جائنٹ ریزونینس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

Giant resonance سے مراد بہت سارے ایٹمی مرکزوں کا بہت ہی زیادہ فریکوئنسی پر ارتعاش (oscillate) کرنا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی ایک ایٹمی مرکزے میں سارے پروٹون سارے نیوٹرونوں کے مد مقابل مرتعش ہو جائیں۔
جائنٹ ریزوننس کے نتیجے میں ایٹم اپنی ضرورت سے زیادہ انرجی نکال باہر کرتا ہے اور کمترین انرجی کی سطح پر آ جاتا ہے۔ اس دوران مرکزہ ٹوٹ بھی سکتا ہے اور نیوٹرون یا گاما ریز بھی خارج کر سکتا ہے۔
1947 میں پہلی دفعہ Giant dipole resonance کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔
1972 میں giant quadrupole resonance دریافت ہوئی۔
1977 میں giant monopole resonance کا مشاہدہ ہوا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

http://www.rcnp.osaka-u.ac.jp/~sakemi/future/slide/PHOTN.pdf

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔