خالد علیگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خالد علیگ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1925  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قائم گنج  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 اگست 2007 (81–82 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات پھیپھڑوں کا سرطان  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن لانڈھی  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر،  صحافی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

خالد علیگ پاکستانی مایہ ناز شاعر اور صحافی تھے۔[1] اُن کا اصل نام سید خالد احمد شاہ تھا۔ وہ 1925ء میں قائم گنج، ضلع فرخ آباد (اُتر پردیش) میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور قیام پاکستان کے بعد 1947ء میں پاکستان آ گئے۔ وہ پیشہ کے اعتبار سے سِول انجینئر تھے اور انہوں نے اپنی ملازمت کے سلسلے میں اوکاڑہ، لاہور، سکھر، میرپور خاص اور دیگر شہروں میں قیام کیا۔ 1960ء میں وہ مستقلاً کراچی آ گئے اور پھر تاعمر اسی شہر میں قیام پذیر رہے۔ خالد علیگ ہمیشہ انجمن ترقی پسند مصنّفین کی صف اوّل میں شامل رہے۔ انہوں نے اپنی صحافت کا آغاز لکھنؤ کے جریدے تنویر سے کیا تھا۔ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوئے اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے جریدے منشور سے منسلک ہوگئے۔ بعد ازاں وہ روزنامہ مساوات کے عملہ ادارت میں شامل ہوئے اور اس کے مدیر کے عہدے تک پہنچے۔

جناب خالد علیگ ایک خوش گوشاعر تھے۔ وہ ہمیشہ ترقی پسند نظریہ سے وابستہ رہے۔ انہوں نے ہر دور میں مزاحمتی شاعری کی جو ان کی شناخت بن گئی۔ ان کا شعری مجموعہ غزال دشت سگاں کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا۔ وہ ہمیشہ سرکاری اعزازات سے دور بھاگتے رہے تاہم جب 3 جون 1999ء کو کراچی پریس کلب نے انہیں تاحیات اعزازی رکنیت پیش کر کے اپنے وقار میں اضافہ کرنا چاہا تو انہوں نے اسے رد نہ کیا۔ ان کا آخری قطعہ ملاحظہ ہو جو ان کی زندگی کا ماحاصل سمجھا جاسکتا ہے۔

دیوار بن کے ظلم کے آگے اڑے گا کون
ارباب جہل و جبر کے پیچھے پڑے گا کون
میں اپنی جنگ لڑ بھی چکا، ہار بھی چکا
اب میرے بعد میری لڑائی لڑے گا کون

پندرہ اگست 2007ء کو خالد علیگ کراچی میں وفات پاگئے۔وہ کراچی میں قبرستان مولا مدد، ریڑھی گوٹھ لانڈھی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Veteran poet Khalid Alig passes away". ڈان (بزبان انگریزی). کراچی. 16 اگست 2007. اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. 
  2. احمد رضا (15 اگست 2007). "صحافی خالد علیگ انتقال کر گئے". بی بی سی. کراچی. اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019.