جرم سوچ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یہ اصطلاح جارج اورول کے مشہور ناول 1984 میں بیان کی گئی جو 1949ء میں پہلی دفعہ شایع ہوا۔ اس کہانی میں حکمران سیاسی جماعت اپنے باشندوں کے خیالات یا سوچ کو بھی قابو کرنا چاہتی ہے اور جماعت کی نظر میں قابلِ اعتراض خیالات کو جرمِ سوچ قرار دیتی ہے۔ اکثر مغربی مبصرین کے مطابق اورول کا طنزیہ نشانہ سویت یونین جیسی ریاستیں تھی۔ 2001ء کے بعد جب دہشت پر جنگ گرم ہوئی تو کئی مغربی ممالک میں "جرم سوچ" واقعی ایک جرم قرار پایا اور باشندوں (جن میں بیشتر مسلمان تھے) اور ان کے جرائم خیالات یا سوچ تک محدود تھے کو دہشت کے لصق کے ساتھ لمبی سزائیں دی گئیں۔ اس کی چند مثالیں:

آسڑیلیا[ترمیم]

  • کتابی مواد اکٹھا کرنے پر گرفتاری اور مقدمہ [1]

برطانیہ[ترمیم]

  • بالآخر 2007ء میں اورول کے وطن برطانیہ میں ایک مسلمان خاتون کو "جرم سوچ" پر سزا سنائی گئی۔[2]
  • حماد منشی (عمر 18 سال) کو "جہادی مواد" کا مطالعہ کرنے پر سزا[3]"
  • طالب علم حکیام کو علمی تحقیق کے لیے القاعدہ سے متعلق مواد ڈاؤنلوڈ کرنے پر گرفتاری اور ملک بدری کا حکم۔[4]
  • دو سو مسلمان بچوں کی نشان دہی جو مستقبل میں دہشت گرد بن سکتے ہیں[5]
  • جامعات کے اساتذہ کو مسلمان طالب علموں پر جاسوسی کے احکامات۔[6]

ریاست ہائے متحدہ امریکا[ترمیم]

  • منظرہ مرتب کرنے پر گرفتاریاں[7]

اورویلین[ترمیم]

انگریزی میں جارج اورول کے ناول انیس سو چوراسی میں بیان کردہ حکومتی ہتکھنڈوں کو orwellian کی اصطلاح سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔

بڑا بھائی[ترمیم]

"بڑا بھائی" (big brother) کی اصطلاح بھی جارج اورول کے ناول انیس سو چوراسی میں بیان کردہ عوام پر "ٹیلی اسکرین" جیسے آلے کی مدد سے حکومتی جاسوسی کے ضمن میں استعمال ہوتی ہے۔ اس میں "بڑا بھائی" اس حکومت کو کہا جاتا ہے۔ اکیسویں صدی میں تکنیکی ترقی سے واقعی برطانیہ میں جاسوسی کا یہ سلسلہ مسلمانوں پر شروع ہو چکا ہے۔[8]

اقتباس[ترمیم]

جارج اورول نے جب 1949ء میں یہ ناول لکھا تھا اس وقت نہ کمپیوٹر ایجاد ہوا تھا اور نہ ہی انٹرنیٹ۔ اس ناول میں اس نے ایک خیالی مشین telescreen کا ذکر کیا تھا جو حکومت کو لوگوں کے خیالات سے آگاہ رکھے گی اور حکومت ایسے لوگوں پر نظر رکھ سکے گی اور حسب ضرورت سزا بھی دے سکے گی۔ اب انٹرنیٹ کی شکل میں وہ جاسوس مشین موجود بھی ہے اور اعلیٰ ترین سطح کی جاسوسی کر بھی رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے حقائق مسخ کرنے کے بارے میں وہ لکھتا ہے

  • "ہر ریکارڈ تباہ کر دیا جائے گا یا اس میں جھوٹ بھر دیا جائے گا، ہر کتاب کو دوبارہ لکھا جائے گا، ہر تصویر کو دوبارہ پینٹ کیا جائے گا، ہر مجسمے اور ہر سڑک کا نام تبدیل کر دیا جائے گا، تاریخوں میں ردوبدل کیا جائے گا۔ یہ عمل روز دہرایا جائے گا، ہر منٹ دہرایا جائے گا۔ ماضی ختم ہو جائے گا بس حال جاری رہے گا جو کبھی ختم نہیں ہو گا اور حکمران پارٹی جو کچھ بھی کرے گی وہ عین جائز ہو گا"۔
“Every record has been destroyed or falsified, every book rewritten, every picture has been repainted, every statue and street building has been renamed, every date has been altered. And the process is continuing day by day and minute by minute. History has stopped. Nothing exists except an endless present in which the Party is always right.” [9]
  • “Power is in tearing human minds to pieces and putting them together again in new shapes of your own choosing.(George Orwell, 1984)" [10]
  • "اس کا انجام یہ ہو گا کہ دنیا کو اپنی غلامی کا احساس ہی نہیں ہو گا کیونکہ سمجھ بوجھ رکھنے والی نسلوں کی جگہ بیوقوف اور فرماں بردار لوگ آ جائیں گے جو صرف حکمرانوں کی مرضی کے مطابق کام کرنے کے قابل ہوں گے۔"
"In the end, the world will not notice its enslavement, because the generations capable of creative thought and reason will have been replaced by a stultified, obedient mass of humanity only capable of acting in a manner predetermined by the rulers."
  • سرکاری پابندی کے بغیر نامعقول خیالات کو خاموش کر دیا جائے گا اور تکلیف دہ سچ حقائق پر پردہ ڈال دیا جائے گا۔
"Unpopular ideas can be silenced, and inconvenient facts kept dark, without the need for any official ban..."[11]
  • "Nothing the Party says is true. Nothing the Party does is good. Even the war itself isn't real. The Party wants you to believe we are at war so as to channel your aggression away from their rightful target: the Party. Big Brother is not real. He is pure fiction, created by the Party. The real rulers of the State are unknown, faceless manipulators who, because they are not known are able to wield power without let or hindrance. People of Oceania, you are being duped. The Party doesn't serve the people — it serves itself. We are not at war with Eurasia. You are being made into obedient, stupid slaves of the Party. Open your eyes. See the evil that is happening to you. The Party drops bombs on its own citizens. It is the Party, not the Eurasians, who are our enemies."[12]

مزید[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. wsws 21 اگست 2008ء, "Sydney man faces “terrorist” trial for compiling book"
  2. wsws 15دسمبر 2007ء، "Britain: First woman convicted under Terrorism Act"
  3. ٹائمز، 19 اگست 2008ء، "Hammaad Munshi prepared for jihad while sitting GCSEs
  4. روزنامہ گارجین، 18 اگست 2008ء، "Britain's terror laws have left me and my family shattered"
  5. انڈیپنڈنٹ، 28 مارچ 2009ء، "Police identify 200 children as potential terrorists "
  6. "University staff asked to inform on 'vulnerable' Muslim students"۔ گارجین۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اگست 2011۔
  7. "Pakistani held in US for backing Lashkar"۔ ڈان۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. گارجین 16 اکتوبر 2009ء، " Government anti-terrorism strategy 'spies' on innocent: Data on politics, sexual activity and religion gathered by government"
  9. George Orwell> Quotes> Quotable Quote
  10. How Can We Learn From The Past If We Erase History?
  11. The Freedom Of The Press: George Orwell On The Media's Toxic Self-Censorship
  12. یوٹیوب