جنوبی ايشيا ميں سونامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Tsu06.jpg

26 دسمبر 2004ءکو جنوبی ايشيا ميں آنے والا سونامی کس طرح رونما ہوا؟ اس کے متعلق امريکی جيولوجسٹ بتاتے ہيں کہ انڈونيشيا کی رياست سماٹرا ميں آچے صوبے کے دار الحکومت بنداآچے کے جنوب مشرقی سمت 155 ميل دور بحر ہند کی سطح سمندر سے 6 ميل نيچے پيدا ہونے والے زلزلہ کے نتيجہ ميں يہ سونامی وجود ميں آيا۔ بحر ہند ميں واقع کرئہ ارض کی دو پليٹيں ”برما پليٹ“ اور ”انڈين پليٹ“ کی حرکت عام طور پر 6 سينٹی ميٹر سالانہ ہوتی ہي(ديکھیے تصوير A)۔ زيرِ زمين موجود آتشی لاوے Magma کی غير معمولی طغيانی کے باعث يہ پليٹيں اچانک 15 ميٹر آگے بڑھ گئيں(ديکھیے تصويرB)۔ اس ٹکرائو سے زبردست توانائی خارج ہوئی جو 200 سيکنڈ کے اندر دائروں کی صورت ميں زمين کی سطح تک پہنچی اور زلزلہ کی صورت اختيار کرگئی۔ ريکٹر اسکيل پر زلزلے کی شدت 9.1 ڈگری magnitude بتائی گئی۔ اس زلزلے کی شدت نے پانی کے توازن کو بگاڑ ديا (ديکھیے تصوير C ) اور سمندر کی لہريں بلند و بالا موجود کی صورت ميں ساحل کی جانب بڑھنے لگيں(ديکھیے تصوير D)۔ اسی صورت حال کو سونامی کہا جاتا ہے۔ يہ سونامی لہريں 600 ميل فی گھنٹہ کی رفتار سے بندا آچے کے ساحل پر پہنچيں، اس شہر کو تقريباً پوری طرح برباد کرڈالا۔ يہ سونامی لہريں دائرے کی صورت ميں ملائشيا، تھائی لينڈ، برما اور بنگلہ ديش ہوتی ہوئی ايک سے دو گھنٹے ميں سری لنکا اور بھارت تک پہنچ گئیں۔ 4 گھنٹے ميں مالديپ اور سات سے آٹھ گھنٹے ميں صوماليہ، سيشلز، کينيا اور تنزانيہ پہنچ کر درجنوں افراد کی ہلاکت کا سبب بنيں۔ انڈونيشيا ميں ان لہروں کی اونچائی 35 فٹ سے زيادہ بلند تھی۔ مالديپ، بھارت اور سری لنکا ميں 18 سے 34 فٹ تک، ملائشيا ميں 16 سے 20 فٹ، تھائی لينڈ ميں 16 سے 35 فٹ، بنگلہ ديش ميں 4 سے 7 فٹ اونچی لہريں تھيں اور جنوب مغربی افريقہ کے ساحلوں پر ان لہروں کی اونچائی 6 سے 7 فٹ بلند تھی۔

Tsu07.jpg

مزید مطالعہ[ترمیم]

سونامی

نگار خانہ[ترمیم]