپ کے کمال ُاخلاق کے دوست و دشمن سب ہی قائل تھے- پچیس حج آپ نے باپیادہ کیے- آپ میں سخاوت اور شجاعت کی صفت کو خود رسول اللہ نے بچپن میں ایسا نمایاں پایا کہ فرمایا» حسین میں میری سخاوت اور میری جراَت ہے-« چنانچہ آپ کے دروازے پر مسافروں اور حاجتمندوں کا سلسلہ برابر قائم رہتا تھا اور کوئی سائل محروم واپس نہیں ہوتا تھا- اس وجہ سے آپ کا لقب ابوالمساکین ہو گیاتھا- راتوں کو روٹیوں اور کھجوروں کے پشتارے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے جاتے تھے اور غریب محتاج بیواؤں اور یتیم بچوں کو پہنچاتے تھے جن کے نشان پشت مبارک پر پڑ گئے تھے- حضرت ہمیشہ فرماا کرتے تھے کہ » جب کسی صاحبِ ضرورت نے تمہارے سامنے سوال کے ليے ہاتھ پھیلا دیا تو گویا اس نے اپنی عزت تمہارے ہاتھ بیچ ڈالی- اب تمہارا فرض یہ ہے کہ تم اسے خالی ہاتھ واپس نہ کرو، کم سے کم اپنی ہی عزتِ نفس کا خیال کرو-« غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ آپ عزیزوں کا سا برتاؤ کرتے تھے- ذرا ذرا سی بات پر آپ انہیں آزاد کر دیتے تھے- آپ کے علمی کمالات کے سامنے دنیا کا سر جھکا ہوا تھا- مذہبی مسائل اور اہم مشکلات میں آپ کی طرف رجوع کی جاتی تھی- آپ کی دعاؤں کا ایک مجموعہ صحیفہ حسینیہ کے نام سے اس وقت بھی موجود ہے آپ رحمدل ایسے تھے کہ دشمنوں پر بھی وقت آنے پر رحم کھاتے تھے اور ایثار ایسا تھا کہ اپنی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے- ان تمام بلند صفات کے ساتھ متواضع اور منکسر ایسے تھے کہ راستے میں چند مساکین بیٹھے ہوئے اپنے بھیک کے ٹکڑے کھا رہے تھے اور آپ کو پکار کر کھانے میں شرکت کی دعوت دی تو حضرت فوراً زمین پر بیٹھ گئے- اگرچہ کھانے میں شرکت نہیں فرمائی-اس بنائ پر کہ صدقہ آلِ محمد پر حرام ہے مگر ان کے پاس بیٹھنے میں کوئی عذر نہیں ہوا- اس خاکساری کے باوجود آپ کی بلندی مرتبہ کا یہ اثر تھا کہ جس مجمع میں آپ تشریف فرماہوتے تھے لوگ نگاہ اٹھا کر بات نہیں کرتے تھے - جو لوگ آپ کے خاندان کے مخالف تھے وہ بھی آپ کی بلندی مرتبہ کے قائل تھے- چنانچہ ایک مرتبہ حضرت امام حسین نے حاکم شام معاویہ کو ایک سخت خط لکھا جس میں اس کے اعمال و افعال اور سیاسی حرکات پر نکتہ چینی کی تھی اس خط کو پڑھ کر معاویہ کو بڑی تکلیف محسوس ہوئی- پاس بیٹھنے والے خوشامدیوں نے کہا کہ آپ بھی اتنا ہی سخت خط لکھیے- معاویہ نے کہا، »میں جو کچھ لکھوں گا وہ اگر غلط ہو تو اس سے کوئی نتیجہ نہیں اور اگر صحیح لکھنا چاہوں تو بخدا حسین میں مجھے ڈھونڈنے سے کوئی عیب نہیں ملتا-« آپ کی اخلاقی جراَت , راست بازی اور راست کرداری , قوتِ اقدام، جوش عمل اور ثبات و استقلال , صبر و برداشت کی تصویریں کربلا کے مرقع میں محفوظ ہیں- ان سب کے ساتھ آپ کی امن پسندی یہ تھی کہ آخر وقت تک دشمن سے صلح کرنے کی کوشش جاری رکھی مگر عزم وہ تھا کہ جان دے دی جو صحیح راستہ پہلے دن اختیار کر لیا تھا اس سے ایک انچ نہ ہٹے- انہوں نے بحیثیت ایک سردار کے کربلا میں ایک پوری جماعت کی قیادت کی- اس طرح کہ اپنے وقت میں وہ اطاعت بھی بے مثل اور دوسرے وقت میں یہ قیادت بھی لاجواب تھی-

متعلقہ مضامین

واقعہ کربلا

سانحۂ کربلا 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر 680ء) کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ جہاں شیعہ عقائد کے مطابق اموی خلیفہ یزید اول کی بھیجی گئی افواج نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حضرت حسین ابن علی عليہ السلام اور ان کے اہل خانہ کو شہید کیا۔ حسین ابن علی عليہ السلام کے ساتھ 72 ساتھی تھے جن میں سے 18 اہل بیت کے اراکین تھے۔ اس کے علاوہ خاندانَ نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

1 اسباب
1.1 یزید کی نامزدگی اور شخصی حکومت کا قیام
1.2 یزید کا ذاتی کردار
1.3 بیعت پر اصرار
1.4 اہل کوفہ کی دعوت
2 واقعات
2.1 مکہ روانگی
2.2 مسلم بن عقیل کی کوفہ روانگی
2.3 ابن زیاد کوفہ میں
2.4 مسلم کی گرفتاری اور شہادت
2.5 امام حسین کا سفر کوفہ
2.6 ابن زیاد کی تیاریاں
2.7 حر بن یزید تمیمی کی آمد
2.8 میدان کربلا آمد
2.9 المیہ کربلا اور شہادت عظمٰی
2.10 غدار کو‌فیوں کا شرمناک کردار
2.11 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیشگوئی
2.12 اہل بیت کی شام کو روانگی
3 نتائج
3.1 واقعہ حرہ
3.2 عبد اللہ بن زبیر کی خلافت
3.3 اموی خلافت کا زوال
3.4 عباسی تحریک
3.5 حق پرستوں کے لیے مثال
4 اہمیت
4.1 متعلقہ مضامین

اسباب یزید کی نامزدگی اور شخصی حکومت کا قیام

اسلامی نظام حکومت کی بنیاد شورائیت پر تھی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے ادوار اس کی بہترین مثال تھے۔ حضرت حسن بن علی سے امیر معاویہ نے معاہدہ کیا تھا کہ وہ کسی کو خلیفہ نامزد نہ کریں گے مگر حضرت امیر معاویہ نے یزید کو اپنا جانشین نامزد کرکے اسی اصول دین کی خلاف ورزی کی تھی کیونہ اسلامی نقطہ حیات میں شخصی حکومت کے قیام کا کوئی جواز نہیں۔ ابھی تک سرزمین حجاز میں ایسے کبار صحابہ اور اکابرین موجود تھے جنہوں نے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دور دیکھا تھا۔ لٰہذا ان کے لیے امیر معاویہ کی غلط روایت قبول کرنا ممکن نہ تھا۔ امام حسین عليہ السلام نے ان ہی اصولوں کی خاطر یزید کی بیعت قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔

یزید کا ذاتی کردار

یزید کا ذاتی کردار ان تمام اوصاف سے عاری تھا جو امیر یا خلیفہ کے لیے شریعت اسلامیہ نے مقرر کیے ہیں۔ سیروشکار اور شراب و شباب اس کے پسندیدہ مشاغل تھے لٰہذا ذاتی حیثیت سے بھی کسی فاسق و فاجر کو بطور حکمران تسلیم کرنا امام حسین عالی مقام کے لیے کس طرح ممکن ہو سکتا تھا۔

بیعت پر اصرار

یزید نے تخت نشین ہونے کے بعد حاکم مدینہ ولید بن عقبہ کی وساطت سے بیعت طلب کی ولید نے سختی سے کام نہ لیا لیکن مروان بن الحکم بزور بیعت لینے کے لیے مجبور کر رہا تھا۔ ان حالات میں امام حسین عليہ السلام نے سفر مکہ اختیار کیا اور وہاں سے اہل کوفہ کی دعوت پر کوفہ کے لیے روانہ ہؤے۔

اہل کوفہ کی دعوت

جب امام حسین عليہ السلام مکہ پہنچے تو اہل کوفہ نے انھیں سینکڑوں خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی تاکہ وہ خلافت اسلامیہ کے قیام کی جدوجہد کا آغاز کر سکیں لیکن غدار اہل کوفہ نے ان سے غداری کی اور اپنے وعدوں سے پھر کر امام حسین علیہ السلام کا ساتھ نہ دیا۔ یزید کی بھیجی ہوئی افواج نے کربلا میں نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کو ان کے اہل خانہ اور اصحاب کو شہید کر دیا۔

واقعات مکہ روانگی

ولید بن عتبہ نے امام حسین اور عبد اللہ بن زبیر کو قاصد کے ذریعہ بلایا۔ ابھی تک امیر معاویہ کی وفات کی خبر مدینہ میں عام نہ ہوئی تھی۔ تاہم بلاوے کا مقصد دونوں حضرات نے سمجھ لیا۔ امام حسین سے جب بیعت کے لیے کہاگیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے جیسا آدمی خفیہ بیعت نہیں کر سکتا۔ جب بیعت عام ہوگی اس وقت آ جاؤں گا۔ ولید راضی ہو گیا اور انھیں واپس لوٹنے کی اجازت دے دی۔ عبد اللہ بن زبیر ایک دن کی مہلت لے کر مکہ روانہ ہو گئے۔ بعد میں ان کا تعاقب کیا گیا مگر اس اثناء میں وہ کہیں دور جا چکے تھے۔ جب مروان کو اس صورت حال کا علم ہوا تو ولید سے بہت ناراض ہوا اور کہا کہ تم نے بیعت کا وقت کھو دیا۔ اب قیامت تک ان سے بیعت نہ لے سکو گے۔ امام حسین عجیب الجھن سے دوچار تھے اگر وہ مدینہ میں مقیم رہتے تو بیعت کے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا۔ لٰہذا وہ27 رجب60 ہجری میں مع اہل و عیال مکہ روانہ ہو گئے۔ مکہ پہنچ کر شعب ابی طالب میں قیام کیا۔

مسلم بن عقیل کی کوفہ روانگی

امام حسین نے کوفیوں کے خطوط آنے کے بعد مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا تاکہ وہ اصل صورت حال معلوم کریں۔ مسلم کوفہ پہنچے کے پہلے ہی دن بارہ ہزار کوفیوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ کوفہ کے اموی حاکم بشیر نے ان کے ساتھ نرمی سے کام لیا۔ کوفیوں کے جذبات سے متاثر ہو کر مسلم بن عقیل نے امام حسین کو کوفہ آنے کا لکھا۔

ابن زیاد کوفہ میں

ان حالات کی بنا پر یزید نے فوراً نعمان کو معزول کر دیا اور عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا حاکم مقرر کر دیا۔ کوفہ پہنچ کر اس نے اعلان کیا کہ جو لوگ مسلم سے اپنی وفاداریاں توڑ لیں گے انہیں امان دی جائے گی۔ اس کے بعد ہر محلہ کے رئیس کو بلایا اور اسے اپنے اپنے علاقہ کے امن و امان کا ذمہ دار قرار دے کر مسلم بن عقیل کی جائے پناہ کی تلاش شروع کردی۔ اس وقت مسلم ایک محب اہل بیت ہانی بن عروہ کے ہاں چلے گئے۔ ابن زیاد نے ہانی کو بلا کر مسلم کو پیش کرنے کا حکم دیا اور ہانی نے انکار کر دیا جس پر انھیں قید میں ڈال کر مار پیٹ کی گئی۔

مسلم کی گرفتاری اور شہادت

شہر میں افواہ پھیل گئی کہ ہانی قتل ہو گئے۔ یہ خبر سنتے ہی مسلم نے اٹھارہ ہزار ہمنواؤں کے ساتھ ابن زیاد کے محل کا محاصرہ کر لیا۔ ابن زیاد کے پاس اس وقت صرف پچاس آدمی موجود تھے۔ چنانچہ اس نے حکمت سے کام لیا اوران رئیسان کوفہ کی ترغیب سے لوگوں کو منتشر کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ آخر کام مسلم کے ساتھ صرف تیس آدمی رہ گئے۔ مجبوراً مسلم بن عقیل نے ایک بڑھیا کے گھر پناہ لی لیکن اس بڑھیا کے بیٹے نے انعام کے لالچ میں آکر خود جا کر ابن زیاد کو اطلاع کر دی۔ ابن زیاد نے یہ اطلاع پا کر مکان کا محاصرہ کر لیا۔ حضرت مسلم بن عقیل تن تنہا لڑنے پر مجبور ہوئے جب زخموں سے چور ہو گئے تو محمد بن اشعث نے امان دے کر گرفتار کر لیا۔ لیکن آپ کو جب ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے امان کے وعدہ کو پس پشت ڈالتے ہوئے آپ کے قتل کا حکم دے دیا۔ مسلم بن عقیل نے محمد بن اشعث سے کہا کہ میرے قتل کی اطلاع امام حسین تک پہنچا دینا اور انھیں میرا یہ پیغام بھی پہنچا دینا کہ ’’اہل کوفہ پر ہرگز بھروسا نہ کریں اور جہاں تک پہنچ چکے ہوں وہیں سے واپس چلے جائیں‘‘۔ ابن اشعث نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ایک قاصد حضرت امام حسین کی طرف روانہ کر دیا۔

امام حسین کا سفر کوفہ

اہل مکہ اور مدینہ نے آپ کو کوفہ جانے سے باز رکھنے کے لیے پوری کوششیں کیں کیونکہ کوفیوں کا سابقہ غدارانہ طرز عمل ان کے سامنے تھا۔ عمرو بن عبد الرحمن، عبد اللہ ابن عباس، عبد اللہ بن زبیر سب نے مشورہ دیا کہ ’’چونکہ کوفہ یزید کی حکومت کے تحت ہے وہاں ان کی افواج اور سامان سب کچھ موجود ہے اور کوئی قابل اعتماد نہیں اس لیے مناسب یہی ہے کہ آپ مکہ ہی میں رہیں۔‘‘ عبد اللہ ابن زبیر نے تجویز کیا کہ آپ مکہ میں رہ کر اپنی خلافت کی جدوجہد کریں ہم سب آپ کی مدد کریں گے۔ لیکن جب امام حسین رضا مند نہ ہوئے تو حضرت عبد اللہ ابن عباس نے آپ کو کوفہ کی بجائے یمن جانے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ ’’اگر کوفہ کاسفر آپ کے نزدیک ضروری ہے تو پہلے کوفیوں کو لکھیے کہ وہ یزید کے حاکموں کو وہاں سے نکالیں پھر آپ وہاں کا قصد کریں۔‘‘ لیکن امام حسین نے کہا کہ ’’ابے ابن عمر میں جانتا ہوں کہ تم میرے خیر خواہ ہو۔ لیکن میں عزم کر چکا ہوں۔‘‘ اس پر ابن عباس نے کہا کہ ’’اگر آپ نہیں مانتے تو کم از کم اہل و عیال کو ساتھ نہ لے جائیے مجھے ڈر ہے کہ عثمان کی طرح آپ بھی بال بچوں کے سامنے ذبح کیے جائیں گے۔ ‘‘ لیکن ان تمام ترغیبات کے باوجود امام حسین اپنے فیصلہ پر قائم رہے اور بالآخر 3 ذوالحج 60 ھ کو مکمہ معظمہ سے کوفہ کے لیے چل پڑے۔ آپ کی روانگی کے بعد آپ کے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن جعفر نے ایک عریضہ اپنے لڑکوں عون اور محمد کے ہاتھ روانہ کیا کہ : ” میں آپ کو اللہ تعالٰی کا واسطہ دیتا ہوں کہ جونہی میرا خط آپ کو ملے لوٹ آئیے کیونکہ جس جگہ آپ جا رہے ہیں مجھے ڈر ہے کہ وہاں آپ کی ہلاکت اور آپ کے اہل بیت کی بربادی ہے۔ اگر خدانخواستہ آپ ہلاک ہو گئے تو دنیا تاریک ہو جائے گی۔ کیونکہ اس وقت آپ ہی ہدایت یافتہ لوگوں کا علم اور مومنوں کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ آپ سفر میں جلدی کیجیے۔ میں بھی جلد آپ کے پاس پہنچتا ہوں “

حضرت عبد اللہ بن جعفر، عمر بن سعد حاکم مکہ کا سفارشی خط لے کر امام حسین سے ملے اور انھیں بتایا کہ کوفہ کے لوگوں پر اعتماد مناسب نہیں عمر بن سعد اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ آپ مکہ لوٹ آئیں تو میں یزید کے ساتھ آپ کے معاملات طے کرادوں گا اور آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔ لیکن آپ نے اس مشورہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق سفر کوفہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ مجبور ہو کر عبد اللہ بن جعفر واپس ہو گئے مگر عون اور محمد کو ساتھ رہنے دیا۔ راستہ میں مشہور شاعر فرزوق آپ سے ملا اور امام حسین سے عرض کی ” لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنی امیہ کے ساتھ۔ قضاء الہی آسمان سے اتری ہے اور اللہ تعالٰی جو چاہتا ہے کرتا ہے “ لیکن آپ نے اس کے باوجود سفر کو بدستور جاری رکھا ۔

ابن زیاد کی تیاریاں

ابن زیاد کے حکم سے پولیس کے افسر حصین بن نمیر نے قادسیہ سے جبل لعل تک سواروں کو مقرر کر دیا اور تمام اہم راستوں کی ناکہ بندی کر دی۔ امام حسین کے قاصد قیس کو ابن زیاد کے آدمیوں نے گرفتار کرکے قتل کر دیا۔ جب آپ بطن رملہ سے آگے بڑھے تو انھیں عبد اللہ ابن مطیع ملے۔ انھوں نے آپ کو آگے جانے سے روکا محمد بن اشعث کے بھیجے ہوئے قاصد نے آپ کو مقام ثعلبیہ پر مسلم بن عقیل کے قتل کی خبر دی۔ اب آپ سفر کوفہ کے بارے میں متردد ہوئے۔ ساتھیوں نے واپس لوٹنے کا مشورہ دیا لیکن مسلم کے بھائیوں نے اپنے بھائی کے خون کا انتقام لینے کی خاطر سفر جاری رکھنے کے لیے زور دیا۔ جس کے بعد پوزیشن واضح ہو گئی۔ آپ کے ساتھ دوران سفر بہت سے بدوی شامل ہو چکے تھے۔ آپ نے ان سب کو جمع کیا اور فرمایا جو لوگ واپس جانا چاہیں انہیں اجازت ہے۔ چنانچہ سوائے ان جان نثاروں کے جو مدینہ سے ساتھ آئے تھے سب ساتھ چھوڑ گئے۔

حر بن یزید تمیمی کی آمد

ابن زیاد نے امام حسین کی پیش قدمی روکنے کے لیے حر بن یزید تمیمی کو روانہ کیا۔ ذمی حشم کے مقام پر آپ سے اس کی ملاقات ہوئی۔ امام حسین نے اسے کوفیوں کے خطوط کے دو تھیلے منگوا کر دکھائے اور کہا کہ ’’اب آپ لوگوں کی رائے بدل گئی ہے۔ تو میں واپس جانے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ لیکن حر نے کہا کہ ہمیں تو آپ کو گرفتار کرنے کا حکم ہے۔ چنانچہ امام حسین نے اپنا سفر کوفہ جاری رکھا۔ آپ نے مقام بیضہ پر خطبہ دیا۔ جس میں اپنے مقاصد کی وضاحت کی۔ آپ نے فرمایا: ” لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے ظالم، محرمات الہٰی کے حلال کرنے والے، خدا کا عہد توڑنے والے، خدا اور رسول کی مخالفت اور خدا کے بندوں پر گناہ اور زیادتی کے ساتھ حکومت کرنے والے بادشاہ کو دیکھا اور قول و فعل کے ذریعہ سے غیرت کا اظہار نہ کیا تو خدا کا حق ہے کہ اس شخص کو اس بادشاہ کے ساتھ دوزخ میں داخل کر دے۔ لوگو! خبردار ہو جاؤ۔ ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیار کی اور رحمٰن کی اطاعت چھوڑ دی ہے۔ ملک میں فساد پھیلایا ہے۔ حدود الہٰی کو معطل کر دیا ہے۔ مال غنیمت میں اپنا حصہ زیادہ لیتے ہیں۔ خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حلال کی ہوئی حرام کر دیا ہے۔ اس لیے مجھ کو غیرت میں آنے کا زیادہ حق ہے “

کچھ دور جاکر طرماج بن عدی سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے آپ کو یمن چلنے کی دعوت دی لیکن آپ نے یہ پیش کش شکریہ کے ساتھ ٹال دی ۔

میدان کربلا آمد

امام حسین کا قافلہ اور حربن یزید کا لشکر ساتھ ساتھ آگے کی طرف چلتے رہے جہاں کہیں آپ کے قافلہ کا رخ صحرائے عرب کی طرف ہو جاتا حر آپ کو روک دیتا اور رخ پھیر کر کوفہ کی طرف کر دیتا۔ چلتے چلتے آپ نینوا پہنچے۔ وہاں ابن زیاد کے ایک قاصد نے حر کو ایک خط پہنچایا جس میں حکم تھا ” جونہی میرا یہ خط اور میرا قاصد تم تک پہنچیں حسین اور ان کے ساتھیوں کو جہاں وہ ہیں وہیں روک لو اور انھیں ایسی جگہ اترنے پر مجبور کرو جو بالکل چٹیل میدان ہو اور جہاں کوئی سبزہ اور پانی کا چشمہ وغیرہ نہ ہو میرا یہ قاصد اس وقت تک تمہارے ساتھ ساتھ رہے گا۔ جب تک مجھے یہ معلوم نہ ہو جائے کہ جو حکم میں نے تمہیں دیا ہے تم نے اس کی حرف بحرف تعمیل کی “

حر نے تمام صورت حال سے امام حسین کو آگاہ کیا اور کہا کہ ’’اب میں آپ کو اس جگہ نہ رہنے دوں گا۔ ‘‘بالآخر یہ مختصر سا قافلہ 2 محرم الحرام61 ھ بمطابق 2 اکتوبر 680ء کو کربلا کے میدان میں اترا۔ دوسرے ہی روز عمر بن سعد 6 ہزار سپاہیوں کے ساتھ وہاں پہنچا۔ عمر بن سعد چونکہ امام حسین سے لڑنے کا خواہشمند نہ تھا س لیے قرہ بن سفیان کو آپ کے پاس بھیجا۔ قرہ بن سفیان سے حضرت حسین نے کہا کہ ’’اگر تمہیں میرا آنا ناپسند ہے تو میں مکہ واپس جانے کے لیے تیار ہوں ۔‘‘ لیکن ابن زیاد نے اس تجویز کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور عمر بن سعد کو حکم دیا کہ اگر امام حسین بیعت نہ کریں تو

ان کا پانی بند کر دیا:

امام حسین کو ایسی حالت میں جب کہ وہ قابو میں آچکے تھے گرفتار کرنا زیادہ مناسب اور ضروری قرار دیا۔ یہ سن کر ابن زیاد نے اپنی رائے تبدیل کر دی۔ اور عمر بن سعد کو اس کی اس بات پر سرزنش کرتے ہوئے حکم دیا کہ۔ ’’اگر امام حسین اور اس کے ساتھی اپنے آپ کو حوالہ کر دیں تو بہتر ہے ورنہ جنگ کی راہ لو۔‘‘ شمر مع خط کے عمر بن سعد کے پاس پہنچا۔ عمر بن سعد اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کی خاطر امام حسین کے خلاف تلوار اٹھانے کے لیے تیار ہو گیا۔ یہ 9 محرم الحرام کا دن تھا۔

المیہ کربلا اور شہادت عظمٰی

صلح کی آخری گفتگو ناکام ہونے کے بعد امام حسین نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ جو جانا چاہتے ہیں انھیں میری طرف سے اجازت ہے۔ اس پر کچھ جان نثار اور اعزہ باقی رہ گئے۔ جنہوں نے آخری وقت تک ساتھ دینے کا عہد کیا۔ ان جاں نثاروں کی تعداد صرف 72 تھی۔ امام حسین نے اس مختصر ترین فوج کو منظم کیا۔ میمنہ پر زبیر بن قیس کو اور میسرہ پر حبیب بن مطہر کو متعین کرکے علم عباس کو مرحمت فرمایا۔ جنگ کے آغاز سے پیشتر اللہ تعالٰی کے حضور دعا کی اور ان سے تائید اور نصرت چاہی۔ اس کے بعد اتمام حجت کے لیے دشمنوں کی صفوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ” اے لوگو! جلدی نہ کرو۔ پہلے میری بات سن لو۔ مجھ پر تمہیں سمجھانے کاجو حق ہے اسے پورا کرلینے دو اور میرے آنے کی وجہ بھی سن لو۔ اگر تم میرا عذر قبول کرلوگے اور مجھ سے انصاف کرو گے تو تم انتہائی خوش بخت انسان ہو گے لیکن اگر تم اس کے لیے تیار نہ ہوئے تو تمہاری مرضی۔ تم اور تمہارے شریک مل کر میرے خلاف زور لگا لو اور مجھ سے جو برتاؤ کرنا چاہتے ہو کر ڈالو۔ اللہ تعالٰی میرا کارساز ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے “

جونہی آپ تقریر کے اس حصے پر پہنچے تو خیموں سے اہل بیت کی مستورات کی شدت رنج سے چیخیں نکل گئیں۔ آپ تھوڑی دیر کے لیے رک گئے اور اپنے بھائی عباس کو انہیں چپ کرانے کے لیے بھیجا۔ جب خاموشی طاری ہوئی تو آپ نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: ” لوگو ! تم میرے حسب و نسب پر غور کرو اور دیکھو کہ میں کون ہوں۔ اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اور اپنے آپ کو ملامت کرو۔ تم خیال کرو کیا تمہیں میرا قتل اور میری توہین زیب دیتی ہے؟ کیا میں تمہارے نبی کا نواسہ اور ان کے چچیرے بھائی کا بیٹا نہیں۔ جنہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالٰیٰ کی آواز پر لبیک کہی اور اس کے رسول پر ایمان لائے؟ کیا سیدالشہداء حضرت امیر حمزہ میرے والد کے چچا نہ تھے؟ کیا جعفر طیار میرے چچا نہ تھے؟ کیا تمہیں رسول اللہ کا وہ قول یاد نہیں جو انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمایا تھا کہ دونوں نوجوانان جنت کے سردار ہوں گے؟ اگر میرا یہ بیان سچا ہے اور ضرور سچا ہے۔ ہے۔ تو بتاؤ کہ تمہیں ننگی تلواروں سے میرا مقابلہ کرنا ہے؟ اور اگر تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو تو آج بھی تم میں سے وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے میرے متعلق رسول اللہ کی حدیث سنی ہے۔ تم ان سے دریافت کرسکتے ہو۔ تم مجھے بتاؤ کہ کیا آپ کی اس حدیث کی موجودگی میں بھی تم میرا خون بہانے سے باز نہیں رہ سکتے “

لیکن کوفیوں اور ان کے سرداروں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ صرف حر بن یزید تمیمی پر آپ کی اس تقریر کا اثر ہوا اور وہ یہ کہتے ہوئے کہ ” یہ جنت یا دوزخ کے انتخاب کا موقع ہے۔ میں نے جنت کا انتخاب کر لیا ہے خواہ مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا جلا دیا جائے “

حضرت امام حسین کے لشکر میں آ شامل ہوا۔ اس کے بعد شخصی مبازرت کے طریقے سے جنگ کا آغاز ہوا جس میں اہل بیت اطہر کا پلہ بھاری رہا۔ یہ دیکھ کر ابن سعد نے عام حملہ کا حکم دیا۔ فدایان و اراکین اہل بیت نے دشمنوں کی یلغاروں کا پوری قوت ایمانی سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ فدائی ایک ایک کرکے کٹ مرے لیکن میدان جنگ سے منہ نہ پھیرا۔ دوپہر تک امام حسین کے بیشتر آدمی کام آ چکے تھے۔ چنانچہ اب باری باری حضرت علی اکبر، عبد اللہ بن مسلمہ، جعفر طیار کے پوتے عدی، عقیل کے فرزند عبد الرحمن، حضرت حسن کے صاحبزادے قاسم اور ابوبکر وغیرہ میدان میں اترے اور شہید ہوئے۔ ان کے بعد امام حسین آئے۔ دشمنوں نے ہر طرف سے آپ پر یورش کی۔ یہ دیکھ کر آپ کے بھائی عباس، عبد اللہ، جعفر اور عثمان آپ کی حفاظت کے لیے ڈٹ گئے مگر چاروں نے شہادت پائی۔ امام حسین تنہا میدا میں جمے ہوئے تھے۔ عراقیوں نے آپ کو ہر طرف سے نرغہ میں لے لیا مگر شہید کرنے کی کسی کو بھی جرات نہ ہو رہی تھی کیونکہ کوئی نہ چاہتا تھا کہ یہ گناہ اس کے سر ہو۔ بالآخر شمر کے اکسانے پر زرعہ بن شریک تمیمی نے یہ بدبختی مول لی اور ہاتھ اور گردن پر تلوار کیے۔ سنان بن انس نے تیر چلایا اور آپ گر گئے۔ ان کے گرنے پر شمر ذی الجوشن آپ کی طرف بڑھا تو اس کی برص زدہ شکل دیکھتے ہی امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے نانا رسولِ خدا نے سچ فرمایا تھا کہ میں ایک دھبے دار کتے کو دیکھتا ہوں کہ وہ میرے اہلِ بیت کے خون سے ہاتھ رنگتا ہے [1]۔ اے بدبخت شمر بلاشبہ تو وہی کتا ہے جس کی نسبت میرے نانا نے خبر دی تھی۔ اس کے بعد شمر نے ان کا سر پیچھے کی طرف سے (پسِ گردن سے ) کاٹ کر تن سے جدا کر دیا۔ روایات کے مطابق اللہ کے نبی حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا سر بھی اسی طرح پس گردن سے کاٹ کر جدا کیا گیا تھا۔ [2] ابن زیاد کے حکم کے مطابق آپ کا سربریدہ جسم گھوڑوں کے ٹاپوں سے روندوا دیا گیا۔ بعد میں تمام شہدائے اہلِ بیت کے سر نیزوں کی نوک پر رکھ کر پہلے ابنِ زیاد کے دربار میں لے جائے گئے اور بعد میں دمشق میں یزید کے دربار میں لے جائے گئے۔ یزید نے امام حسین کے سر کو اپنے سامنے طشت پر رکھ کر ان کے دندان مبارک کو چھڑی سے چھیڑتے ہوے اپنے کچھ اشعار پڑھے جن سے اس کا نقطہ نظر معلوم ہوتا ہے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے

[3]

” کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے : شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کاانتقام لے لیا، بنی ہاشم سلطنت سے کھیل رہے تھے اور نہ آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئي نہ کوئی فرشتہ آیا ہے “

اس شعر کو سن کر اور یزید کا فخریہ انداز دیکھ کر دربار میں موجود ایک یہودی سفیر نے کہا کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اولاد سے ہوں۔ میرے اور ان کے درمیان ستر پشتیں گزر چکی ہیں مگر اس کے باوجود یہودی میری بے حد عزت و تکریم کرتے ہیں اور ایک تم ہو کہ تم نے اپنے نبی کے نواسے کو شہید کر دیا ہے اور اب اس پر فخر بھی کر رہے ہو۔ یہ تمہارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ [4] گبن کے الفاظ میں “ Thus fell one of the noblest spirits of the age and with him perished all the male members of his family with the solitary exception of a sickly child named Ali who later in life received the designation of Zayn-ul-Abidin” ترجمہ : اس طرح زمانے کے پارسا ترین انسانوں میں سے ایک کا خاتمہ ہو گیا اور اس کے ساتھ اس کے خاندان کے تمام مرد بھی ختم ہو گئے سوائے امام زین العابدین علی بن حسین (جو بیماری کی وجہ سے جنگ میں شرکت نہ کر سکے) اور امام محمد باقر بن علی کے جو اس وقت بچے تھے۔ یہ دردناک واقعہ 10 محرم الحرام 61 ھ مطابق 10 اکتوبر 680ء کو پیش آیا۔

غدار کو‌فیوں کا شرمناک کردار

اس دلخراش سانحہ سے قبل بھی کو‌فیوں کا کردار نہایت ہی شرمناک رہا تھا۔ حضرت علی کے دار الخلافہ مدینہ سے کوفہ لے جانے سے ان سازشیوں کو کھل کر کھلنے کا موقع ملا۔ بظاہر یہ سازشی حب علی کا لبادہ اوڑھے رہا کرتے تھے لیکن آپ کی زات اطہر سے بھی الٹے سیدھے سوالات کرنا ان کا وتیرہ تھا۔ ایک مو‏قع پر ان لوگوں نے حضرت علی سے سوال کیا۔ " مولا آپ سے پہلے کے خلفاء کے دور میں امن وامان تھا مگر آپ کے دور میں یہ کیوں عنقا ہے" اس گستاخانہ سوال پر حضرت علی نے ان منافقوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ آپ نے فرمایا " اس بے امنی کی بنیادی وجہ یہ ہے کر سابقہ خلفاء کے مشیر میرے جیسے لوگ تھے اور میرے مشیر ہیں آپ جیسے لوگ"۔ ان لوگوں کی ان ہی حرکتوں کے باعث حضرت علی بالآخر اس طبقے سے بیزار رہنے لگے تھے۔ جب حضرت حسن نے خلافت سنبھالی تو آپ اپنے والد محترم کے دور میں ان منافقوں کا بغور مشاہدہ کر چکے تھے اسے لیے آپ نے ان کو زیادہ منہ نہ لگایا اور حضرت معاویہ سے صلح کرلی۔ اس صلح سے خانہ جنگی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس صلح سے ان منافقوں کی سازشوں پر پانی پھر رہا تھا اس لیے اس صلح پر بھی حضرت حسن کی زات گرامی پر اعتراض کرنے لگے۔ حضرت حسن نے فرمایا " اگر خلافت میرا حق تھا تو یہ میں نے ان ( معاویہ ) کو بخش دیا اور اگر یہ معاویہ کا حق تھا تو یہ ان تک پہنچ گیا"۔ جن کوفیوں نے حضرت حسین کو خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت تھی ان کی تعداد ایک روایت کے مطابق 12000 اور دوسری روایت کے مطابق 18000 تھی لیکن جب جنگ کی نوبت آگئ تو ان بے وفا اور د‏غا باز لوگوں میں سے کسی نے حضرت حسین کا ساتھ نہ دیا اور کھڑے تماشا دیکھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے اپنے جانثار ساتھیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش فرمایا۔ حضرت حسین سے غداری کی سزا ان کو ان ہی کے ہاتھوں قیامت تک ملتی رہے گی انشا اللہ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیشگوئی

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ مٹی دی تھی اور فرمایا تھا کہ اے ام سلمیٰ جب یہ مٹی سرخ ہو جائے یعنی خون میں بدل جائے تو سمجھ لینا کہ میرا بیٹا حسین شہید کر دیا گیا۔ ایک دن ان کی بیٹی ان سے ملنے گئیں تو آپ زارو قطار رو رہی تھیں۔ پوچھا گیا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ابھی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب میں تشریف لائے تھے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور آپ کے سرِ انور اور ڈاڑھی مبارک پر مٹی تھی۔ میں نے پوچھا آقا یہ گرد کیسی تو فرمایا کہ اے ام سلمہ ابھی اپنے حسین کے قتل کا منظر دیکھ کر میدانِ کربلا سے آ رہا ہوں۔ جاگنے کے بعد میں نے وہ مٹی دیکھی جو انہوں نے مجھے دی تھی تو وہ خون ہو چکی تھی۔

اہل بیت کی شام کو روانگی

حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد اہل بیت اطہر کے بقیہ افراد پر مشتمل قافلہ ابن زیاد کے پاس کوفہ پہنچا۔ یہ سیاہ بخت انسان اس خستہ حالت میں بھی افراد اہل بیت سے انتہائی بدتمیزی سے پیش آیا۔ حضرت امام حسین کا کٹا ہوا سر ابن زیاد کے سامنے پڑا ہوا تھا۔ ہر خاص و عام کو محل میں داخل ہونے کی اجازت تھی۔ ابن زیاد سر مبارکہ کو دیکھ کر آپ کے لبوں پر بار بار چھڑی مارتا اور مسکراتا۔ صحابی رسول زید بن ارقم وہاں ایک کونے میں موجود تھے ان سے رہا نہ گیا تو فرمایا: ” ان لبوں سے چھڑی ہٹا لو۔ اللہ تعالٰیٰ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ ان ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتے تھے “

یہ کہہ کر وہ رونے لگے۔ یہ سن کر ابن زیاد کے غضب کی کوئی حد نہ رہی بولا۔ ’’اللہ تعالٰیٰ دونوں آنکھیں رلائے۔ واللہ ! اگر تو بوڑھا ہو کر سٹھیا نہ گیا ہوتا اور تیری عقل ماری نہ گئی ہوتی تو میں تیری گردان اڑا دیتا۔ ‘‘ یہ دیکھ کر زید بن ارقم مجلس سے اٹھتے ہوئے کہہ گئے: ” اے لوگو! آج کے بعد تم غلام بن گئے کیونکہ تم نے فاطمہ کے لخت جگر کو قتل اور ابن زیاد کو اپنا حاکم بنایا جو تمہارے نیک لوگوں کو قتل کرتا اور شریروں کو نوازتا ہے “

کوفہ سے ابن زیاد نے حضرت امام حسین کا سر مبارک اور قافلہ اہل بیت کو دمشق بھجوا دیا۔ وہاں یزید نے امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کو چھڑی سے چھیڑا اور فخر کا اظہار کیا۔

نتائج

واقعہ حرہ

اصل مضمون: واقعۂ حرہ

شہادت حسین کی خبر جب سرزمین حجاز میں پہنچی تو کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اس سانحہ پر اشکبار نہ ہو۔ لٰہذا حجاز میں فوری طور پر انقلاب برپا ہو گیا۔ اہل مدینہ نے اموی حکام کو صوبہ سے نکال دیا اور عبد اللہ بن زبیر کی بیعت کر لی۔ یزید نے ولید بن عقبہ کی ماتحتی میں شامیوں کی فوج روانہ کی۔ اس فوج میں مسیحی کثیر تعداد میں شامل تھے۔ جب اہل مدینہ نے اطاعت قبول نہ کی تو ولید بن عقبہ نے شہر پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ اہل مدینہ نے اگرچہ بڑی بے جگری سے لڑے لیکن شامی افواج کے ان کو شکست ہوئی۔ اس جنگ میں بڑے بڑے اکابر مدینہ شہید ہوئے جن میں فضل بن عباس اور عبد اللہ بن حنظلہ قابل ذکر ہیں۔ شہر پر قبضہ کے بعد مدینہ الرسول تین دن تک شامی فوجیوں کے ہاتھوں لٹتا رہا۔ مسلمانوں کی عزت و آبرو برباد ہوئی اور تین روز تک مسلسل قتل و غارت کا بازار گرم رہا۔ تاریخ اسلام میں یہ واقعا بہت اہم ہے اور سانحہ کربلا کے بعد یزید کا دوسرا بڑا سیاہ کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

عبد اللہ بن زبیر کی خلافت

اہل مدینہ نے یزید کی بجائے عبد اللہ بن زبیر کو خلیفہ چن لیا۔ شہادت حسین نے لوگوں کے اندر سوئے ہوئے جذبات کو ازسرنو بیدار کر دیا اور سرزمین حجاز میں ناراضی کی ہمہ گیر لہر اموی اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ اہل حجاز کو ابن زبیر جیسی موثر شخصیت بطور رہنما میسر آئی۔ چنانچہ اہل مدینہ نے بھی جلد آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیا اور آپ کی بیعت کر لی۔ اس انقلاب نے اموی اقتدار کے لیے بے پناہ مشکلات پیدا کر دیں۔ حجاز کی سرزمین سے مخالفت کے یہ ابلتے ہوئے جذبات درحقیقت تمام عالم اسلامی میں پیدا شدہ ہمہ گیر اضطراب کے ترجمان تھے۔

اموی خلافت کا زوال

واقعہ کربلا اموی خلافت کے زوال کا اہم سبب قرار دیا جاتا ہے۔ اموی حکومت اور اس کے عمال پہلے ہی عوام الناس میں مقبول نہ تھے۔ کیونکہ مسلمان جب ان کی حکومت کا موازنہ خلافت راشدہ سے کرتے تھے انہیں سخت مایوسی ہوتی۔ امام حسین کی شہادت نے ملت اسلامیہ کو بہت متاثر کیا۔ خود یزید کابیٹا معاویہ دل برداشتہ ہو کر خلافت سے ہی دست بردار ہو گیا۔ اگرچہ امویوں نے اپنی قوت اور استقلال کی بدولت حکومت کو وقتی طور پر اپنے خاندن میں محفوظ کر لیا لیکن خلیفہ مروان ثانی کے زمانہ تک کھلم کھلا اور زیر زمین کئی تحریکیں مسلسل اس بات کے لیے کوشاں رہیں کہ وہ امویوں کی حکومت کا تختہ الٹ دیں۔

عباسی تحریک

عباسیوں نے امویوں کے خلاف اس رد عمل سے خوب فائدہ اٹھایا۔ ان کے داعی ملک کے کونے کونے میں پھیل گئے اور اموی مظالم کی داستان اس قدر پر زور اور پر تاثیر انداز میں پیش کی کہ عوام کے جذبات بھڑک اٹھے۔ چنانچہ عباسیوں نے بھی حسین کے انتقام کو اپنے مقاصد کے لیے نہایت کامیابی سے استعمال کیا۔

حق پرستوں کے لیے مثال

اس واقعہ کا سب سے بڑا اہم تتیجہ یہ تھا کہ امام حسین کا کردار عین حق کے لیے ہمیشہ کے لیے روشنی کا ایک مینار بن گیا۔ حریت، آزادی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے جب بھی مسلمانوں نے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تو امام حسین کی قربانی کو مشعل راہ پایا۔ آپ ہی سے مسلمانوں نے سیکھا کہ جبر و استبداد کے سامنے سینہ سپر ہونا عین رضائے الٰہی ہے۔

اہمیت

کربلا کا یہ واقعہ تاریخ اسلام کا بڑا افسوسناک حادثہ تھا۔ اس واقعہ کی خبر اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کر دی تھی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ایک شیشی میں کچھ مٹی دے کر فرمایا تھا کہ یہ اس جگہ کی مٹی ہے جہاں میرے نواسے کو شہید کیا جائے گا۔ جب وہ شہید ہوگا تو یہ مٹی خون کی طرح سرخ ہو جائے گی۔ کربلا کے واقعے کے وقت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا زندہ تھیں اور جس وقت امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے یہ مٹی خون کی طرح سرخ اور مائع ہو گئی تھی۔ اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا جیسے سانحہ کربلا نے کیا۔ آنحضور اور خلفائے راشدین نے جو اسلامی حکومت قائم کی اس کی بنیاد انسانی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالٰی کی حاکمیت کے اصول پر رکھی گئی۔ اس نظام کی روح شورائیت میں پنہاں تھی۔ اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خداپرستی، حریت فکر، انسان دوستی، مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینا تھا۔ خلفائے راشدین کے دور تک اسلامی حکومت کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ یزید کی حکومت چونکہ ان اصولوں سے ہٹ کر شخصی بادشاہت کے تصور پر قائم کی گئی تھی۔ لٰہذا جمہور مسلمان اس تبدیلی کواسلامی نظام شریعت پر ایک کاری ضرب سمجھتے تھے اس لیے امام حسین محض ان اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقا و بحالی کے لیے میدان عمل میں اترے، راہ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدان کربلا میں گزری وہ جور جفا، بے رحمی اور استبداد کی بدترین مثال ہے۔ یہ تصور ہی کہ اسلام کے نام لیواؤں پر یہ ظلم یا تعدی خود ان لوگوں نے کی جو خود کو مسلمان کہتے تھے بڑا روح فرسا ہے مزید براں امام حسین کا جو تعلق آنحضور سے تھا اسے بھی ظالموں نے نگاہ میں نہ رکھا۔ نواسہ رسول کو میدان کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر جس بے دردی سے قتل کرکے ان کے جسم اورسر کی بے حرمتی کی گئی اخلاقی لحاظ سے بھی تاریخ اسلام میں اولین اور بدترین مثال ہے۔ اس جرم کی سنگینی میں مزید اضافہ اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ امام حسین نے آخری لمحات میں جو انتہائی معقول تجاویز پیش کیں انھیں سرے سے درخو اعتنا ہی نہ نہ سمجھا گیا۔ اس سے یزید کے اعمال کی آمرانہ ذہنیت کا اظہار بھی ہوتا ہے یہاں یہ نقطہ قابل غور ہے کہ جب شخصی اور ذاتی مصالح، ملی، اخلاقی اور مذہبی مصلحتوں پر حاوی ہو جاتے ہیں توانسان درندگی کی بدترین مثالیں بھی پیش کرنے پرقادر ہے اور ایسی مثالوں سے تو یورپ کی ساری تاریخ بھری پڑی ہے۔ لٰہذا ان حقائق کی روشنی میں سانحہ کربلا کا جائزہ لیا جائے تو یہ واقعہ اسلام کے نام پر سیاہ دھبہ ہے کیونکہ اس سے اسلامی نظام حکومت میں ایسی خرابی کا آغاز ہوا جس کے اثرات آج تک محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم اس سانحہ کو اسلام کے نام پر ایک سیاہ دھبہ بھی قرار دیں تو یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہوگا کیونکہ جہاں تک حق و انصاف، حریت و آزادی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے جدوجہد کا تعلق ہے یہ کہنا درست ہوگا کہ سانحہ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب بھی ہے جہاں تک اسلامی تعلیمات کا تعلق ہے اس میں شخصی حکومتوں یا بادشاہت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ یزید کی نامزدگی اسلام کی نظام شورائیت کی نفی تھی لٰہذا امام حسین نے جس پامردی اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت جرات اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔ باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی، حریت فکر اور خداکی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی۔ اور انھیں ریگ زار عجم میں دفن ہونے سے بچا لیا۔ امام حسین کا یہ ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو رہروان منزل شوق و محبت اور حریت پسندوں کے لیے ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ سانحہ کربلا آزادی کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء کے لیے تاریخ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی۔ سچ ہے کہ

” 	اسلام زندہ ہوتا ہے ہرکربلا کے بعد 	“

4) حضرت امام زین العابدین علی ابن حسین علیہ السلام

حضرت علی ابن الحسین (15 جمادی الاول یا 15 جمادی الثانی 38ھ تا 25 محرم الحرام 95ھ) جو امام زین العابدین علیہ السلام کے نام سے مشہور ہیں، امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وہ فرزند تھے جو واقعۂ کربلا میں زندہ بچ گئے تھے اور انہیں قیدیوں کے قافلے اور شہیدوں کے سروں کے ساتھ دمشق لے جا کر یزید کے دربار لے جایا گیا تھا۔ آپ کی والدہ کا نام شہر بانو تھا جو ایران کے بادشاہ یزدگرد سوم کی بیٹی تھیں جو نوشیروان عادل کا پوتا تھا۔ آپ کے مشہور القاب میں زین العابدین اور سیدِ سجاد شامل ہیں۔

1 ولادت با سعادت
2 زہد و تقوی
3 شادی اور اولاد
4 واقعہ کربلا
5 خطبات
6 روضہ رسول پر فریاد
7 واقعہ حرہ
8 عبد الملک ابن مروان اور حجاج ابن یوسف کا دور
9 شہادت امام زین العابدین

ولادت با سعادت

آپ کی ولادت بعض روایات کے مطابق 15 جمادی الاول اور بعض روایات کے مطابق 15 جمادی الثانی کو ہوئی جبکہ سالِ ولادت 38ھ تھا اور اس وقت ان کے دادا حضرت علیرضی الله تعالٰی عنه مسلمانوں کے خلیفہ تھے۔ آپ کا نام آپ کے دادا کے نام پر علی رکھا گیا جبکہ کنیت ابوالحسن اور ابوالقاسم رکھی گئی۔ ولادت کے چند دن بعد آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس کے بعد آپ کی خالہ گیہان بانو جو محمد بن ابی بکر کی زوجہ تھیں اور انہوں نے محمد بن ابی بکر کے انتقال کے بعد شادی نہیں کی تھی، نے آپ کی پرورش کی۔ دو سال کی عمر میں آپ کے دادا حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کر دیا گیا۔

زہد و تقوی

آپ کا زہد و تقویٰ مشہور تھا۔ وضو کے وقت آپ کا رنگ زرد ہو جاتا تھا۔ پوچھا گیا تو فرمایا کہ میرا تصورِ کامل اپنے خالق و معبود کی طرف ہوتا ہے اور اس کے جلالت و رعب سے میری یہ حالت ہو جاتی ہے۔[1] نماز کی حالت یہ تھی کہ پاؤں کھڑے رہنے سے سوج جاتے اور پیشانی پر گٹھے پڑے ہوئے تھے اور رات جاگنے کی وجہ سے رنگ زرد رہتا تھا۔[2] علامہ ابن طلحہ شافعی کے مطابق نماز کے وقت آپ کا جسم لرزہ براندام ہوتا تھا۔[3]۔ سجدوں کی کثرت سے آپ کا نام سید الساجدین اور سجاد پڑ گیا تھا۔ علامہ ابن حجر مکی نے لکھا کہ ایک دفعہ کسی شخص نے آپ کے سامنے آپ کی برائی کی مگر آپ خاموش رہے تو اس شخص نے کہا کہ اے علی ابن الحسین میں آپ سے مخاطب ہوں تو آپ نے فرمایا کہ میرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جاہلوں کی بات کی پروا نہ کرو اور میں اس پر عمل کر رہا ہوں۔ [4] ایک شامی نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو آپ کے سامنے گالیاں دیں تو آپ نے فرمایا کہ اے شخص تو مسافر معلوم ہوتا ہے اگر کوئی حاجت ہے تو بتا۔ اس پر وہ شخص سخت شرمندہ ہو کر چلا گیا۔

شادی اور اولاد

آپ کی شادی 57ھ میں آپ کے چچا حضرت حسن بن علی بن ابو طالب کی بیٹی حضرت فاطمہ سے ہوئی۔ آپ کے گیارہ لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ جن میں سے حضرت امام محمد باقر رضی الله تعالٰی عنه اور حضرت زید شہید مشہور ہیں۔

واقعہ کربلا

واقعۂ کربلا محرم 61ھ بمطابق اکتوبر 689ء کو پیش آیا۔ 28 رجب 60ھ کو آپ اپنے والد حضرت حسین ابن علی کے ہمراہ مدینہ سے مکہ آئے اور پھر چار ماہ بعد 2 محرم 61ھ کو کربلا آئے۔ کربلا آنے کے بعد آپ انتہائی بیمار ہو گئے یہاں تک کہ 10 محرم کو غشی کی حالت طاری تھی اس لیے اس قابل نہ تھے کہ میدان میں جا کر درجہ شہادت پر فائز ہوتے۔ 10 محرم کی شام کو تمام خیموں کو آگ لگا دی گئی اور آپ کو آپ کی پھوپھی حضرت زینب بنت علی سلام اللہ علیہا نے سنبھالا۔ 11 محرم کو آپ کو اونٹ کے ساتھ باندھ کر اور لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر پہلے کوفہ اور بعد میں دمشق روانہ کیا گیا۔ تمام شہداء بشمول امام حسین رضی الله تعالٰی عنه کے سر نیزوں کی نوکوں پر ساتھ روانہ کیے گیے۔ خاندانِ رسالت کا یہ قافلہ 16 ربیع الاول 61ھ کو دمشق پہنچا اور دربارِ یزید میں رسیوں اور زنجیروں میں بندھا ہوا پیش کیا گیا۔ ایک سال کی قید کے بعد آپ 8 ریبع الاول 62ھ کو مدینہ واپس آئے اور تمام عمر خاندانِ رسالت کی شہادت پر گریہ کناں رہے۔ ان کی پھپھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نواسی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے تمام بال سفید ہو گئے تھے اور خود ان کی حالت اچھی نہ تھی۔ آپ سے جب پوچھا جاتا کہ آپ کو سب سے زیادہ مصیبت کا سامنا کہاں کرنا پڑا تو آپ فرماتے 'الشام الشام الشام' (دمشق کو الشام کہا جاتا تھا)۔ آپ کو اس بات کس شدید دکھ تھا کہ آپ کی پھپھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نواسی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو ننگے سر یزید جیسے فاسق کے دربار میں کھڑا ہونا پڑا۔[5][6] اہلِ مدینہ نے اس کے بعد یزید کی بیعت توڑ دی اور اس کے خلاف بغاوت کر دی۔

خطبات

آپ کے بعض خطبات بہت مشہور ہیں۔ واقعہ کربلا کے بعد کوفہ میں آپ نے پہلے خدا کی حمد و ثنا اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذکر و درود کے بعد کہا کہ 'اے لوگو جو مجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہے جو نہیں پہچانتا وہ پہچان لے کہ میں علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہوں۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کی بے حرمتی کی گئی جس کا سامان لوٹ لیا گیا۔ جس کے اہل و عیال قید کر دیے گئے۔ میں اس کا فرزند ہوں جسے ساحلِ فرات پر ذبح کر دیا گیا اور بغیر کفن و دفن کے چھوڑ دیا گیا۔ اور شہادتِ حسین ہمارے فخر کے لیے کافی ہے۔۔ ۔' ۔ دمشق میں یزید کے دربار میں آپ نے جو مشہور خطبہ دیا اس کا ایک حصہ یوں ہے:

۔ ۔۔ میں پسرِ زمزم و صفا ہوں، میں فرزندِ فاطمہ الزہرا ہوں، میں اس کا فرزند ہوں جسے پسِ گردن ذبح کیا گیا۔۔ ۔۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کا سر نوکِ نیزہ پر بلند کیا گیا۔۔۔۔ ہمارے دوست روزِ قیامت سیر و سیراب ہوں گے اور ہمارے دشمن روزِ قیامت بد بختی میں ہوں گے۔۔ ۔[7] [8] [9] [10]

یہ خطبہ سن کر لوگوں نے رونا اور شور مچانا شروع کیا تو یزید گھبرا گیا کہ کوئی فتنہ نہ کھڑا ہو جائے چنانچہ اس نے مؤذن کو کہا کہ اذان دے کہ امام خاموش ہو جائیں۔ اذان شروع ہوئی تو حضرت علی ابن الحسین خاموش ہو گئے۔ جب مؤذن نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی تو حضرت علی ابن الحسین رو پڑے اور کہا کہ اے یزید تو بتا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیرے نانا تھے یا میرے؟ یزید نے کہا کہ آپ کے تو حضرت علی ابن الحسین نے فرمایا کہ 'پھر کیوں تو نے ان کے اہل بیت کو شہید کیا'۔ یہ سن کر یزید یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ مجھے نماز سے کوئی واسطہ نہیں۔[11] اسی طرح آپ کا ایک اور خطبہ بھی مشہور ہے جو آپ نے مدینہ واپس آنے کے بعد دیا۔

روضہ رسول پر فریاد

آپ ربیع الاول 62ھ کو مدینہ واپس پہنچے۔ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پہنچے تو قبر مطہر پر گال رگڑ کر چند اشعار پڑھ کر فریاد پیش کی جن کا ترجمہ یوں ہے: میں آپ سے فریاد کرتا ہوں اے نانا۔ اے تمام رسولوں میں سب سے بہتر آپ کا محبوب 'حسین' شہید کر دیا گیا اور آپ کی نسل تباہ و برباد کر دی گئی۔ اے نانا میں رنج و غم کا مارا آپ سے فریاد کرتا ہوں کہ مجھے قید کیا گیا اور میرا کوئی حامی اور مدافعت کرنے والا نہ تھا۔ اے نانا ہم سب کو اس طرح قید کیا گیا جیسے لاوارث کنیزوں کو قید کیا جاتا ہے۔ اے نانا ہم پر اتنے مصائب ڈھائے گئے جن کو انگلیوں پر گنا نہیں جا سکتا۔

واقعہ حرہ

مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: واقعۂ حرہ

واقعۂ کربلا کے بعد دوسرا بڑا سانحہ مدینہ پر شامی افواج کی چڑھائی تھی جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی اور مدینہ میں قتل عام کیا گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ 63ھ میں پیش آیا اور واقعۂ حرہ کہلاتا ہے۔ مدینہ والوں نے یزید کے خلاف بغاوت کر کے اس کے گورنر کو معطل کر دیا۔ یزید نے مسلم بن عقبہ کو جو اپنی سفاکی کے لیے مشہور تھا اہلِ مدینہ کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ اس کی بھیجی ہوئی افواج نے دس ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا۔ خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور تین دن تک مسجد نبوی میں نماز نہ ہو سکی۔[12] تمام لوگوں سے یزید کی زبردستی بیعت لی گئی اور جس نے انکار کیا اس کا سر قلم کیا گیا۔ صرف دو آدمیوں سے بیعت طلب کرنے کی جرات نہ کی گئی جو حضرت علی ابن الحسین اور حضرت عبد اللہ ابن عباس تھے۔[13] اس واقعہ کے وقت مروان بن حکم جو اہلِ بیت کا مشہور دشمن تھا اس کو خطرہ محسوس ہوا لیکن اس کو اور اس کے اہل خانہ کو کسی نے پناہ نہ دی مگر وہ ایک کوشش کے لیے حضرت علی ابن الحسین کے پاس آیا اور پناہ طلب کی تو آپ نے یہ خیال کیے بغیر کہ اس نے واقعہ کربلا کے سلسلے میں کھلی دشمنی دکھائی تھی اسے اور اس کے اہل خانہ کو پناہ دی اور اس کو بچوں کو اپنے بچوں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی عائشہ کے ہمراہ 'منبع' کے مقام پر بھیج دیا اور مکمل حفاظت کی۔[14] مسلم بن عقبہ جو اس فوج کا سالار تھا جس نے مدینہ کو تباہ و برباد کیا، اس نے خاندانِ رسالت بشمول حضرت علی ابن الحسین کی خوب کھل کر برائیاں کیں مگر جب حضرت علی ابن الحسین کا سامنا ہوا تو ادب سے کھڑا ہو گیا۔ جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے قصداً ایسا نہیں کیا بلکہ ان کے رعب و جلال کی وجہ سے مجبوراً ایسا کیا۔ [15]

عبد الملک ابن مروان اور حجاج ابن یوسف کا دور

مروان ابن الحکم کے مرنے کے بعد 65ھ میں عبد الملک بن مروان تخت نشین ہوا۔ اس نے حجاج بن یوسف کو حجاز کا گورنر بنا دیا کیونکہ حجاج نے عبد اللہ بن زبیر کو قتل کر کے حجاز پر قبضہ کیا تھا۔ حجاج نے کعبہ پر سنگ باری کی تھی اور اسے تباہ کر دیا تھا حتی کہ اس کی دوبارہ تعمیر کی ضرورت پیش آئی۔ اس وقت عبد الملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو حکم دیا تھا کہ حضرت علی ابن الحسین کو گرفتار کر کے شام پہنچا دیا جائے چنانچہ اس نے انہیں زنجیروں سے باندھ کر مدینہ سے باہر ایک خیمہ میں رکھوایا۔ علامہ ابن حجر مکی کے مطابق عبد الملک بن مروان کو کچھ لوگوں نے سمجھایا کہ حضرت علی ابن الحسین خلافت سے کوئی غرض نہیں رکھتے اس لیے انہیں نہ چھیڑا جائے۔ عبد الملک بن مروان نے حجاج کو پیغام دیا کہ بنی ہاشم کو ستانے اور ان کا خون بہانے سے پرہیز و اجتناب کرو کیونکہ بنی امیہ کے اکثر بادشاہ انہیں ستا کر جلد تباہ ہو گئے۔ اس کے بعد انہیں حجاج نے چھوڑ دیا اور عبد الملک بن مروان کی زندگی میں زیادہ تنگ نہ کیا گیا۔ [16] جب حجاج نے کعبہ کو تباہ کیا اور اس کی دوبارہ تعمیر ہوئی تو حجر اسود کو نصب کرنے کا مسئلہ ہوا کیونکہ جو کوئی بھی اسے نصب کرنا چاہتا تھا تو حجر اسود متزلزل اور مضطرب رہتا اور اپنے مقام پر نہ ٹھہرتا۔ بالآخر حضرت علی ابن الحسین زین العابدین نے اسے بسم اللہ پڑھ کر نصب کیا تو بخوبی نصب ہو گیا۔ [17]

شہادت امام زین العابدین

اگرچہ آپ گوشہ نشین تھے اور خلافت کی خواہش نہ رکھتے تھے مگر حکمرانوں کو ان کے روحانی اقتدار سے بھی خطرہ تھا اور خوف تھا کہ کہیں وہ خروج نہ کریں۔ چنانچہ ولید بن عبد الملک نے 95ھ میں آپ کو زہر دے دیا اور آپ 25 محرم الحرام 95ھ بمطابق 714ء کو درجۂ شہادت پر فائز ہو گئے۔[18]آپ کی تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کا ایک اونٹ آپ کی قبر پر فریاد کرتا رہا اور تین روز میں مر گیا۔ [19]

حوالہ جات

1 ^ مطالب السؤل از علامہ محمد ابن طلحہ شافعی صفحہ 262 2 ^ اعلام الوریٰ صفحہ 153 3 ^ مطالب السؤل از علامہ محمد ابن طلحہ شافعی 4 ^ صواعق المحرقہ از علامہ ابن حجر مکی 5 ^ جلا العیون صفحہ 256 6 ^ مقتل ابی مخنف صفحہ 135 7 ^ مقتل ابی مخنف صفحہ 135۔ 136 8 ^ بحار الانوار جلد 10 9 ^ ریاض القدس جلد 2 صفحہ 328 10 ^ روضۃ الاحباب 11 ^ مقتل ابی مخنف صفحہ 135۔ 136 12 ^ ابن کثیر، تاریخ الخلفاء 13 ^ تاریخ الکامل جلد 4 14 ^ تاریخ الکامل جلد 4 صفحہ 45 15 ^ مروج الذہب از مسعودی 16 ^ صواعق المحرقہ از علامہ ابن حجر المکی 17 ^ کتاب الخرائج والجرائح از علامہ اقطب راوندی 18 ^ صواعق المحرقہ از علامہ ابن حجر المکی صفحہ 120 19 ^ شواہد النبوۃ صفحہ 179

5) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام

حضرت محمد باقر، حضرت زین العابدین کے فرزند اور اہل تشیع کے پانچویں امام ہیں۔ آپ کانام اپنے جد بزرگوار حضرت رسول خدا کے نام پر محمد تھا اور باقر لقب۔ اسی وجہ سے امام محمد باقر علیہ السّلام کے نام سے مشہور ہوئے۔ بارہ اماموں میں سے یہ آپ ہی کو خصوصیت تھی کہ آپ کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں طرف حضرت رسول خدا تک پہنچتا ہے۔ دادا آپ کے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السّلام تھے جو حضرت رسول خدامحمدمصطفے ٰ کے چھوٹے نواسے تھے اور والدہ آپ کی ام عبد اللہ فاطمہ علیہ السّلام حضرت امام حسن علیہ السّلام کی صاحبزادی تھیں جو حضرت رسول کے بڑے نواسے تھے۔ اس طرح حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام رسول کے بلند کمالات اور علی علیہ السّلام وفاطمہ کی نسل کے پاک خصوصیات کے باپ اور ماں دونوں سے وارث ہوئے۔

1 ولادت
2 واقعہ کربلا
3 تربیت
4 باپ کی وفات اور امامت کی ذمہ داریاں
4.1 اس دور کی خصوصیات
4.2 عزائے امام حسین علیہ السّلام میں انہماک
4.3 علمی مرجعیت
5 علوم اہلبیت علیہ السّلام کی اشاعت
6 اخلاق و اوصاف
7 امورِ سلطنت میں مشورہ
7.1 سلطنت بنی امیہ کی طرف سے مزاحمت
8 وفات

ولادت

آپ کی ولادت روز جمعہ یکم رجب 57ھ میں ہوئی . یہ وہ وقت تھا جب امام حسن علیہ السّلام کی وفات کو سات برس ہوچکے تھے . امام حسین علیہ السّلام مدینہ میں خاموشی کی زندگی بسر کر رہے تھے اور وقت کی رفتار تیزی سے واقعہ کربلا کے اسباب فراہم کر رہی تھی . زمانہ ال رسول اور شیعانِ اہل بیت علیہ السّلام کے لیے صر اشوب تھا . چُن چُن کر محبانِ علی علیہ السّلام گرفتار کیے جا رہے تھے , تلوار کے گھاٹ اتارے جا رہے تھے یا سولیوں پر چڑھائے جا رہے تھے اس وقت اس مولود کی ولادت گویا کربلا کے جہاد میں شریک ہونے والے سلسلہ میں ایک کڑی کی تکمیل تھی .

واقعہ کربلا

تین برس امام محمد باقر علیہ السّلام اپنے جد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السّلام کے زیرِسایہ رہے . جب آپ کاسن پورے تین سال کا ہوا تو امام حسین علیہ السّلام نے مدینہ سے سفر کیا .ا س کم سنی میں امام محمد باقر علیہ السّلام بھی راستے کی تکلیفیں سہنے میں ا پنے بزرگوں کو شریک رہے . امام حسین علیہ السّلام نے مکہ میں پناہ لی . پھر کوفہ کاسفر اختیار کیا اور پھر کربلا پہنچے . ساتویں محرم سے جب پانی بند ہو گیا تو یقیناً امام محمدباقر نے بھی تین یوم پیاس کی تکلیف برداشت کی . یہ خالق کی منشا کی ایک تکمیل تھی کہ وہ روز عاشور میدان ُ قربانی میں نہیں لائے گئے . ورنہ جب ان سے چھوٹے سن کا بچہ علی اصغر علیہ السّلام تیر ستم کا نشانہ ہو سکتا تھا تو امام محمد باقر علیہ السّلام کابھی قربان گاہ شہادت پر لاناممکن تھا . مگر سلسلہ امامت کادنیامیں قائم رہنا نظام کائنات کے برقرار رہنے کے لیے ضروری اور اہم تھا لٰہذا منظور الٰہی یہ تھا کہ امام محمد باقر علیہ السّلام کربلا کے میدان میں اس طرح شریک ہوئے .عاشور کو دن بھر عزیزوں کے لاشے پر لاشے اتے دیکھنا . بیبیوں میں کہرام , بچوں میں تہلکہ , امام حسین علیہ السّلام کاوداع ہونا اورننھی سی جان علی اصغر علیہ السّلام کا جھولے سے جدا ہوکر میدان میں جانا اور پھر واپس نہ انا ,امام علیہ السّلام کے باوفا گھوڑے کا درخیمہ پر خالی زین کے ساتھ آنا اور پھر خیمہ عصمت میں ایک قیامت کابرپا ہونا .یہ سب مناظر امام محمد باقر علیہ السّلام کی انکھوں کے سامنے آئے اور پھر بعد عصر خیموں میں آگ کا لگنا , اسباب کا لوٹا جانا، بیبیوں کے سروں سے چادروں کا اتارا جانا اور آگ کے شعلوں سے بچوں کاگھبرا کرسراسیمہ ومضطرب اَدھر اُدھر پھرنا , اس عالم میں امام محمد باقر علیہ السّلام کے ننھے سے دل پر کیا گزری اور کیا تاثرات ان کے دل پر قائم رہ گئے اس کا اندازہ کوئی دوسرا انسان نہیں کر سکتا۔ گیارہ محرم کے بعد ماں اور پھوپھی ,دادی اورنانی تمام خاندان کے بزرگوں کو دشمنوں کی قید میں اسیر دیکھا , یقیناً اگر سکینہ علیہ السّلام کا ہاتھ رسی میں بندھ سکتا ہے تو یقین کہا جاسکتا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السّلام کاگلا بھی ریسمان ظلم سے ضرور باندھا گیا . کربلا سے کوفہ او رکوفہ سے شام اور پھر رہائی کے بعد مدینہ کی واپسی ان تمام منازل میں نہ جانے کتنے صدمے تھے جو امام محمد باقر علیہ السّلام کے ننھے سے دل کو اٹھانا پڑے او رکتنے غم والم کے نقش جو دل پر ایسے بیٹھے کہ ائیندہ زندگی میں ہمیشہ برقرار رہے۔

تربیت

واقعہ کربلا کے بعد امام زین العابدین علیہ السّلام کی زندگی دنیا کی کشمکشوں اور آویزشوں سے بالکل الگ نہایت سکون اور سکوت کی زندگی تھی , اہل دنیا سے میل جول بالکل ترک کبھی محراب عبادت اور کبھی باپ کاماتم ان ہی دو مشغلوں میں تمام اوقات صرف ہوتے تھے .یہ وہی زمانہ تھا جس میں امام محمد باقر علیہ السّلام نے نشونما پائی .16ھ سے 59ھ تک 43 برس اپنے مقدس باپ کی سیرت زندگی کامطالعہ کرتے رہے اور اپنے فطری اور خداداد ذاتی کمالات کے ساتھ ان تعلیمات سے فائدہ اٹھاتے رہے جو انھیں اپنے والد ُ بزرگوار کی زندگی کے ائینہ میں برابر نظر اتی رہیں۔

باپ کی وفات اور امامت کی ذمہ داریاں

حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام بھر پور جوانی کی منزلوں کو طے کرتے ہوئے ایک ساتھ جسمانی وروحانی کمال کے بلند نقطہ پر تھے اور 83 برس کی عمر تھی جب آپ کے والد بزرگوار حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کی شہادت ہوئی .حضرت نے ا پنے وقت وفات ایک صندوق جس میں اہلِ بیت علیہ السّلام کے مخصوص علوم کی کتب تھیں امام محمد باقر علیہ السّلام کے سپرد کیا نیز اپنی تمام اولادکوجمع کرکے ان سب کی کفالت وتربیت کی ذمہ داری اپنے فرزند امام محمد باقر علیہ السّلام پر قرار دی اور ضروری وصایا فرمائے اس کے بعد امامت کی ذمہ داریاں حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام پر ائیں . آپ سلسلہ اہلِ بیت علیہ السّلام کے پانچویں امام ہوئے ہیں جو رسول خدا کے برحق جانشین تھے

اس دور کی خصوصیات

یہ وہ زمانہ تھا جب بنی امیہ کی سلطنت اپنی مادری طاقت کے لحاظ سے بڑھاپے کی منزلوں سے گزر رہے تھے . بنی ہاشم پر ظلم وستم اورخصوصاً کربلا کے واقعہ نے بہت حد تک دنیا کی انکھوں کو کھول دیا اور جب یزید خود اپنے مختصر زمانہ حیات ہی میں جو واقعہ کربلا کے بعد ہوا اپنے کیے پرپشیمان ہوچکا تھا اور اس کے برے نتائج کو محسوس کر چکا تھا اور اس کے بعد اس کا بیٹا معاویہ اپنے باپ اور دادا کے افعال سے کھلم کھلا اظہار بیزاری کرکے سلطنت سے دستبردار ہو گیا تو بعد کے سلاطین کوکہاں تک ان مظالم کے مہلک نتائج کااحساس نہ ہوتا . جب کہ اس وقت جماعت توابین کا جہاد مختار رض اور ان کے ہمراہیوں کے خون حسین علیہ السّلام کا بدلہ لینے میں اقدامات اور نہ جانے کتنے واقعات سامنے اچکے تھے جن سے سلطنت شام کی بنیادیں ہل گئیں تھیں . اس کا نتیجہ یہ تھا کہ امام محمد باقر علیہ السّلام کے زمانہ امامت کو حکومت کے ظلم وتشدد کی گرفت سے کچھ آزادی نصیب ہوئی اور آپ کو خلق خدا کی اصلاح وہدایت کا کچھ زیادہ موقع مل سکا .

عزائے امام حسین علیہ السّلام میں انہماک

آپ واقع کربلا کو اپنی انکھوں سے دیکھے ہوئے تھے .پھر اپنے باپ کی تمام زندگی کا جو امام مظلوم علیہ السّلام کے غم میں رونے میں بسر ہوئی . مطالعہ کرچکے تھے . یہ احساس بھی نہایت تکلیف دہ تھاکہ ان کے والد بزرگوار باوجود اتنے غم ورنج اور گریہ وزاری کے ایسا موقع نہ پا سکے کہ دوسروں کو امام حسین علیہ السّلام کے ماتم برپا کرنے کی دعوت دیتے اس کا نتیجہ یہ تھا کہ امام محمد باقر علیہ السّلام کو اس میں خاص اہتمام پیدا ہوا . آپ مجالس کی بنا فرماتے تھے اور کمیت بن زید اسدی جو آپ کے زمانہ کے بڑے شاعر تھے , ان کوبلا کر مراثیہائے امام حسین علیہ السّلام پڑھواتے اور سنتے تھے .یہی وہ ابتداتھی جسے امام جعفر صادق علیہ السّلام اور اس کے بعد پھر امام رضا علیہ السّلام کے زمانہ میں بہت فروغ حاصل ہوا۔

علمی مرجعیت

دریا کا پانی بند کے باندھ دیے جانے سے جب کچھ عرصہ کے لیے ٹھہرجائے اور پھر کسی وجہ سے وہ بند ٹوٹے تو پانی بڑی قوت اور جوش وخروش کے ساتھ بہتا ہوا محسوس ہوگا .ائمہ اہل بیت علیہ السّلام میں سے ہر ایک کے سینہ میں ایک ہی دریا تھا , علم کا جو موجزن تھا مگر اکثر اوقات ظلم وتشدد کی وجہ سے اس دریا کو پیاسوں کے سیراب کرنے کے لیے بہنے کا موقع نہیں دیا گیا . امام محمدباقر علیہ السّلام کے زمانہ میں جب تشدد کا شکنجہ ذرا ڈھیلا ہوا توعلوم اہلِبیت علیہ السّلام کا دریا پوری طاقت کے ساتھ امنڈااور ہزاروں پیاسوں کو سیراب کرتا ہوا .»شریعت حقہ« اور احکام الٰہی کے کھیتوں کو سرسبز بناتا ہوا دنیا میں پھیل گیا . اس علمی تبحر اور وسعت معلومات کے مظاہرے کے نتیجے میں آپ کا لقب باقر علیہ السّلام مشہور ہوا . اس لفظ کے معنی ہیں اندرونی باتوں کامظاہرہ کرنے والا چونکہ آپ نے اپنے سے بہت سے پوشیدہ مطالب کو ظاہر کیا اس لیے تمام مسلمان آپ کو باقر علیہ السّلام کے نام سے یاد کرنے لگے . آپ سے علوم اہلبیت علیہ السّلام حاصل کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں تک پہنچی ہوئی تھی .بہت سے ایسے افراد بھی جو عقید تاً ائمہ معصومین علیہ السّلام سے وابستہ نہ تھے اور جنھیں جماعت اہلسنت اپنے محدثین میں بلند درجہ سمجھتی ہے وہ بھی علمی فیوض حاصل کرنے امام محمد باقر علیہ السّلام کی ڈیوڑھی پر اتے تھے جیسے زہری امام اوزاعی اور عطاربن جریح، قاضی حفض بن غیاث وغیرہ یہ سب امام محمد باقر علیہ السّلام کے شاگردوں میں محسوب ہیں۔

علوم اہلبیت علیہ السّلام کی اشاعت

حضرت علیہ السّلام کے زمانہ میں علوم اہلبیت علیہ السّلام کے تحفظ کااہتمام اور حضرت کے شاگردوں نے ان افادیات سے جو انہیں حضرت امام محمدباقر علیہ السّلام سے حاصل ہوئے۔ مختلف علوم وفنون اور مذہب کے شعبوں میں کتب تصنیف کیں ذیل میں حضرت کے کچھ شاگردوں کا ذکر ہے اور ان کی تصانیف کانام درج کیا جاتا ہے . جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ امام محمدباقر علیہ السّلام سے اسلامی دنیا میں علم ومذہب نے کتنی ترقی کی۔

~01 . ابان ابن تغلب : یہ علم قرآت اور لغت کے امام مانے گئے ہیں- سب سے پہلے کتاب غریب القرآن یعنی قرآن مجید کے مشکل الفاظ کی تشریح انہوں نے تحریر کی تھی اور ~0141ئھ میں وفات پائی۔

~0-2 ابو جعفر محمد بن حسن ابن ابی سارہ رو اسی علم قرآت، نحو اور تفسیر کے مشہور عالم تھے۔ کتاب الفصیل معانی

القرآن وغیرہ پانچ کتب کے مصنف ہیں- ~0101ئھ میں وفات پائی۔

~0-3 عبد اللّٰہ ابن میمون اسود القداح: ان کی تصانیف سے ایک کتاب مبعث بنی، رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت اور تاریخ زندگی میں اور ایک کتاب حالاتِ جنت و نار میں تھی- ~0105ئھ میں وفات پائی۔

~0-4 عطیہ ابن سعید عوفی- پانچ جلدوں میں تفسیر قرآن لکھی- ~0111ئھ میں وفات پائی- ~0-5 اسماعیل ابن عبد الرحمٰن الدی الکبیر- یہ مشہور مفسر قرآن ہیں- جن کے حوالے تمام اسلامی مفسرین نے سدی کے نام سے دیے ہیں ~0127ئھ میں وفات پائی- ~0-6 جابر بن یزید جعفی، انہوں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے پچاس ہزارحدیثیں سن کر یاد کیں اور ایک روایت میں ستر ہزار کی تعداد بتائی گئی ہے- اس کاذکر صحاح ستہ میں سے صحیح مسلم میں موجود ہے- تفسیر، فقہ اور حدیث میں کئی کتب تصنیف کیں- ~0128ئھ میں وفات پائی- ~0-7 عمار بن معاویہ وہنی: فقہ میں ایک کتاب تصنیف کی ~0132ئھ میں وفات پائی- ~0-8 سالم بن ابی حفصہ ابو یونس کوفی: فقہ میں ایک کتاب لکھی وفات ~0137ئھ میں پائی- ~0-9 عبد المومن ابن قاسم ابو عبد اللّٰہ انصاری: یہ بھی فقہ میں ایک کتاب کے مصنف ہیں- ~0147ئھ میں وفات پائی-

~0-10 ابوحمزہ ثمالی: تفسیر قرآن میں ایک کتاب لکھی، اس کے علاوہ کتاب النوادر اور کتاب الزمد بھی ان کی تصانیف میں سے ہیں- ~0150ئھ میں وفات پائی- ~0-11 زرارہ ابن اعین: بڑے بزرگ مرتبہ شیعہ عالم تھے ان کی علم کلام اور فقہ اور حدیث میں بہت سی کتب ہیں- وفات ~0150ئھ- ~0-12 محمد بن مسلم: یہ بھی بڑے بلند پایہ بزرگ تھے- امام محمد باقر علیہ السلام سے تیس ہزار حدیثیں سنیں- بہت سی کتب کے مصنف ہیں جن میں سے ایک کتاب تھی- چہار صد مسئلہ اور ابواب حلال و حرام- وفات ~0150ئھ ~0-13 یحیٰی بن قاسم ابو بصیر اسدی جلیل المرتبہ بزرگ تھے- کتاب مناسک حج کتاب یوم دلیلہ تصنیف کی- ~0150ئھ میں وفات پائی- ~0-14 اسٰحق قمی: فقہ میں ایک کتاب کے مصنف ہیں- ~0-15 اسماعیل بن جابر خثعمی کوفی: احادیث کی کئی کتب تصنیف کیں اور ایک کتاب فقہ میں تصنیف کی- ~0-16 اسمٰعیل بن عبد الخالق:بلند مرتبہ فقیہہ تھے- ان کی تصنیف سے بھی ایک کتاب تھی- ~0-17 بروالا سکاف الازدی: فقہ میں ایک کتاب لکھی- ~0-18 حارث بن مغیرہ: یہ بھی مسائل فقہ میں ابک کتاب کے مصنف ہیں- ~0-19 حذیفہ بن منصور خزاعی: ان کی بھی ایک کتاب فقہ میں تھی- ~0-20 حسن بن السری الکاتب: ایک کتاب تصنیف کی- ~0-21 حسین بن ثور ابن ابی فاختہ: کتاب النوادر تحریر کی- ~0-22 حسین بن حما عبد ی کوفی: ایک کتاب کے مصنف ہیں- ~0-23 حسین بن مصعب بجلی: ان کی بھی ایک کتاب تھی- ~0-24 حماد بن ابی طلحہ: ایک کتاب تحریر کی- ~0-25 حمزہ بن حمران بن اعین: زرارہ کے بھتیجے تھے اور ایک کتاب کے مصنف تھے۔ یہ چند نام ہیں ان کثیر علمائ و فقہا و محدثین میں سے جنہوں نے امام محمد باقر علیہ السّلام سے علوم اہل بیت علیہ السّلام کو حاصل کر کے کتب کی صورت میں محفوظ کیا- یہ اور پھر اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں جو سینکڑوں کتب تصنیف ہوئیں یہی وہ سرمایہ تھا جس سے بعد میں کافی#- من لا یحضرہ، تہذیب اور استبصار ایسے بڑے حدیث کے خزانے جمع ہو سکے جن پر شیعیت کا آسمان دورہ کرتا رہا ہے-

اخلاق و اوصاف

آپ کے اخلاق وہ تھے کہ دشمن بھی قائل تھے چنانچہ ایک شخص اہل شام میں سے مدینہ میں قیام رکھتا تھا اور اکثر امام محمد باقر علیہ السلام کے پاس آ کر بیٹھا کرتا تھا- اس کا بیان تھا کہ مجھے اس گھرانے سے ہرگز کوئی خلوص و محبت نہیں مگر آپ کے اخلاق کی کشش اور فصاحت وہ ہے جس کی وجہ سے میں آپ کے پاس آنے اور بیٹھنے پر مجبور ہوں-

امورِ سلطنت میں مشورہ

سلطنتِ اسلامیہ حقیقت میں ان اہل بیت رسول کا حق تھی مگر دنیا والوں نے مادی اقتدار کے آگے سر جھکایا اور ان حضرات کو گوشہ نشینی اختیار کرنا پڑی- عام افراد انسانی کی ذہنیت کے مطابق اس صورت میں اگرچہ حکومتِ وقت کسی وقت ان حضرات کی امداد کی ضرورت محسوس کرتی تو صاف طور پر انکار میں جواب دیا جا سکتا تھا مگر ان حضرات کے پیش نظر اعلی ظرفی کا وہ معیار تھا جس تک عام لوگ پہنچے ہوئے نہیں ہوتے- جس طرح امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے سخت موقعوں پر حکومت وقت کو مشورے دینے سے گریز نہیں کیا اسی طرح اس سلسلہ کے تمام حضرات علیہ السّلام نے اپنے اپنے زمانہ کے بادشاہوں کے ساتھ یہی طرزِ عمل اختیار کیا- چنانچہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسی صورت پیش آئی- واقعہ یہ تھا کہ حکومتِ اسلام کی طرف سے اس وقت تک کوئی خاص سکہ نہیں بنایا گیا تھا- بلکہ روی سلطنت کے سکے اسلامی سلطنت میں بھی رائج تھے- ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں سلطنت شام اور سلطان روم کے درمیان اختلافات پیدا ہو گیا- رومی سلطنت نے یہ ارادہ ظاہر کیا کہ وہ اپنے سکوں پر پیغمبر اسلام کی شان کے خلاف کچھ الفاظ درج کرا دے گی اس پر مسلمانوں میں بڑی بے چینی پیدا ہو گئی- ولید نے ایک بہت بڑا جلسہ مشاورت کے ليے منعقد کیا جس میں عالم السلام کے ممتاز افراد شریک تھے- اس جلسہ میں امام محمد باقر علیہ السلام بھی شریک ہوئے اور آپ نے یہ رائے دی کہ مسلمان کو خود اپنا سکہ ڈھالنا چاہیے جس میں ایک طرف لاالٰہ الااللّٰہ اور دوسری طرف محمد رسول اللّٰہ نقش ہو- امام علیہ السّلام کی اس تجویز کے سامنے سر تسلیم خم کیا گیا اور اسلامی سکہ اس طور پر تیار کیا گیا-

سلطنت بنی امیہ کی طرف سے مزاحمت

باوجودیکہ امام محمد باقر معاملاتِ ملکی میں کوئی دخل نہ دیتے تھے اور دخل دیا بھی تو سلطنت کی خواہش پر وقارِ اسلامی کے برقرار رکھنے کے ليے- مگر آپ کی خاموش زندگی اور خالص علمی اور روحانی مرجعیت بھی سلطنت وقت کو گوارا نہ تھی چنانچہ ہشام بن عبد الملک نے مدینہ کے حاکم کو خط لکھا کہ امام باقر کو ان کے فرزند امام جعفر صادق کے ہمراہ دمشق بھیج دیا جائے- اس کو منظور یہ تھا کہ حضرت کی عزت و وقار کو اپنے خیال میں دھچکا پہنچائے چنانچہ جب یہ حضرات علیہ السّلام دمشق پہنچے تو تین دن تک ہشام نے ملاقات کا موقع نہیں دیا- چوتھے دن دربار میں بلا بھیجا- ایک ایسے موقع پر کہ جب وہ تخت شاہی پر بیٹھا تھا اور لشکر داہنے اور بائیں ہتھیار لگائے صف بستہ کھڑا تھا اور وسط دربار میں ایک نشانہ تیراندازی کا مقرر کیا گیا تھا اور رؤسائ سلطنت اس کے سامنے شرط باندھ کر تیر لگاتے تھے امام علیہ السلام کے پہنچنے پر انتہائی جراَت اور جسارت کے ساتھ اس نے خواہش کی کہ آپ بھی ان لوگوں کے ہمراہ تیر کا نشانہ لگائیں- ہر چند حضرت علیہ السّلام نے معذرت فرمائی مگر اس نے قبول نہ کیا- وہ سمجھتا تھا کہ آل محمد طویل مدت سے گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں- ان کو جنگ کے فنون سے کیا واسطہ اور اس طرح منظور یہ تھا کہ لوگوں کو ہنسنے کا موقع ملے- مگر وہ یہ نہ جانتا تھا کہ ان میں سے ہر ایک فرد کے بازو میں علی علیہ السّلام کی قوت اور دل میں امام حسین علیہ السّلام کی طاقت موجود ہے- وہ حکم الٰہی اور فرض کا احساس ہے جس کی وجہ سے یہ حضرات ایک سکون اور سکوت کا مجسمہ نظر آتے ہیں- یہی ہوا کہ جب مجبور ہو کر حضرت نے تیر و کمان ہاتھ میں لیا اور چند تیرپے در پے ایک ہی نشانے پر بالکل ایک ہی نقطہ پر لگائے تو مجمع تعجب اور حیرت میں غرق ہو گیا اور ہر طرف سے تعریفیں ہونے لگیں- ہشام کو اپنے طرزِ عمل پر پشیمان ہونا پڑا- اس کے بعد اس کو یہ احساس ہوا کہ امام علیہ السلام کا دمشق میں قیام کہیں عام خلقت کے دل میں اہل بیت علیہ السّلام کی عظمت قائم کر دینے کا سبب نہ ہو- اس لیے اس نے آپ کو واپس مدینہ جانے کی اجازت دے دی مگر دل میں حضرت علیہ السّلام کے ساتھ عداوت میں اور اضافہ ہو گیا۔

وفات

سلطنتِ شام کو جتنا حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کی جلالت اور بزرگی کا اندازہ زیادہ ہوتا گیا اتنا ہی آپ کا وجود ان کے ليے ناقابل برداشت محسوس ہوتا رہا- آخر آپ کو اس خاموش زہر کے حربے سے جو اکثر سلطنت بنی امیہ کی طرف سے کام میں لایا جاتا رہا تھا شہید کرنے کی تدبیر کر لی گئی- وہ ایک زین کا تحفہ تھا جس میں خاص تدبیروں سے زہر پوشیدہ کیا گیا تھا اور جب حضرت اس زین پر سوار ہوئے تو زہر جسم میں سرایت کر گیا۔ چند روز کرب و تکلیف میں بستر بیمار پر گزرے اور آخرت سات ذی الحجہ ~0114ئھ کو ~057برس کی عمر میں وفات پائی۔

آپ کو حسب وصیت تین کپڑوں کا کفن دیا گیا جن میں سے ایک وہ یمنی چادر تھی جسے اوڑھ کر آپ روز جمعہ نماز پڑھتے تھے اور ایک وہ پیراہن تھا جسے آپ ہمیشہ پہنے رہتے تھے اور جنت البقیع میں اسی قبہ میں کہ جہاں حضرت امام حسن علیہ السّلام اور امام زین العابدین علیہ السّلام دفن ہو چکے تھے حضرت علیہ السّلام بھی دفن کیے گئے۔

6) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام

جعفر صادق، حضرت محمد باقر کے فرزند اور اہل تشیع میں حضرت علی سے شروع ہونے والے سلسلۂ امامت کے چھٹے (6) امام تھے۔ سید خاندان کے بہت سے افراد اپنے نام کے ساتھ جعفری انہی کی نسبت سے لگاتے ہیں۔

ان کا نام جعفر، کنیت ابو عبد اللہ اور لقب صادق تھا۔ آپ امام محمد باقر علیہ السلام کے بیٹے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے پوتے اور شہید کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام کے پرپوتے تھے۔ سلسلۂ عصمت کی آٹھویں کڑی اور آئمۂ اہلبیت علیہم السّلام میں سے چھٹے امام تھے آپ کی والدہ حضرت محمد ابن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی پوتی تھیں جن کی والدہ قاسم ابن محمد رضی اللہ عنہ مدینہ کے سات فقہا میں سے تھے۔

1 ولادت
2 نشوونما اور تربیت
3 انقلابِ سلطنت
4 سادات پر مظالم
5 امام کے ساتھ بدسلوکیاں
6 اخلاق واوصاف
7 اشاعت علوم
8 شہادت

ولادت

83ھ میں 17 ربیع الاول کو آپ کی ولادت ہوئی۔ اس وقت آپ کے دادا حضرت امام زین العابدین علیہ السلام بھی زندہ تھے۔ آپ کے والد حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی عمر اس وقت چھبیس برس تھی۔ خاندان آلِ محمد میں اس اضافہ کا انتہائی خوشی سے استقبال کیا گیا۔ نشوونما اور تربیت

بارہ برس آپ نے اپنے جدِ بزرگوار حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کے زیر سایہ تربیت پائی۔ شہادت امام حسین علیہ السّلام کے بعد سے پینتیس برس امام زین العابدین علیہ السّلام کا مشغلہ عبادتِ الٰہی اور اپنے مظلوم باپ حضرت سید الشہداء کو رونے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ واقعہ کربلا کو ابھی صرف بائیس برس گزرے تھے۔ اس مدت میں کربلا کا عظیم الشان واقعہ اپنے تاثرات کے لحاظ سے ابھی کل ہی کی بات معلوم ہوتا تھا امام جعفر صادق علیہ السّلام نے آنکھ کھولی تو اسی غم واندوہ کی فضا میں شب و روز شہادتِ حسین علیہ السّلام کا تذکرہ اور اس غم میں نوحہ و ماتم اور گریہ و بکا کی آوازوں نے ان کے دل و دماغ پر وہ اثر قائم کیا کہ جیسے وہ خود واقعہ کربلا میں موجود تھے۔ پھر جب وہ یہ سنتے تھے کہ ان کے والد بزرگوار امام محمد باقر علیہ السّلام بھی کمسنی ہی کے دور میں ہی اس جہاد میں شریک تھے تو ان کے دل کو یہ احساس بہت صدمہ پہنچاتا ہو گا کہ خاندان عصمت کے موجودہ افراد میں ایک میں ہی ہوں جو اس قابلِ فخر یاد گار معرکہ ابتلا میں موجود نہ تھا۔ چنانچہ اس کے بعد ہمیشہ اور عمر بھر امام جعفر صادق علیہ السّلام نے جس جس طرح اپنے جدِ مظلوم امام حسین علیہ السّلام کی یاد کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہے وہ اپنی مثال ہے۔

95ھ میں بارہ برس کی عمر میں امام زین العابدین علیہ السلام کا سایہ سر سے اٹھا۔ اس کے بعد انیس برس آپ نے اپنے والد ماجد حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کے دامنِ تربیت میں گزارے، یہ وہ وقت تھا جب سیاست بنی امیہ کی بنیادیں ہل چکی تھیں اور امام محمد باقر علیہ السّلام کی طرف فیوضِ علمی حاصل کرنے کے لیے خلائق رجوع کر رہی تھی۔ اس وقت اپنے پدرِ بزرگوار کی مجلسِ درس میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام ہی ایک وہ طالب علم تھے جو قدرت کی طرف سے علم کے سانچے میں ڈھال کر پیدا کیے گئے تھے۔ آپ سفر اور حضر دونوں میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ رہتے تھے چنانچہ ہشام ابن عبد المالک کی طلب پر حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کے ساتھ تھے اس کا ذکر پانچویں امام کے حالات میں ہو چکا ہے۔

دورِ امامت 114ھ میں حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کی وفات ہوئی۔ اب امامت کی ذمہ داریاں امام جعفر صادق علیہ السّلام پر عائد ہوئیں۔ اس وقت دمشق میں ہشام بن عبد المالک کی سلطنت تھی۔ اس زمانہ سلطنت میں ملک میں سیاسی خلفشار بہت زیادہ ہو چکا تھا۔ مظالمِ بنی امیہ کے انتقام کا جذبہ تیز ہو رہا تھا اور بنی فاطمہ میں سے متعدد افراد حکومت کے مقابلے کے لیے تیار ہو گئے تھے، ان میں نمایاں ہستی حضرت زید (رض) کی تھی جو امام زین العابدین علیہ السّلام کے بزرگ مرتبہ فرزند تھے۔ ان کی عبادت زہد و تقویٰ کا بھی ملک عرب میں شہرہ تھا۔ مستند اور مسلّم حافظِ قران تھے۔ بنی امیہ کے مظالم سے تنگ آ کر انھوں نے میدانِ جہاد میں قدم رکھا۔

امام جعفر صادق علیہ السّلام کے لیے یہ موقع نہایت نازک تھا مظالمِ بنی امیہ سے نفرت میں ظاہر ہے کہ آپ زید (رض) کے ساتھ متفق تھے پھر جناب زید (رض) آپ کے چچا بھی تھے جن کا احترام آپ پر لازم تھا مگر آپ کی دور رس نگاہ دیکھ رہی تھی کہ یہ اقدام کسی مفید نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس لیے عملی طور سے آپ ان کا ساتھ دینا مناسب نہ سمجھتے تھے مگر یہ واقعہ ہوتے ہوئے بھی خود ان کی ذات سے آپ کو انتہائی ہمدردی تھی۔ آپ نے مناسب طریقہ پر انھیں مصلحت بینی کی دعوت دی مگر اہل عراق کی ایک بڑی جماعت کے اقرارِ اطاعت و وفاداری نے جناب زید (رض) کو کامیابی کی توقعات پیدا کر دیں اور آخر 120ھ میں ظالم ہشام کی فوج سے تین روز تک بہادری کے ساتھ جنگ کرنے کے بعد شہید ہوئے۔ دشمن کا جذبۂ انتقام اتنے ہی پر ختم نہیں ہوا بلکہ دفن ہو چکنے کے بعد ان کی لاش کو قبر سے نکالا گیا اور سر کو جدا کر کے ہشام کے پاس بطور تحفہ بھیجا گیا اور لاش کو دروازۂِ کوفہ پر سولی دے دی گئی اور کئی برس تک اسی طرح آویزاں رکھا گیا۔ جناب زید (رض) کے ایک سال بعد ان کے بیٹے یحیٰی ابن زید علیہ السّلام بھی شہید ہوئے۔ یقیناً ان حالات کا امام جعفر صادق علیہ السّلام کے دل پر گہرا اثر پڑ رہا تھا۔ مگر وہ جذبات سے بلند فرائض کی پابندی تھی کہ اس کے باوجود آپ نے ان فرائض کو جو اشاعت علوم اہلبیت علیہ السّلام او رنشرشریعت کے قدرت کی جانب سے آپ کے سپرد تھے برابر جاری رکھا تھا۔

انقلابِ سلطنت

بنی امیہ کا اخری دور ہنگاموں اور سیاسی کشمکشوں کا مرکز بن گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بہت جلدی جلدی حکومتوں میں تبدیلیاں ہو رہی تھی اور اسی لیے امام جعفر صادق علیہ السّلام کو بہت سی دنیوی سلطنتوں کے دور سے گزرنا پڑا۔ ہشام بن عبد الملک کے بعد ولید بن عبد الملک پھر یزید بن ولید بن عبد الملک اس کے بعد ابراہیم بن ولید بن عبد الملک اور اخر میں مروان حمار جس پر بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

جب سلطنت کی داخلی کمزوریاں قہر وغلبہ کی چولیں ہلا چکی ہوں تو قدرتی بات ہے کہ وہ لوگ جو اس حکومت کے مظالم کا مدتوں نشانہ رہ چکے ہوں اور جنھیں ان کے حقوق سے محروم کرکے صرف تشدد کی طاقت سے پنپنے کا موقع نہ دیا گیا ہو، قفس کی تتلیوں کو کمزور پا کر پھڑ پھڑانے کی کوشش کریں گے اور حکومت کے شکنجے کو ایک دم توڑ دینا چاہیں گے، سوائے ایسے بلند افراد کے جو جذبات کی پیروی سے بلند ہوں۔ عام طور پر اس طرح کی انتقامی کوششوں میں مصلحت اندیشی کادامن بھی ہاتھ سے چھوٹنے کا امکان ہے مگر وہ انسانی فطرت کا ایک کمزور پہلو ہے جس سے خاص خاص افراد ہی مستثنیٰ ہوسکتے ہیں۔

بنی ہاشم میں عام طور پر سلطنت بنی امیہ کے اس اخری دور میں اسی لیے ایک حرکت اور غیر معمولی اضطراب پایا جا رہا تھا۔ اس اضطراب سے بنی عباس نے فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے اخری دور امویت میں پوشیدہ طریقے سے ممالکِ اسلامیہ میں ایک ایسی جماعت بنائی جس نے قسم کھائی تھی کہ ہم سلطنت کو بنی امیہ سے لے کر بنی ہاشم تک پہنچائیں گے جن کا وہ واقعی حق ہے۔ حالانکہ حق تو ان میں سے مخصوص ہستیوں ہی میں منحصر تھا جو خدا کی طرف سے نوع انسانی کی رہبری اور سرداری کے حقدار دیے گئے تھے مگر یہ وہی جذبات سے بلند انسان تھے جو موقع کی سیاسی رفتار سے ہنگامی فوائد حاصل کرنا اپنا نصب العین نہ رکھتے تھے۔ سلسلہ بنی ہاشم میں سے ان حضرات کی خاموشی قائم رہنے کے ساتھ اس ہمدردی کو جو عوام میں خاندان ہاشم کے ساتھ پائی جاتی تھی، بنی عباس نے اپنے لیے حصول سلطنت کاذریعہ قرار دیا۔ حالانکہ انھوں نے سلطنت پانے کے ساتھ بنی ہاشم کے اصل حقداروں سے ویسا ہی یا اس سے زیادہ سخت سلوک کیا جو بنی امیہ ان کے ساتھ کرچکے تھے۔ یہ واقعات مختلف اماموں کے حالات میں ائیندہ آپ کے سامنے ائیں گے۔

بنی عباس میں سے سب سے پہلے محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس نے بنی امیہ کے خلاف تحریک شروع کی اور ایران میں مبلغین بھیجے جو مخفی طریقہ پر لوگوں سے بنی ہاشم کی وفاداری کاعہدوپیمان حاصل کریں۔ محمد بن علی کے بعد ان کے بیٹے ابراہیم قائم مقام ہوئے۔ جناب زیدرض اور ان کے صاحبزادے جناب یحییٰرض کے دردناک واقعات شہادت سے بنی امیہ کے خلاف غم وغصہ میں اضافہ ہو گیا۔ اس سے بھی بنی عباس نے فائدہ اٹھایا اور ابو سلمہ خلال کے ذریعہ سے عراق میں بھی اپنے تاثرات قائم کرنے کا موقع ملا۔ رفتہ رفتہ اس جماعت کے حلقئہ اثر میں اضافہ ہوتا گیا اور ابو مسلم خراسانی کی مدد سے عراق عجم کا پورا علاقہ قبضہ میں اگیا اوربنی امیہ کی طرف سے حاکم کو وہاں سے فرار اختیار کرنا پڑا۔ 129ھ سے عراق اورخراسان وغیرہ میں سلاطین بنی امیہ کے نام خطبہ سے خارج کرکے ابراہیم بن محمد کانام داخل کر دیا گیا۔

ابھی تک سلطنت بنی امیہ یہ سمجھتی تھی کہ یہ حکومت سے ایک مقامی مخالفت ہے۔ جو ایران میں محدود ہے مگر اب جاسوسوں نے اطلاع دی کہ اس کا تعلق ابراہیم ابن محمد بن عباس کے ساتھ ہے جو مقام جابلقا میں رہتے ہیں۔ اس کانتیجہ یہ تھا کہ ابراہیم کو قید کر دیا گیا اور قید خانہ ہی میں پھر ان کو قتل کرادیا گیا۔ ان کے پس ماندگان دوسرے افراد بنی عباس کے ساتھ بھاگ کر عراق میں ابو سلمہ کے پاس چلے گئے۔ ابو مسلم خراسانی کو جو ان حالات کی اطلاع ہوئی تو ایک فوج کو عراق کی طرف روانہ کیا جس نے حکومتی طاقت کو شکست دے کر عراق کو ازاد کرالیا۔

ابوسلمہ خلال جو وزیر ال محمد کے نام سے مشہور ہے بنی فاطمہ کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے، انھوں نے چند خطوط اولاد رسول میں سے چند بزرگوں کے نام لکھے اور ان کو قبول خلافت کی دعوت دی۔ ان میں سے ایک خط حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام کے نام بھی تھا۔ سیاست کی دنیا ہیں ایسے مواقع اپنے اقتدار کے قائم کرنے کے لیے غنیمت سمجھے جاتے ہیں مگر وہ انسانی خود داری واستغنا کامثالی مجمسہ تھا جس نے اپنے فرائض منصبی کے لحاظ سے اس موقع کو ٹھکرا دیا ور بجائے جواب دینے کے حقارت امیز طریقہ پرا س خط کو اگ کی نذر کر دیا۔

ادھر کوفہ میں ابو مسلم خراسانی کے تابعین اوربنی عباس کے ہوا خواہوں نے عبد اللہ سفاح کے ہاتھ پر 14ربیع الثانی 132ھ کو بیعت کرلی اور اس کو امت اسلامیہ کا خلیفہ اور فرمانروا تسلیم کر لیا۔ عراق میں اقتدار قائم کرنے کے بعد انہوں نے دمشق پر چڑھائی کردی۔ مروان حمارنے بھی بڑے لشکر کے ساتھ مقابلہ کیامگر بہت جلد اس کی فوج کو شکست ہوئی۔ مروان نے فرار کیا اور اخر میں افریقہ کی سر زمین پر پہنچ کر قتل ہوا۔ اس کے بعد سفاح نے بنی امیہ کاقتل عام کرایا۔ سلاطین بنی امیہ کی قبریں کھدوائیں اور ان لاشوں کے ساتھ عبرتناک سلوک کیے گئے۔ اس طرح قدرت کاانتقام جو ان ظالموں سے لیا جاناضروری تھا بنی عباس کے ہاتھوں دنیا کی نگاہ کے سامنے ایا۔ 136ھ میں ابو عبد اللہ سفاح بنی عباس کے پہلے خلیفہ کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعداس کا بھائی ابو جعفر منصور تخت خلافت پر بیٹھا جو منصور دوانقی کے نام سے مشہور ہے۔

سادات پر مظالم

یہ پہلے لکھا جاچکا ہے کہ بنی عباس نے ان ہمدردیوں سے جو عوام کو بنی فاطمہ کے ساتھ تھیں ناجائز فائدہ اٹھایا تھا اور انھوں نے دنیا کو یہ دھوکا دیا تھا کہ ہم اہلبیتِ رسول کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوئے ہیں چنانچہ انھوں نے رضائے الِ محمد ہی کے نام پر لوگوں کو اپنی نصرت وحمایت پر امادہ کیاتھا اور اسی کو اپنانعرئہ جنگ قرار دیا تھا۔ اس لیے انھیں بر سر اقتدار انے کے بعد اور بنی امیہ کو تباہ کرنے کے بعد سب سے بڑا اندیشہ یہ تھا کہ کہیں ہمارایہ فریب دنیا پر کھل نہ جائے اور تحریک پیدا نہ ہو جائے کہ خلافت بنی عباس کی بجائے بنی فاطمہ کے سپرد ہونا چاہیے، جو حقیقت میں الِ رسول ہیں۔ ابو سلمہ خلال بنی فاطمہ کے ہمدردوں میں سے تھے اس لیے یہ خطرہ تھا کہ وہ اس تحریک کی حمایت نہ کرے، لہذا سب سے پہلے ابو سلمہ کو راستے سے ہٹا یا گیا وہ باوجود ان احسانات کے جو بنی عباس سے کرچکا تھا سفاح ہی کے زمانے میں تشدد بنا اور تلوار کے گھاٹ اتارا گیا۔ ایران میں ابو مسلم خراسانی کااثر تھا، منصور نے انتہائی مکاری اور غداری کے ساتھ اس کی زندگی کا بھی خاتمہ کر دیا۔

اب اسے اپنی من مانی کاروائیوں میں کسی بااثر اور صاحبِ اقتدار شخصیت کی مزاحمت کا اندیشہ نہ تھالٰہذا اس کا ظلم وستم کا رخ سادات بنی فاطمہ کی طرف مڑ گیا۔ مولانا شبلی سیر ت نعمان میں لکھتے ہیں۔»صرف بد گمانی پر منصور نے سادات علویئین کی بیخ کنی شروع کردی۔ جو لوگ ان میں ممتاز تھے ان کے ساتھ بے رحمیاں کی گئیں۔ محمد ابن ابراہیم کہ حسن وجمال میں یگانہ روز گار تھے اور اسی وجہ سے دیبا#ج کہلاتے تھے زندہ دیواروں میں چنوادیئے گئے۔ ان بے رحمیوں کی ایک داستان ہے جس کے بیان کرنے کو بڑا سخت دل چاہیے۔,, حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام کے دل پر ان حالات کابہت اثر ہوتا تھا۔ چنانچہ جب سادات بنی حسین طوق وزنجیر میں قید کرکے مدینہ سے لے جائے جا رہے تھے تو حضرت ایک مکان کی اڑ میں کھڑے ہوئے ان کی حالت کو دیکھ دیکھ کر رو رہے تھے او رفرما رہے تھے کہ افسوس مکہ ومدینہ بھی دار الامن نہ رہا۔ پھر آپ نے اولادِ انصار کی حالت پر افسوس کیا کہ انصار نے رسالت مابکی اس عہدوپیمان پر مدینہ تشریف لانے کی دعوت دی تھی کہ ہم آپ کی اوراپ کی اولاد کی اس طرح حفاظت کریں کے جس طرح اپنے اہل و عیال اور جان ومال کی حفاظت کرتے ہیں مگر اج انصار کی اولاد باقی ہے اورکوئی ان سادات کی امداد نہیں کرتا، یہ فرما کر آپ بیت الشرف کی طرف واپس ہوئے اوربیس دن تک شدت سے بیمار رہے۔

ان قیدیوں میں امام حسین علیہ السّلام کے صاحبزادے عبد اللہمحض بھی تھے۔ جنھوں نے کبرسنی کے عالم میں عرصہ تک قید کی مصیبتیں اٹھائیں۔ ان کے بیٹے محمد نفسِ زکیہ نے حکومت کامقابلہ کیاا ور 145ھ میں دشمن کے ہاتھ سے مدینہ منورہ کے قریب شہید ہوئے۔ جوان بیٹے کاسر بوڑھے باپ کے پاس قید خانہ میں بھیجا گیا اور یہ صدمہ ایساتھا کہ جس سے عبد اللہ محض پھر زندہ نہ رہ سکے اور ان کی روح نے جسم سے مفارقت کی۔ اس کے بعد عبد اللہ کے دوسرے صاحبزادے ابراہیم بھی منصور کی فوج کے مقابلہ میں جنگ کرکے کوفہ میں شہید ہوئے۔ اسی طرح عباس ابن حسن، عمر ابنِ حسن مثنیٰ، علی وعبداللہ فرزندانِ نفسِ زکیہ، موسیٰ اور یحییٰ برادران نفس زکیہ وغیرہ بھی بے دردی اور بے رحمی سے قتل کیے گئے۔ بہت سے سادات عمارتوں میں زندہ چنوادیئے گئے۔

امام کے ساتھ بدسلوکیاں

ان تمام ناگوار حالات کے باوجود جن کاتذکرہ انتہائی اختصار کے ساتھ اوپر لکھا گیا ہے امام جعفر صادق علیہ السّلام خاموشی کے ساتھ علوم اہلبیت علیہ السّلام کی اشاعت میں مصروف رہے اور اس کانتیجہ یہ تھا کہ وہ لوگ بھی بحیثیت امامت حقہ آپ کی معرفت نہ رکھتے تھے یا اسے تسلیم کرنا نہیں چاہتے تھے وہ بھی آپ کی علمی عظمت کو مانتے ہوئے آپ کے حلقئہ درس میں داخل ہونے کو فخر سمجھتے تھے۔

منصور نے پہلے حضرت کی علمی عظمت کااثر عوام کے دل سے کم کرنے کے لیے ایک تدبیر یہ کی کہ آپ کے مقابلے میں ایسے اشخاص کو بحیثیت فقیہہ اور عالم کے کھڑا کر دیا جو آپ کے شاگردوں کے سامنے بھی زبان کھولنے کی قدرت نہ رکھتے تھے اور پھر وہ خود اس کا اقرار رکھتے تھے کہ ہمیں جو کچھ ملا وہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام کی محبت کا دم بھرتا ہے اسے گرفتار کیا جائے۔

چنانچہ معلیٰ ابن خنیس ان ہی شیعوں میں سے تھے جو گرفتار کیے گئے اور ظلم وستم کے ساتھ شہید کیے گئے۔ خود حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلامکو تقریباً پانچ مرتبہ مدینہ سے دربار شاہی میں طلب کیا گیا جو آپ کے لیے سخت روحانی تکلیف کاباعث تھا۔ یہ او ربات ہے کہ کسی مرتبہ آپ کے خلاف کوئی بہانہ اسے ایسا نہ مل سکا کہ آپ کے قید یاقتل کیے جانے کا حکم دیتا۔ بلکہ اس سلسلہ میں عراق کے اندر ایک مدت کے قیام سے علوم اہلبیت علیہ السّلام کی اشاعت کاحلقہ وسیع ہوا اور اس کو محسوس کرکے منصور نے پھر آپ کو مدینہ بھجوادیا۔ اس کے بعد بھی آپ ایذارسانی سے محفوظ نہیں رہے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ آپ کے گھر میں اگ لگادی گئی۔ قدرت خدا تھی کہ وہ اگ جلد فرد ہو گئی اور آپ کے متعلقین اور اصحاب کوکوئی صدمہ نہیں پہنچا۔

اخلاق واوصاف

آپ اسی عصمت کی ایک کڑی تھے جسے خداوندِ عالم نے نوعِ انسانی کے لیے نمونہ کامل بناکر ہی پیدا کیا تھا۔ ان کے اخلاق واوصاف زندگی کے ہر شعبہ میں معیاری حیثیت رکھتے تھے۔ خاص خاص جن کے متعلق مورخین نے مخصوص طور پر واقعات نقل کیے ہیں مہمان نوازی، خیروخیرات، مخفی طریقہ یاغربا کی خبر گیری، عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک۔ عفو جرائم، صبر وتحمل وغیرہ ہیں۔

ایک مرتبہ ایک حاجی مدینہ میں وارد ہوا اور مسجد رسول میں سو گیا۔ انکھ کھلی تو اسے شبہ ہوا کہ اس کی ایک ہزار کی تھیلی موجود نہیں۔ اس نے اَدھر ادھر دیکھا، کسی کو نہ پایا۔ ایک گوشئہ مسجد میں امام جعفر صادق علیہ السّلام نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ آپ کوبالکل نہ پہچانتا تھا۔ آپ کے پاس اکر کہنے لگا کہ میری تھیلی تم نے لی ہے۔ حضرت علیہ السّلام نے فرمایا، »اس میں کیا تھا ?«اس نے کہا»ایک ہزار دینار «۔ حضرت نے فرمایا۔,, میرے ساتھ میرے مکان تک اؤ وہ آپ کے ساتھ ہو گیا۔ بیت الشرف پر تشریف لاکر ایک ہزار دینار اس کے حوالے کر دیے۔ وہ مسجد میں واپس اگیا اور اپنا اسباب اٹھانے لگا تو خود اس کے دیناروں کی تھیلی اسباب میں نظر ائی۔ یہ دیکھ کر وہ بہت شرمندہ ہوا اور دوڑتا ہوا پھر امام علیہ السّلام کی خدمت میں ایا اور غلط خواہی کرتے ہوئے وہ ہزار دینار واپس کرنا چاہے »ہم جو کچھ دے دیتے ہیں وہ پھرواپس نہیں لیتے۔

موجودہ زمانے میں یہ حالات سب ہی کی انکھوں کے دیکھے ہوئے ہیں کہ جب یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ اناج مشکل سے ملے گا تو جس کو جتنا ممکن ہو وہ اناج خرید کر رکھ لیتا ہے مگر امام جعفرصادق علیہ السّلام کے کردار کاایک واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے اپنے وکیل معتب# سے ارشادفرمایا کہ غلہ روز بروز مدینہ میں گراں ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں کس قدر غلہ ہوگا ? معتب# نے کہا کہ »ہمیں ا س گرانی اور قحط کی تکلیف کا کوئی اندیشہ نہیں ہے، ہمارے پاس غلہ کا اتنا ذخیرہ ہے کہ جو بہت عرصہ تک کافی ہوگا۔,, حضرت علیہ السّلام نے فرمایا۔» تمام غلہ فروخت کر ڈالو۔ اس کے بعد جو حال سب کا ہو وہ ہمارا بھی ہو۔,, جب غلہ فروخت کر دیا گیا تو فرمایا۔»اب خالص گیہوں کی روٹی نہ پکا کرے بلکہ ادھے گیہوں اور آدھے جو، جہاں تک ممکن ہو ہمیں غریبوں کاساتھ دینا چاہیے۔

آپ کا قاعدہ تھا کہ آپ مالداروں سے زیادہ غریبوں کی عزت کرے تھے۔ مزدوروں کی بڑی قدر فرماتے تھے۔ خود بھی تجارت فرماتے تھے اور اکثر اپنے باغوں میں بہ نفس نفیس محنت بھی کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ بیلچہ ہاتھ میں لیے باغ میں کام کر رہے تھے اور پسینہ سے تمام جسم تر ہو گیا۔ کسی نے کہا »یہ بیلچہ مجھے عنایت فرمائیے کہ میں یہ خدمت انجام دوں۔,, حضرت علیہ السّلام نے فرمایا طلبِ معاش میں دھوپ اور گرمی کی تکلیف سہنا عیب کی بات نہیں۔,, غلاموں او رکنیزوں پر وہی مہربانی رہتے تھے جو ا س گھرانے کی امتیازی صفت تھی۔ ا س کاا یک حیرت انگیز نمونہ یہ ہے جسے سفیان# ثوری نے بیان کیا ہے کہ میں ایک مرتبہ امام جعفرصادق علیہ السّلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دیکھا کہ چہرہ مبارک کارنگ متغیر ہے۔ میں نے سبب دریافت کی۔ فرمایا میں نے منع کیا تھا کہ کوئی مکان کے کوٹھے پر نہ چڑھے۔ اس وقت جو گھر میںگیا تو دیکھا کہ ایک کنیز جو ایک بچہ کی پرورش پر معیّن تھی اسے گود میں لیے زینہ سے اوپر جا رہی تھی۔ مجھے دیکھا تو ایساخوف طاری ہوا کہ بد حواسی میں بچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور صدمے سے جان بحق ہوا۔ مجھے بچے کے مرنے کااتنا صدمہ نہیں ہوا جتنا اس کا رنج ہے کہ اس کنیز پر اتنا رعب وہراس کیوں طاری ہوا۔ پھر حضرت علیہ السّلام نے اس کنیز کو پکا رکر فرمایا۔»ڈرو نہیں، میں نے تمھیں راہ خدا میں ازاد کر دیا۔,, اس کے بعد حضرت علیہ السّلام بچے کی تجہیز وتکفین کی طرف متوجہ ہوئے۔

اشاعت علوم

تمام عالم اسلامی میں آپ کی علمی جلالت کا شہرہ تھا۔ دور دور سے لوگ تحصیل علم کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے شاگردوں کی تعداد چار ہزار تک پہنچ گئی ان میں فقہ کے علمائ بھی تھے، تفیسر کے متکلمین بھی تھے اور مناظرین بھی، آپ کے دربار میں مخالفین مذہب ااکر سوالات پیش کرتے تھے اور آپ کے اصحاب سے اور ان سے مناظرے ہوتے رہتے تھے جن پر کبھی کبھی نقد وتبصرہ بھی فرماتے تھے اورا صحاب کو ان کی بحث کے کمزور پہلو بتلا بھی دیتے تھے تاکہ ائندہ وہ ان باتوں کا خیال رکھیں۔ کبھی آپ خود بھی مخالفین مذہب اور بالخصوص دہریوں سے مناظرہ فرماتے تھے۔ علاوہ علوم و فقہ و کلام وغیرہ کے علوم عربیہ جیسے ریاضی اور کیمیا وغیرہ کی بھی بعض شاگردوں کوتعلیم دی تھی۔ چنانچہ آپ کے اصحاب میں سے جابر بن حیان طرسوسی سائنس اور ریاضی کے مشہور امام فن ہیں جنھوں نے چار سو رسالے امام جعفرصادق علیہ السّلام کے افادات کو حاصل کرکے تصنیف کیے۔ آپ کے اصحاب میں سے بہت سے بڑے فقہا تھے جنہوں نے کتابیں تصنیف کیں جن کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے۔

شہادت

ایسی مصروف زندگی رکھنے والے انسان کو جاہ سلطنت حاصل کرنے کی فکروں سے کیا مطلب؟ مگر آپ علمی مرجعیّت اور کمالات کی شہرت سلطنت وقت کے لیے ایک مستقل خطرہ محسوس ہوتی تھی۔ جب کہ یہ معلوم تھا کہ اصلی خلافت کے حقدار یہی ہیں جب حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود کوئی بہانہ اسے آپ کے خلاف کسی کھلے ہوئے اقدام اور خونریزی کا نہ مل سکا تو اخر خاموش حربہ زہر کا اختیار کیا گیا اور زہر الود انگور حاکم مدینہ کے ذریعہ سے آپ کی خدمت میں پیش کیے گئے، جن کے کھاتے ہی زہر کااثر جسم میں سرایت کر گیا اور 15شوال148ھ میں 56سال کی عمر میں شہادت پائی۔ آپ کے فرزند اکبر اور جانشین حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام نے تجہیز وتکفین کی اور نماز جنازہ پڑھائی او جنت البقیع کے اس احاطہ میں جہاں اس کے پہلے امام حسن علیہ السّلام، امام زین العابدین علیہ السّلام اور امام محمد باقر علیہ السّلام دفن ہوچکے تھے آپ کو بھی دفن کیا گیا۔

7) حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام

حضرت موسیٰ کاظم، حضرت جعفر صادق کے فرزند اور اہل تشیع کے ساتویں امام تھے۔

اسم مبارک موسیٰ , کنیت ابو الحسن علیہ السّلام اور لقب کاظم علیہ السّلام تھا اور اسی لیے امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں . آپ کے والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام تھے جن کاخاندانی سلسلہ حضرت امام حسین علیہ السّلام شہید کربلا کے واسطہ سے پیغمبر ُ اسلام حضرت محمد مصطفے ٰ تک پہنچتا ہے۔ آپ کی مالدہ ماجدہ حمیدہ علیہ السّلام خاتون ملک ُ بر بر کی باشندہ تھیں۔

1 ولادت
2 نشو ونما اور تربیت
3 امامت
4 دور ابتلا

ولادت

سات صفر 128ھئ میں آپ کی ولادت ہوئی . اس وقت آپ والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام مسند ُ امامت پرمتمکن تھے اور آپ کے فیوض علمی کادھارا پوری طاقت کے ساتھ بہہ رہا تھا .اگرچہ امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام سے پہلے آپ کے دو بڑے بھائی اسماعیل اور عبد الله پید اہوچکے تھے مگر اس صاحبزادے کی ولادت روحانی امانت کاحامل جو رسول کے بعد اس سلسلہ کے افراد میں ا یک دوسرے کے بعد چلی ا رہی تھی , یہی پیدا ہونے والا مبارک بچہ تھا۔

نشو ونما اور تربیت

آپ کی عمرکے بیس برس اپنے والد بزرگوار امام جعفر صادق علیہ السّلام کے سایہ تربیت میںگزرے۔ ایک طرف خدا کے دیے ہوئے فطری کمال کے جوہر اور دوسری طرف اس باپ کی تربیت جس نے پیغمبر کے بتائے ہوئے مکارم ُاخلاق کی بھولی ہوئی یاد کو ایساتازہ کر دیا کہ انھیں ایک طرح سے اپنا بنا لیا اور جس کی بنا ئ پر »ملت جعفری « نام ہو گیا . امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام نے بچپنہ او رجوانی کاکافی حصہ اسی مقدس اغوش تعلیم میں گزارا۔ یہاں تک کہ تمام دُنیا کے سامنے آپ کے کمالات وفضائل روشن ہو گئے اور امام جعفر صادق علیہ السّلام نے اپنا جانشین مقرر فرمادیا . باوجود کہ آپ کے بڑے بھائی بھی موجود تھے مگر خدا کی طرف کامنصب میراث کا ترکہ نہیں ہے بلکہ ذاتی کمال کو ڈھونڈھتا ہے . سلسلہ معصومین علیہ السّلام میں امام حسن علیہ السّلام کے بعد بجائے ان کی اولاد کے امام حسین علیہ السّلام کاامام ہونا اور اولاد امام جعفر صادق علیہ السّلام میں بجائے فرزند اکبر کے امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی طرف امامت کامنتقل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ معیار امامت میں نسبتی وراثت کو مدِنظر نہیں رکھا گیا ہے۔

امامت

841ھئ امام جعفر صادق علیہ السّلام کی شہادت ہوئی , اس وقت سے حضرت امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام بذاتِ خود فرائض امامت کے ذمہ دار ہوئے . اس وقت سلطنت عباسیہ کے تخت پر منصور دوانقی بادشاہ تھا . یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں لاتعداد سادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے تلوار کے گھاٹ اتار دیے گئے . دیواروں میں چنوا دیے گئے یاقید رکھے گئے تھے . خود امام جعفر صادق علیہ السّلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جاچکی تھیں اور مختلف صورت سے تکلیفیں پہنچائی گئی تھیں یہاں تک کہ منصور ہی کا بھیجا ہوا زہر تھا جس سے اب آپ دنیا سے رخصت ہو رہے تھے .ان حالات میں آپ کو اپنے جانشین کے متعلق یہ قطعی اندیشہ تھاکہ حکومتِ وقت اسے زندہ نہ رہنے دے گی اس لیے آپ نے ایک اخلاقی بوجھ حکومت کے کاندھوں پر رکھ دینے کے لیے یہ صورت اختیار فرمائی کہ اپنی جائداد اور گھر بار کے انتظام کے لیے پانچ شخصوں کی ایک جماعت مقرر فرمائی . جن میں پہلا شخص خود خلیفہ وقت منصور عباسی تھا . اس کے علاوہ محمد بن سلیمان حاکم مدینہ اور عبد الله فطح جو امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام کے سن میں بڑے بھائی تھے اور حضرت امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلاماور ان کی والدہ حمیدہ خاتون۔ امام کا اندیشہ بالکل صحیح تھا اور آپ کاتحفظ بھی کامیاب ثابت ہوا۔ چنانچہ جب حضرت کی وفات کی اطلاع منصور کو پہنچی تو اس نے پہلے تو سیاسی مصلحت کے طور پر اظہار رنج کیا۔ تین مرتبہ انااللهِ واناالیہ راجعون کہ اور کہا کہ اب بھلاجعفر علیہ السّلام کا مثل کون ہے ? ا س کے بعد حاکم مدینہ کو لکھا کہ اگر جعفر صادق علیہ السّلام نے کسی شخص کو اپنا وصی مقرر کیا ہوتو اس کا سر فوراً قلم کردو . حاکم مدینہ نے جواب لکھا کہ انہوں نے تو پانچ وصی مقرر کیے ہیں جن سے پہلے آپ خود ہیں . یہ جواب پڑھ کر منصور دیر تک خاموش رہا اور سوچنے کے بعد کہنے لگا تو اس صورت میں تو یہ لوگ قتل نہیں کیے جاسکتے . اس کے بعد دس برس تک منصور زندہ رہا لیکن امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام سے کوئی تعرض نہیں کیا اور آپ مذہبی فرائض امامت کی انجام دی میں امن وسکون کے ساتھ مصروف رہے . یہ بھی تھا کہ اس زمانے میں منصور شہر بغداد کی تعمیر میں مصروف تھا جس سے 751ھئ میں یعنی اپنی موت سے صرف ایک سال پہلے اسے فراغت ہوئی . اس لیے وہ امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلامکے متعلق کسی ایذا رسانی کی طرف متوجہ نہیں ہوا .

دور ابتلا

851ھ کے اخر میں منصور دوانقی دنیا سے رخصت ہوا تو اس کا بیٹا مہدی تحت سلطنت پر بیٹھا . شروع میں تو اس نے بھی امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام کے عزت واحترام کے خلاف کوئی برتاؤ نہیں گیا مگر چند سال کے بعد پھر وہی بنی فاطمہ کی مخالفت کاجذبہ ابھرا اور 461ھئ میں جب وہ حج کے نام سے حجاز کی طرف ایاتو امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغدادلے گیا اور قید کر دیا . ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رہے . پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور حضرت علیہ السّلام کو مدینہ کی طرف واپسی کاموقع دیا گیا , مہدی کے بعد اس کابھائی ہادی 921ھئ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال ایک مہینے تک اُس نے سلطنت کی . اس کے بعد ہارون رشید کازمانہ ایا جس میں پھر امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام کو آزادی کے ساتھ سانس لینا نصیب نہیں ہوا

اخلاق واوصاف

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام اسی مقدس سلسلہ کے ایک فرد تھے جس کو خالق نے نوع انسان کے لیے معیار کمال قرار دیا تھا .ا س لیے ان میں سے ہر ایک اپنے وقت میں بہترین اخلاق واوصاف کا مرقع تھا .بے شک یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض افراد میں بعض صفات اتنے ممتاز نظر اتے ہیں کہ سب سے پہلے ان پر نظر پڑتی ہے , چنانچہ ساتویں امام علیہ السّلام میں تحمل وبرداشت اورغصہ کوضبط کرنے کی صفت اتنی نمایاں تھی کہ آپ کالقب »کاظم علیہ السّلام « قرار پایا گیا جس کے معنی ہیں غصے کو پینے والا . آپ کو کبھی کسی نے تر شروئی اور سختی کے ساتھ بات کرتے نہیں دیکھا اور انتہائی ناگوار حالات میں بھی مسکراتے ہوئے نظر ائے . مدینے کے ایک حاکم سے آپ کو سخت تکلیفیں پہنچیں . یہاں تک کہ وہ جناب امیر علیہ السّلام کی شان میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کیا کرتا تھا مگر حضرت علیہ السّلام نے اپنے اصحاب کو ہمیشہ اس کے جواب دینے سے روکا . جب اصحاب نے اس کی گستاخیوں کی بہت شکایات کیں اور یہ کہا کہ ہمیں ضبط کی تاب نہیں . ہمیں اس سے انتقام لینے کی اجازت دی جائے تو حضرت علیہ السّلام نے فرمایا کہ » میں خود اس کاتدارک کروں گا .« اس طرح ان کے جذبات میں سکون پیدا کرنے کے بعد حضرت علیہ السّلام خود اس شخص کے پاس ا سکی زراعت پر تشریف لے گئے اور کچھ ایسا احسان اور سلوک فرما یا کہ وہ اپنی گستاخیوں پر نادم ہوا ا ور اپنے طرزِ عمل کو بدل دیا . حضرت علیہ السّلام نے اپنے اصحاب سے صورت حال بیان فرماکر پوچھا کہ جو میں نے اس کے ساتھ کیا وہ اچھا تھا یا جس طرح تم لوگ اس کے ساتھ کرنا چاہتے تھے . سب نے کہا , یقیناً حضور علیہ السّلام نے جو طریقہ استعمال فرمایا وہی بہتر تھا . اس طرح آپ نے اپنے جدِ بزرگوار حضرت امیر علیہ السّلام کے اس ارشاد کو عمل میں لا کر دکھلایا جو اج تک نہج البلاغہ میں موجود ہے کہ اپنے دشمن پہ احسان کے ساتھ فتح حاصل کرو کیونکہ یہ دو قسم کی فتح میں زیادہ صر لطف کامیابی ہے۔ بیشک اس کے لیے فریق ُ مخالف کے ظرف کاصحیح اندازہ ضروری ہے اور اسی لیے حضرت علی علیہ السّلام نے ان الفاظ کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ »خبردار یہ عدم تشدد کاطریقہ نااہل کے ساتھ اختیار نہ کرنا ورنہ اس کے تشدد میں اضافہ ہو جائے گا .,, یقیناً ایسے عدم تشدد کے موقع کو پہچاننے کے لیے ایسی ہی بالغ نگاہ کی ضرورت ہے جیسی امام علیہ السّلام کو حاصل تھی مگر یہ اس وقت میں ہے جب مخالف کی طرف سے کوئی ایسا عمل ہوچکا ہو جو اس کے ساتھ انتقامی جواز پیدا کرسکے لیکن اس کی طرف سے اگو کوئی ایسا اقدام ابھی ایسا نہ ہوا تو یہ حضرات بہر حال ا س کے ساتھ احسان کرنا پسند کرتے تھے تاکہ اس کے خلاف حجتقائم ہو اور اسے اپنے جارحانہ اقدام کے لیے تلاش سے بھی کوئی عذر نہ مل سکے .بالکل اسی طرح جیسے ابن ملجم کے ساتھ جو جناب امیر علیہ السّلام کو شہید کرنے والا تھا . اخری وقت تک جناب امیر علیہ السّلاماحسان فرماتے رہے . اسی طرح محمد ابنِ اسمٰعیل کے ساتھ جو امام موسیٰ کاظم علیہ السّلامکی جان لینے کاباعث ہوا , آپ برابر احسان فرماتے رہے , یہاں تک کہ اس سفر کے لیے جو اس نے مدینے سے بغداد کی جانب خلیفہ عباسی کے پاس امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی شکائتیں کرنے کے لیے کیا تھا . ساڑھے چار سو دینار اور پندرہ سو درہم کی رقم خود حضرت ہی نے عطا فرمائی تھی جس کو لے کر وہ روانہ ہوا تھا . آپ کو زمانہ بہت ناساز گار ملا تھا . نہ اس وقت وہ علمی دربار قائم رہ سکتا تھا جوامام جعفر صادق علیہ السّلام کے زمانہ میں قائم رہ چکا تھا نہ دوسرے ذرائع سے تبلیغ واشاعت ممکن تھی . بس آپ کی خاموش سیرت ہی تھی جو دنیا کو الِ محمد کی تعلیمات سے روشناس کراسکتی تھی . آپ اپنے مجمعوں میں بھی اکثر بالکل خاموش رہتے تھے یہاں تک کہ جب تک آپ سے کسی امر کے متعلق کوئی سوال نہ کیا جائے آپ گفتگو میں ابتدا بھی نہ فرماتے تھے . اس کے باوجود آپ کی علمی جلالت کا سکہ دوست اور دشمن سب کے دل پر قائم تھا اور آپ کی سیرت کی بلندی کو بھی سب مانتے تھے , اسی لیے عام طور پر آپ کو کثرت عبادت اور شب زندہ داری کی وجہ سے »عبد صالح « کے لقب سے یاد جاتا تھا . آپ کی سخاوت اور فیاضی کابھی خاص شہرہ تھااور فقرائ مدینہ کی اکثر پوشیدہ طور پر خبر گیری فرماتے تھے ہر نماز کے صبح کے تعقیبات کے بعد افتاب کے بلند ہونے کے بعد سے پیشانی سجدے میں رکھ دیتے تھے اور زوال کے وقت سراٹھاتے تھے . قران مجید اور پاس بیٹھنے والے بھی آپ کی اواز سے متاثر ہو کر روتے تھے . ہارون رشید کی خلافت اور امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام سے مخالفت 071ھئ میں ہادی کے بعد ہارون تخت ُ خلافت پر بیٹھا . سلطنت عباسیہ کے قدیم روایات جو سادات بنی فاطمہ کی مخالفت میں تھے اس کے سامنے تھے خود اس کے باپ منصور کارویہ جو امام جعفر صادق علیہ السّلام کے خلاف تھا اسے معلوم تھا اس کا یہ ارادہ کہ جعفر صادق علیہ السّلام کے جانشین کو قتل کر ڈالاجائے یقیناً اس کے بیٹے ہارون #کو معلوم ہوچکا ہوگا . وہ تو امام جعفر صادق علیہ السّلام کی حکیمانہ وصیت کا اخلاقی دباؤ تھا جس نے منصور کے ہاتھ باندھ دیے تھے اور شہر بغداد کی تعمیر کی مصروفیت تھی جس نے اسے اس جانب متوجہ نہ ہونے دیا تھا اب ہارون کے لیے ان میں سے کوئی بات مانع نہ تھی . تخت ُ سلطنت پر بیٹھ کر اپنے اقتدار کو مضبوط رکھنے کے لیے سب سے پہلے تصور پیدا ہو سکتا تھا کہ اس روحانیت کے مرکز کو جو مدینہ کے محلہ بنی ہاشم میں قائم ہے توڑنے کی کوشش کی جائے مگر ایک طرف امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کامحتاط اور خاموش طرزِ عمل اور دوسری طرف سلطنت کے اندرونی مشکلا ت ان کی وجہ سے نوبرس تک ہارون کو بھی کسی کھلے ہوئے تشدد کا امام علیہ السّلام کے خلاف موقع نہیں ملا . اس دوران میں عبد الله ابن حسن علیہ السّلام کے فرزند یحییٰ کاواقعہ درپیش ہوا ور وہ امان دیے جانے کے بعد تمام عہدو پیمان کوتوڑ کردردناک طریقے پر پہلے قید رکھے گئے او رپھر قتل کیے گئے . باوجودیکہ یحییٰ کے معاملات سے امام موسیٰ کاظم علیہ السّلامکو کسی طرح کا سروکار نہ تھا بلکہ واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علیہ السّلام ان کو حکومت ُ وقت کی مخالفت سے منع فرماتے تھے مگر عداوت ُ بنی فاطمہ کاجذبہ جو یحییٰ ابن عبد اللهکی مخالفت کے بہانے سے ابھر گیا تھا اس کی زد سے امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام بھی محفوظ نہ رہ سکے . ادھر یحییٰ ابن خالد بر مکی نے جو وزیر اعظام تھا امین (فرزند ہارون رشید) کے اتالیق جعفر ابن محمد اشعث کی رقابت میں اس کے خلاف یہ الزام قائم کیا کہ یہ امام موسی علیہ السّلام کاظم کے شیعوں میں سے ہے اور ان کے اقتدار کاخواہاں ہے . براہ راست اس کا مقصد ہارون کو جعفر سے برگزشتہ کرنا تھالیکن بالواستہ ا س کا تعلق حضرت امام موسی علیہ السّلام کاظم کے ساتھ بھی . اس لیے ہارون کو حضرت علیہ السّلام کی ضرر رسانی کی فکر پیدا ہو گئی۔ اسی دوران میں یہ واقعہ ہو اکہ ہارون رشید حج کے ارادہ سے مکہ معظمہ میں ایا .اتفاق سے اسی سال امام موسی کاظم علیہ السّلام بھی حج کو تشریف لائے ہوئے تھے . ہارون نے اپنی انکھ سے اس عظمت اور مرجعیت کا مشاہدہ کی جو مسلمانوں میں امام موسی کاظم علیہ السّلام کے متعلق پائی جاتی تھی . اس سے بھی اس کے حسد کی اگ بھڑک اٹھی اس کے بعد اس میں محمد بن اسمٰعیل کی مخالفت نے اورا ضافہ کر دیا . واقعہ یہ ہے کہ اسمٰعیل امام جعفر صادق علیہ السّلام کے بڑے فرزند تھے اور اس لیے ان کی زندگی میں عام طور پر لوگوں کا خیال یہ تھا کہ وہ امام جعفر صادق علیہ السّلام کے قائم مقام ہوں گے . مگر ان کا انتقال امام جعفر صادق علیہ السّلام کے زمانے میں ہو گیا اور الوگوں کا یہ خیال غلط ثابت ہوا . پھر بھی بعض سادہ لوح اصحاب اس خیال پر قائم رہے کہ جانشینی کاحق اسمٰعیل میں منحصر ہے . انھوں نے امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی امامت کو تسلیم نہیں کیا چنانچہ اسماعیلیہ فرقہ مختصر تعداد میں سہی اب بھی دنیا میں موجود ہے- محمد، ان ہی اسمٰعیل کے فرزند تھے اور اس لیے امام موسٰی کاظم علیہ السلام سے ایک طرح کی مخالفت پہلے سے رکھتے تھے مگر چونکہ ان کے ماننے والوں کی تعداد بہت کم تھی اور وہ افراد کوئی نمایاں حیثیت نہ رکھتے تھے اسی لیے ظاہری طور پر امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے یہاں آمدورفت رکھتے تھے اور ظاہر داری کے طور پر قرابت داری کے تعلقات قائم کیے ہوئے تھے- ہارون رشید نے امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی مخالفت کی صورتوں پر غور کرتے ہوئے یحییٰبرمکی سے مشورہ لیا کہ میں چاہتا ہوں کہ اولاد ابوطالب علیہ السّلام میں سے کسی کو بلا کر اس سے موسٰی بن جعفر علیہ السّلام کے پورے پورے حالات دریافت کروں- یحییٰجو خود عداوتِ بنی فاطمہ میں ہارون سے کم نہ تھا اس نے محمد بن اسمٰعیل کا پتہ دیا کہ آپ ان کو بلا کر دریافت کریں تو صحیح حالات معلوم ہو سکیں گے چنانچہ اسی وقت محمد بن اسمٰعیل کے نام خط لکھا گیا- شہنشاهِ وقت کا خط محمد ابن اسمٰعیل کو پہنچا تو انہوں نے اپنی دنیوی کامیابی کا بہترین ذریعہ سمجھ کر فوراً بغداد جانے کا ارادہ کر لیا- مگر ان دنوں ہاتھ بالکل خالی تھا- اتنا روپیہ پاس موجود نہ تھا کہ سامان سفر کرتے- مجبوراً اسی ڈیوڑھی پر آنا پڑا جہاں کرم و عطا میں دوست اور دشمن کی تمیز نہ تھی- امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے پاس آ کر بغداد جانے کا ارادہ ظاہر کیا- حضرت علیہ السّلام خوب سمجھتے تھے کہ اس بغداد کے سفر کی بنیاد کیا ہے- حجت تمام کرنے کی غرض سے آپ نے سفر کا سبب دریافت کیا- انہوں نے اپنی پریشان حالی بیان کرتے ہوئے کہا کر قرضدار بہت ہو گیا ہوں- خیال کرتا ہوں کہ شاید وہاں جا کر کوئی صورت بسر اوقات کی نکلے اور میرا قرضہ ادا ہو جائے- حضرت علیہ السّلام نے فرمایا- وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے- میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارا تمام قرضہ ادا کر دوں گا- افسوس ہے کہ محمد نے اس کے بعد بھی بغداد جانے کا ارادہ نہیں بدلا-چلتے وقت حضرت علیہ السّلام سے رخصت ہونے لگے- عرض کیا کہ مجھے وہاں کے متعلق کچھ ہدایت فرمائی جائے- حضرت علیہ السّلام نے اس کا کچھ جواب نہ دیا- جب انہوں نے کئی مرتبہ اصرار کیا تو حضرت علیہ السّلام نے فرمایا کہ» بس اتنا خیال رکھنا کہ میرے خون میں شریک نہ ہونا اور میرے بچوں کی یتیمی کے باعث نہ ہونا« محمد نے اس کے بعد بہت کہا کہ یہ بھلا کون سی بات ہے جو مجھ سے کہی جاتی ہے، کچھ اور ہدایت فرمایئے- حضرت علیہ السّلام نے اس کے علاوہ کچھ کہنے سے انکار کیا- جب وہ چلنے لگے تو حضرت علیہ السّلام نے ساڑھے چار سو دینار اور پندرہ سو درہم انہیں مصارف کے لیے عطا فرمائے- نتیجہ وہی ہوا جو حضرت علیہ السّلام کے پیش نظر تھا- محمد ابن اسمٰعیل بغداد پہنچے اور وزیر اعظم یحییٰ برمکی کے مہمان ہوئے اس کے بعد یحییٰکے ساتھ ہارون کے دربار میں پہنچے مصلحت وقت کی بنا پر بہت تعظیم و تکریم کی گئی- اثنائ گفتگو میں ہارون نے مدینہ کے حالات دریافت کیے- محمد نے انتہائی غلط بیانیوں کے ساتھ وہاں کے حالات کا تذکرہ کیا اور یہ بھی کہا کہ میں نے آج تک نہیں دیکھا اور نہ سنا کہ ایک ملک میں دو بادشاہ ہوں- اس نے کہا کہ اس کا کیا مطلب? محمد نے کہا کہ بالکل اسی طرح جس طرح آپ بغداد میں سلطنت قائم کیے ہوئے ہیں- اطراف ملک سے ان کے پاس خراج پہنچتا ہے اور وہ آپ کے مقابلے کے دعوے دار ہیں- یہی وہ باتیں تھیں جن کے کہنے کے لیے یحییٰ برمکی نے محمد کو منتخب کیا تھا ہارون کا غیظ و غضب انتہائی اشتعال کے درجے تک پہنچ گیا- اس نے محمد کو دس ہزار دینار عطا کر کے رخصت کیا- خدا کا کرنا یہ کہ محمد کو اس رقم سے فائدہ اٹھانے کا ایک دن بھی موقع نہ ملا- اسی شب کو ان کے حلق میں درد پیدا ہوا- صبح ہوتے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہو گئے- ہارون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے اشرفیوں کے توڑے واپس منگوا لیے مگر محمد کی باتوں کا اثر اس کے دل میں ایسا جم گیا تھا کہ اس نے یہ طے کر لیا کہ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کا نام صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے- چنانچہ ~0179ئھ میں پھر ہارون رشید نے مکہ معظمہ کا سفر کیا اور وہاں سے مدینہ منورہ گیا- دو ایک روز قیام کے بعد کچھ لوگ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے لیے روزانہ کیے- جب یہ لوگ امام علیہ السّلام کے مکان پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت علیہ السّلام روضئہ رسول پر ہیں- ان لوگوں نے روضہ پیغمبر علیہ السّلام کی عزت کا بھی خیال نہ کیا- حضرت علیہ السّلام اس وقت قبر رسول کے نزدیک نماز میں مشغول تھے- بے رحم دشمنوں نے آپ کو نماز کی حالت میں ہی قید کر لیا اور ہارون# کے پاس لے گئے- مدینہ رسول کے رہنے والوں کی بے حسی اس سے پہلے بھی بہت دفعہ دیکھی جا چکی تھی- یہ بھی اس کی ایک مثال تھی کہ رسول کا فرزند روضئہ رسول سے اس طرح گرفتار کر کے لے جایا جا رہا تھا مگر نام نہاد مسلمانوں میں ایک بھی ایسا نہ تھا جو کسی طرح کی آواز بطور احتجاج بلند کرتا- یہ بیس شوال ~0179ئھ کا واقعہ ہے- ہارون نے اس اندیشے سے کہ کوئی جماعت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کو رہا کرنے کی کوشش نہ کرے دو محملیں تیار کرائیں- ایک میں حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کو سوار کیا اور اس کو ایک بڑی فوجی جمعیت کے حلقے میں بصرہ روانہ کیا اور دوسری محمل جو خالی تھی اسے بھی اتنی ہی جمعیت کی حفاظت میں بغداد روانہ کیا- مقصد یہ تھا کہ آپ کے محل قیام اور قید کی جگہ کو بھی مشکوک بنا دیا جائے یہ نہایت حسرت ناک واقعہ تھا کہ امام علیہ السّلام کے اہل حرم اور بچے وقت رخصت آپ کو دیکھ بھی نہ سکیں اور اچانک محل سرا میں صرف یہ اطلاع پہنچ سکی کہ حضرت علیہ السّلام سلطنت وقت کی طرف سے قید کر لیے گئے اس سے بیبیوں اور بچوں میں کہرام برپا ہو گیا اور یقیناً امام علیہ السّلام کے دل پر بھی اس کا جو صدمہ ہو سکتا ہے وہ ظاہر ہے- مگر آپ کے ضبط و صبر کی طاقت کے سامنے ہر مشکل آسان تھی- معلوم نہیں کتنے ہیر پھیر سے یہ راستہ کیا گیا تھا کہ پورے ایک مہینہ سترہ روزکے بعد سات ذی الحجہ کو آپ بصرہ پہنچائے گئے- کامل ایک سال تک آپ بصرہ میں قید رہے- یہاں کا حاکم ہارون کا چچا زاد بھائی عیسٰی ابن جعفر تھا شروع میں تو اسے صرف بادشاہ کے حکم تعمیل مدنظر تھی بعد میں اس نے غور کرنا شروع کیا- آخر ان کے قید کیے جانے کا سبب کیا ہے- اس سلسلے میں اس کو امام علیہ السّلام کے حالات اور سیرت زندگی اور اخلاق و اوصاف کی جستجو کا موقع بھی ملا اور جتنا اس نے امام علیہ السّلام کی سیرت کا مطالعہ کیا اتنا اس کے دل پر آپ کی بلندی اخلاق اور حسن کردار کا قائم ہو گیا- اپنے ان تاثرات سے اس نے ہارون کو مطلع بھی کر دیا- ہارون پر اس کا الٹا اثر ہوا کہ عیسٰی کے متعلق بدگمانی پیدا ہو گئی- اس لیے اس نے امام موسٰی کاظم علیہ السلام کو بغداد میں بلا بھیجا- فضل ابن ربیع کی حراست میں دے دیا اور پھر فضل کا رجحان شیعیت کی طرف محسوس کر کے یحییٰبرمکی کو اس کے لیے مقرر کیا- معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السّلام کے اخلاق واوصاف کی کشش ہر ایک پر اپنا اثر ڈالتی تھی- اس لیے ظالم بادشاہ کو نگرانوں کی تبدیلی کی ضرورت پڑتی تھی-

شہادت

سب سے آخر میں امام علیہ السّلام سندی بن شاہک کے قید خانے میں رکھے گئے یہ شخص بہت ہی بے رحم اور سخت دل تھا- آخر اسی قید میں حضرت علیہ السّلام کوانگور میں زہر دیا گیا- ~025رجب ~0183ئھ میں ~055سال کی عمر میں حضرت علیہ السّلام کی وفات ہوئی بعد وفات آپ کی نعش کے ساتھ بھی کوئی اعزاز کی صورت اختیار نہیں کی گئی بلکہ حیرتناک طریقے پر توہین آمیز الفاظ کے ساتھ اعلان کرتے ہوئے آپ کی لاش کو قبرستان کی طرف روانہ کیا گیا- مگر اب ذرا عوام میں احساس پیدا ہو گیا تھا اس لیے کچھ اشخاص نے امام علیہ السّلام کے جنازے کو لے لیا اور پھر عزت و احترام کے ساتھ مشایعت کر کے بغداد سے باہر اس مقام پر جواب کاظمین کے نام سے مشہور ہے دفن کیا-

8) حضرت امام علی رضا علیہ السلام

حضرت علی رضا، حضرت موسیٰ کاظم کے فرزند اور اہلِ تشیع کے آٹھویں امام تھے۔

علی نام , رضا لقب او ر ابوالحسن کنیت، حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام والد بزرگوار تھے اور اس لیے آپ کوپورے نام ولقب کے ساتھ یاد کیا جائے تو امام الحسن علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام کہاجائے گا , والدہ گرامی کی کنیت ام البنین اور لقب طاہرہ تھا۔ نہایت عبادت گزار بی بی تھیں۔

1 ولادت
2 تربیت
3 جانشینی
4 دور امامت
5 علمی کمال
6 زندگی کے مختلف دور
7 ولی عہدی
8 اخلاق و اوصاف
9 عزائے حسین علیہ السلام کی اشاعت
10 وفات
11 اولاد

ولادت

11ذی القعد 148ھ میں مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی۔ اس کے تقریباً ایک ماہ قبل 15 شوال کو آپ کے جدِ بزرگوار امام جعفر صادق علیہ السّلام کی وفات ہوچکی تھی اتنے عظیم حادثہ مصیبت کے بعد جلد ہی اس مقدس مولود کے دنیا میں آجانے سے یقینًاگھرانے میں ایک سکون اور تسلی محسوس کی گئی۔

تربیت

آپ کی نشونما اور تربیت اپنے والد بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے زیر سایہ ہوئی اور اس مقدس ماحول میں بچپنا اور جوانی کی متعدد منزلیں طے ہوئی اور پینتیس برس کی عمر پوری ہوئی۔ اگرچہ اخری چند سال اس مدت کے وہ تھے جب امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم عراق میں قید وظلم کی سختیاں برداشت کر رہے تھے مگر اس سے پہلے 82یا92برس آپ کو برابر پدرِ بزرگوار کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔

جانشینی

امام موسیٰ کاظم کو معلوم تھا کہ حکومت وقت آپ کو آزادی سے سانس لینے نہ دے گی اور ایسے حالات پیش آجائیں گے کہ آپ کے اخری عمر کے حصے میں اور دنیا کو چھوڑنے کے موقع پر دوستانِ اہلبیت علیہ السّلام کا آپ سے ملنا یا بعد کے لیے رہنما کا دریافت کرنا غیر ممکن ہو جائے گا۔ اس لیے آپ نے انہی آزادی کے دنوں اور سکون کے اوقات میں جب کہ آپ مدینہ میں تھے پیروانِ اہلیبت علیہ السّلام کو اپنے بعد ہونے والے امام علیہ السّلام سے روشناس بنانے کی ضرورت محسوس فرمائی۔ چنانچہ اولاد علی علیہ السّلام وفاطمہ میں سے سترہ آدمی جو ممتاز حیثیت رکھتے تھے جمع فرما کر اپنے فرزند علی رضا علیہ السّلام کی وصایت وجانشینی کااعلان فرمایااور ایک وصیت نامہ تحریراً بھی مکمل فرمایا , جس پر مدینہ کے معزز ین میں سے ساٹھ ادمیوں کی گواہی لکھی گئی , یہ اہتمام دوسرے ائمہ کے یہاں نظر نہیں اتا۔ صرف ان خصوصی حالات کی بنائ پر جن سے دوسرے ائمہ اپنی وفات کے موقع پر دوچار نہیں ہونے والے تھے۔

دور امامت

حضرت امام علی رضا علیہ السّلام کی پینتیس برس کی عمر جب آپ کے والد بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی وفات ہوئی اور امامت کی ذمہ داری آپ کی طرف منتقل ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب بغداد میں ہارون رشید تخت خلافت پر تھا اور بنی فاطمہ کے لیے حالات بہت ناساز گار تھے۔ اس ناخوشگوار ماحول میں حضرت علیہ السّلام نے خاموشی کے ساتھ شریعت ُ حقہ کے خدمات انجام دینا شروع کر دیا۔

علمی کمال

آل محمد علیہ السّلام کے اس سلسلہ میں ہر فرد حضرت احادیث کی طرف سے بلند ترین علم کے درجہ پر قرار دیا گیا تھا جسے دوست اور دشمن سب کو ماننا پڑتا تھا , یہ اور بات ہے کہ کسی کو علمی فیوض پھیلانے کا زمانے نے کم موقع دیا اور کسی کو زیادہ , چنانچہ ان حضرات میں سے امام جعفر صادق علیہ السّلام کے بعد اگر کسی کو موقع حاصل ہوا ہے تو وہ امام رضا علیہ السلام ہیں۔ جب آپ امامت کے منصب پر نہیں پہنچے تھے اس وقت حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام اپنے تمام فرزندوں اور خاندان کے لوگوں کونصیحت فرماتے تھے کہ تمھارے بھائی علی رضا علیہ السّلام عالمِ الِ محمد ہیں۔ اپنے دینی مسائل کو ان سے دریافت کر لیا کرو اور جو کچھ وہ کہیں اسے یاد رکھو اور پھر حضرت موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی وفات کے بعد جب آپ مدینہ میں تھے اور روضئہ رسول پر تشریف فرما تھے تو علمائے اسلام مشکل مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ محمد ابن عیسیٰ القطینی کا بیان ہے کہ میں نے ان کے جوابات تحریر کیے تھے اکٹھے کیے تو اٹھارہ ہزار کی تعداد میں تھے۔

زندگی کے مختلف دور

حضرت امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم کے بعد دس برس ہارون کادور رہا۔ یقیناً وہ امام رضا علیہ السّلام کے وجود کو بھی دنیا میں اسی طرح پر برداشت نہیں کر سکتا تھا جس طرح اس کے پہلے آپ کے والد بزرگوار کو رہنا اس نے گورا نہیں کیا۔ مگر یا تو امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے ساتھ جو طویل مدت تک تشدد اور ظلم ہوتا رہا اور جس کے نتیجہ میں قید خانہ ہی کے اندر آپ دنیا سے رخصت ہو گئے اس سے حکومت ُ وقت کی عام بدنامی ہو گئی تھی اور یا واقعی ظالم کو اپنی بد سلوکیوں کا احساس ہو ااور ضمیر کی طرف سے ملامت کی کیفیت تھی جس کی وجہ سے کھلم کھلا امام رضا علیہ السّلام کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی , یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ ایک دن یحییٰ ابن خالد برمکی نے اپنے کے بعداثرورسوخ کے بڑھانے کے لیے یہ کہا کہ علی علیہ السّلام ابن موسیٰ بھی اب اپنے باپ کے بعد امامت کے اسی طرح دعویدار ہیں تو ہارون نے جواب دیا کہ جو کچھ ہم نے ان کے باپ کے ساتھ کیا وہی کیا کم ہے جواب تم چاہتے ہو کہ میں اس نسل ہی کا خاتمہ کروں۔

پھر بھی ہارون رشید کااہل بیت رسول سے شدید اختلاف اور سادات کے ساتھ جو برتاؤ اب تک تھا اس کی بنا پر عام طور پر سے عمال حکومت یا عام افراد بھی جنھیں حکومت کو راضی رکھنے کی خواہش تھی اہل بیت علیہ السّلام کے ساتھ کوئی اچھا رویّہ رکھنے پر تیار نہیں ہوسکتے تھے اور نہ امام علیہ السّلام کے پاس آزادی کے ساتھ لوگ استفادہ کے لیے اسکتے تھے نہ حضرت علیہ السّلام کو سچے اسلامی احکام کی اشاعت کے مواقع حاصل تھے۔

ہارون کا اخری زمانہ اپنے دونوں بیٹوں امین اور مامون کی باہمی رقابتوں سے بہت بے لطفی میں گزرا۔ امین پہلی بیوی سے تھا جو خاندان شاہی سے منصور دوانقی کی پوتی تھی اور اس لیے عرب سردار سب اس کے طرفدار تھے اور مامون ایک عجمی کنیز کے پیٹ میں سے تھا۔ اس لیے درباد کاعجمی طبقہ اس سے محبت رکھتا تھا۔ دونوں کی اپس میں رسہ کشی ہارون کے لیے سوہانِ روح بنی رہتی تھی، اس نے اپنے خیال میں اس کا تصفیہ مملکت کی تقسیم کے ساتھ یوں کر دیا کہ دارالسلطنت بغداد اور اس کے چاروں طرف کے عربی حصے جیسے شام ,مصرحجاز، یمن وغیرہ محمد امین کے نام کیے گئے اور مشرقی ممالک جیسے ایران , خراسان، ترکستان وغیرہ مامون کے لیے مقرر کیے گئے مگر یہ تصفیہ تو اس وقت کار گاہو سکتا تھا جب دونوں فریق "جیو اور جینے دو" کے اصول پر عمل کرتے ہوتے۔

لیکن جہاں اقتدار کی ہوس کار فرماہووہاں اگر بنی عباس کے ہاتھوں بنی فاطمہ کے خلاف ہر طرح کے ظلم وتعدی کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے تو خود بنی عباس میں ایک گھر کے اندر دو بھائی اگر ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں تو کیوں نہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ کاروائیاں کرنے کے لیے تیارنظر اتے۔ اور کیوں نہ ان طاقتوں میں باہم تصادم ہو جب ان میں سے کوئی اس ہمدردی اور ایثار اورخلقِ خدا کی خیر خواہی کا بھی حامل نہیں ہے جسے بنی فاطمہ علیہ السّلام اپنے پیش نظر کر اپنے واقعی حقوق سے چشم پوشی کر لیا کرتے تھے۔ اسی کانتیجہ تھا کہ ادھر ہارون کی انکھ بند ہوئی اور ادھر بھائیوں میں خانہ جنگی کے شعلے بھڑک اٹھے۔ اخر چار برس کی مسلسل کشمکش اور طویل خونریزی کے بعد مامون کو کامیابی ہوئی اور اس کا بھائی امین محرم 891ھ میں تلوار کے گھاٹ اتارا دیا گیا اور مامون کی خلافت تمام بنی عباس کے حدودسلطنت پر قائم ہو گئی۔ ولی عہدی

امین کے قتل ہونے کے بعد سلطنت تو مامون کے نام سے قائم ہو گئی مگر یہ پہلے کہا جاچکا ہے کہ امین ننھیال کی طرف سے عربی النسل تھا اور مامون عجمی النسل۔ امین کے قتل ہونے سے عراق کی عرب قوم اور ارکان سلطنت کے دل مامون کی طرف سے صاف نہیں ہوسکتے تھے بلکہ غم وغصہ کی کیفیت محسوس کرتے تھے۔ دوسری طرف خود بنی عباس میں سے ایک بڑی جماعت جو امین کی طرف دار تھی اس سے بھی مامون کو ہر وقت خطرہ لگا ہوا تھا۔

اولاد فاطمہ میں سے بہت سے لوگ جو وقتاً فوقتاً بنی عباس کے مقابل میں کھڑے ہوتے رہتے تھے وہ خواہ قتل کر دیے گئے ہوں یا جلاوطن کیے گئے ہوں یاقید رکھے گئے ہوں ان کے بھی موافق ایک جماعت تھی جو اگر حکومت کا کچھ بگاڑ نہ بھی سکتی تب بھی دل ہی دل میں حکومت بنی عباس سے بیزار ضرور تھی۔

ایران میں ابو مسلم خراسانی نے بنی امیہ کے خلاف جو اشتعال پید اکیا تھا وہ ان مظالم ہی کو یاد دلا کر جو بنی امیہ کے ہاتھوں حضرت امام حسین علیہ السّلام اور دوسرے بنی فاطمہ کے ساتھ ہوئے تھے۔ اس سے ایران میں اس خاندان کے ساتھ ہمدردی کا پیدا ہونا فطری تھا , درمیان میں بنی عباس نے اس سے غلط فائدہ اٹھایا مگر اتنی مدت میں کچھ نہ کچھ تو ایرانیوں کی انکھیں بھی کھلی ہی ہوں گی کہ ہم سے کیا کہا گیا تھا اور اقتدار کن لوگوں نے حاصل کر لیا۔ ممکن ہے کہ ایرانی قوم کے ان رجحانات کاچرچا مامون کے کانوں تک بھی پہنچا ہو۔ اب جس وقت کہ امین کے قتل کے بعد وہ عرب قوم پر اور بنی عباس کے خاندان پر بھروسا نہیں کر سکتا تھا اور اسے ہر وقت اس حلقہ سے بغاوت کااندیشہ تھا تو اسے سیاسی مصلحت اسی میں معلوم ہوئی کہ عرب کے خلاف عجم اور بنی عباس کے خلاف بنی فاطمہ کو اپنا بنایا جائے اور چونکہ طرزِعمل میں خلوص سمجھا نہیں جاسکتا اور وہ عالمِ طبائع پر اثر نہیں ڈال سکتا۔ اگر یہ نمایاں ہو جائے کہ وہ سیاسی مصلحتوں کی بنا پر ہے ا س لیے ضرورت ہوئی کہ مامون مذہبی حیثیت سے سے اپنی شیعیت اور ولائے اہل بیعت علیہ السّلام کے چرچے عوام کے حلقوں میں پھیلائے اور یہ دکھلائے کہ وہ انتہائی نیک نیتی سے اب "حق بحق دار رسید" کے مقولے کو سچا بنانا چاہتا ہے۔

اس سلسلے میں جیسا کہ جناب شیخ صدوق اعلٰی الله مقامہ، نے تحریرفرمایا ہے اس نے اپنی نذر کی حکایت بھی نشر کی کہ جب امین کااور میرا مقابلہ تھا اور بہت نازک حالت تھی اور عین اسی وقت میرے خلاف سیستان اور کرمان میں بھی بغاوت ہو گئی تھی اور خراسان میں بے چینی پھیلی ہوئی تھی اور میری مالی حالت بھی ابتر تھی اور فوج کی طرف سے بھی اطمینان نہ تھا تو اس سخت اور دشوار ماحول میں میں نے خدا سے التجا کی اور منّت مانی کہ اگر یہ سب جھگڑے ختم ہوجائیں اور میں خلافت تک پہنچوں تو اس کو اس کے اصلی حقدار یعنی اولادِ فاطمہ میں سے جو اس کااہل ہو اس تک پہنچادوں۔ اسی نذر کے بعد سے میرے سب کام بننے لگے اور اخر تمام دشمنوں پر مجھے فتح حاصل ہوئی۔ یقینایہ واقعہ مامون کی طرف سے اس لیے بیان کیا گیا کہ اس طرزِ عمل خلوص قلب اورحسن نیّت پر مبنی سمجھا جائے۔ یوں تو اہلیبت علیہ السّلام کے جو کھلے ہوئے سخت سے سخت دشمن تھے وہ بھی ان کی حقیقت اور فضیلت سے واقف تھے ہی اور ان کی عظمت کو جانتے تھے مگر شیعیت کے معنیٰ صرف یہ جاننا تو نہیں ہیں بلکہ محبت رکھنا اوراطاعت کرنا ہیں اور مامون کے طرزِ عمل سے یہ ظاہر ہے کہ وہ اس دعوائے شیعیت اور محبت اہلیبت علیہ السّلام کاڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود خود امام علیہ السّلام کی اطاعت نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ عوام کو اپنی منشائ کے مطابق چلانے کی کوشش کی تھی۔ ولی عہد بننے کے بارے میں آپ کے اختیارات کو بالکل سلب کر دیا گیا اور آپ کو مجبور بنا دیا گیا تھا۔ اس سے ظاہ رہے کہ ولی عہدی کی تفویض بھی ایک حاکمانہ تشدد تھا جو اس وقت شیعیت کے بھیس میں امام علیہ السّلام کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔

امام علیہ السلام کا اس ولی عہدی کوقبول کرنا بالکل ایسا ہی تا جیسا ہارون کے حکم سے امام موسیٰ کاظم کا جیل خانہ چلے جانا،اسی لیے جب امام رضا علیہ السّلاممدینہ منورہ سے خراسان کی طرف روانہ ہو رہے تھے تو آپ کے رنج وصدمہ اور اضطراب کی کوئی حد نہ تھی روضئہ رسول سے رخصت کے وقت آپ کا وہی عالم تھا جوحضرت امام حسین علیہ السّلام کا مدینہ سے روانگی کے موقع پر تھا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ بیتابانہ روضئہ کے اندر جاتے تھے اور نالہ واہ کے ساتھ امت کی شکایت کرتے ہیں۔ پھر باہر اتے نکل کر گھر جانے کا ارادہ کرتے ہیں او پھر دل نہیں مانتا , پھر روضہ سے جاکر لپٹ جاتے ہیں۔ یہی صورت کئی مرتبہ ہوئی۔ راوی کابیان ہے کہ میں حضرت علیہ السّلام کے قریب گیا تو فرمایا اے محول میں اپنے جدِامجد کے روضہ سے بہ جبر جُدا کیا جا رہا ہوں۔ اب مجھ کو یہاں واپس انا نصیب نہ ہوگا۔ 002ھ میں حضرت علیہ السّلام مدینہ منورہ سے خراسان کی طرف روان ہوئے , اہل و عیال اور متعلقین سب مدینہ ہی چھوڑ گئے۔ اس وقت امام محمد تقی علیہ السّلام کی عمر پانچ برس کی تھی۔ آپ بھی مدینہ میں ہی رہے۔ جب حضرت علیہ السّلام مرو پہنچے جو اس وقت دارالسلطنت تھاتو مامون نے چند روز ضیافت وتکریم کے مراسم ادا کرنے کے بعد قبول خلافت کاسوال پیش کیا۔ حضرت علیہ السّلام نے اس سے اسی طرح انکار کیا جس طرح امیر المومنین علیہ السّلام چوتھے موقع پر خلافت پیش کیے جانے کے وقت انکار فرما رہے تھے , مامون کو خلافت سے دست بردار ہونا درحیقیقت منظور نہ تھا رونہ وہ امام علیہ السّلام کو اسی مجبور کرتا۔ چنانچہ جب حضرت علیہ السّلام نے خلافت قبول کرنے سے انکار فرمایا تو اس نے ولی عہدی کا سوال پیش کیا۔ حضرت علیہ السّلام اس کے بھی انجام سے واقف تھے۔ نیز بخوشی جابر حکومت کی طرف سے کوئی منصب قبول کرنا آپ کے مذہبی اصول کے خلاف تھا۔ حضرت علیہ السّلام نے اس سے بھی انکار فرمایا مگر اس پر مامون کااصرار جبر کی حد تک پہنچ گیا اور اس نے صاف کہہ دیا کہ اگر آپ اس کو منظور نہیں کرسکتے تو آپ کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ جان کا خطرہ قبول کیا جاسکتا ہے۔ جب مذہبی مفاد کا قیام جان دینے پر موقوف ہو ورنہ حفاظت ُ جان شریعت اسلام کا بنیادی حکم ہے۔ امام علیہ السّلام نے فرمایا یہ ہے تو مجبوراً قبول کرتا ہوں مگر کاروبار سلطنت میں میں خود دخل نہ دوں گا۔ اس کے بعد یہ ولی عہدی صرف برائے نام سلطنت وقت کے ایک ڈھکوسلے سے زیادہ کوئی وقعت نہ رکھتی تھی۔ جس سے ممکن ہے کچھ عرصہ تک کسی سیاسی مقصد میں کامیابی حاصل ہو گئی ہو۔ مگر امام علیہ السّلام کی حیثیت اپنے فرائض کے انجام دینے میں بالکل وہ تھی جو ان کے پیش روحضرت علی مرتضی علیہ السّلام اپنے زمانہ کی بااقتدار طاقتوں کے ساتھ اختیار کرچکے تھے جس طرح ان کا کبھی کبھی مشورہ دے دینا ان حکومتوں کو صحیح اور ناجائز نہیں بنا سکتا تھا ویسے ہی امام رضا علیہ السّلام کا اس نوعیت سے ولی عہدی کاقبول فرمانا اس سلطنت کے جواز کا باعث نہیں ہو سکتا تھا ,.صرف مامون کیا ایک راج ہٹ تھی جو اس طرح پوری ہو گئی مگر امام علیہ السّلام نے اپنے دامن کو سلطنت ظلم کے اقدامات اور نظم ونسق سے بالکل الگ رکھا۔

بنی عباس مامون کے اس فیصلے سے قطعاً متفق نہ تھے انھوں نے بہت کچھ دراندازیاں کیں مگر مامون نے صاف کہہ دیا کہ علی رضا علیہ السّلام سے بہتر کوئی دوسرا شخص تم بتادو اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ اس سلسلے میں بڑے بڑے مناظرے بھی ہوے مگر ظاہر ہے کہ امام علیہ السّلام کے مقابلہ میں کس کی علمی فوقیت ثابت ہوسکتی تھی , مامون کافیصلہ اٹل تھا اور وہ اس سے ہٹنے کے لیے تیار نہ تھا کہ وہ اپنے فیصلہ کو بدل دیتا۔

یکم رمضان 102ھئ روزپنجشنبہ جلسئہ ولی عہدی منعقد ہوا۔ بڑی شان وشوکت اور تزک واحتشام کے ساتھ یہ تقریب عمل میں لائی گئی۔ سب سے پہلے مامون نے اپنے بیٹے عباس کو اشارہ کیا اور اس نے بعیت کی۔ پھر اور لوگ بعیت سے شرفیاب ہوئے سونے چاندی کے سکے سرمبارک پر نثار کیے گئے اور تمام ارکانِ سلطنت وملازمین کو انعامات تقسیم ہوئے , مامون نے حکم دیا کہ حضرت علیہ السّلام کے نام کا سکّہ تیار کیا جائے , چنانچہ درہم ودینار پر حضرت علیہ السّلام کے نام کا نقش ہوا اور تمام قلمرومیں وہ سکّہ چلایا گیا , جمعہ کے خطبہ میں حضرت علیہ السّلام کانام داخل کیا گیا۔

اخلاق و اوصاف

مجبوری اور بے بسی کانام قناعت یا درویشی "عصمت بی بی از بے چادری" کے مقولہ کے موافق اکثر ابنائے دنیا کا شعار رہتا ہے مگر ثروت واقتدار کے ساتھ فقیرانہ زندگی اختیار کرنابلند مرتبہ مردانِ خدا کاحصہ ہے۔ اہل بیت معصومین علیہ السّلام میں سے جو بزرگوار ظاہری حیثیت سے اقتدار کے درجہ پر نہ تھے کیوں کہ ان کی فقیری کو دشمن بے بسی پر محمول کرکے طعن وتشنیع پر امادہ ہوتے اور حقانیت کے وقار کو ٹھیس لگتی مگر جو بزرگ اتفاقات روزگار سے ظاہری اقتدار کے درجہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے اتنا ہی فقرا اور سادگی کے مظاہرہ میں اضافہ کر دیا تاکہ ان کی زندگی غریب مسلمانوں کی تسلی کاذریعہ بنے اور ان کے لیے نمونہ عمل ہو جیسے امیر المومنین حضرت علی المرتضی علیہ السّلام چونکہ شہنشاہ ُ اسلام مانے جا رہے تھے ا س لیے آپ کالباس اور طعام ویسا زاہدانہ تھا جس کی مثال دوسرے معصومین علیہ السّلام کے یہاں نہیں ملتی۔ یہی صورت حضرت علی رضا علیہ السّلام کی تھی، آپ مسلمانوں کی اس عظیم الشان سلطنت کے ولی عہد بنائے گئے تھے جن کی وسعت ُ مملکت کے سامنے روم وفارس کاذکر بھی طاقِ نسیان کی نذر ہو گیا تھا۔ جہاں اگر بادل سامنے سے گزرتا تھا تو خلیفہ کی زبان سے اواز بلند ہوتی تھی کہ "جا جہاں تجھے برسنا ہو برس , بہتر حال تیری پیداواری کااخراج میرے پاس ہی ائے گا۔"

حضرت امام رضا علیہ السّلام کا اس سلطنت کی ولی عہدی پر فائز ہونا دنیا کے سامنے ایک نمونہ تھا کہ دین والے اگر دنیا کو پاجائیں تو ان کارویہ کیا ہوگا۔ یہاں امام رضا علیہ السّلام کو اپنی دینی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے ضرورت تھی کہ زہد اور ترک ُ دنیا کے مظاہرے اتنے ہی نمایاں تربنادیں جتنے تزک و احتشام کے دینی تقاضے زیادہ ہیں چنانچہ تاریخ نے اپنے کو دہرایا اور وہ علی رضا علیہ السّلام کے لباس میں علی المرتضی علیہ السّلام کی سیرت دنیا کی نگاہوں کے سامنے اگئی۔ آپ نے اپنی دولت سرا میں قیمتی قالین بچھوانا پسند نہیں کیے بلکہ جاڑے میں بالوں کا کمبل اور گرمی میں چٹائی کا فرش ہوا کرتا تھا , کھانا سامنے لایا جاتا تو دربان سائیس اور تمام غلاموں کو بلا کر اپنے ساتھ کھانے میں شریک فرماتے تھے۔ داب واداب ُ شاہی کے خوگر ایک بلخی شخص نے ایک دن کہہ دیا کہ حضور اگر ان لوگوں کے کھانے کا انتظام الگ ہوجایا کرے تو کیا حرج ہے? حضرت علیہ السّلام نے فرمایا خالق سب کاالله ہے۔ ماں سب کی حواّ اور باپ سب کے ادم علیہ السّلام ہیں۔ جزاوسزا ہر ایک کی اس کے عمل کے مطابق ہوگی , پھر دُنیا میں تفرقہ کس لیے ہو۔

اسی عباسی سلطنت کے ماحول کا ایک جزوبن کرجہاں صرف پیغمبر کی طرف ایک قرابتداری کی نسبت کے سبب اپنے کو خلق ُ خدا پر حکمرانی کاحقدار بنایا جاتا تھا اور اس کے ساتھ کبھی اپنے اعمال وافعال پر نظر نہ کی جاتی تھی کہ ہم کیسے ہیں اور ہم کو کیا کرنا چاہیے۔ یہاں تک کہ یہ کہاجانے لگاکہ بنی عباس ظلم وستم اور فسق وفجور میں بنی امیہ سے کم نہ رہے بلکہ بعض باتوں میں ان سے آگے بڑھ گئے اور اس کے ساتھ پھر بھی قرابتِ رسول پر افتخار تھا اس ماحول کے اندر داخل ہو کرامام رضا علیہ السّلام کا اس بات پر بڑا زور دینا کہ قرابت کوئی چیز نہیں اصل انسان کا عمل ہے بظاہر صرف ایک شخص کا اظہار فروتنی اور انکسار نفس تھا جو بہرحال ایک اچھی صفت ہے لیکن حقیقت میں وہ اس سے بڑھ کر تقریباً ایک صدی کی عباسی سلطنت کی پیدا کی ہوئی ذہنیت کے خلاف اسلامی نظریہ کااعلان تھااور اس حیثیت سے بڑا اہم ہو گیا تھا کہ وہ اب اسی سلطنت کے ایک رکن کی طرف سے ہو رہا تھا۔ چنانچہ امام رضا علیہ السّلامکی سیرت میں اس کے مختلف شواہد ہیں , ایک شخص نے حضرت علیہ السّلام کی خدمت میں عرض کی کہ »خدا کی قسم اباؤاجداد کے اعتبار سے کوئی شخص آپ سے افضل نہیں۔ حضرت علیہ السّلام نے فرمایا۔ ,, میرے اباواجداد کو جو شرف حاصل ہوا ہے وہ صرف تقویٰ , پرہیز گاری اوراطاعتِ خداسے۔,, ایک شخص نے کسی دن کہا کہ، " والله آپ بہترین خلق ہیں۔" حضرت علیہ السّلام نے فرمایا، "اے شخص حلف نہ اٹھا، جس کاتقویٰ وپ رہیز گاری مجھ سے زیادہ ہو وہ مجھ سے افضل ہے۔"

ابراہیم بن عباس کابیان ہے کہ حضرت علیہ السّلام فرماتے تھے، "میرے تمام لونڈی اور غلام ازاد ہوجائیں اگر اس کے سوا کچھ اور ہو کہ میں اپنے کو محض رسول الله کی قرابت کی وجہ سے اس سیاہ رنگ غلام سے بھی افصل نہیں جانتا (حضرت علیہ السّلام نے اشارہ کیا اپنے ایک غلام کی جانب) ہاں جب عملِ خیر بجا لاؤں گا تو الله کے نزدیک اس سے افضل ہوں گا۔"

یہ باتیں کو تاہ نظر لوگ صرف ذاتی انکسار پر محمول کرلیتے ہوں مگر خود حکومت عباسیہ کا فرماں روایقیناً اتنا کند ذہن نہ ہوگا کہ وہ ان تازیانوں کو محسوس نہ کرے جو امام رضا علیہ السّلام کے خاموش افعال اور ا س طرح کے اقوال سے اس کے خاندانی نظامِ سلطنت پر برابر لگ رہے تھے۔ اس نے تو بخیال خود ایک وقتی سیاسی مصلحت سے اپنی سلطنت کو مستحکم بنانے کے لیے حضرت علیہ السّلام کو ولی عہد بنایا تھا مگر بہت جلد اسے محسوس ہوا کہ اگران کی زندگی زیادہ عرصہ تک قائم رہی تو عوام کی ذہنیت میں یک لخت انقلاب ہو جائے گا اور عباسی سلطنت کاتخت ہمیشہ کے لیے الٹ جائے گا۔

عزائے حسین علیہ السلام کی اشاعت

اب امام رضا علیہ السّلام کو تبلیغ حق کے لیے نام حسین علیہ السّلام کی اشاعت کے کام کو ترقی دینے کا بھی پورا موقع حاصل ہو گیا تھا جس کی بنیاد اس کے پہلے حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام اور امام جعفر صادق علیہ السّلام قائم کرچکے تھے مگر وہ زمانہ ایسا تھا کہ امام علیہ السّلام کی خدمت میں وہی لوگ حاضر ہوتے تھے جو بحیثیت امام اور بحیثیت عالم دین آپ کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے اور اب امام رضا علیہ السّلام تو امام روحانی بھی ہیں اور ولی عہد ُ سلطنت بھی۔ اس لیے آپ کے دربار میں حاضر ہونے والوں کا دائرہ وسیع ہے۔ مرو ##کامقام ہے جو ایران کے تقریباً وسط میں واقع ہے۔ ہر طرف کے لوگ یہاں اتے ہیں اور یہاں یہ عالم ہے کہ ادھر محرم کا چاند نکلا اور انکھوں سے انسو جاری ہو گئے۔ دوسروں کو بھی ترغیب وتحریص کی جانے لگی کہ الِ محمد کے مصائب کو یاد کرو اور تاثرات غم کو ظاہر کرو۔ یہ بھی ارشاد ہونے لگا کہ جو اس مجلس میں بیٹھے جہاں ہماری باتیں زندہ کی جاتی ہیں اس کا دل مردہ نہ ہوگا۔ اس دن کہ جب سب کے دل مردہ ہوں گے۔ تذکرہ امام حسین علیہ السّلام کے لیے جو مجمع ہو اس کانام اصطلاحی طو ر پر مجلس# اسی امام رضا علیہ السّلام کی حدیث ہی سے ماخوذ ہے۔ آپ نے علمی طور پر خود مجلسیں کرنا شروع کر دیں , جن میں کبھی خود ذاکر ہوئے اور دوسرے سامعین جیسے یان بن شیب کی حاضری کے موقع پر جو آپ نے مصائب امام حسین علیہ السّلام بیان فرمائے اور کبھی عبد الله بن ثابت یادعبل خزاعی ایسے کسی شاعر کی حاضری کے موقع پر اس شاعر کو حکم ہوا کہ تم ذکر امام حسین علیہ السلام میں اشعار پڑھو وہ ذاکر ہوا اور حضرت سامعین میں داخل ہوئے۔

دعبل# کو حضرت نے بعدمجلس ایک قیمتی حلّہ بھی مرحمت فرمایا جس کے لینے میں دعبل# نے یہ کہہ کرعذر کیاکہ مجھے قیمتی حلّہ کی ضرورت نہیں ہے اپنے جسم کااترا ہوا لباس مرحمت فرمائے تو حضرت نے ان کی خوشی پوری کی وہ حلّہ تو انھیں دیا ہی تھا اس کے علاوہ ایک جبّہ اپنے پہننے کا بھی مرحمت فرمایا۔

اس سے ذاکر کابلند طریقہ کار کہ اسے کسی دنیوی انعام کی حاضر یامعاذ الله اجرت طے کرکے ذاکری نہیں کرنا چاہیے اور بانی مجلس کاطریقہ کار کہ وہ بغیر طے کیے ہوئے کچھ بطور پیشکش ذاکر کی خدمت میں پیش کرے دونوں امرثابت ہیں مگر ان مجالس میں سامعین کے اندر کسی حصہ کی تقسیم ہر گز کسی معتبر کتاب سے ثابت نہیں ہوئی۔

وفات

مامون کی توقعات غلط ثابت ہونے ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ اخر امام علیہ السّلام کی جان لینے کے درپے ہو گیا اور وہی خاموش حربہ جوان معصومین علیہ السّلام کے ساتھ اس کے پہلے بہت دفعہ استعمال کیا جاچکا تھا کام میں لایا گیا۔ انگور میں جو بطور تحفہ امام علیہ السّلام کے سامنے پیش کیے گئے تھے زہر دیا گیا اوراس کے اثر سے 71صفر 302ھ میں حضرت علیہ السّلام نے شہادت پائی۔ مامون نے بظاہر بہت رنج وماتم کااظہار کیا اور بڑے شان وشکوہ کے ساتھ اپنے باپ ہارون رشید کے قریب دفن کیا۔ جہاں مشہد مقدس میں حضرت علیہ السّلام کا روضہ اج تاجدارانِ عالم کی جبیں سائی کا مرکز بناہوا ہے وہیں اپنے وقت کابزرگ ترین دنیوی شہنشاہ ہارون رشید بھی دفن ہے جس کا نام و نشان تک وہاں جانے والوں کو معلوم نہیں ہوتا۔

اولاد

امام علیہ السلام کی تعداد اولاد میں شدید اختلاف ہے۔ علامہ مجلسی نے بحا را لا نوار جلد ۱۲ صفحہ ۲۶ میں کئی اقوال نقل کرنے کے بعد بحوالہ قرب الاسناد تحریر فرمایا ہے کہ آپ کے دو فرزند تھے۔ ایک امام محمد تقی علیہ السلام دوسرے موسیٰ۔ انوار نعمانیہ ۱۲۷ میں ہے کہ آپ کے تین اولادتھی۔ انوار الحسینیہ جلد ۳ ص۵۲ میں ہے کہ آپ کے تین اولاد تھی۔ مگر نسل صرف امام محمد تقی علیہ السلام سے جاری ہوئی۔ صواعق محرقہ ۱۲۳ میں ہے کہ آپ کے پانچ لڑکے اور ایک لڑکی تھی۔ نو ار الابصار ۱۴۵ میں ہے کہ آپ پانچ لڑکے اور ایک لڑکی تھی۔ جن کے نا م یہ ہیں۔ امام محمد تقی۔ حسن جعفر۔ ابراہیم۔ حسین۔ عائشہ۔ روضتہ الشہداء ۲۳۸ میں ہے کہ آپ کے پانچ لڑکے تھے جن کے نا م یہ ہیں۔ امام محمد تقی۔ حسن جعفر۔ ابراہیم۔ حسین۔ عقب اواز بزرگوارش محمدتقی است۔ مگر آپ کی نسل صرف امام محمد تقی سے بڑھی ہے۔ یہی کچھ رحمت للعالمین جلد ۲ص ۱۴۵ میں ہے۔ جنات الخلود ۳۲ میں ہے کہ آپ کے پانچ لڑکے اور ایک لڑکی تھی۔ روضتہ الا حباب جمال الدین میں ہے کہ آپ کے پانچ لڑکے تھے۔ کشف الغمہ ۱۱۰ میں ہے کہ آپ کے چھ اولاد تھی ۵ لڑکے ایک لڑکی یہی مطالب السول میں ہے۔ کنز الانساب ۹۶ میں ہے کہ آپ کے آٹھ لڑکے تھے جن کے نام یہ ہیں امام محمد تقی، ہادی، علی نقی، حسین، یعقوب، ابراہیم، فضل، جعفر۔

لیکن امام المحدثین تاج المحققین حضرت علامہ محمد بن محمد نعمان بغدادی المتوفی ۴۱۳ء ہجری المقلب یہ شیخ مفید علیہ ا لرحمتہ۔ کتاب ارشاد ۲۷۱۔۳۴۵ میں اور تاج المفسرین، امین الدین حضرت ابو علی فضل بن حسن بن فضل طبرسی المشہدی صاحب مجمع البیان المتوفی ۵۴۸ء ء کتاب اعلام الوری، ۱۹۹ میں تحریر فرماتے ہیں۔ کان للرضامن الولد ابنہ ابر جعفر محمد بن علی الجواد لا غیر۔ حضرت امام محمد تقی کے علاوہ امام علی رضا علیہ السلا م کے کوئی اور اولاد نہ تھی یہی کچھ کتاب عمدة الطالب صفحہ۱۸۶ میں ہے۔

9) حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

حضرت محمد تقی، حضرت امام علی رضا کے فرزند اور اہلِ تشیع کے نویں امام ہیں۔

فہرست

1 نام ونسب
2 ولادت
3 نشونما اور تربیت
4 عراق کا پہلا سفر
5 علما سے مناظرہ
6 مدینہ کی طرف واپسی
7 اخلاق و اوصاف
8 تبلیغ و ہدایت
9 عراق کا آخری سفر
10 شہادت
11 رضوی سیّد

نام ونسب

محمد نام , ابو جعفر کنیت اور تقی علیہ السّلام وجوّاد علیہ السّلام دونوں مشہور لقب تھے اسی لیے اسم و لقب کو شریک کرے آپ امام محمدتقی علیہ السّلام کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں . چونکہ آپ کو پہلے امام محمد باقر علیہ السّلام کی کنیت ابو جعفر ہوچکی تھی اس لیے کتب میں آپ کو ابو جعفر ثانی اور دوسرے لقب کو سامنے رکھ کر حضرت جوّاد بھی کہا جاتا ہے۔ والد بزرگوار آپ کے حضرت امام رضا علیہ السّلام تھے اور والدہ معظمہ کانام جناب سبیکہ یاسکینہ علیہ السّلام تھا۔

ولادت

10رجب 195ھجری کو مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی . اس وقت بغداد کے دارلسلطنت میں ہارون رشید کابیٹا امین تخت حکومت پر تھا .

نشونما اور تربیت

یہ ا یک حسرت ناک واقعہ ہے کہ امام محمدتقی علیہ السّلام کو نہایت کمسنی ہی کے زمانے میں مصائب اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجاناپڑا .انھیں بہت کم ہی اطمینان اور سکون کے لمحات میں باپ کی محبت , شفقت اور تربیت کے سائے میں زندگی گزارنے کاموقع مل سکا .آپ کو صرف پانچواں برس تھا . جب حضرت امام رضا علیہ السّلام مدینہ سے خراسان کی طرف سفر کرنے پر مجبور ہوئے تو پھر زندگی میں ملاقات کا موقع نہ ملا امام محمدتقی علیہ السّلام سے جدا ہونے کے تیسرے سال امام رضا علیہ السّلام کی وفات ہو گئی . دنیا سمجھتی ہوگی کہ امام محمدتقی علیہ السّلام کے لیے علمی وعملی بلندیوں تک پہنچنے کاکوئی ذریعہ نہیں رہا اس لیے اب امام جعفر صادق علیہ السّلام کی علمی مسند شاید خالی نظر ائے مگر خلق خدا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس کمسن بچے کو تھوڑے دن بعد مامون کے پہلو میں بیٹھ کر بڑے بڑے علما سے فقہ، حدیث، تفسیراور کلام پر مناظرے کرتے اور سب کو قائل ہوجاتے دیکھا . اس کی حیرت اس وقت تک دور ہوناممکن نہ تھی , جب تک وہ مادی اسباب کی بجائے ایک مخصوص خدا وندی مدرسہ تعلیم وتربیت کے قائل نہ ہوتے , جس کے بغیر یہ معما نہ حل ہوا اور نہ کبھی حل ہو سکتا ہے .

عراق کا پہلا سفر

جب امام رضا علیہ السّلام کو مامون نے ولی عہد بنایا اور اس کی سیاست اس کی مقتضی ہوئی کہ بنی عباس کو چھوڑ کر بنی فاطمہ سے روابط قائم کیے جائیں اور اس طرح شیعیان اہل بیت علیہ السّلام کو اپنی جانب مائل کیا جائے تو اس نے ضرورت محسوس کی کہ خلوص واتحاد کے مظاہرے کے لیے علاوہ اس قدیم رشتے کے جو ہاشمی خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے ہے , کچھ جدید رشتوں کی بنیاد بھی قائم کردی جائے چنانچہ اسی جلسہ میں جہاں ولی عہدی کی رسم ادا کی گئی . اس نے اپنی بہن ام حبیبہ کاعقد امام رضا علیہ السّلام کے ساتھ کیاا ور اپنی بیٹی ام الفضل کی نسبت کاامام محمد تقی علیہ السّلام کے ساتھ اعلان کیا . غالباًً اس کا خیال تھا کہ اس طرح امام رضا علیہ السّلام بالکل اپنے بنائے جا سکیں گے مگر جب اس نے محسوس کیا کہ یہ اپنے ان منصبی فرائض کو جو رسول کے وارث ہونے کی بنا پر ان کے ذمہ ہیں . کسی قیمت پر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتے اور اب عباسی سلطنت کارکن ہونے کے ساتھ ان اصول پر قائم رہنا . مدینہ کے محلہ بنی ہاشم میں گوشہ نشینی کی زندگی بسرکرنے سے کہیں زیادہ خطر ناک ہے . تو اسے اپنے مفاد سلطنت کی تحفظ خاطر اس کی ضرورت ہوئی کہ وہ زہر دے کر حضرت علیہ السّلام کی زندگی کاخاتمہ کر دے مگر وہ مصلحت جوامام رضا علیہ السّلام کوولی عہد بنانے کی تھی یعنی ایرانی قوم اور جماعت ُ شیعہ کو اپنے قبضے میں رکھنا وہ اب بھی باقی تھی اس لیے ایک طرف تو امام رضا علیہ السّلام کے انتقال پر اس نے غیر معمولی رنج وغم کااظہار کیا تاکہ وہ اپنے دامن کو حضرت علیہ السّلام کے خون ناحق سے الگ ثابت کرسکے . اور دوسری طرف اس نے اپنے اعلان کی تکمیل ضروری سمجھی کہ جو وہ امام محمدتقی علیہ السّلام کے ساتھ اپنی لڑکی سے منسوب کرنے کا کرچکا تھا , اس نے اس مقصد سے امام محمدتقی علیہ السّلام کو مدینہ سے عراق کی طرف بلوایا . اس لیے کہ امام رضا علیہ السّلام کی وفات کے بعد وہ خراسان سے اب اپنے خاندان کے پرانے دارالسلطنت بغداد میں آچکا تھا اور ا س نے یہ تہیّہ کر لیا کہ وہ ام الفضل کاعقد اس صاحبزادے کے ساتھ بہت جلد کر دے .

علما سے مناظرہ

بنی عباس کو مامون کی طرف سے امام رضا علیہ السّلام کا ولی عہد بنایا جانا ہی ناقابل برداشت تھا امام رضا علیہ السّلام کی وفات سے ایک حد تک انھیں اطمینان حاصل ہوا تھا اور انہوں نے مامون سے اپنے حسبِ دلخواہ اس کے بھائی موئمن کی ولی عہدی کااعلان بھی کرادیا جو بعد میں معتصم بالله کے نام سے خلیفہ تسلیم کیا گیا . اس کے علاوہ امام رضا علیہ السّلام کی ولی عہدی کے زمانہ میں عباسیوں کامخصوص شعار یعنی کالالباس تبدیل ہو کر سبز لباس کارواج ہو رہا تھا اسے منسوخ کرکے پھر سیاہ لباس کی پابندی عائد کردی گئی , تاکہ بنی عباس کے روایات ُ قدیمہ محفوظ رہیں . یہ باتیں عباسیوں کو یقین دلا رہی تھیں کہ وہ مامون پر پورا قابو پاچکے ہیں مگر اب مامون یہ ارادہ کہ وہ امام محمد تقی علیہ السّلام کو اپنا داماد بنائے ان لوگوں کے لیے پھر تشویش کاباعث بنا . اس حد تک کہ وہ اپنے دلی رجحان کو دل میں نہ رکھ سکے اورایک وفد کی شکل میں مامون کے پاس اکر اپنے جذبات کااظہار کر دیا , انھوں نے صاف صاف کہا کہ امام رضا کے ساتھ جو آپ نے طریقہ کار استعمال کیا وہی ہم کو ناپسند تھا . مگر خیر وہ کم از کم اپنی عمر اور اوصاف وکمالات کے لحاظ سے قابلِ عزت سمجھے بھی جاسکتے ہیں مگر ان کے بیٹے محمد علیہ السّلام تو ابھی بالکل کم سن ہیں ایک بچے کو بڑے بڑے علما اور معززین پر ترجیح دینا اور اس قدر اس کی عزت کرنا ہر گز خلیفہ کے لیے زیبا نہیں ہے پھر ام حبیبہ کانکاح جو امام رضا علیہ السّلام کے ساتھ کیا گیا تھا اس سے ہم کو کیا فائدہ پہنچا . جو اب ام الفضل کانکاح محمد ابن علی علیہ السّلام کے ساتھ کیا جا رہا ہے . مامون نے اس تمام تقریر کا یہ جواب دیا کہ محمد علیہ السّلام کمسن ضرور ہیں مگر میں نے خوب اندازہ کر لیا ہے . اوصاف وکمالات میں وہ اپنے باپ کے پورے جانشین ہیں اور عالم اسلام کے بڑے بڑے علمائ جن کا تم حوالہ دے رہے ہو علم میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے . اگر تم چاہو تو امتحان لے کر دیکھ لو . پھر تمہیں بھی میرے فیصلے سے متفق ہونا پڑے گا . یہ صرف منصافانہ جواب ہی نہیں بلکہ ایک طرح کا چیلنج تھا جس پر مجبوراً ان لوگوں کو مناظرے کی دعوت منظور کرنا پڑی حالانکہ خود مامون تمام سلاطین ُ بنی عباس میں یہ خصوصیت رکھتا ہے کہ مورخین اس کے لیے یہ الفاظ لکھ دیتے ہیں . کان بعد من کبار الفقہاء یعنی اس کا شمار بڑے فقیہوں میں ہے . اس لیے اس کا فیصلہ خود کچھ کم وقعت نہ رکھتا تھا مگر ان لوگوں نے اس پر اکتفاء نہیں کی بلکہ بغداد کے سب سے بڑے عالم یحییٰ بن اکثیم کو امام محمدتقی علیہ السّلام سے بحث کے لیے منتخب کیا . مامون نے ایک عظیم الشان جلسہ اس مناظرے کے لیے منعقد کیا اور عام اعلان کرادیا . ہر شخص اس عجیب اور بظاہر غیر متوازی مقابلے کے دیکھنے کا مشتاق ہو گیا جس میں ایک طرف ایک اٹھ برس کابچہ تھا اور دوسری طرف ایک ازمود کار اور شہرئہ افاق قاضی القضاة . اسی کا نتیجہ تھا کہ ہر طرف سے خلائق کا ہجوم ہو گیا .مورخین کا بیان ہے کہ ارکان ُ دولت اور معززین کے علاوہ اس جلسے میں نوسوکرسیاں فقط علما وفضلاء کے لیے مخصوص تھیں اور اس میں کوئی تعجب نہیں اس لیے کہ یہ زمانہ عباسی سلطنت کے شباب اوربالخصوص علمی ترقی کے اعتبار سے زریں دور تھا اور بغداد دارالسلطنت تھا جہاں تمام اطراف سے مختلف علوم وفنون کے ماہرین کھنچ کر جمع ہو گئے تھے . اس اعتبار سے یہ تعداد کسی مبالغہ پر مبنی معلوم نہیں ہوتی- مامون نے حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کے لیے اپنے پہلو میں مسند بچھوائی تھی اور حضرت علیہ السّلام کے سامنے یحییٰ ابن اکثم کے لیے بیٹھنے کی جگہ تھی- ہر طرف کامل سناٹا تھا- مجمع ہمہ تن چشم و گوش بنا ہوا گفتگو شروع ہونے کے وقت کا منتظر ہی تھا کہ اس خاموشی کو یحییٰ کے اس سوال نے توڑ دیا جو اس نے مامون کی طرف مخاطب ہو کر کہا تھا-» حضور کیا مجھے اجازت ہے کہ میں ابو جعفر علیہ السّلام سے کوئی مسئلہ دریافت کروں؟ مامون نے کہا،» تم کو خود ان ہی سے اجازت طلب کرنا چاہیے-« یحیٰی امام علیہ السّلام کی طرف متوجہ ہوا اور کہا-»کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ سے کچھ دریافت کروں؟« فرمایا-» تم جو پوچھنا چاہو پوچھ سکتے ہو-« یحیٰی نے پوچھا کہ »حالت احرام میں اگر کوئی شخص شکار کرے تو اس کا کیا حکم ہے?« اس سوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ یحیٰی حضرت امام محمد تقی کو علمی بلندی سے بالکل واقف نہ تھا- وہ اپنے غرور علم اور جہالت سے یہ سمجھتا تھا کہ یہ کمسن صاحبزادے تو ہیں ہی- روزمرہ کے روزے نماز کے مسائل سے واقف ہوں تو ہوں مگر حج وغیرہ کے احکام اور حالت احرام میں جن چیزوں کی ممانعت ہے ان کے کفاروں سے بھلا کہاں واقف ہوں گے- امام علیہ السّلام نے اس کے جواب میں اس طرح سوال کے گوشوں کی الگ الگ تحلیل فرمائی، جس سے بغیر کوئی جواب اصل مسئلے کا دیے ہوئے آپ کے علم کی گہرائیوں کا یحیٰی اور تمام اہل محفل کو اندازہ ہو گیا، یحیٰی خود بھی اپنے کو سبک پانے لگا اور تمام مجمع بھی اس کا سبک ہونا محسوس کرنے لگا- آپ نے جواب میں فرمایا کہ تمہارا سوال بالکل مبہم اور مجمل ہے- یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ شکار حل میں تھا یا حرم میں شکار کرنے والا مسئلے سے واقف تھا یا ناواقف- اس نے عمداً اس جانور کو مار ڈالا یا دھوکے سے قتل ہو گیا وہ شخص آزاد تھا یا غلام کمسن تھا یا بالغ پہلی مرتبہ ایسا کیا تھا یا اس کے پہلے بھی ایسا کر چکا تھا۔ شکار پرندکا تھا یا کوئی اور۔ چھوٹا یا بڑا۔ وہ اپنے فعل پر اصرار رکھتا ہے یا پشیمان ہے۔ رات کو یا پوشیدہ طریقہ پر اس نے شکار کیا یا دن دہاڑے اورعلانیہ۔ احرام عمرہ کا تھا یا حج کا۔ جب تک یہ تمام تفصیلات نہ بتائے جائیں اس مسئلہ کا کوئی ایک معین حکم نہیں بتایا جا سکتا- یحییٰ کتنا ہی ناقص کیوں نہ ہوتا بہرحال فقہی مسائل پر کچھ نہ کچھ اس کی نظر بھی تھی- وہ ان کثیر التعداد شقوں کے پیدا کرنے ہی سے خوب سمجھ گیا کہ ان کا مقابلہ میرے لیے آسان نہیں ہے- اس کے چہرے پر ایسی شکستگی کے آثار پیداہوئے جن کاتمام دیکھنے والوں نے اندازہ کر لیا- اب اس کی زبان خاموش تھی اور وہ کچھ جواب نہ دیتا تھا- مامون نے اس کی کیفیت کا صحیح اندازہ کر کے اس سے کچھ کہنا بیکار سمجھا اور حضرت علیہ السّلام سے عرض کیا کہ پھر آپ ہی ان تمام شقوں کے احکام بیان فرما دیجیئے , تاکہ سب کو استفادہ کا موقع مل سکے- امام علیہ السّلام نے تفصیل کے ساتھ تمام صورتوں کے جداگانہ جو احکام تھے بیان فرمائے یحیٰی ہکا بکا امام علیہ السّلام کا منہ دیکھ رہا تھا اور بالکل خاموش تھا- مامون کو بھی کد تھی کہ وہ اتمام حجت کو انتہائی درجے تک پہنچا دے اس لیے اس نے امام علیہ السّلام سے عرض کیا کہ اگر مناسب معلوم ہو تو آپ علیہ السّلام بھی یحییٰ سے کوئی سوال فرمائیں- حضرت علیہ السّلام نے اخلاقاً یحییٰ سے یہ دریافت کیا کہ »کیا میں بھی تم سے کچھ پوچھ سکتا ہوں?«یحییٰ اب اپنے متعلق کسی دھوکے میں مبتلا نہ تھا، اپنا اور امام علیہ السّلام کا درجہ اسے خوب معلوم ہو چکا تھا- اس لیے طرز گفتگو اس کا اب دوسراہی تھا- اس نے کہا کہ حضور علیہ السّلام دریافت فرمائیں اگر مجھے معلوم ہو گا تو عرض کر دوں گا ورنہ خود حضور ہی سے معلوم کر لوں گا، حضرت علیہ السّلام نے سوال کیا- جس کے جواب میں یحییٰ نے کھلے الفاظ میں اپنی عاجزی کا اقرار کیا اور پھر امام نے خود اس سوال کا حل فرما دیا- مامون کو اپنی بات کے بالا رہنے کی خوشی تھی- اس نے مجمع کی طرف مخاطب ہو کر کہا: دیکھوں میں نہ کہتا تھا کہ یہ وہ گھرانا ہے جو قدرت کی طرف سے علم کا مالک قرار دیا گیا ہے- یہاں کے بچوں کا بھی کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا- مجمع میں جوش و خروش تھا- سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ بے شک جو آپ کی رائے ہے وہ بالک ٹھیک ہے اور یقیناً ابو جعفر علیہ السّلام محمد ابن علی کو کوئی مثل نہیں ہے- مامون نے اس کے بعد ذرا بھی تاخیر مناسب نہیں سمجھی اور اسی جلسے میں امام محمد تقی علیہ السلام کے ساتھ ام الفضل کا عقد کر دیا- نکاح کے قبل جو خطبہ ہمارے یہاں عموماً پڑھا جاتا ہے وہی ہے جو امام محمد تقی نے اس عقد کے موقع پر اپنی زبان مبارک پر جاری کیا تھا- یہی بطور یادگار نکاح کے موقع پر باقی رکھا گیا ہے مامون نے اس شادی کی خوشی میں بڑی فیاضی سے کام لیا- لاکھوں روپیہ خیر و خیرات میں تقسیم کیا گیا اور تمام رعایا کو انعامات و عطیات کے ساتھ مالا مال کیا گیا-

مدینہ کی طرف واپسی

شادی کے بعد تقریباًً ایک سال تک بغداد میں مقیم رہے اس کے بعد مامون نے بہت اہتمام کے ساتھ ام الفضل کو حضرت علیہ السّلام کے ساتھ رخصت کر دیا اور امام علیہ السّلام مدینہ میں واپس تشریف لائے-

اخلاق و اوصاف

امام محمد تقی علیہ السّلام اخلاق واصاف میں انسانیت کی اس بلندی پر تھے جس کی تکمیل رسول اور آل رسول کا طرہ امتیاز تھی کہ ہر ایک سے جھک کر ملنا . ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا مساوات اور سادگی کو ہر حالت میں پیش نظر رکھنا۔ غرباً کی پوشیدہ طور پر خبر لینا اور دوستوں کے علاوہ دشمنوں تک سے اچھا سلوک کرتے رہنا . مہمانوں کی خاطر داری میں انہماک اور علمی اور مذہبی پیاسوں کے لیے فیصلہ کے چشموں کا جاری رکھنا آپ کی سیرت زندگی کا نمایاں پہلو تھا . بالکل ویسا ہی جیسے اس سلسلہ عصمت کے دوسرے افراد کا تھا جس کے حالات اس سے پہلے لکھے جاچکے ہیں . اہل دنیا کو جو آپ کے بلندی نفس کا پورا اندازہ نہ رکھتے تھے انھیں یہ تصور ضرور ہوتا تھا کہ ایک کمسن بچے کا عظیم الشان مسلمان سلطنت کے شہنشاہ کا داماد ہوجانا یقیناً اس کے چال ڈھال طور طریقے کو بدل دے گا اور اس کی زندگی دوسرے سانچے میں ڈھل جائے گی۔ حقیقت میں یہ ایک بہت بڑا مقصد ہو سکتا ہے جو مامون کی کوتاہ نگاہ کے سامنے بھی تھا .بنی امیہ یابنی عباس کے بادشاہوں کا ال ُ رسول کی ذات سے اتنا اختلاف نہ تھا . جتنا ان کے صفات سے وہ ہمیشہ اس کے درپے رہتے تھے کہ بلندی اخلاق اور معراج انسانیت کا وہ مرکز جو مدینہ میں قائم ہے اور جو سلطنت کے مادی اقتدار کے مقابلے میں ایک مثالی روحانیت کا مرکز بنا ہوا ہے . یہ کسی طرح ٹوٹ جائے . اسی کے لیے گھبرا گھبرا کر وہ مختلف تدبیریں کرتے تھے۔ امام حسین علیہ السّلام سے بیعت طلب کرنا اسی کی ایک شکل تھی اورپھر امام رضا علیہ السّلام کو ولی عہد بنانا اسی کا دوسرا طریقہ , فقط ظاہری شکل وصورت میں ایک کا اندازہ معاندانہ اور دوسرے کا طریقہ ارادات مندی کے روپ میں تھا مگر اصل حقیقت دونوں صورتوں میں ایک تھی . جس طرح امام حسین علیہ السّلام نے بیعت نہ کی تو وہ شہید کر ڈالے گئے , اسی طرح امام رضا علیہ السّلام ولی عہد ہونے کے باوجود حکومت کے مادی مقاصد کے ساتھ ساتھ نہ چل سکے تو آپ کو زہر کے ذریعے سے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا . اب مامون کے نقطۂ نظر سے یہ موقع انتہائی قیمتی تھا کہ امام رضا علیہ السّلام کا جانشین تقریباًً آٹھ برس کابچہ ہے جو تین برس سے پہلے باپ سے چھڑا لیاجاچکا تھا . حکومت وقت کی سیاسی سوجھ بوجھ کہہ رہی تھی کہ اس بچے کو اپنے طریقے پر لانا نہایت اسان ہے او را س کے بعد وہ مرکز جو حکومت ُ وقت کے خلاف ساکن اورخاموش مگر انتہائی خطرناک قائم ہے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا . مامون امام رضا علیہ السّلام کو ولی عہد ی کی مہم میں اپنی ناکامی کو مایوسی کاسبب نہیں تصور کرتا تھا ,ا س لیے کہ امام رضا علیہ السّلام کی زندگی ایک اصول پر قائم رہ چکی تھی .ا س میں تبدیلی اگر نہیں ہوتی تو یہ ضروری نہیں کہ امام محمد تقی علیہ السّلام جوآٹھ برس کے سن میں قصر حکومت میں نشو نما پا کر بڑھیں وہ بھی بالکل اپنے بزرگوں کے اصول زندگی پر بر قرا ر رہیں . سوائے ان لوگوں کے جوان مخصوص افراد کے خداداد کمالات کو جانتے تھے .اس وقت کا ہر شخص یقیناً مامون ہی کا ہم خیال ہوگا . مگر دنیا تو حیران ہو گئی جب یہ دیکھا کہ وہ آٹھ برس کا بچہ جسے شہنشاہ اسلام کا داماد بنایا گیا ہے اس عمر میں اپنے خاندانی رکھ رکھاؤ اور اصول کا اتنا پابند ہے کہ وہ شادی کے بعد محل شاہی میں قیام سے انکار کردیتا ہے اور اس وقت بھی کہ جب بغداد میں قیام رہتا تو ایک علاحدہ مکان کرایہ پر لے کر اس میں قیام فرماتے ہیں . اس سے بھی امام علیہ السّلام کی مستحکم قوتِ ارادی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے . عموماً مالی اعتبار سے لڑکی والے کچھ بھی بڑا درجہ رکھتے ہوتے ہیں تو وہ یہ پسند کرتے ہیں کہ جہاں وہ رہیں وہیں داماد بھی رہے . اس گھر میں نہ سہی تو کم از کم اسی شہر میں اس کا قیام رہے . مگر امام محمد تقی علیہ السّلام نے شادی کے ایک سال بعد ہی مامون کو حجاز واپس جانے کی اجازت دینے پر مجبور کر دیا . یقیناً یہ امر ایک چاہنے والے باپ اور مامون ایسے بااقتدار کے لیے انتہائی ناگوار تھا مگر اسے لڑکی کی جدائی گوارا کرنا پڑی اور امام علیہ السّلام مع ام الفضل کے مدینہ تشریف لے گئے . مدینہ میں تشریف لانے کے بعد ڈیوڑھی کا وہی انداز رہا جو اس کے بعد پہلے تھا . نہ پہریدار نہ کوئی خاص روک ٹوک , نہ تزک واحتشام نہ اوقات ُ ملاقات نہ ملاقاتیوں کے ساتھ برتاؤں میں کوئی تفریق . زیادہ تر نشست مسجد نبوی میں رہتی تھی جہاں مسلمان حضرات ان کی وعظ ونصیحت سے فائدہ اٹھاتے تھے . راویان ُ حدیث دریافت کرتے تھے . طالب علم مسائل پوچھتے تھے . صاف ظاہر تھا کہ جعفرصادق علیہ السّلام ہی کا جانشین ہے جو اسی مسند علم پر بیٹھا ہوا ہدایت کاکام انجام دے رہا ہے . امور خانہ داری اور ازواجی زندگی میں آپ کے بزرگوں نے ا پنی بیویوں کو جن حدود میں رکھا تھا ان ہی حدود میں آپ نے ام الفضل کو رکھا . آپ نے اس کی مطلق پروا نہیں کی کہ آپ کی بیوی ایک شہنشاہ وقت کی بیٹی ہیں . چنانچہ ام الفضل کے ہوتے آپ نے حضرت عمار یاسررض کی نسل سے ایک محترم خاتون کے ساتھ عقد بھی کیا اور قدرت کو نسلِ امامت اسی خاتون سے باقی رکھنا منظور تھا . یہی امام علی نقی علیہ السّلام کی ماں ہوئیں . ام الفضل نے اس کی شکایت اپنے باپ کے پاس لکھ کر بھیجی . مامون کے د ل کے لیے بھی یہ کچھ کم تکلیف دہ امر نہ تھا . مگر اسے اب اپنے کیے کو نباہنا تھا . اس نے ام الفضل کو جواب لکھا کہ میں نے تمھارا عقد ابو جعفر علیہ السّلام کے ساتھ اس لیے نہیں کیا ہے کہ ان پر کسی حلالِ خدا کو حرام کردوں . مجھ سے اب اس قسم کی شکایت نہ کرنا۔ جواب دے کر حقیقت میں اس نے اپنی خفت مٹائی ہے . ہمارے سامنے اس کی نظیریں موجود ہیں کہ اگر مذہبی حیثیت سے کوئی بااحترام خاتون ہوئی ہے تو اس کی زندگی میں کسی دوسری بیوی سے نکاح نہیں کیا گیا جیسے پیغمبر کے لیے جناب خدیجة علیہ السّلام الکبریٰ اور حضرت علی المرتضیٰ علیہ السّلام کے لیے جناب فاطمہ زہرا علیہ السّلام مگر شہنشاہ دنیا کی بیٹی کو یہ امتیاز دینا صرف اس لیے کہ وہ بادشاہ کی بیٹی ہے . اسلام کی اس روح کے خلاف تھا جس کے ال محمد محافظ تھے اس لیے امام محمدتقی علیہ السّلام نے اس کے خلاف طرزِ عمل اختیار کرنا اپنا فریضہ سمجھا .

تبلیغ و ہدایت

آپ کی تقریر بہت دلکش اور پرتاثیر ہوتی تھی . ایک مرتبہ زمانہ حج میں مکہ معظمہ میں مسلمانوں کے مجمع میں کھڑے ہو کر آپ علیہ السلام نے احکام شرع کی تبلیغ فرمائی تو بڑے بڑے علما دم بخود رہ گئے اور انھیں اقرار کرنا پڑا کہ ہم نے ایسی جامع تقریر کبھی نہیں سنی . امام رضا علیہ السّلام کے زمانہ میں ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا جو امام علیہ السّلام موسیٰ کاظم علیہ السّلام پر توقف کرتا تھا . یعنی آ پ کے بعد امام رضا علیہ السّلام کی امامت کا قا ئل نہیں تھا اور اسی لیے واقفیہ کہلاتا تھا . امام محمد تقی نے اپنے کردار میں اس گروہ میں ایسی کامیاب تبلیغ فرمائی کہ سب اپنے عقیدے سے تائب ہو گئے اور آپ کے زمانہ ہی میں کوئی ایک شخص ایسا باقی نہ رہ گیا جو اس مسلک کا حامی ہو بہت سے بزرگ مرتبہ علما نے آپ سے علوم اہل بیت علیہ السّلام کی تعلیم حاصل کی . آپ کے ایسے مختصر حکیمانہ مقولوں کو بھی ایک ذخیرہ ہے جیسے آپ کے جدِ بزرگوار حضرت امیر المومنین علی علیہ السّلام بن ابی طالب علیہ السّلام کے کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ جناب امیر علیہ السّلام کے بعد امام محمدتقی علیہ السّلام کے مقولوں کو ایک خاص درجہ حاصل ہے . الٰہیات اور توحیدکے متعلق آپ کے بعض بلند پایہ خطبے بھی موجود ہیں .

عراق کا آخری سفر

218 ھجری میں مامون نے دنیا کو خیر باد کہا .اب مامون کا بھائی اور ام الفضل کاچچا موتمن جو امام رضا کے بعد ولی عہد بنایاجاچکا تھا تخت سلطنت پر بیٹھا اور معتصم بالله عباسی کے نام سے مشہور ہوا . اس کے بیٹھتے ہی امام محمد تقی علیہ السّلام سے متعلق ام الفضل کے اس طرح کے شکایتی خطوط کی رفتار بڑھ گئی . جس طرح کہ اس نے اپنے باپ مامون کو بھیجے تھے . مامون نے چونکہ تمام بنی عباس کی مخالفتوں کے بعد بھی اپنی لڑکی کا نکاح امام محمد تقی علیہ السّلام کے ساتھ کر دیا تھا اس لیے اپنی بات کی پچ اور کیے کی لاج رکھنے کی خاطر ا س نے ان شکایتوں پر کوئی خاص توجہ نہیں کی بلکہ مایوس کردینے والے جواب سے بیٹی کی زبان بند کردی تھی مگر معتصم کو جو امام رضا علیہ السّلام کی ولی عہدی کاداغ اپنے سینہ پراٹھائے ہوئے تھا اور امام محمد تقی علیہ السّلام کو داماد بنائے جانے سے تمام بنی عباس کے نمائندے کی حیثیت سے پہلے ہی اختلاف کرنے والوں میں پیش پیش رہ چکا تھا . اب ام الفضل کے شکایتی خطوں کو اہمیت دے کر اپنے اس اختلاف کو جو اس نکاح سے تھا . حق بجانب ثابت کرنا تھا , پھر سب سے زیادہ امام محمد تقی علیہ السّلام کی علمی مرجعیت آپ کے اخلاقی اثر کاشہرہ جو حجاز سے بڑھ کر عراق تک پہنچا ہوا تھا وہ بنائے مخاصمت جو معتصم کے بزرگوں کو امام محمد تقی علیہ السّلام کے بزرگوں سے رہ چکی تھی او ر پھر اس سیاست کی ناکامی اور منصوبے کی شکست کا محسوس ہوجانا جو اس عقد کامحرک ہوا تھا جس کی تشریح پہلے ہوچکی ہے یہ تمام باتیں تھیں کہ معتصم مخالفت کے لیے امادہ ہو گیا . اپنی سلطنت کے دوسرے ہی سال امام محمد تقی علیہ السّلام کو مدینہ سے بغداد کی طرف بلو ابھیجا . حاکم مدینہ عبد المالک کو اس بارے میں تاکید ی خط لکھا . مجبوراً امام محمد تقی علیہ السّلام اپنے فرزند امام علی نقی علیہ السّلام اور ان کی والدہ کو مدینہ میں چھوڑ کر بغداد کی طرف روانہ ہوئے .

شہادت

بغداد میں تشریف لانے کے بعد تقریباًً ایک سال تک معتصم نے بظاہر آپ کے ساتھ کوئی سختی نہیں کی مگر آپ کا یہاں کا قیام خود ہی ایک جبری حیثیت رکھتا تھا جسے نظر بندی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے اس کے بعد اسی خاموش حربے سے جو اکثر اس خاندان کے بزرگوں کے خلاف استعمال کیا جاچکا تھا۔ آپ کی زندگی کاخاتمہ کر دیا گیا اور 92 ذی القعدہ 220ھجری میں زہر سے آپ کی شہادت ہوئی اور اپنے جدِ بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم کے پاس دفن ہوئے .آپ ہی کی شرکت کا لحاظ کرکے عربی کے قاعدے سے اس شہر کانام کاظمین (دوکاظم یعنی غصہ کو ضبط کرنے والے) مشہور ہوا ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے لقب کوصراحةً سامنے رکھا گیا جبکہ موجودہ زمانے میں اسٹیشن کانام جوادّین (دوجواد المعنی فیاض) درج ہے جس میں صراحةً حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کے لقب کو ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چونکہ آپ کا لقب تقی بھی تھا اور جواد بھی۔

رضوی سیّد

عمومی طور پر سادات رضوی تقوی ہیں یعنی حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کی اولاد ہیں . امام رضا علیہ السّلام کی شخصی شہرت سلطنتِ عباسیہ کے ولی عہد ہونے کی وجہ سے جمہور مسلمین میں بہت ہوچکی تھی اس لیے امام محمد تقی علیہ السلام کی اولاد کاحضرت امام رضا علیہ السّلام کی طرف منسوب کرکے تعارف کیاجانے لگا اور رضوی کے نام سے مشہور ہوئے۔

10) حضرت امام علی نقی علیہ السلام

حضرت علی نقی، حضرت محمد تقی کے فرزند اور اہلِ تشیع کے دسویں امام تھے۔

فہرست

1 نام ونسب
2 ولادت اور نشوونما
3 انقلابات سلطنت
4 الام ومصائب
5 وفات

نام ونسب

اسم مبارک علی علیہ السّلام , کنیت ابو الحسن علیہ السّلام اور لقب نقی علیہ السّلام ہے چونکہ آپ سے پہلے حضرت علی مرتضٰی علیہ السّلام اور امام رضا علیہ السّلام کی کنیت ابو الحسن ہو چکی تھی- اس لیے آپ کو ابوالحسن ثالث« کہا جاتا ہے والدہ معظمہ آپ کی سمانہ خاتون تھیں- ولادت اور نشوونما

~05رجب ~0214ئھ مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی- صرف چھ برس اپنے والد بزرگوار کے زیر سایہ ہی زندگی بسر کی-اس کے بعد اس کمسنی ہی کے عالم میں آپ اپنے والد بزرگوار سے جدا ہو گئے- امام محمد تقی علیہ السّلام کو عراق کا سفر درپیش ہوا اور وہیں ~029ذیعقد ~0220ئھ میں حضرت علیہ السّلام کی شہادت ہو گئی- جس کے بعد امامت کی ذمہ داریاں امام علی نقی علیہ السّلام کے کاندھے پر آ گئیں- اس صورت میں سوائے قدرت کی آغوش تربیت کے اور کون سا گہوارہ تھا جسے آپ کے علمی اور عملی کمال کی بلندیوں کا مرکز سمجھا جا سکے-

انقلابات سلطنت

حضرت امام علی نقی علیہ السّلام کے دور امامت میں معتصم کا انتقال ہوا اور واثق باللہ کی حکومت شروع ہوئی~0236ئھ میں واثق دنیا سے رخصت ہوا اور مشہور ظالم و سفاک دشمن اہل بیت علیہ السّلام متوکل تخت حکومت پر بیٹھا- ~0250ئھ میں متوکل ہلاک ہوا اور منتصر باللہ خلیفہ تسلیم کیا گیا- جو صرف چھ مہینہ سلطنت کرنے کے بعد مر گیا , اور مستعین بالله کی سلطنت قائم ہوئی . 353ئھ میں مستعین کو حکوت سے دست بردار ہو کر جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا اور معتز بالله بادشاہ ہوا . یہی امام علی نقی علیہ السّلام کے زمانے کااخری بادشاہ ہوا۔

الام ومصائب

معتصم نے خواہ اپنی ملکی پریشانیوں کی وجہ سے جواسے رومیوں کی جنگ اور بغداد کے دارالسلطنت میں عباسیوں کے فساد وغیرہ کی وجہ سے درپیش تھیں اور خواہ امام علی نقی علیہ السّلام کی کمسنی کاخیال کرتے ہوئے بہر حال حضرت علیہ السّلام سے کوئی تعرض نہیں کیا اور آپ سکون واطمینان کے ساتھ مدینہ منورہ میں اپنے فرائض پورے کر نے میں مصروف رہے . معتصم کے بعد واثق نے بھی آپ کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھایا . مگر متوکل کاتخت سلطنت پر بیٹھنا تھا کہ امام علی نقی علیہ السّلام پر تکالیف کا سیلاب امڈ ایا . یہ واثق کابھائی او معتصم کابیٹا تھا , اور الِ رسول کی دشمنی میں اپنے تمام اباواجداد سے بڑھا ہوا تھا . اس سولہ برس میں جب سے امام علی نقی علیہ السّلام منصب امامت پر فائز ہوئے تھے آپ کی شہرت تمام مملکت میں پھیل چکی تھی اور تعلیمات اہل بیت علیہ السّلام کے پروانے اس شمع ُ ہدایت پر برابر ٹوٹ رہے تھے . ابھی متوکل کی سلطنت کو چار برس ہوئے تھے کہ مدینے کے حکام عبد الله بن حاکم نے امام علیہ السّلام سے مخالفت کا اغاز کیا . پہلے تو خود حضرت کو مختلف طرح کی تکلیفیں پہنچائیں پھر متوکل کو آپ کے متعلق اسی طرح کی باتیں لکھیں جیسی سابق سلاطین کے پاس آپ کے بزرگوں کی نسبت ان کے دشمنوں کی طرف سے پہنچائی جاتی تھیں . مثلاً یہ کہ حضرت علیہ السّلام اپنے گردو پیش اسباب ُ سلطنت جمع کر رہے ہیں . آپ کے ماننے والے اتنی تعداد میں بڑھ گئے ہیں کہ آپ جب چاہیں حکومت کے مقابلہ کے لیے کھڑے ہوسکتے ہیں- حضرت کو اس تحریرکی بروقت اطلاع ہو گئی اور آپ نے اتمام حجت کے طور پراسی کے ساتھ متوکل کے پاس اپنی جانب سے ایک خط تحریر فرما دیا جس میں حال مدینہ کی اپنے ساتھ ذاتی مخالفت کا تذکرہ اور اس کی غلط بیانیوں کا اظہار فرمایا تھا- متوکل نے ازاراہ سیاست امام علی نقی علیہ السّلام کے خط کو وقعت دیتے ہوئے مدینہ کے اس حاکم کو معزول کر دیا مگر ایک فوجی رسالے کو یحیٰی بن ہرثمہ کی قیادت میں بھیج کر حضرت علیہ السّلام سے بظاہر دوستانہ انداز میں باصراریہ خواہش کی کہ آپ مدینہ سے درالسلطنت سامرا# تشریف لا کر کچھ دن قیام فرمائیں اور پھر واپس مدینہ تشریف لے جائیں- امام علیہ السّلام اس التجا کی حقیقت سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے یہ نیاز مندانہ دعوت تشریف آوری حقیقت میں جلا وطنی کا حکم ہے مگر انکار کا کوئی حاصل نہ تھا- جب کہ انکار کے بعد اسی طلبی کے انداز کا دوسری شکل اختیار کر لینا یقینی تھا- اور اس کے بعد روانگی ناگزیر تھی- بے شک مدینہ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہونا آپ کے قلب کے لیے ویسا ہی تکلیف دہ ایک صدمہ تھا جسے اس کے پہلے حضرت امام حسین علیہ السّلام، امام موسٰی کاظم علیہ السّلام، امام رضا علیہ السّلام اور امام محمد تقی علیہ السّلام آپ کے مقدس اور بلند مرتبہ اجداد برداشت کر چکے تھے- وہ اب آپ کے لیے ایک میراث بن چکا تھا- پھر بھی دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ مدینہ سے روانگی کے وقت آپ کے تاثرات اتنے شدید تھے جس سے احباب و اصحاب میں ایک کہرام برپا تھا- متوکل کا عریضہ بارگاہ امام علیہ السّلام میں بڑے اخلاص اور اشتیاق قدم بوسی کا مظہر تھا- فوجی دستہ جو بھیجا گیا تھا وہ بظاہر سواری کے تزک و احتشام اور امام علیہ السّلام کی حفاظت کا ایک سامان تھا مگر جب حضرت علیہ السّلام سامرے میں پہنچ گئے اور متوکل کو اس کی اطلاع دی گئی تو پہلا ہی اس کا افسوسناک رویہ یہ تھا کہ بجائے امام علیہ السّلام کے استقبال یا کم از کم اپنے یہاں بلا کر ملاقات کرنے کے اس نے حکم دیا کہ حضرت کو »خاف الصعالیک« میں اتارا جائے،اس لفظ کے معنی ہی ہیں »بھیک مانگنے والے گداگروں کی سرائے« اس سے جگہ کی نوعیت کا پورے طور پر اندازہ کیا جا سکتا ہے یہ شہر سے دور ویرانے میں ایک کھنڈر تھا- جہاں امام علیہ السّلام کو فروکش ہونے پر مجبور کیا گیا- اگرچہ یہ مقدس حضرات خود فقرائ کے ساتھ ہم نشینی کو اپنے لیے ننگ و عار نہیں سمجھتے تھے اور تکلیفات ظاہری سے کنارہ کش رہتے تھے مگر متوکل کی نیت تو اس طرز عمل سے بہرحال تحقیر کے سوااور کوئی نہیں تھی- تین دن تک حضرت کا قیام یہاں رہا- اس کے بعد متوکل نے آپ کو اپنے حاجب رزاقی کی حراست میں نظر بند کر دیا اور عوام کے لیے آپ سے ملنے جلنے کو ممنوع قرار دیا- وہی بے گناہی اور حقانیت کی کشش جو امام موسٰی کاظم علیہ السّلام کی قید کے زمانہ میں سخت سے سخت محافظین کو کچھ دن کے بعد آپ کی رعایت پر مجبور کر دیتی تھی اسی کا اثر تھا کہ تھوڑے ہی عرصہ بعد رزاقی کے دل پر امام علی نقی علیہ السّلام کی عظمت کا سکہ قائم ہو گیا اور وہ آپ کو تکلیف دینے کی بجائے آرام و راحت کے سامان بہم پہنچانے لگا مگر یہ بات زیادہ عرصہ تک متوکل سے چھپ نہیں سکتی تھی- اسے علم ہو گیا اور اس نے رزاقی کی قید سے نکل کر حضرت علیہ السّلام کو ایک دوسرے شخص سعید کی حراست میں دے دیا- یہ شخص بے رحم اور امام علیہ السّلام کے ساتھ سختی برتنے والا تھا- اسی لیے اس کے تبادلے کی ضرورت نہیں پڑی اور حضرت پورے بارہ برس اس کی نگرانی میں مقید رہے- ان تکالیف کے ساتھ جو اس قید میں تھے حضرت علیہ السّلام شب و روز عبادت الٰہی میں بسر کرتے تھے- دن بھر روزہ رکھنا اور رات بھر نمازیں پڑھنا معمول تھا- آپکا جسم کتنے ہی قید و بند میں رکھا گیا ہو مگر آپ کا ذکر چار دیواری میں محصور نہیں کیا جا سکتا تھا- نتیجہ یہ تھا کہ آپ تو تنگ و تاریک کوٹھڑی میں مقید تھے مگر آپ کا چرچہ سامرے بلکہ شاید عراق کے ہر گھر میں تھا اور اس بلند سیرت و کردار کے انسان کو قید رکھنے پر خلق خدا میں متوکل کے مظالم سے نفرت برابر پھیلتی جا رہی تھی- اب وہ وقت ایا کہ فتح بن خاقان باوجود الِ رسول سے محبت رکھنے کے صرف اپنی قابلیت اپنے تدبر اور اپنی دماغی وعملی صلاحیوتوں کی بنا پر متوکل کاوزیر ہو گیا , تو اس کے کہنے سننے سے متوکل نے امام علی نقی علیہ السّلام کی قیدکو نظر بندی سے تبدیل کر دیا اور آپ کو ایک مکان دے کر مکان تعمیر کرنے اور اپنے ذاتی مکان میں سکونت کی اجازت دے دی مگر اس شرط سے کہ آپ سامرے سے باہر نہ جائیں اور سعید آپ کی نقل وحرکت اور مراسلات وتعلقات کی نگرانی کرتا رہے گا . اس دور میں بھی امام علیہ السّلام کااستغنائے نفس دیکھنے کے قابل تھا . باوجود دارلسلطنت میں مستقل طور پر قیام کے نہ کبھی متوکل کے سامنے کوئی درخواست پیش کی نہ کبھی کسی قسم کے ترحم یا تکریم کی خواہش کی وہی عبادت وریاضت کی زندگی جو قید کے عالم میں تھی . ا س نظر بندی کے دور میں بھی رہی . جو کچھ تبدیلی ہوئی تھی وہ ظالم کے رویّہ میں تھی . مظلوم کی شان جیسے پہلے تھی ویسی ہی اب بھی قائم رہی . اس زمانے میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ امام کو بالکل ارام وسکون کی زندگی بسر کرنے دی جاتی . مختلف طرح کی تکالیف سے آپ کے مکان کی تلاشی لی گئی کہ وہاں اسلحہ ہیں یا ایسے خطوط ہیں جن سے حکومت کی مخالفت کاثبوت ملتا ہے حالانکہ ایسی کوئی چیز ملی نہیں مگر یہ تلاشی ہی ایک بلند اور بے گناہ انسان کے لیے کتنی باعث تکلیف چیز ہے اس سے بڑھ کر یہ واقعہ کہ دربار شاہی میں عین اس وقت آپ کی طلبی ہوتی ہے جب کہ شراب کے دور چل رہے ہیں . متوکل اور تمام حاضرین دربار طرب ونشاط میں غرق ہیں . اس پر طرہ یہ کہ سرکش، بے غیرت اور جاہل بادشاہ حضرت علیہ السّلام کے سامنے جامِ شراب بڑھا کر پینے کی درخواست کرتا ہے . شریعت اسلام کے محافظ معصوم علیہ السّلام کو اس سے جو تکلیف پہنچ سکتی ہے وہ تیر وخنجر سے یقیناً زیادہ ہے مگر حضرت علیہ السّلام نے نہایت متانت اور صبروسکون کے ساتھ فرمایا کہ »مجھے ا س سے معاف کیجئے , میرا میرے اباواجداد کاخون اور گوشت اس سے کبھی مخلوط نہیں ہوا ہے۔,, اگر متوکل کے احساسات میں کچھ بھی زندگی باقی ہوتی تو وہ اس معصومانہ مگر صر شکوہ جواب کا اثر کرتا مگر اس نے کہا کہ اچھا یہ نہیں تو کچھ گانا ہی ہم کو سنائیے . حضرت علیہ السّلام نے فرمایا میں اس فن سے بھی واقف نہیں ہوں .,, اخر اس نے کہا کہ آپ کو کچھ اشعار جس طریقے سے بھی آپ چاہیں بہرحال پڑھنا ضرور پڑھیں گے . کوئی جذبات کی رو میں بہنے والا انسان ہوتا تو اس خفیف الحرکات بادشاہ کے اس حقارت انگیز یاتمسخر امیز برتاؤ سے متاثر ہو کر شاید اپنے توازن دماغی کو کھو دیتا مگر وہ کوہ ُ حلم ووقار , امام علیہ السّلام کی ہستی تھی جو اپنے کردار کو فرائض کی مطابقت سے تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ دارتھی ,منہیات کے دائرہ سے نکل کر جب فرمائش اشعار سنانے تک پہنچی تو امام علیہ السّلام نے موعظہ وتبلیغ کے لیے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر اپنے دل سے نکلی ہوئی پرُ صداقت اواز سے یہ اشعار پڑھنا شروع کردئے جنھوں نے محفل طرب میں مجلس وعظ کی شکل پیدا کردی . یا تو اعلٰی قلل الاجبال تحرسھم ا رہے پہاڑ کی چوٹی پہ پہرے بٹھلا کر واستنز لوا بعد عز من معاقلھم بلند قلعوں کی عزت جو پست ہو کے رہی نادا ہم صارخ من بعد ماد فنوا صدا یہ ان کو دی ہاتف نے بعد دفن لحد این الوجوہ التی کانت مجعبة کہاں وہ چہرے ہیں جو تھے ہمیشہ زیر نقاب فافصح القبر عنھم حین سائلھم زبان حال سے بولے جواب میں مدفن قد طال ما اکلوا فیھا و ہم شربوا غذائیں کھائیں شرابیں جو پی تھیں حدے سوا غلب الرجال فما اغنتھم القلل بہادروں کی حراست میں بچ سکے نہ مگر الٰی مقابر ہم یا بکسما نزلوا تو کنج قبر میں منزل بھی کیا بری پائی این الاسیرة والتیجان والحلل کہاں ہیں تخت، وہ تاج اور وہ لباس جسد من دونھا تضرب الاستار و الکلل غبار جن پہ کبھی آنے دیتے تھے نہ حجاب تللک الوجوہ علیھا ادود تنتقل وہ رخ زمین کے کیڑوں کا بن گئے مسکن فاصبحوا بعد طول الاکل قد اکلوا نتیجہ اس کا ہے خود آج بن گئے وہ غذا اشعار کچھ ایسے حقیقی تاثرات کے ساتھ امام علیہ السّلام کی زبان سے ادا ہوئے تھے کہ متوکل کے عیش ونشاط کی بساط الٹ گئی . شراب کے پیالے ہاتھوں سے چھوٹ گئے اور تمام مجمع زارو قطار رونے لگا . یہاں تک کہ خود متوکل ڈاڑھیں مار مار کر بے اختیار رو رہا تھا . جوں ہی ڈارا ناموقوف ہوا اس نے امام علیہ السّلام کو رخصت کر دیا اور آپ اپنے مکان پر تشریف لے گئے . ایک اورنہایت شدید روحانی تکلیف جو امام علیہ السّلام کو اس دور میں پہنچی وہ متوکل کے تشدّد احکام تھے جو نجف اور کربلا کے زائرین کے خلاف ا س نے جاری کیے . اس نے یہ حکم دان تمام قلم رو حکومت میں جاری کر دیا کہ کوئی شخص جناب امیر علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام کے روضوں کی زیارت کو نہ جائے , جو بھی اس حکم کی مخالفت کرے گا اس کا خون حلال سمجھا جائے گا- اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے حکم دیا کہ نجف اور کربلا کی عمارتیں بالکل گرا کر زمین کے برابر کردی جائیں . تمام مقبرے کھود ڈالے جائیں اور قبر امام حسین علیہ السّلام کے گرد وپیش کی تمام زمین پر کھیت بودیئے جائیں . یہ ناممکن تھا کہ زیارت کے امتناعی احکام پر اہل بیت رسول کے جان نثار اسانی کے ساتھ عمل کرنے کے لیے تیار ہوجاتے . نتیجہ یہ ہوا کہ اس سلسلہ میں ہزاروں بے گناہوں کی لاشیں خاک وخون میں تڑپتی ہوئی نظر ائیں کیا اس میں شک ہے کہ ان میں سے ہر ایک مقتول کا صدمہ امام علیہ السّلام کے دل پر اتنا ہی ہوا تھا جتنا کسی اپنے ایک عزیز کے بے گناہ قتل کیے جانے کاحضرت علیہ السّلام کو ہو سکتا تھا . پھر آپ تشدّد کے ایک ایسے ماحول میں گھیر رکھے گئے تھے کہ آپ وقت کی مناسبت کے لحاظ سے ان لوگوں تک کچھ مخصوص ہدایات بھی نہیں پہنچاسکتے تھے جو ان کے لیے صحیح فرائض شرعیہ کے ذیل میں اس وقت ضروری ہوں یہ اندوہناک صورتِ حال ایک دوبرس نہیں بلکہ متوکل کی زندگی کے اخری وقت تک برابر قائم رہی . اور سنیئے کہ متوکل کے دربار میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السّلام بن ابی طالب علیہ السّلام کی نقلیں کی جاتی تھی اور ان پر خود متوکل اور تمام اہل دربار ٹھٹے لگاتے تھے . یہ ایسا اہانت امیز منظر تھا کہ ایک مرتبہ خود متوکل کے بیٹے سے رہا نہ گیا . اس نے متوکل سے کہا کہ خیر آپ اپنی زبان سے حضرت علی علیہ السّلام کے بارے میں کچھ الفاظ استعمال کریں مگر جب آپ کو ان کا عزیز قرار دیتے ہیں تو ان کم بختوں کی زبان سے حضرت علی علیہ السّلام کے خلاف ایسی باتوں کو کیونکر گوارا کرتے ہیں اس پر بجائے کچھ اثر لینے کے متوکل نے اپنے بیٹے کافحش امیز تمسخر کیا اور دو شعر نظم کرکے گانے والوں کو دیے جس میں خود اس کے فرزند کے لیے ماں کی گالی موجود تھی . گویّے ان شعروں کو گاتے تھے اور متوکل قہقے لگاتا تھا . اسی دور کا ایک واقعہ بھی کچھ کم قابل افسو س نہیں ہے ابن السکیت بغدادی علم نحوولغت کے امام مانے جاتے تھے اور متوکل نے اپنے دو بیٹوں کی تعلیم کے لیے انھیں مقرر کیا تھا . ایک دن متوکل نے ان سے پوچھا کہ تمھیں میرے ان دونوں بیٹوں سے زیادہ محبت ہے یا حسن علیہ السّلام وحسین علیہ السّلام سے ابن السکیت محبت اہل بیت علیہ السّلام رکھتے تھے اس سوال کو سن کر بیتاب ہو گئے اور انھوں نے متوکل کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر بے دھڑک کہ دیا کہہ حسن علیہ السّلام وحسین علیہ السّلام کا کیا ذکر , مجھے تو علی علیہ السّلام کے غلام قمبررض کے ساتھ ان دونوں سے کہیں زیادہ محبت ہے . اس جواب کا سننا تھا کہ متوکل غصّے سے بیخود ہو گیا , حکم دیا کہ ابن السکیت کی زبان گدی سے کھینچ لی جائے . یہی ہو اور اس طرح یہ ال ُ رسول کے فدائی درجہ شہادت پر فائز ہوئے . ان واقعات کابراہ راست جسمانی طور پر حضرت امام علی نقی سے تونہ تھا مگر بخدا ان کی ہر ہر بات ایک تلوار کی دھار تھی جو گلے پر نہیں دل پر چلا کرتی تھی , متوکل کاظالمانہ رویّہ ایسا تھا جس سے کوئی بھی دور یا نزدیک کا شخص ا س سے خوش یامطمئن نہیں تھا . حدیہ ہے کہ اس کی اولاد تک اس کی جانی دشمن ہو گئی تھی , چنانچہ اسی کے بیٹے منتصر# نے ا س کے بڑے مخصوص غلام باغر# رومی کو ملا کر خود متوکل ہی کی تلوار سے عین اس کی خواب گاہ میں اس کو قتل کرادیا . جس کے بعد خلائق کو اس ظالم انسان سے نجات ملی اور منتصرکی خلافت کا علان ہو گیا . منتصر# نے تخت ُ حکومت پر بیٹھتے ہی اپنے باپ کے متشد انہ احکاکم کو یکلخت منسوخ کر دیا۔ نجف اور کربلا زیارت کے لیے عام اجازت دے دی اور ان مقدس روضوں کی کسی حد تک تعمیر کرادی . امام علی نقی علیہ السّلام کے ساتھ بھی اس نے کسی خاص تشدد کا مظاہرہ نہیں کی مگر منتصر کی عمر طولانی نہیں ہوئی . وہ چھ مہینہ کے بعد دنیا سے اٹھ گیا منتصر# کے بعد مستعین کی طرف سے امام علیہ السّلام کے خلاف کسی خاص بدسلوکی کا برتاوؤ نظر نہیں اتا . امام علیہ السّلام نے چونکہ مکان بنا کر مستقل قیام اختیار فرمالیا تھا اس لیے یا تو خود آپ ہی نے مناسب نہ سمجھا یا پھر ان بادشاہوں کی طرف سے آپ کے مدینہ واپس جانے کو پسند نہیں کیا گیا ہو . بہر حال جو بھی وجہ ہو قیام آپ کا سامرہ ہی میں رہا . اتنے عرصے تک حکومت کی طرف سے مزاحمت نہ ہونے کی وجہ سے علوم اہلبیت علیہ السّلام کے طلب گارذرا اطمینان کے ساتھ کثیر تعداد میں اپ سے استفادہ کے لیے جمع ہونے لگے جس کی وجہ سے مستعین# کے بعد معتز# کو پھر آپ سے صر خاش پیدا ہوئی اور اس نے آپ کی زندگی ہی کاخاتمہ کر دیا .

اخلاق واوصاف

حضرت کی سیرت اوراخلاق وکمالات وہی تھے جو اس سلسلئہ عصمت کے ہر فرد کے اپنے اپنے دور میں امتیازی طور پر مشاہدہ میں اتے رہے تھے . قید خانے اور نظر بندی کاعالم ہو یا آزادی کا زمانہ ہر وقت اور ہر حال میں یاد الٰہی , عبادت , خلق ُ خدا سے استغنائ ثبات قدم , صبر واستقلال مصائب کے ہجوم میں ماتھے پر شکن نہ ہونا دشمنوں کے ساتھ بھی حلم ومرّوت سے کام لینا ,محتاجوں اور ضرورت مندوں کی امداد کرنا یہی اورصاف ہیں جو امام علیہ السّلام علی نقی علیہ السّلام کی سیرت زندگی میں بھی نمایاں نظر اتے ہیں . قید کے زمانہ میں جہاں بھی آپ رہے آپ کے مصلے کے سامنے ایک قبر کھدی ہوئی تیار تھی . دیکھنے والوں نے جب ا س پر حیرت ودہشت کااظہار کیا تو آپ نے فرمایا میں اپنے دل میں موت کاخیال قائم رکھنے کے لیے یہ قبر اپنی نگاہوں کے سامنے تیار رکھتا ہوں . حقیقت میں یہ ظالم طاقت کو اس کے باطل مطالبہ اطاعت اور اس کے حقیقی تعلیمات کی نشرواشاعت کے ترک کردینے کی خواہش کا ایک خاموش اور عملی جواب تھا۔ یعنی زیادہ سے زیادہ سلاطین وقت کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ جان کا لے لینا مگر جو شخص موت کے لیے اتنا تیار ہو کہ ہر وقت کھدی ہوئی قبر اپنے سامنے رکھے وہ ظالم حکومت سے ڈر کر سرتسلیم خم کرنے پر کیونکر مجبور کیا جاسکتا ہے مگر اس کے ساتھ دنیوی سازشوں میں شرکت یاحکومت وقت کے خلاف کسی بے محل اقدام کی تیاری سے آپ کا دامن اس طرح بری رہا کہ باوجود دار سلطنت کے اندر مستقل قیام اور حکومت کے سخت ترین جاسوسی نظام کے کبھی آپ کے خلاف کوئی الزام صحیح ثابت نہیں ہو سکا اور کبھی سلاطین وقت کوکوئی دلیل آپ کے خلاف تشدد کے جواز کی نہ مل سکی باوجود یہ کہ سلطنت عباسیہ کی بنیادیں اس وقت اتنی کھوکھلی ہو رہی تھیں کہ دارالسلطنت میں ہر روز ایک نئی سازش کافتنہ کھڑا ہوتا تھا . متوکل سے خود اس کے بیٹے منتصر کی مخالفت اور اس کے انتہائی عزیز غلام باغر# رومی کی اس سے دشمنی , منتصر کے بعد امرائے حکومت کاانتشار اور اخر متوکل کے بیٹوں کوخلافت سے محروم کرنے کا فیصلہ مستعین کے دور ُ حکومت میں یحییٰ بن عمر بن یحییٰ حسین بن زید علوی کا کوفہ میں خروج اور حسن بن زید المقلب بداعی الحق کا علاقہ , طبرستان پر قبضہ کرلینا اور مستقل سلطنت قائم کر لینا , پھر دار السلطنت میں ترکی غلاموں کی بغاوت مستعین کاسامرے کو چھوڑ کر بغدادکی طرف بھاگنا اور قلعہ بند ہوجانا , اخر کو حکومت سے دستبرادی پر مجبور ہونا او کچھ عرصہ کے بعد معتز بالله کے ہاتھ سے تلوار کے گھاٹ اترنا پھر معتزبالله کے دور میں رومیوں کا مخالفت پر تیار رہنا، معتزبالله کو خود اپنے بھائیوں سے خطرہ محسوس ہونا اور موید# کی زندگی کا خاتمہ اور موفق کا بصرہ میں قید کیا جانا- ان تمام ہنگامی حالات، ان تمام شورشوں، ان تمام بے چینیوں اور جھگڑوں میں سے کسی میں بھی امام علی نقی علیہ السّلام کی شرکت کا شبہ تک نہ پیدا ہونا کیا اس طرز عمل کے خلاف نہیں ہے جو ایسے موقعوں پر جذبات سے کام لینے والے انسانوں کا ہوا کرتا ہے- ایک ایسے اقتدار کے مقابلے میں جسے نہ صرف وہ حق و انصاف کی رو سے ناجائز سمجھتے ہیں بلکہ اس کی بدولت انہیں جلاوطنی، قید اور اہانتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے مگر وہ جذبات سے بلند اور عظمت نفس کا کامل مظہر دینوی ہنگاموں اور وقت کے اتفاقی موقعوں سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا اپنی بے لوث حقانیت اور کوہ سے بھی گراں صداقت کے خلاف سمجھتا ہے اور مخالف پرپس پشت سے حملہ کرنے کو اپنے بلند نقطئہ نگاہ اور معیارعمل کے خلاف جانتے ہوئے ہمیشہ کنارہ کش رہتا ہے۔

وفات

معتز باللّٰہ کے دور میں تیسری رجب ~0254ئھ کو سامرے میں آپ نے رحلت فرمائی۔ اس وقت آپ کے پاس صرف آپ کے فرزند امام حسن عسکری علیہ السّلام موجود تھے- آپ ہی نے اپنے والد بزرگوار کی تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ کے فرائض انجام دیے اور اسی مکان میں جس میں حضرت علیہ السّلام کا قیام تھا۔ ایوان خاص میں آپ کو دفن کر دیا وہیں اب آپ کا روضہ بنا ہوا ہے اور عقیدت مند زیارت سے شرف یاب ہوتے ہیں۔

11) حضرت امام حسن علی عسکری علیہ السلام

حضرت حسن عسکری، حضرت علی نقی کے فرزند اور اہلِ تشیع کے گیارہویں امام تھے۔

ابو محمد علیہ السّلام کنیت حسن علیہ السّلام نام اور سامرہ کے محلہ عسکر میں قیام کی وجہ سے عسکری علیہ السّلام مشہور لقب ہے والد بزرگوار حضرت امام علی نقی علیہ السّلام اور والدہ سلیل خاتون تھیں جو عبادت , ریاضت عفت اور سخاوت کے صفات میں پانے طبقے کے لیے مثال کی حیثیت رکھتی تھیں .

ولادت

08 ربیع الثانی 232ھ مدینہ منورہ میں ہوئی۔

نشوو نما اور تربیت

بچپن کے گیارہ سال تقریباً اپنے والد بزرگوار کے ساتھ وطن میں رہے جس کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ زمانہ اطمینان سے گزرا۔ اس کے بعد امام علی نقی علیہ السّلام کو سفر عراق درپیش ہو گیا اور تمام متعلقین کے ساتھ ساتھ امام حسن عسکری علیہ السّلام اسی کم سنی کے عالم میں سفر کی زحمتوں کو اٹھا کر سامرے پہنچے۔ یہاں کبھی قید کبھی آزادی , مختلف دور سے گزرنا پڑا مگر ہر حال میں آپ اپنے بزرگ مرتبہ باپ کے ساتھ ہی رہے۔ اس طرح باطنی اور ظاہری طور پر ہر حیثیت سے آپ علیہ السّلام کو اپنے والد بزرگوار کی تربیت وتعلیم سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکا۔ زمانہ امامت

254ھجری میں آپ کی عمر بائیس برس کی تھی جب آپ کے والد بزرگوار حضرت امام علی نقی علیہ السّلام کی وفات ہوئی حضرت علیہ السّلام نے اپنی وفات سے چار مہینہ قبل آپ کے متعلق اپنے وصی وجانشین ہونے کااظہار فر ما کر اپنے اصحاب کی گواہیاں لے لی تھیں۔ اب امامت کی ذمہ داریاں امام حسن عسکری علیہ السّلام کے متعلق جنھیں آپ باوجود شدیدمشکلات اور سخت ترین ماحول کے ادا فرماتے رہے۔

سلاطین وقت اور ان کا رویہ

جیسا کہ ا س سے پہلے ضمناً بیان ہوا امام حسن عسکری علیہ السّلام کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ ان تمام تکالیف اور مصائب میں بھی شریک رہے جو آپ کے والد بزرگوور کو حراست اور نظر بندی کے ذیل میں بھی متعدد بار برداشت کرنا پڑے۔ ا س کے بعد جب آپ کا دور ُ امامت شروع ہوا ہے تو سلطنت بنی عباس کے تخت پر معتز بالله عباسی کا قیام تھا۔ معتز کی معزولی کے بعد مہدی# کی سطنت ہوئی۔ گیارہ مہینے چند روز حکومت کرنے کے بعد اس کا خاتمہ ہوا اور معتمد#کی حکومت قائم ہوئی , ان میں سے کوئی ایک بادشاہ بھی ایسا نہ تھا جس کے زمانہ میں امام حسن عسکری علیہ السّلام کو ارام وسکون ملتا , باوجود یہ کہ اس وقت بنی عباس بڑی سخت الجھنوں او رپیچیدگیوں میںگرفتار تھی مگر ان تمام سیاسی مسائل اور مشکلات کے ساتھ ہر حکومت نے امام حسن عسکری علیہ السّلام کو قید وبند میں رکھنا سب سے زیادہ ضروری سمجھا۔ اس کا خاص سبب رسول خدا کی یہ حدیث تھی کہ میرے بعد بارہ جانشین ہو ں گے اور ان میں سے اخری مہدی اخر الزمان اور قائمِ الِ محمد ہوگا۔ یہ حدیث برابر متواتر طریقہ سے عالم ُ اسلام میں گردش کرتی رہی تھی۔

خلفائے بنی عباس خوب جانتے تھے کہ سلسلہ الِ محمد کے وہ افراد جو رسول کی صحیح جانشینی کے مصداق ہوسکتے ہیں وہ یہی افراد ہیں جن میں سے گیارہویں ہستی امام حسن عسکری علیہ السّلام کی ہے اس لیے ان ہی کا فرزند وہ ہو سکتا ہے جس کے بارے میں رسول کی پشین گوئی صحیح قرارپاسکے۔ لٰہذا کوشش یہ تھی کہ ان کی زندگی کادنیا سے خاتمہ ہو جائے اس طرح کہ ان کا کوئی جانشین دنیا میں موجود نہ ہو۔ یہ سبب تھاکہ امام حسن عسکری علیہ السّلام کے لیے اس نظر بندی پر اکتفا نہیں کی گئی جو امام علی نقی علیہ السّلام کے لیے ضروری سمجھی گئی تھی بلکہ آپ کے لیے اپنے گھربار سے الگ قید تنہائی کو ضروری سمجھا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ قدرتی انتظام کے تحت درمیان میں انقلاب سلطنت کے وقفے آپ کی قیدمسلسل کے بیچ میں قہری رہائی کے سامان پیدا کردیتے تھے مگر پھر بھی جو بادشاہ تخت سلطنت پر بیٹھتا تھا وہ اپنے پیش رو کے نظریہ کے مطابق آپ کو دوبارہ قید کرنے پر تیار ہوجاتا تھا۔ اس طرح آپ کی مختصر زندگی جو دور ُ امامت کے بعد اس کا بیشتر حصہ قید وبند ہی میں گزرا۔ اس قید کی سختی معتمد کے زمانے میں بہت بڑھ گئی تھی , اگر چہ وہ قتل دیگر سلاطین کے آپ کے مرتبہ اور حقانیت سے خوب واقف تھا چنانچہ جب قحط کے موقع پر ایک مسیحی راہب کے دعوے کے ساتھ پانی برسانے کی وجہ سے مسلمانوں میں ارتداد کا فتنہ برپا ہوا اور لوگ عیسائت کی طرف دوڑنے لگے تو مسلمانوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے وہ امام حسن عسکری علیہ السّلام ہی تھے جو قید خانے سے باہر لائے گئے ,آپ نے مسلمانوں کے شکوک کو دور کرکے انھیں اسلام کے جادہ پر قائم رکھا۔ اس واقعہ کااثر اتنا ہوا کہ اب معتمد کو آپ کے پھر اسی کو قید خانے میں واپس کرنے میں خجالت دامنگیر ہوئی۔ اس لیے آپ کی قید کو آپ کے گھر میں نظر بندی کے ساتھ تبدیل کر دیا گیا مگر آزادی پھر بھی نصیب نہ ہو سکی۔

سفرائ کاتقرر

ائمہ اہل بیت جس حال میں بھی ہوں ہمیشہ کسی نہ کسی صورت سے امامت کے فرائض کو انجام دیتے رہتے تھے۔ امام حسن عسکری علیہ السّلام پر اتنی شدید پابندیاں عائد تھیں کہ علوم ُ اہل بیت علیہ السّلام کے طلبگاروں اور شریعت ُ جعفری کے مسائل دریافت کرنے والوں کا آپ تک پہنچنا کسی صور ت ممکن نہیں تھا۔ اس لیے حضرت علیہ السّلام نے اپنے زمانہ میں یہ انتظام کیا کہ ایسے افراد جو امانت ودیانت نیزعلمی و فقہی بصیرت کے اس درجہ حامل تھے کہ امام علیہ السّلام کے محل اعتماد ہوسکیں انھیں اپنی جانب سے آپ نے نائب مقرر کر دیا تھا۔ یہ حضرات جہاں تک کہ خود اپنے واقفیت کے حدود میں دیکھتے تھے اس حد تک مسائل خود ہی بتادیتے تھے اور وہ اہم مسائل جوان کی دسترس سے باہر ہوتے تھے انھیں اپنے پاس محفوظ رکھتے تھے او ر کسی مناسب موقع پر امام علیہ السّلام کی خدمت میں رسائی حاصل کرکے ان کو حل کرالیتے تھے کیونکہ ایک شخص کا کبھی کبھی امام علیہ السّلام سے ملاقات کو اجانا حکومت کے لیے اتنا ناقابل برداشت نہیں ہو سکتا تھا جتنا کہ عوام کی جماعتوں کو مختلف اوقات میں حضرت علیہ السّلام تک پہنچنا۔ ان ہی سفرائ کے ذریعے سے ایک اہم خدمت بھی انجام پائی جاتی تھی۔ وہ یہ کہ خمس جو حکومت ُ الٰہیہ کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے اس نظام ُحکومت کو تسلیم کرنے والے ہمیشہ ائمہ معصومین علیہ السّلام کی خدمت میں پہنچاتے رہے او ران بزرگوں کی نگرانی میں وہ ہمیشہ دینی امور کے انصرام اور سادات کی تنظیم وپرورش میں صرف ہوتا رہا اب وہ راز دارانہ طریقہ پر ان ہی نائبوں کے پاس اتا تھا اور یہ امام علیہ السّلام سے ہدایت حاصل کرکے انھیں ضروری مصارف میں صرف کرتے تھے یہ افراد اس حیثیت میں بڑے سخت امتحان کی منزل میں تھے کہ ان کو ہ وقت سلطنت وقت کے جاسوں کی سراغرسانی کا ا ندیشہ رہتا تھا۔ اسی لیے عثمانرض بن سعید اور ان کے بیٹے ابو جعفر محمدرض بن عثمان نے جو امام حسن عسکری علیہ السّلام کے ممتاز نائب تھے ا ور عین دارلسلطنت بغداد میں مقیم تھے اپنے اس متعلقہ افراد کی امدورفت کو حق بجانب قرار دینے کے لیے ایک بڑی دکان روغنیات کی کھول رکھی تھی۔ اس طرح حکومت جو رکے شدید شکنجہ ظلم کے اندر بھی حکومتِ الٰہیہ کا ائینی نظام چل رہا تھا اور حکومت کا کچھ بس نہ چلتا تھا۔

اخلاق واوصاف

آپ اسی سلسلہ عصمت کی ایک لڑی تھے جس کا ہر حلقہ انسانی کمالات کے جواہر سے مرصع تھا , علم وحلم , عفو وکرم , سخاو ت وایثار سب ہی اوصاف بے مثال تھے۔ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ا س زمانے میں بھی کہ جب آپ سخت قید میں تھے معتمد نے جس سے آپ کے متعلق دریافت کیا یہی معلوم ہوا کہ آپ دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر نمازیں پڑھتے ہیں اور سوائے ذکر الٰہی کے کسی سے کوئی کلام نہیں فرماتے , اگرچہ آپ کو اپنے گھر پر آزادی کے سانس لینے کا موقع بہت کم ملا۔ پھر بھی جتنے عرصہ تک قیام رہا اور دور دراز سے لوگ آپ کے فیض و عطا کے تذکرے سن کر اتے تھے اور بامراد واپس جاتے تھے۔ آپ کے اخلاق واوصاف کی عظمت کا عوام وخواص سب ہی کے دلوں پر سکہ قائم تھا۔ چنانچہ جب احمد بن عبد الله بن خاقان کے سامنے جو خلیفہ عباسی کی طرف سے شہر قم کے اوقات وصدقات کے شعبہ کا افسر اعلیٰ تھا سادات علوی کاتذکرہ اگیا تو وہ کہنے لگا کہ مجھے کوئی حسن علیہ السّلام عسکری سے زیادہ مرتبہ اور علم دورع , زہدو عبادت ,وقار وہیبت , حیاوعفت , شرف وعزت اور قدرومنزلت میں ممتاز اور نمایاں نہں معلوم ہوا۔ اس وقت جب امام علیہ السّلام علی نقی علیہ السّلام کا انتقال ہوا اور لوگ تجہیز وتکفین میں مشغول تھے تو بعض گھر کے ملازمین نے اثاث اللبیت وغیرہ میں سے کچھ چیزیں غائب کر دیں اور انھیں خبر تک نہ تھی کہ امام علیہ السّلام کو اس کی اطلاع ہو جائے گی۔ جب تجہیز اور تکفین وغیرہ سے فراغت ہوئی تو آپ نے ان نوکروں کو بلایا اور فرمایا کہ جو کچھ پوچھتا ہوں اگر تم مجھ سے سچ سچ بیان کرو گے تو میں تمھیں معاف کردوں گا اور سزا نہ دوں گا لیکن اگر غلط بیانی سے کام لیا تو پھر میں تمھارے پاس سے سب چیزیں بر امد بھی کرالوں گا اور سزا بھی دوں گا۔ اس کے بعد آپ نے ہر ایک سے ان اشیا ئ کے متعلق جو اس کے پا س تھیں دریافت کیا اور جب انھوں نے سچ بیان کر دیا تو ان تمام چیزوں کو ان سے واپس لے کر آپ نے ان کو کسی قسم کی سزا نہ دی اور معاف فرمادیا۔

علمی مرکزیت

باوجود یہ کہ آپ کی عمر بہت مختصر ہوئی یعنی صرف اٹھائیس بر س مگر اس محدود اور مشکلات سے بھری ہوئی زندگی میں بھی آپ کے علمی فیوض کے دریا نے بڑے بڑے بلند پایہ علمائ کو سیراب ہونے کا موقع دیا نیز زمانے کے فلاسفہ کا جو دہریت اور الحاد کی تبلیغ کر رہے تھے مقابلہ فرمایا جس میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ ان میں ایک اسحٰق کندی کاواقعہ یہ ہے کہ یہ شخص قران مجید کے ایات کے باہمی تناقص کے متعلق ایک کتاب لکھ رہاتھا۔ یہ خبر امام حسن عسکری علیہ السّلام کو پہنچی اور آپ موقع کے منتظر ہو گئے۔ اتفاق سے ایک روز ابو اسحٰق کے کچھ شاگرد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں کوئی اتنا سمجھدارادمی نہیں جو اپنے استاد کندی کو ا س فضول مشغلے سے روکے جو انھوں نے قران کے بارے میں شروع کر رکھا ہے , ان طلاّب نے کہا , حضور ! ہم تو ان کے شاگرد ہیں , ہم بھلا ان پر کیا اعتراض کرسکتے ہیں ? حضرت علیہ السّلام نے فرمایا ! اتنا تو تم کرسکتے ہو جو کچھ باتیں میں تمھیں بتاؤں وہ تم ان کے سامنے پیش کردو , طلاب نے کہا !جی ہاں ہم اتنا کرسکتے ہیں۔ حضرت نے کچھ ایتیں قران کی جن کے متعلق باہمی اختلاف کا تو ہم ّ ہو رہا تھا پیش فرما کر ان سے کہا کہ تم اپنے استاد سے اتنا پوچھو کہ کیا ان الفاظ کے بس یہی معنی ہیں جن کے لحاظ سے وہ تنا قص ثابت کر رہے ہیں اور اگر کلام ُ عرب کے شواہد سے دوسرے متعارف معنٰی کل ائیں جن کے بنا پر الفاظ قران میں باہم کوئی اختلافات نہ رہے تو پھر انھیں کیا حق ہے کہ وہ اپنے ذہنی خود ساخة معنی کو متکلم قرآنی کی طرف منسوب کرکے تناقص واختلاف کی عمارت کھڑی کریں , اس ذیل میں آپ نے کچھ شواہد کلامِ عرب کے بھی ان طلاّب کے ذہن نشین کرائے۔ ذہین طلاّ ب نے وہ پوری بحث اور شواہد کے حوالے محفوظ کرلیے اور اپنے استاد کے پاس جا کر ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد یہ سوالات پیش کر دیے۔ آدمی بہرحال وہ منصف مزاج تھا اس نے طلاّ ب کی زبانی وہ سب کچھ سنا اور کہا کہ یہ باتیں تمہاری قابلیت سے بالا تر ہیں۔ سچ سچ بتانا کہ یہ تمھیں معلوم کہاں سے ہوئیں پہلے تو ان طالب علموں نے چھپانا چاہا اور کہا کہ یہ چیزیں خو د ہمارے ذہن میں ائی ہیں مگر جب اس نے سختی کے ساتھ انکار کیا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا تو انھوں نے بتایا کہ ہمیں ابو محمد، حسن عسکری علیہ السّلام نے یہ باتیں بتائی ہیں یہ سن کر اس نے کہا کہ سوائے اس گھرانے کے اور کہیں سے یہ معلومات حاصل ہی نہیں ہوسکتے تھے۔ پھر اس نے اگ منگوائی اور جو کچھ لکھا تھا ,نذر اتش کر دیا ایسے کتنے ہی علمی اور دینی خدمات تھے جو خاموشی کے ساتھ انجام پا رہے تھے اور حکومت وقت جو محافظت اسلام کی دعویدار تھی۔ اپنے عیش وطرب کے نشے میں مدہوش تھی یا پھر چونکتی تھی بھی تو ایسے مخلص حامی اسلام کی طرف سے اپنی سلطنت کے لیے خطرہ محسوس کرکے ان پر کچھ پابندیاں بڑھادیئے جانے کے احکام نافذ کرتی تھی , مگر اس کو هِ گراں کے صبرو استقال میں فرق نہ ایا تھا۔ جو امع حدیث میں محدثین اسلام نے آپ کی سند سے احادیث نقل کیے ہیں ان میں سے ایک خاص حدیث شراب خواری کے متعلق ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ شارب الخمر کعابد الصنم«» شراب پینے والا مثل بت پرست کے ہے۔,, اس کو ابن الجوزی نے اپنی کتاب تحریم الخمر میں سند ُ متصل کے ساتھ درج کیا ہے اور ابو نعیم فضل بن وکیل نے کہ ہے کہ یہ حدیث صحیح ثابت ہے جس کی اہلبیت علیہ السّلام طاہرین نے روایت کی ہے اور صحابہ میں سے ایک گروہ نے بھی اس کی رسول خدا سے روایت کی ہے جیسے ابن عباس , ابو ہریرہ , احسان بن ثابت , سلمی اور دوسرے حضرات۔ سمعانی نے کتاب النساب میں لکھا ہے کہ »ابو محمد احمد بن ابراہیم بن ہاشم علوی بلاذری حافظ واعظ نے مکہ معظمہ میں امام اہل بیت ابو محمد حسن بن علی بن محمد بن علی موسیٰ الرضا علیہ السّلام سے احادیث سن کر قلم بند کیے -,, ان کے علاوہ حضرت علیہ السّلام کے تلامذہ میں سے چند باوقار ہستیوں کے نام درج ذیل ہیں جن میں سے بعض نے حضرت علیہ السّلام کے علمی افادات کو جمع کرکے کچھ کتابیں بھی تصنیف کیں۔ ~01۔ ابو ہاشم داؤد بن قاسم جعفری سن رسیدہ عالم تھے۔ انھوں نے امام رضا علیہ السّلام سے امام حسن عسکری علیہ السّلام تک چار اماموں کی زیارت کی اور ان بزرگواروں سے فیوض بھی حاصل کیے وہ امام علیہ السلام کی طرف سے نیابت کے درجہ پر فائز تھا۔ ~02۔ داؤد بن ابی زید نیشاپوری امام علی نقی علیہ السّلام کے بعد امام حسن عسکری علیہ السّلام کی صحبت سے شرف یاب ہوئے۔ ~03۔ ابو طاہر محمد بن علی بن بلال۔ ~04. ابو العباس عبد الله بن جعفر حمیری قمی بڑے بلند پائہ عالم بہت سی کتابوں کے مصنف تھے۔ جن سے قرب السناد کتاب اس وقت تک موجود ہے اور کافی# وغیرہ کے ماخذوں میں سے ہے۔ ~05۔ محمد بن احمد جعفر قمی حضرت علیہ السّلام کے خاص نائبین میں سے تھے۔ ~06۔ جعفر بن سہیل صقیل۔ یہ بھی نائب خاص ہونے کا شرف رکھتے تھے۔ ~07۔ محمد بن حسن صفارقمی , بڑے بلند مرتبہ کے عالم متعدد کتابوں کے مصنف ہیں جن میں سے بصائر الدرجات مشہور کتاب ہے , انھوں نے امام حسن عسکری علیہ السّلام کی خدمت میں تحریر ی مسائل بھیج کر ان کے جوابات حاصل کیے۔ ~08. ابو جعفر ہامنی برمکی نے امام حسن عسکری علیہ السّلام سے مسائل ُ فقہ کے جوابات حاصل کرکے کتاب مرتب کی۔ ~09۔ ابراہیم بن ابی حفص ابو اسحٰق کاتب حضرت علیہ السّلام کے اصحاب میں سے ایک کتاب کے مصنف ہیں۔ ~010۔ ابراہیم بن مہر یار مصنف کتاب البشارت۔ ~011۔ احمد بن ابراہیم بن اسمعٰیل بن داؤد بن حمدان الکاتب الندیم علم لغتوادب کے مسلّم استاد تھے اور بہت سی کتابوں کے مصنف تھے , حضرت امام حسن عسکری علیہ السّلام سے خاص خصوصیت رکھتے تھے۔ ~012۔ احمد بن اسحٰق الاشعری ابو علی القمی بڑے پایہ کے مستند ومسلّم عالم تھے،ان کی تصانیف میں سے علل الصوم اور دیگر متعدد کتابیں تھیں۔ یہ چند نام بطور مثال درج کیے گئے ہیں اگر تمام ان افراد کاتذکرہ کیا جائے تو اس کے لیے مستقل تصنیف کی ضرورت ہے , خصوصیت کے ساتھ تفسیر قران میں ابو علی حسن بن خالد بن محمد بن علی برقی نے آپ کے افادیت سے ایک ضخیم کتاب لکھی جسے حقیقت میں خود حضرت علیہ السّلام ہی کی تصنیف سمجھنا چاہیے یعنی حضرت علیہ السّلام بولتے جاتے تھے اور وہ لکھتے جاتے تھے , علمائ نے لکھا ہے کہ یہ کتاب ایک سوبیس اجزا پر مستمل تھی۔ افسوس ہے کہ یہ علمی ذخیرہ اس وقت ہاتھوں میں موجود نہیں ہے۔ ممکن ہے وہ اسی سے ماخوذ ہوں لیکن ایک کتاب جو تفسیر اما م حسن عسکری علیہ السّلام کے نام سے شائع شدہ موجود ہے اگر وہ مذکورہ بالاذخیرئہ علمی سے الگ ہے۔ اس کا پتہ صرف چوتھی صدی ہجری سے چلتا ہے اور شیخ صدوق محمد بن بابو یہ قمی رحمة الله نے اس کو معتبر سمجھا ہے مگر ان کے پیش رو افراد جن سے موصوف نے اس تفسیر کو نقل کیا ہے بالکل مجہول الحال ہیں۔ بہرحال اس تفسیر کے متعلق علامہ رجال مطمئن نہیں ہیں۔ جہاں تک غور کیا جاتا ہے اس کی نسبت امام حسن عسکری علیہ السّلام طرف صحیح نہیں معلوم ہوتی , ہاں بے شک آپ کا ایک طویل مکتوب اسحٰق بن اسمٰعیل اشعری کے نام اور کافی ذخیرہ مختصر حکیمانہ مقولات اور مواعظ وتعلیمات کتاب تحف العقول میں محفوظ ہے جو اس وقت بھی اہل نظر کے لیے سرمئہ چشم بصیرت ہے۔ یہ علمی کارنامے اس حالت میں ہیں جب کہ مجموعی عمر آپ کی 28 برس سے زیادہ نہ ہو سکی اور اپنے والد بزرگوار کے بعد صرف چھ برس امامت کے منصب پر فائز رہے اور وہ بھی ان مشکلات کے شکنجہ میں جن کاتذکرہ ہوچکا ہے۔

وفات

اتنے علمی و دینی مشاغل میں مصروف انسان کو کہیں سلطنت وقت کے ساتھ مزاحمت کا کوئی خیال پیدا ہو سکتا ہے مگر ان کابڑھتا ہو روحانی اقتدار اور علمی مرجعیت ہی تو ہمیشہ ان حضرات کو سلاطین کے لیے ناقابل ُبرداشت ثابت کرتی رہی۔ وہی اب بھی ہوااور معتمد عباسی کے بھجوائے ہوئے زہر سے 8 ربیع الاوّل 260ھ میں آپ نے شہادت پائی اور اپنے والد بزرگوار کی قبر کے پاس سامرے میں دفن ہوئے جہاں حضرت علیہ السّلام کاروضہ باوجود نامواف ق ماحول کے مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔

12) حضرت امام مھدی علیہ السلام

امام مہدی کا تصور اسلام میں احادیث کی بنیادوں پر امت مسلمہ اور تمام دنیا کے نجات دہندہ کی حیثیت سے پایا جاتا ہے؛ اور سنیوں میں ان کے آخرت یا قرب قیامت کے نزدیک نازل ہونے کے بارے میں متعدد روایات پائی جاتی ہیں جبکہ شیعوں کے نزدیک حضرت امام مہدی علیہ السلام، امام حسن عسکری کے فرزند اور اہلِ تشیع کے آخری امام ہیں۔ حضرت امام مہدی وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشادات تمام مستند کتب مثلاً صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ میں ملتے ہیں۔ حدیث کے مطابق ان کا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ ان کے وجود کے بارے میں مسلمان متفق ہیں اگرچہ اس بات میں اہل سنت اور اہل تشیع کا اختلاف ہے کہ آیا وہ پیدا ہو چکے ہیں یا نہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے نزدیک اسلامی حکومت قائم کرکے دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ ایک ایسے شخص کے بارے میں عقائد تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں ملتے ہیں جو آخرِ دنیا میں خدا کی سچی حکومت قائم کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں متعدد مذاہب میں پیشینگوئیاں بھی ملتی ہیں اور الہامی کتب میں بھی یہ ذکر شامل ہے۔ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق یہ شخص امام مہدی ہوں گے اور ان کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا اور یہ دونوں علاحدہ شخصیات ہیں۔ ان کی آمد اور ان کی نشانیوں کی تفصیل حدیث میں موجود ہے پھر بھی اب تک مہدویت کے کئی جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے اور فنا ہو گئے۔ سچے مہدی کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے مہدی ہونے کا نہ دعوی کریں گے نہ اعلان۔

ایک حدیث کے الفاظ ہیں۔

اگر دنیا کی عمر ختم ہو گئی ہو اور قیامت میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو تو خدا اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ اس میں میرے اھلِ بیت میں سے ایک شخص کی حکومت قائم ہو سکے گی جو میرا ہم نام ہوگا۔ وہ دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔