دلا بھٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دلا بھٹی
Dulla Bhatti
میانی صاحب قبرستان میں دفن
تاریخ پیدائش وسط سولہویں صدی
ساندل بار, پنجاب, مغلیہ سلطنت
(موجودہ پاکستان)
تاریخ وفات اواخر سولہویں صدی
لاہور, پنجاب, مغلیہ سلطنت
(موجودہ پاکستان)
قابل احترام خطۂ پنجاب

رائے عبداللہ بھٹی شہید (Rai Abdullah Bhatti Shaheed) جسے عام طور پر دلا بھٹی (پنجابی: شاہ مکھی دًﻻ بھٹى, پنجابی: گرمکھی ਦੁੱਲਾ ਭੱਟੀ) یا پنجاب کا بیٹا یا پنجاب کا رابن ہڈ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، خطۂ پنجاب سے ایک مشہور داستانوی مسلم راجپوت تھا جس نے شہنشاہ اکبر کے دور میں مغلوں کے خلاف بغاوت کی قیادت کی۔ [1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

دلا بھٹی پنجاب کے علاقے ساندل بار سے تھا۔ وہ مسلمان راجپوت [2] تھا اور زمیندار طبقے کے موروثی مقامی دیہی سرداروں کے خاندان تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد فرید اور دادا بجلی یا ساندل [lower-alpha 1] کو اکبر کے عائد کردہ نئی زمین کی مرکزی مالگذاری قوانین کی مخالفت پر سزائے موت دی گئی تھی۔ دلا بھٹی کی پیدائش اپنے والد کی وفات کے چار ماہ بعد ہوئی۔ [4] اس کی والدہ کا نام لدی تھا۔

ڈکیتی[ترمیم]

دلا بھٹی کی طبقاتی جنگ امیروں کے خلاف اور غریبوں کے ساتھ تھی جس کے لیے اس نے سماجی ڈکیتی کو اپنایا۔ [5][lower-alpha 2] اس نے لڑکیوں کے اغوا اور غلامی کے لیے فروخت کی مخالفت کی، ان کے لئے شادیوں کا بندوبست اور جہیز فراہم کیا۔ .[7]

وفات[ترمیم]

آخر کار دلا بھٹی کو گرفتار کر لیا گیا اور 1599ء میں اسے لاہور میں پھانسی دی گئی۔ اکبر کے خیال میں اسے سر عام پھانسی عوام کے لیے ایک مثال بنانے کے لئے تھی، کہ تختہ دار پر موت کا خوف دیگر مزاحمت کاروں کی ہمت توڑ دے گا، لیکن دلا بھٹی بہت ثابت قدم ثابت ہوا۔ شاہ حسین صوفی شاعر نے اس کے آخری الفاظ کو اس طرح بیان کیا۔ "پنجاب کا کوئی غیرت مند بیٹا کبھی پنجاب کی سرزمین کو فروخت نہیں کرے گا" [8][9]

میراث[ترمیم]

دلا بھٹی کا ذکر آج بھی پنجابی لوک شاعری اور موسیقی میں ملتا ہے۔ [10] سالانہ لوہڑی میلہ میں آج بھی اس کا تذکرہ لڑکیوں کے محافظ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ [7] اس کی زندگی سے متاثر اہم جدید ادب میں نجم حسین سید کا ڈراما تخت لاہور مشہور ہے۔ [11] اس کے علاوہ اس کی زندگی پر 1956ء میں بنائی گئی شہر آفاق فلم دلا بھٹی بھی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. رامے، حنیف (1985). پنجاب کا مقدمہ. 
  2. Ahsan (1996), p. 120
  3. Singh (2008), p. 106
  4. Gaur (2008), pp. 34, 37
  5. Gaur (2008), p. 36
  6. Hobsbawm (2010), p. 13.
  7. ^ 7.0 7.1 Purewal (2010), p. 83
  8. Gaur (2008), p. 37
  9. Ayres (2009), p. 76
  10. Singh (1997), p. 448
  11. van Erven (1992), p. 174
  1. Surinder Singh's analysis of regional folklore names Bhatti's grandfather as Sandal and suggests the possibility, given the influence that he had in the region, that the area of Sandal Bar is named after him.[3]
  2. Social bandit is a concept devised by Eric Hobsbawm, defined as "peasant outlaws whom the lord and state regard as criminals, but who remain within peasant society, and are considered by their people as heroes, as champions."[6]

کتابیات[ترمیم]