ریشماں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ریشماں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1947  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بیکانیر  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 3 نومبر 2013 (65–66 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فنی زندگی
آلات موسیقی صوت  ویکی ڈیٹا پر آلۂ موسیقی (P1303) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ گلو کارہ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ریشماں پاکستان سے تعلق رکھنے والی کی ایک مشہور لوک گلوکارہ ہیں جو پاکستان کے علاوہ ہندوستان میں بھی مقبول ہیں۔ ان کا ایک مشہور گانا لمبی جدائی زبان زد عام ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہ ہندوستان کی تحصیل رتن گڑھ، راجستھان کے علاقے بیکانیر کے ایک گاؤں لوحا میں 1947ء میں پیدا ہوئیں، ان کا تعلق ایک خانہ بدوش خاندان سے تھا۔ ان کا خاندان ہندوستان کی تقسیم کے دوران میں پاکستان کراچی میں منتقل ہو گیا۔[2]

آغاز[ترمیم]

ریشماں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ ان کا کہنا ہے انہوں نے کلاسیکی موسیقی کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی[3]۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی عمر بارہ برس تھی جب ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی (سلیم گیلانی بعد ازاں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل بھی بنے۔) نے شہباز قلندر کے مزار پر انہیں گاتے ہوئے سنا اور انہیں ریڈیو پر گانے کا موقع دیا۔ اس وقت انہوں نے ’لعل میری‘ گیت گایا جو بہت مشہور ہوا۔

شہرت[ترمیم]

دھیرے دھیرے ریشماں پاکستان کی مقبول ترین فوک گلوکارہ بن گئیں۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشمان نے ٹی وی کے لیے بھی گانا شروع کر دیا۔ انہوں نے پاکستانی فلموں کے لیے بھی متعدد گیت گائے۔ ان کی آواز سرحد پار بھی سنی جانے لگی۔

بیرون ملک شہرت[ترمیم]

معروف بھارتی ہدایت کار سبھاش گھئی نے ان کی آواز اپنی ایک فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ریشماں ان کی فلم ’ہیرو‘ کے لیے ’لمبی جدائی‘ گایا جو آج بھی سرحد کے دونوں جانب انتہائی مقبول ہے۔ سن 1983ء کی اس فلم کو آج بھی ریشماں کے اس گانے کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔
2004 ء میں ان کا گانا عاشقاں دی گلی وچ مقام دے گیا بھارتی چارٹ کے ٹاپ ٹین میں شامل تھا۔[4]

مقبول گیت[ترمیم]

ریشماں کے کچھ دیگر مقبول گیتوں میں

’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک ماہیا مینوں یاد آؤندا‘،
’وے میں چوری چوری‘،
’دما دم مست قلندر‘،
’انکھیاں نوں رین دے انکھیاں دے کول کول‘ اور
’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘
شامل ہیں۔

ایوارڈ[ترمیم]

انہیں پاکستان میں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔ انہیں ستارۂ امتیاز اور ’لیجنڈز آف پاکستان کا اعزاز بھی دیا گیا تھا۔

وفات[ترمیم]

پاکستان کی لیجنڈری لوک گلوکارہ ریشماں 3 نومبر 2013ء کو طویل علالت کے بعد چھیاسٹھ برس کی عمر میں لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کر گئی۔ وفات سے قبل ایک ماہ سے کوما میں تھیں۔ اور اس سے ایک برس پہلے ان میں گلے کے سرطان کی تشخیص ہوئی تھی۔[5]
ریشماں کی موت کی خبر پھیلتے ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹوں ٹوئٹر اور فیس بُک پر تعزیتی پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔ انہوں نے سوگواروں میں بیٹا عمیر اور بیٹی خدیجہ چھوڑی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]