جذب و سلوک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تصوفجذب و سلوک

جذب کا معنی[ترمیم]

جذب کا معنی کشش ( attraction)ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا بندے کو اپنی طرف کھینچ لینا مجذوب وہ ہے جس پر اللہ کی طرف سے ایسا جذبہ طاری ہو جائے کہ بلا کسب ومجاہدہ محض اللہ کے فضل سے اس کے باطنی مقامات طے ہوجائیں اور واصل باللہ ہو جائے لیکن بقا بعد الفنا کے مرتبے تک نہ پہنچ سکے۔

سلوک کا معنی[ترمیم]

سلوک کا معنی ہے راستہ (usage)یعنی اللہ تعالیٰ کے قرب اور وصل کے راستے پر چلنا۔ سالک وہ ہے جو قرب حق کے راستوں اور طریقت کی منزلوں کو مجاہدات و ریاضات اور اتباع سنت و شریعت کے ذریعے طے کر کے مقصودتک پہنچے۔ { تصوف } طلب قرب حق، فنائے بشریت اور بقائے الوہیت، حق تعالٰی کا قرب چاہنا۔[1]

طریق سلوک[ترمیم]

سالکین کو کبھی وصول الی اللہ پہلے حاصل ہوتا ہے پھر شوق عبادت اور ذوق ریاضت اس کے بعد پیدا ہوتا ہے اس کو طریق جذب کہتے ہیں اور کبھی مجاہدہ وریاضت کا شوق پہلے پیدا ہوجاتا ہے اور وصول الی اللہ بعد میں میسر ہوتا ہے اس کو طریق سلوک کہتے ہیں۔

قرآن میں ذکر[ترمیم]

صوفیا کے نزدیک اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ[2] اللہ جسے (خود) چاہتا ہے اپنے حضور میں (قرب خاص کے لیے) منتخب فرما لیتا ہے اور اپنی طرف (آنے کی) راہ دکھا دیتا ہے (ہر) اس شخص کو جو (اللہ کی طرف) قلبی رجوع کرتا ہے۔ اس میں اجتباء سے مراد جذبہ ہے اور اھتداء سے مراد سلوک ہے نیز سلوک پر جذبہ کی تقدیم بھی ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے مشائخ نقشبندیہ جذبہ کو سلوک پر مقدم رکھتے ہیں اور مجذوب سالک کہلاتے ہیں۔ اسی طرح اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ [3] اور ہم نے انہیں (اپنے لطف خاص اور بزرگی کے لیے) چن لیا تھا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما دی تھی)میں اول کا حاصل جذب ہے اور ثانی کا سلوک ہے۔

اقسام سالک[ترمیم]

سالک کی دو قسمیں ہیں # سالک مجذوب :سالک مجذوب وہ ہے جس کو سلوک کی انتہامیں جذبہ نصیب ہو #مجذوب سالک:مجذوب سالک وہ ہے جس کے سلوک کی ابتداءجذبہ سے ہو۔

اقسام جذبہ[ترمیم]

جذبہ کی دو قسمیں ہیں# جذبہ صوری: وہ جذبہ جو سیر فی اللہ سے قبل ابتدائے سلوک میں تصفیہ لطائف سے پہلے حاصل ہوتا ہے اور صرف تسہیل منازل سلوک کے لیے عطا کیا جاتا ہے اس کو جذبہ صوری کہتے ہیں اس کو جذبہ بدایت یا جذبہ اولیٰ بھی کہا جاتا ہے۔#جذبہ حقیقی:وہ جذبہ جو سیر فی اللہ کے دوران انتہائے سلوک میں حاصل ہوتا ہے اس کو جذبہ حقیقی کہتے ہیں اس کو جذبہ نہایت یا جذبہ ثانیہ بھی کہا جاتا ہے۔ جذبہ حقیقی بلا امتیاز تمام سلاسل طریقت میں موجود ہے۔ لیکن جذبہ صوری طریقہ نقشبندیہ کا خاصہ ہے جسے شاہ نقشبندنے اس طرح بیان کیا ما نہایت را در بدایت درج می کنم جو جذبہ تمام سلاسل کے سالکین کو آخر میں دیا جاتا ہے ہم اپنے سلسلے کے مریدین کے لیے اس کو انتہا سے ابتدا میں کھینچ لاتے ہیں۔ چنانچہ باقی سلاسل کی ابتداعالم خلق کی سیر سے ہوتی ہے اور انتہا عالم کبیر کی سیر پر ہوتی ہے لیکن سلسلہ نقشبندیہ میں اس کے برعکس عالم امر سے سیر شروع ہوتی ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اردو_لغت
  2. الشوری:13
  3. الانعام:87
  4. البینات شرح مکتوبات ،سعید احمد مجددی،جلداول ،صفحہ 160تا162تنظیم الاسلام پبلیکیشنز گوجرانوالہ