ریشم کھیتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دررباری خواتین سانگ کے شہنشاہ ہوئی زانگ کے توسط سے نئے بنے ہوئے ریشم کی تیاری کر رہی ہیں
ریشم کیڑا اور کوکون

ریشم کھیتی ، ریشم پیداوار یا ریشم کاشتکاری، ریشم کیڑوں کی کاشت سے ریشم کی پیداوار حاصل کرنے کا نام ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ریشم سب سے پہلے چین میں نیولیتھک دور کے آغاز میں ہی تیار کر لیا گیا تھا۔ ببرازیل ، چین ، فرانس ، ہندوستان ، اٹلی ، جاپان ، کوریا ، اور روس جیسے ممالک میں ریشم کاشتکاری ایک اہم کاٹیج انڈسٹری بن چکی ہے۔ 2020 میں چین اور ہندوستان دو اہم پیداواری ممالک ہیں جن کا حصہ دنیا کی سالانہ پیداوار میں 60 فیصد سے زیادہ ہے۔

تاریخ[ترمیم]

کنفیوشس متن کے مطابق، ریشم پیداوار کی دریافت 2700 قبل از مسیح میں ہوئی، آثار قدیمہ کے کچھ مندرجات ریشم کی کاشت کی تاریخ ابتدائی طور پرینگ شاؤ دور (5000-3000 قبل از مسیح) میں بتاتے ہیں۔ [1] 1977 میں ، سیرامک کا ایک ٹکڑا ( نانکن ، ہیبائی)دریافت ہوا جو 5400–5500 سال پہلے تخلیق کیا گیا تھا،جسے ریشم کے کیڑے کی طرح نظر آنے کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ [2]

2450–2000 قبل از مسیح تاریخ میں موجود سندھ تہذیب کے آثار قدیمہ میں پائے جانے والے ریشم ریشے کے محتاط تجزیے سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ریشم کا استعمال جنوبی ایشیاء کے ایک وسیع خطے میں ہوا تھا۔ [3]

ریشم تجارت[ترمیم]

پہلی صدی عیسوی کے نصف تک ، یہ شاہراہ ریشم کے ذریعہ قدیم خوتان [4] تک پہنچ گئی تھی۔ سن 140ء تک ریشم پیداوار کی صنعت ہندوستان میں قائم ہوچکی تھی۔ [5] 6 ویں صدی عیسوی میں بازنطینی سلطنت میں ریشم کے کیڑے کے انڈوں کی غیرقانونی تجارت بحیرہ روم میں اس کے قیام کا سبب بنی ، اور صدیوں تک بازنطینی سلطنت میں ریشم کی اجارہ داری رہی ( بازنطینی ریشم )۔ 1147 میں ، دوسری صلیبی جنگ کے دوران ، سسلی کے راجر دوم نے (1095–1154) ، بازنطینی ریشم کی تیاری کے دو اہم مراکز کرنتھیس اور تھیبس پر حملہ کرکےریشم جولاہوں اور ان کے سازوسامان سمیت پکڑ لیا ۔ پالرمو اور کلابریا میں اپنا ریشم کا کام استوار کیا ، [6] جس سے بالآخریہ صنعت مغربی یورپ میں پھیلنا شروع ہوئی۔ اگرچہ ریشم کیڑے کی متعدد تجارتی اقسام موجود ہیں ، لیکن بومبییکس موری (گھریلو ریشم کیڑا کی ابتدائی شکل) سب سے زیادہ اور وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس ریشم کیڑے کا کافی مطالعہ کیا جاتا ہے۔

ریشم تجارت کی مخالفت[ترمیم]

مہاتما گاندھی ریشم کی تیاری کے خلاف تھے جس کی بنیاد "کسی جاندار کو تکلیف نہ پہنچانے" کا اہنسا فلسفہ تھا۔ اس نے "اہنسا ریشم " کو بھی فروغ دیا ، جو جنگلی اور نیم جنگلی ریشم کے کوکوون سے بنا ہوا ریشم ہوتا ہے، جنگلی ریشم پیوپے(حشرات کی زندگی کے دور میں ایک مرحلہ ) کو ابالے بغیر ریشم کشید لیا جاتا تھا۔ [7]   اکیسویں صدی کے اوائل میں ، پیٹا (PETA) نامی تنظیم نے بھی ریشم کے خلاف مہم چلائی ۔ [8]

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Barber، E. J. W. (1992). Prehistoric textiles: the development of cloth in the Neolithic and Bronze Ages with special reference to the Aegean (ایڈیشن reprint, illustrated). مطبع جامعہ پرنسٹن. صفحہ 31. ISBN 978-0-691-00224-8. اخذ شدہ بتاریخ 06 نومبر 2010. 
  2. "2015-10-29240509.html". 08 فروری 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 01 مارچ 2021. 1977年在石家庄长安区南村镇南杨庄出土的5400-5500年前的陶质蚕蛹,是仿照家蚕蛹烧制的陶器,这是目前发现的人类饲养家蚕的最古老的文物证据。 
  3. Vainker، Shelagh (2004). Chinese Silk: A Cultural History. Rutgers University Press. صفحہ 20. ISBN 0813534461. 
  4. Hill, John E. 2003. "Annotated Translation of the Chapter on the Western Regions according to the Hou Hanshu." 2nd Draft Edition. Appendix A.
  5. "History of Sericulture" (PDF). Governmentof Andhra Pradesh (India) – Department of Sericulture. 21 جولا‎ئی 2011 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 نومبر 2010. 
  6. Muthesius, "Silk in the Medieval World", p. 331.
  7. Radhakrishnan, S.، ویکی نویس (1968). Mahatma Gandhi: 100 years. New Delhi: Gandhi Peace Foundation. صفحہ 349. اخذ شدہ بتاریخ 19 اپریل 2013. 
  8. "Down and Silk: Birds and Insects Exploited for Fabric". PETA. اخذ شدہ بتاریخ 06 جنوری 2007.