خالد وزیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
خالد وزیر ٹیسٹ کیپ نمبر 16
Khalid wazir.jpeg
کرکٹ کی معلومات
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیدائیں بازو فاسٹ میڈیم
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ فرسٹ کلاس
میچ 2 18
رنز بنائے 14 271
بیٹنگ اوسط 7.00 15.05
100s/50s -/- -/1
ٹاپ اسکور 9* 53
گیندیں کرائیں - 1530
وکٹ - 14
بولنگ اوسط - 53.28
اننگز میں 5 وکٹ - -
میچ میں 10 وکٹ - -
بہترین بولنگ - 3/82
کیچ/سٹمپ -/- 11/-
ماخذ: [1]

سید خالد وزیرانگریزی:Khalid Wazir (پیدائش: 27 اپریل 1936ء جالندھر (اب جالندھر)، پنجاب، ہندوستان)|(وفات: 27 جون 2020ء چیسٹر) ایک پاکستانی کرکٹ کھلاڑی تھے۔[1]جنہوں نے پاکستان کی طرف سے 2 ٹیسٹ میچ کھیلے۔خالد وزیر کے والد سید وزیر علی بھی ٹیسٹ کرکٹر تھے جنہوں نے بھارت کی طرف سے 7 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا تھا۔ برصغیر کی آزادی سے قبل انہوں نے بھارت کی طرف سے ٹیسٹ کیپ پہنی۔ یہ تمام ٹیسٹ انہوں نے انگلینڈ کے خلاف کھیلے۔ 1932ء سے 1936ء کے کیریئر میں انہوں نے 232 رنز بنائے۔ 42 ان کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ اسی طرح ان کے چچا سید نذیر علی بھی بھارت کی طرف سے 2 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کا اعزاز رکھتے ہیں اور اتفاق سے یہ بھی انگلینڈ ہی کے خلاف تھا۔ یوں سید خالد وزیر کو کرکٹ وراثت میں ملی مگر ان کا کیریئر محض دو ٹیسٹ میچوں تک محدود رہاایک جارحانہ دائیں ہاتھ کے بلے باز اور درمیانی رفتار کے بائولر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک مضبوط فیلڈر بھی تھے۔

ابتدائی دور[ترمیم]

سید خالد وزیر کی پیدائش 1936ء کو جالندھر (اس وقت انڈیا) میں ہوئی۔ سینٹ پیٹرک ہائی سکول کراچی میں ان کی تعلیم مکمل ہوئی۔ خالد وزیر ایک جارحانہ انداز رکھنے والے بلے باز تھے۔ صرف 46 سال کی عمر میں اپنے والد کو کھونا ان کیلئے ایک تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ ان کی فیملی 1947ء کی آزادی کے بعد پاکستان منتقل ہوچکی تھی۔ لمبے قد کے دلکش نین نقش والے خالد وزیر پہلی نظر میں بھی بہتر متاثر کرتے تھے۔ دوران تعلیم انہوں نے روبی شیلڈ انٹر سکولز ٹورنامنٹ میں اپنی آل رائونڈ پرفارمنس سے سینٹ پیٹرک سکول کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب انٹر سکولز ٹورنامنٹ میں سینٹ پیٹرک اور سندھ مدرسہ کا کڑا مقابلہ ہوتا تھا۔ اگرچہ سینٹ پیٹرک ٹیم کے کپتان وائس میتھائس تھے (جو بعد ازاں پاکستان کرکٹ ٹیم کے بھی کپتان بنے) کی نگرانی میں خالد وزیر کھیل رہے تھے تاہم ان کی صلاحیتوں کو بھانپ کر انہیں 1953-54ء میں پاکستان سکولز کی ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا جس نے سری لنکا (تب) کا دورہ کیا تھا۔ خالد وزیر مڈل آرڈر بلے بازی اور دائیں ہاتھ کے میڈیم فاسٹ بائولر کے طور پر اپنا رول بخوبی سمجھتے تھے۔ خالد وزیر حقیقی معنوں میں اس وقت نظر آئے جب وہ 19 سال کے ہوئے اور قائداعظم ٹرافی جیسا فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ نہ کھیلنے اور محض دو فرسٹ کلاس میچ میں شاندار کارکردگی پر ان کو 1954ء کے دورہ انگلینڈ کیلئے قومی ٹیم کا حصہ بنا لیا گیا۔ کچھ لوگ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ ان کے چچا سید نذیر علی چونکہ اس وقت سلیکٹر تھے اس لئے ان پر یہ مہربانی کی گئی۔ سید خالد وزیر نے جو فرسٹ کلاس میچز کھیلے تھے وہ گوان ایسوسی ایشن کی طرف سے پاکستان کے خلاف تھے۔ 1953ء میں ہونے والے ان میچز میں حنیف محمد 24 اور وزیر محمد 2 سکور پر ان کی گیندوں پر کلین بولڈ ہوئے تھے۔

1954ء کا دورہ انگلینڈ[ترمیم]

انہیں صرف 2 فرسٹ کلاس میچوں کے بعد 1954ء میں انگلستان کا دورہ کرنے والی پاکستان کی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا اس وقت وہ صرف 18 سال کی عمر کے طالب علم تھے اس پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے 18 رنز بنائے اور 5 وکٹیں حاصل کیں تاہم اس دورے پر 16 فرسٹ کلاس میچز میں انہوں نے مڈل آرڈر بلے بازکے طور پر 16.86 کی اوسط سے 283 رنز بنائے اور 54.80 کی اوسط سے 9 وکٹیں کے حصول میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے پہلے اور تیسرے ٹیٹس میں نچلے نمبروں پر بیٹنگ کی تاہم بولنگ ان کے حصے میں نہیں آئی۔ اس دورے کے بعد انہوں نے مزید کرکٹ نہیں کھیلی اور اس طرح وہ واحد ٹیسٹ کرکٹر ہیں جن کا کیرئیر صرف 19 سال کی کی عمر میں ہی اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ انہوں نے 1957ء میں لنکا شائر لیگ میں ایسٹ لنکا شائر کیلئے سطور پروفیشنل ایک میچ بھی کھیلا تھا جس میں 57 رنز کے عوض 5 وکٹیں ان کے حصے یمں آئی تھیں۔

وفات[ترمیم]

27 جون 2020ء کو انگلینڈ میں ہیڈنگلے کے مقام پر انہوں نے 84 سال 62 دن کی عمر میں اپنی سانسوں کو مکمل کیا۔ یوں اپنے والد' چچا سے توسط سے کرکٹ سے وابستگی کا 1932ء میں شروع میں ہونے والا سفر 88 سال کے بعد سید خالد وزیر کی وفات کی صورت میں اپنے اختتام کو پہنچا[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین. "Khalid Wazir". 
  2. https://www.espncricinfo.com/player/khalid-wazir-41041