تجسس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تجسس (انگریزی: Curiosity) سبھی انسانوں اور جانوروں میں پائی جانے والی ایک سوچ ہے جس کے تحت کھوج بینی، تحقیق، حصول علم وغیرہ ممکن ہے۔ اس کا مظاہرہ انسانوں اور جانوروں ہو چکا ہے۔ تجسس کا انسانی نشو و نما سے گہرا تعلق ہے۔ یہ حصول علم کے محرکات میں سے ایک ہے اور اس کے پس پردہ ایک خواہش ہوتی ہے کہ معلومات اور صلاحیت کو اخذ کیا جائے۔

ہر گھر میں یہ عام مشاہدے کی بات دیکھی گئی ہے کہ نو مولود اور بہت چھوٹے بچے ہر چیز کو کھانے اور نگلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تو وقت کے ساتھ ساتھ وہ سیکھتے ہیں کہ ہر چیز کھانے پینے کی نہیں ہوتی۔ وہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کے رشتوں کو سمجھتے ہیں۔ ماں باپ کے علاوہ گھر میں دادا، دادی اور نانا، نانی ہو سکتے ہیں۔ وہ چاچا چاچی اور ماموں ممانی جیسے رشتوں کو اسی تجسس سے اخذ کرتے ہیں۔ تعلیم حرف شناسی سے آگے بڑھ کر تجسس کو پروان چڑھاتے ہوئے لوگوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنا دیتی ہے۔ یہی تجسس کاروباری میدان نئے مواقع پیش کرتا ہے اور لوگوں کو تجارت پیشہ بنا دیتی ہے۔

انسانی ارتقاء[ترمیم]

برطانیہ کی نیو کیسل یونیورسٹی میں لسانیات کے پروفیسر میگی ٹالرمین کا کہنا ہے کہ بنی نوع انسان واحد مخلوق ہے جو قوت گفتار رکھتے ہیں اور یہ بات اس کو دیگر جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔ بات کرنے کی صلاحیت انسان کے ارتقائی عمل میں ایک اہم مرحلہ تصور کیا جاتا ہے، ایک ایسی تبدیلی جس نے پورا کھیل ہی بدل کے رکھ دیا اور اسی وجہ سے ہمیشہ سے انسان کو یہ تجسس رہا ہے کہ زبان کب شروع ہوئی۔[1] کیونکہ جدید دور میں سینکڑوں زبانین وجود میں آ چکی ہیں۔

تجسس کی عام طور سے افادیت[ترمیم]

سماجی ہنر اور رویے(مثلاً میل جول کے آداب چیزوں اور احساسات کو بانٹنے کے رویے وغیرہ) بچے میں فطری طور پر موجود نہیں ہوتے۔ انہیں سیکھنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس سوال کرنے کی صلاحیت بچے میں فطری طور پر موجود ہوتی ہے۔ بچہ اس وقت سوال کرتا ہے جب اسے کسی شخص، چیز یا واقعہ میں دلچسپی ہوتی ہے۔ یعنی یہ کہ وہ ان کے بارے میں متجسس ہوجاتا ہے ۔ تجسس ہوگا تو سوال پیدا ہوں گے۔ سوال کا جواب ملے گا تو بچے کو نئی معلومات میسر ہوں گی۔ نئی معلومات ملنے پر بچے کو انکشاف کا تجربہ ہوگا۔ انکشاف کی وجہ سے تجسس کو تسکین ملے گی۔ تجسس سے انکشاف تک کا سفر بڑا ہی پر لطف اور مزیدار ہوتا ہے۔ اگر بچہ، ایک دفعہ اس سارے عمل میں سے گزر جائے تو اسے سوال کرنے کا چسکا‘ پڑجاتا ہے۔ اسی طرح جیسے کوئی مزیدار چیز کھا کر اس سے لطف اٹھانے کے بعد بچہ بار بار اس کا تقاضا کرنے لگتا ہے۔[2] اس لیے سوال کرنا اور تعمیری تجسس انسانی ترقی میں ہمیشہ ہی معاون رہے ہیں اور یہ ہر عمر اور شخص کے ساتھ رہا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]