جلال بابا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

"'محمد جلال الدین خان"' عرف "جلال بابا" مرحوم 5 جنوری1901ء کو ضلع ہزارہ(اس وقت ہزارہ ڈویژن ایک ضلع تھا) کی تحصیل گڑھی حبیب اللہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد خان غلام محمد خان اوسط درجے کے زمیندار تھے۔ جلال بابا ایک معروف سیاسی راهنما تھے۔قیام پاکستان کے بعد تین بار وزارت کے منصب پر فائز رہے۔ آپ پاکستان کے وزیرداخلہ بھی رہے۔ آپ نے 1981ء میں ایبٹ آباد میں وفات پائ۔

تحریک پاکستان میں کردار[ترمیم]

  • آپ نے 1937ء میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ اور ہزارہ میں مسلم لیگ کا پہلا دفتر "ایبٹ آباد" میں قائم کیا۔ وہ 18 سال تک 1956-1937ء تک ہزارہ مسلم لیگ کے صدر رہے۔
  • 1946ء میں بمبئی کے قیصر باغ ہال میں قائداعظم کی زیر صدارت آل انڈیا مسلم لیگ کا ایک تاریخی اجلاس ہوا جس میں تمام ہندوستان سے 2200 مسلم لیگی رہنما اور کونسلرز شامل تھے۔ یہ اجلاس 3 دن تک جاری رہا۔ جلال بابا مرحوم نے قرارداد پیش کی کہ کیوں نہ انگریز کے دیے گئے خطابات تمام مسلم لیگی رہنما واپس کرنے کا اعلان کر دیں قرارداد اجلاس کے دوران ہی مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے قائد اعظم کی زیر صدارت منظور کر لی اور قائد اعظم نے جلال بابا مرحوم کو یہ اعزاز بخشا کہ سٹیج پر بلا کر ان کو سب سے پہلے اپنا خطاب واپس کرنے کے لیے کہا۔
  • 1946ء کے صوبائی الیکشن جو مسلم لیگ نے حصول پاکستان کی بنیاد پر اور کانگریس نے اکھنڈ بھارت کی بنیاد پر لڑے تھے۔ جلال الدین بابا مرحوم کی زیر قیادت مسلم لیگ نے ہزارہ کی 11 میں سے 10 نشستیں جیتیں جبکہ باقی تمام صوبہ میں مسلم لیگ 38 میں سے صرف 7 نشستیں حاصل کیں۔
  • اس صوبائی الیکشن کے تقریباً 10 ماہ کے بعد جولائی 1947 میں صوبہ سرحد موجودہ KPK کا تاریخی ریفرنڈم ہوا جس کو جیتنے کے لیے قائد اعظم کی سربراہی میں ایک ریفرنڈم کمیٹی بنائی جس کے جلال بابا مرحوم بھی ممبر تھے۔ ان کی ہر دلعزیز قیادت میں ہزارہ کے 99 فیصد عوام نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالا جس سے صوبہ سرحد (KPK) پاکستان کا حصہ بنا۔
  • جہاد کشمیر 1948ء میں بھی اپنے تمام وسائل اور ٹرانسپورٹ (جو ایک بڑی ٹرانسپورٹ کمپنی تھی) وقف کر دی۔
  • مسلم لیگ کے ہزارہ میں قیام اس کی نشو و نما 1946ء کے الیکشن ریفرنڈم 1947ء اور کشمیر معاملے پر انہوں نے بے حد مالی ایثار بھی کیا جس کے نتیجے میں وہ آخری عمر میں نہایت کسمپرسی کا شکار ہوئے۔

خراج تحسین[ترمیم]

آپ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ،ایبٹ آباد میں آپ کے نام سے منسوب "جلال بابا ایڈیٹوریم" کی تعمیر کی گئی۔ یہ ایڈیٹوریم سیاسی ،سماجی ،ادبی اور ثقافتی تقریبات اور سرگرمیوں کا مرکز ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.nawaiwaqt.com.pk/letters/01-Jan-2014/جلال-بابا-کی-تحریک-پاکستان-میں-خدمات[مردہ ربط]
  2. http://www.oururdu.com/forums/index.php?threads/جلال-بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.440/#post-6006