جواشم گاک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جواشم گاک
(جرمن میں: Joachim Gauck خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
تفصیل=

صدر جرمنی
مدت منصب
18 مارچ 2012ء – 18 مارچ 2017ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png کرسچن وولف
فرینک والٹر اسٹائن Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وفاقی کمشنر برائے اسٹاسی آرکائیو
مدت منصب
4 اکتوبر 1990ء – 10 اکتوبر 2000ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نئی
ماریان برتھلر Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن پیپلز چیمبر
مدت منصب
18 مارچ 1990ء – 3 اکتوبر 1990ء
معلومات شخصیت
پیدائش 24 جنوری 1940 (78 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
روستوک[3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of East Germany.svg مشرقی جرمنی
Flag of Germany.svg جرمنی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب لوتھری مسیحیت[5]
اولاد کرسٹیان
مارٹن
جیسین
کیتھرینا
تعداد اولاد 4 [4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان[6]،  پاسٹر[7]،  غیر فکشن مصنف،  استاد جامعہ،  صحافی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان جرمن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان جرمن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
Galó de l'Orde del Bany (UK).svg جی سی بی
کالر آف دی آرڈر آر دی وائیٹ لائن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
جواشم گاک
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

جواشم گاک (پیدائش 24 جنوری 1940) 2012 سے 2017ء تک جرمنی کے صدر رہے۔ مشرقی جرمنی میں کمیونسٹ مخالف عوامی حقوق کے سرگرم کارکن ہونے کیوجہ سے ان کو مشہوری ملی۔[8][9][10]

1990 میں وہ پیپلز چیمبر کے رکن رہے۔ جرمنی کے اتحاد کے بعد انہیں بنڈیسٹاگ نے اسٹاسی آرکائیو کا پہلا وفاقی کمشنر بنایا۔ اس کرسی پر ان کو “اسٹاسی ہنٹر (شکاری)“ اور “جمہوریت پسند ایڈوکیٹ“ کے ناموں سے جانا جانے لگا اور اس کیوجہ تھا سابق کمیونسٹ پولیس افسران کے جرائم کو بے نقاب کرنا۔[11][12][13][14]

2010 کے صدارتی انتخابات میں انہیں سوشل ڈیموکریٹک جماعت اور الائنس 90/دی گرینس نے اپنا امیدوار کھڑا کیا مگر وہ حکومتی اتحاد کے امیدوار کرسچن وولف کے پاتھوں شکست کھا گئے۔ کرسچن ولف کے کرسی چھوڑنے پر گاک کو 2012 میں ہوئے وفاقی کنونشن کے انتخابات میں 1228 میں سے 991 ووٹ ملنے پر صدر منتخب کر لیا گیا۔ وہ غیر جانبدارانہ طور پر کرسچن ڈیموکریٹک اتحاد، کرسچن سماجی جماعت، فری ڈیموکریٹک جماعت، سماجی ڈیموکریٹک جماعت اور الائنس 90/دی گرینس کے امیدوار تھے۔

گاک کی سیاست میں شمولیت کی وجوہات ہیں ان کے گھرانے کیساتھ پیش آنے والے واقعات اور مشرقی جرمنی کے یک حزبی کمیونسٹ نظام میں گزرا بچپن؛ گاک کے والد نے پانچ سال سوویت گولاگ[15][16][17][18] میں گزارے اور ان کے گھر کو مشرقی جرمنی میں مسلسل تفریق کا نشانہ بنایا گیا۔[19]

ذاتی زندگی[ترمیم]

گواک کی پہلی شادی اپنی بچپن کی سہیلی گرہلڈ ہانسی گاک سے ہوئی ،[20] مگر ان 1991 میں ان میں علاحدگی ہو گئی۔ ان کی شادی 1959 میں والد کی مخالفت کے باوجود 19 سال کی عمر میں ہوئی۔ اس شادی سے ان کے چار بچے (دو لڑکے، دو لڑکیاں) ہیں۔ ان میں بیٹے کرسچن (1960) اور مارٹن (1962)، بیٹیاں جیسین (1966) اور کیتھرینا (1979) ہیں۔

2000 سے ان کی گھریلو ساتھی ڈانیالا شادٹ ہیں جو ایک صحافی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm2458206 — اخذ شدہ بتاریخ: 21 جولا‎ئی 2015
  2. catalog code: 11000639 — اخذ شدہ بتاریخ: 13 اپریل 2018
  3. اجازت نامہ: CC0
  4. ^ ا ب Bundespräsident Joachim Gauck — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2016 — ناشر: Bundespräsidialamt
  5. Michael Gessat (19 February 2012)، Gauck's civic engagement wins him wide support، DW، اخذ کردہ بتاریخ 28 February 2012 
  6. اجازت نامہ: CC0
  7. http://news.bbc.co.uk/2/hi/programmes/from_our_own_correspondent/8746441.stm
  8. German Presidential Nominee’s Background Seen as an Asset, نیو یارک ٹائمز, February 20, 2012
  9. "A crucial test for Angela Merkel"۔ FRANCE 24۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-02-21۔ 
  10. "Gauck's civic engagement wins him wide support"۔ DW.DE۔ 2012-02-17۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-02-21۔ 
  11. "German media roundup: Little excitement for Wulff presidency"۔ thelocal.de۔ 4 June 2010۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 June 2010۔ 
  12. "Politik Inland : Joachim Gauck, der Stasi-Jäger – Archiv – Westfälische Nachrichten" ((جرمن زبان میں) زبان میں)۔ Wn.de۔ 2010-06-30۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-02-20۔ 
  13. "Germany's Next President: 'I'm No Superman' – SPIEGEL ONLINE – News – International"۔ Spiegel.de۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-02-20۔ 
  14. "Merkel Names Gauck as Unity Candidate for German Presidency"۔ Businessweek۔ 2009-12-08۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-02-20۔ 
  15. "Joachim Gauck: Anti-communist pastor who could turn out to be Angela Merkel's nemesis – World news, News"۔ Belfasttelegraph.co.uk۔ 30 June 2010۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 February 2012۔ 
  16. Kate Connolly (20 June 2010)۔ "Joachim Gauck: the dissident hero who holds the destiny of Germany in his hands"۔ The Guardian (London)۔ 
  17. "Eastern Inspiration: Gauck the Therapist Wants to Put Germany On the Couch – SPIEGEL ONLINE – News – International"۔ Spiegel.de۔ 29 June 2010۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 February 2012۔ 
  18. "Rival candidate for president new headache for Merkel"۔ Reuters۔ 6 June 2010۔ 
  19. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ abendblatt-christian نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  20. "Hansi Gauck versteht Trauschein-Debatte nicht - Politik Inland" ((جرمن زبان میں) زبان میں)۔ Bild.de۔ 22 February 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 March 2012۔