جولین اسانژ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جولین اسانژ
(انگریزی میں: Julian Assangeخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
جولین اسانژ کی 2010 ءکی تصویر
جولین اسانژ کی 2010 ءکی تصویر

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Julian Paul Hawkinsخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 3 جولا‎ئی 1971 (47 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ٹاؤنسول[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش ملبورن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
قومیت آسٹریلوی
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ ملبورن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ چیف ایڈیٹر ویکی لیکس
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت WikiLeaks  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
انڈیکس اعزاز (2008)[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

جولین اسانژ(English:Julian Assange) وکی لیکس کے بانی۔ 1971 کو آسٹریلیا میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی میں ہیکنگ کے جرم میں پولیس کو مطلوب رہے۔ مگر انہیں بین الاقوامی طور پر شہرت وکی لیکس کی بدولت حاصل ہوئی۔ یہ ویب سائیٹ 2006 میں منظر عام پر آئی۔ جس کا مقصد بین الاقوامی رازوں سے پردہ اٹھانا تھا۔ اور عام آدمی کی رسائی کو ان معلومات تک ممکن بنانا تھا جس کو ہمیشہ بڑی طاقتیں یا حکومتیں خفیہ رکھتی ہیں۔ اس مقصد میں پہلی کامیابی اس وقت حاصل ہوئی جب اپریل 2010 میں اسانش نے واشنگٹن میں نیشنل پریس کلب میں ایک ویڈیو دکھائی جس میں 2007 میں بغداد میں ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر سے بارہ عراقیوں کو ہلاک کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا جن میں رائٹرز کے دو صحافی بھی شامل تھے۔ اس کے بعد ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے جولائی 2010 میں افغانستان کی جنگ پر 77 ہزار امریکی فوجی دستاویز شائع کیے گئے۔ اکتوبر 2010 میں عراق جنگ پر چار لاکھ خفیہ دستاویز جاری کیے گئے۔ نومبر 2010 میں وکی لیکس نے امریکی خفیہ نیٹ ورک کے ہزاروں خطوط لوگوں کے سامنے رکھنے کے بعد تہلکہ مچا دیا۔ خود جولین اسانش سویڈن کی حکومت کو مطلوب ہیں۔ کیونکہ ان پر دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام ہے۔ ان کے انٹرپول کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ برطانیہ میں کسی جگہ روپوش ہے۔ نومبر 2010 میں امریکا بھی ان کے خلاف جاسوسی کے الزام تحت مقدمہ چلانے کا سوچ رہی ہے۔ 7 دسمبر 2010 کو جولین لندن میں پولیس کے طلب کرنے پر تھانے گئے جہاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت نے اس کی ضمانت کرنے سے انکار کر دیا۔ مبصرین نے جولین کو برطانیہ میں سیاسی قیدی گردانا ہے۔[7] امریکی رہنماؤں نے جولین کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=http://www.imdb.com/&id=nm4006677 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015
  3. http://www.smh.com.au/technology/technology-news/assange-wanted-by-us-for-espionage-offences-20101208-18ouj.html
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb16509964r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. Awards 2008 - Index on Censorship Index on Censorship — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2017
  6. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Julian Assange's mother recalls Magnetic نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  7. انکوائرر، "Assange is locked up to make a point"
  8. عالمی اشتراکی موقع، 20 دسمبر 2010ء، "Biden brands WikiLeaks leader “terrorist” and criminal"

بیرونی روابط[ترمیم]