دلا بھٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دلا بھٹی
Dulla bhatti samadh.jpg
میانی صاحب قبرستان میں دلا بھٹی کی آخری آرام گاہ۔ لاہور
پیدائش وسط سولہویں صدی
ساندل بار, پنجاب, مغلیہ سلطنت
(موجودہ پاکستان)
وفات 26 مارچ 1599ء
لاہور, پنجاب, مغلیہ سلطنت
(موجودہ پاکستان)
محترم در خطۂ پنجاب

رائے عبد اللہ بھٹی شہید (Rai Abdullah Bhatti Shaheed) جسے عام طور پر دلا بھٹی (پنجابی: شاہ مکھی دًﻻ بھٹى، پنجابی: گرمکھی ਦੁੱਲਾ ਭੱਟੀ) یا پنجاب کا بیٹا یا پنجاب کا رابن ہڈ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، خطۂ پنجاب سے ایک مشہور داستانوی مسلمان راجپوت تھا جس نے شہنشاہ اکبر کے دور میں مغلوں کے خلاف بغاوت کی قیادت کی۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

دلا بھٹی پنجاب کے علاقے ساندل بار سے تھا۔ وہ مسلمان راجپوت [2] تھا اور زمیندار طبقے کے موروثی مقامی دیہی سرداروں کے خاندان تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد فریدبھٹی اور دادا بجلی یا ساندل بھٹی [ا] کو اکبر کے نافذ کردہ دینِ الٰہی کی مخالفت کی پاداش میں (یہ غلط ہے کہ زمین کی مرکزی مالگذاری قوانین کی مخالفت پر) سزائے موت دی گئی تھی۔ دلا بھٹی کی پیدائش اپنے والد کی وفات کے 12 دن بعد ہوئی۔ [4] اس کی والدہ کا نام لدھی تھا۔

وفات[ترمیم]

آخر کار دلا بھٹی کو گرفتار کر لیا گیا اور 26 مارچ1599ء میں اسے لاہور میں پھانسی دی گئی۔ اکبر کے خیال میں اسے سر عام پھانسی عوام کے لیے ایک مثال بنانے کے لیے تھی، کہ تختہ دار پر موت کا خوف دیگر مزاحمت کاروں کی ہمت توڑ دے گا، لیکن دلا بھٹی بہت ثابت قدم ثابت ہوا۔ شاہ حسین صوفی شاعر نے اس کے آخری الفاظ کو اس طرح بیان کیا۔ "پنجاب کا کوئی غیرت مند بیٹا کبھی پنجاب کی سرزمین کو فروخت نہیں کرے گا" [5][6]

میراث[ترمیم]

دلا بھٹی کا ذکر آج بھی پنجابی لوک شاعری اور موسیقی میں ملتا ہے۔ [7] سالانہ لوہڑی میلہ میں آج بھی اس کا تذکرہ لڑکیوں کے محافظ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ [8] اس کی زندگی سے متاثر اہم جدید ادب میں نجم حسین سید کا ڈراما تخت لاہور مشہور ہے۔ [9] اس کے علاوہ اس کی زندگی پر 1956ء میں بنائی گئی شہر آفاق فلم دلا بھٹی بھی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حنیف رامے۔ پنجاب کا مقدمہ۔
  2. Ahsan (1996), p. 120
  3. Singh (2008), p. 106
  4. Gaur (2008), pp. 34, 37
  5. Gaur (2008), p. 37
  6. Ayres (2009), p. 76
  7. Singh (1997), p. 448
  8. Purewal (2010), p. 83
  9. van Erven (1992), p. 174
  1. Surinder Singh's analysis of regional folklore names Bhatti's grandfather as Sandal and suggests the possibility, given the influence that he had in the region, that the area of ساندل بار is named after him.[3]

کتابیات[ترمیم]