تیلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یہ ایک امن پسند اور محنتی قوم ہے ۔ بھارت میں بشتر تیلی اب بھی ہندومت مذہب ہیں ، تاہم پاکستان میں تیلی مسلمان ہیں ۔ ریزلے کی رائے میں اس پیشے کے لوگ قدیم اور وسطی دور میں لازمی طور پر اونچی ذات سے تعلق رکھتے ہوں گے ۔ کیوں کہ امور خانہ داری اور دوسرے تہواروں کے موقع پر ہر ہندو تیل کا استعمال کرتا ہے اور تیل نکالنے کا کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کی سماجی پاکزگی غیز مشتبہ ہوتی۔[1]

تیلی سماج کی حیثیت[ترمیم]

ہندو معاشرتی نظام میں ہندو تیلوں کو ویش کا درجہ حاصل ہے[2] لیکن اترپردیش ، تامل ناڈو اور بہار کے صوبوں میں تیلی کی حثیت کھشتری کے برابر ہے[3] جبکہ مسلمان تیلیوں کو ملیچھ( غیر ہندوستانی)کہا جاتا تھا کیونکہ زیادہ تر مسلمان تیلی عرب ترک اور افغان حملہ آور فوجوں کے ساتھ ہندوستان آئے تھے اور ان کے آباؤاجداد نے صدیوں تک ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے برہمن بالا دستی کو ماننے سے انکار کر دیا اور ہندو نظام معاشرت میں ایک کمتر ذات قرار پائے۔ مسلمان تیلیوں نےاپنے آپ کو ہندو تیلیوں سے ممتاز رکھنے کے لیے "ملک" کا لقب اختیار کیا کیونکہ عرب اور افغان سلاطین اپنے ساتھ ملک کا لقب اعزاز کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ مسلمان تیلیوں نے اپنے آبا کی نسبت سے اس لقب کو اختیار کر لیا۔ جبکہ ہندو تیلی "ساہو" کا لقب استعمال کرتے ہیں

انگریز کی ہندوستان آمد نے بیجوں سے تیل نکانے کے پیشے کو عروج بخشا۔ انگریز ہندوستان سے بیجوں کا تیل ایسٹ انڈیا کمپنی کے بحری جہازوں سے برطانیہ لے جاتی تھی کیونکہ خالص بیجوں سے حاصل کردہ یہ تیل قدرتی اور صحت بخش تھا۔ اس دور میں بہت سی دوسری ذاتیں اپنا آبائی پیشہ چھوڑ کر اس پیشے سے منسلک ہو گئیں۔ 1940 کی دہائی میں بناسپتی گھی کی آمد کے ساتھ اس پیشہ کی اہمیت کم ہوتی گئی اور اس کی جگہ دوسرے پیشوں نے لے لی۔[4]

سرڈیزل اسپن کے مطابق زیادہ تر تیلی اس قدر صاف رنگت اور کھڑا نین نقشہ رکھتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر ایسا گمان ہوتا ہے جیسے کسی پٹھان کو دیکھ رہے ہوں جس سے ایک بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ماضی میں ان لوگوں کا تعلق اونچی ذات کے لوگوں سے رہا ہے۔ اسپن کے مطابق ان کی عورتیں بھی گورے رنگ کی اور خوبصورت ہوتی ہیں ۔یہ لازمی طور پر مسلمانوں کے ساتھ یا اس سے پہلے ہنوں گجروں کے ساتھ بر صغیر آئے۔ [5]

تیلی کو ایک ذات کی بجائے پیشہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا جس میں مختلف ذات اور قبیلوں کے لوگ شامل ہیں کیونکہ زمانہ قدیم سے بیجوں کا تیل نکالنا ایک نفع بخش کاروبار رہا ہے۔ کھانا پکانے میں بیجوں کے تیل کے استمعال کی وجہ سے اس پیشے کو اپنے وقت کا سب سے نفع بخش پیشہ گردانا جانا جاتا تھا۔ ایک طرف جہاں راجپوتوں اور جاٹوں کے مختلف قبائل اس پیشے کو اپنائے ہوئے تھے تو دوسری طرف مختلف اوقات میں مسلم فاتحین کے ساتھ برصغیر آنے والے عرب ترک اور پشتون قبائل بھی اپنی سلطنتیں ختم ہو جانے کے بعد اس پیشے سے منسلک ہو گئے۔ سلطان شہاب الدین غوری اور علاؤالدین خلجی کی کی سلطنتوں کے زوال کے بعد پشتون اور ترک قبائل جو ان سلاطین کی افواج کے ساتھ ہندوستان آئے تھے اپنی جاگیروں اور جائیدادوں سے محروم کر دیے گئے تو ان قبائل نے حصول آمدن کے لیے اس پیشہ کو اپنا لیا۔ تیلیوں کی بیشتر گوتیں راجپوت ماخذ ہونے کی دعویدار ہیں ۔ان کی 53 سے زائد گوتوں میں زیادہ تعداد راجپوت گوتوں کی ہے۔تیلی راجپوت گوتوں میں پنوار، چوہان، کھوکھر، بھٹی، طور، راٹھور، تنوار، سرویا، جوئیہ اور گہلوٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ودھڑ، دیمہ، بینتھیہ، جدران، رجوانہ اور سولڈا وغیرہ جاٹ گوتیں، پرساد، گھانچی، نربن کھتری ذاتیں جبکہ غوری اور خلجی بالترتیب پشتون اور ترک قبائل ہیں۔ بڑ گوجر کا تعلق گوجر قبیلے سے ہے۔ تیلیوں کی ایک مشہور گوت تہیم/ تھہیم بھی ہے جو کہ دراصل عربی النسل لوگ ہیں۔ ان کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے بنو تمیم سے ہے جن کا پیشہ اونٹوں اور مویشیوں کی تجارت تھا۔ محمد بن قاسم کی افواج میں بنو تمیم قبیلے کے لوگ بھی ہندوستان آئے اور بعدازاں یہ لوگ بھی اسی پیشے سے منسلک ہو گئے۔ تیلی تھہیم گوت کے لوگ اس پیشے کے ساتھ ساتھ اپنے آبائی پیشے یعنی مویشیوں کی تجارت سے بھی وابستہ رہے۔ آج بھی ان کی بہت بڑی تعداد مویشیوں کے بیوپار کرتی ہے. غوری اور خلجی گوتوں کی طرح تہیم/تھہیم گوت کے تمام افراد مسلمان ہیں جبکہ دیگر گوتیں ہندو اور مسلمان تیلیوں دونوں میں مشترک ہیں۔ پاکستان سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور نارووال کے اضلاع میں اعوان تیلی بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں ۔

1857 کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی فتح کے بعد ان راجپوتوں کو چن چن کر سزائیں دی جانے لگیں جنہوں نے انگریزوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔ ان راجپوت قبائل کے خاندان جان بچانے کے لیے اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں روپوش ہو گئے اور اپنی شناخت بدل کرتیل نکالنے کے پیشے سے منسلک ہو گئے۔[6][7][8][9]

مسلمان تیلیوں میں برادری کا نظام موجود ہے ۔ پہلے یہ کولھو کے ذریعہ تیل نکالتے تھے مگر مشینوں کے آمد نے ان کے اس کام کو ختم کر دیا ہے اور اب بہت کم تیلی تیل نکالنے کا کام کرتے ہیں ۔ ان میں بہت سوں نے دودھ کی فروخت یا سبزی پھل کی فروخت کاشتکاری یا دیگر کاروبار اپنا لیے ہیں ۔ فیصل آباد سیالکوٹ اور کراچی کے تیلی معاشی لحاظ سے کافی مستحکم ہیں

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. People of India Uttar Pradesh Volume XLII edited by A Hasan & J C Das
  2. "Bid to make Teli an EBC opposed". The Times of India. 26 May 2009. Retrieved 28 November 2013.
  3. 1] People of India Uttar Pradesh Volume XLII edited by A Hasan & J C Das
  4. {{More Citation needed}}
  5. Punjab Ki Zatein. 
  6. "Bid to make Teli an EBC opposed". The Times of India. 26 May 2009. اخذ شدہ بتاریخ 28 نومبر 2013. 
  7. Jaer، Øyvind (1995). Karchana: lifeworld-ethnography of an Indian village. Scandinavian University Press. ISBN 9788200215073. 
  8. Khanna، L. M. (2002). Incredible story of social justice in India. Aravali Books International. 
  9. Bendix، Reinhard؛ Lipset، Seymour Martin. Class, Status, and Power: Social Stratification in Comparative Perspective. Taylor & Francis. صفحہ 29. 

ماخذ[ترمیم]

  • ہندوستانی مسلمانوں پر برصغیر کی تہذیب کا اثر ۔ ڈاکٹر محمد عمر
  • پنجاب کی ذاتیں ۔ سر ڈیزل ایپسن
  • ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا ۔ ای ڈی میکلین، ایچ روز