ساحل احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ساحل احمد
پیدائش 21 اپریل 1938ء
دہلی، انڈیا
رہائش نئی دہلی , صوبۂ دہلی
اسمائے دیگر ساحل احمد
پیشہ ادب سے وابستگی،
وجہِ شہرت شاعری
مذہب اسلام
ساحل احمد، جگن ناتھ آزاد کے ساتھ

ساحل احمد : پیدائش : 21 اپریل 1938ء۔ آپ کی تعلیم الہ آباد اور علی گڑھ میں ہوئی۔ آپ کا مشغلہ درس و تدریس (1964 سے 2000 تک) رہا اور بحیثیت صدر شعبہ اردو اور ریڈر ریٹائر ہوئے۔

تصانیف[ترمیم]

ساحل احمد اپنی تخلیقات کے ساتھ۔ ہمراہ احمد علی برقی صاحب بھی ہیں۔

آپ کی تصانیف کی فہرست کافی لمبی ہے۔ گوشہ نشینی میں کئی درجنوں کتابیں لکھیں۔ لیکن شہرت اور ابلاغ سے دور رہے۔ خاموشی سے کام کیا اور اردو ادب کو اپنی بے پناہ تخلیقات سے سرفراز کیا۔

آپ کی اہم تصانیف[ترمیم]

مشاہیر کی نظر میں[ترمیم]

(آل احمد سرور کی نظر میں[ترمیم]

آپ کا کلام رسالوں مں نظر سے گذرتا رہتا ہے۔ مجھے آپ کی غزلوں میں تازگی محسوس ہوتی رہتی ہے۔ آپ نے جس ہمت اور استقلالسے حالات کا مقابلہ کیا ہے وہ ہر لحاظ سے قابل قدر ہے۔ آپ کا شمار اردو کے ممتاز شعرا میں ہے۔

(سید احتشام حسین) کی نظر میں[ترمیم]

  • ساحل احمد خوش فکر شاعر بھی ہیں اور اچھے شعر و ادب کے نباض بھی

فراق گورکھپوری کی نظر میں[ترمیم]

آپ کے انداز فکر میں خلوص و صداقت ہے اور انداز بیان بہت محتاط ہے۔

وزیر آغا کی نظر میں[ترمیم]

ساحل احمد کے سارے تجربات اس کے اپنے ہیں۔ فطرت کی ساری کروٹیں اس نے اپنی پانچویں حسیات سے گرفت میں لی ہیں۔ حتی کہ دکھ بھی اس کے اپنے ہیں۔ وہ جدید اردو غزل کی ایک نئی جہت کے بھی غماز ہیں۔

نعیم صدیقی کی نظر میں[ترمیم]

آپ نے اقبال پر بہٹ ٹھوس بحچیں کی ہیں۔ آپ کے حواشی بھی بڑے معلومات افزا ہیں۔

جگن ناتھ آزاد کی نظر میں[ترمیم]

ساحل احمد بھر پور ادبی سلاحیتوں کے مالک ہیں۔ جن ادیبوں اور شاعروں نے ساحل احمد کی تحقیقی، تنقیدی اور تحقیقی کام کو ایک نؓر دیکھا ہے وہ ان کی ادبی اور علمی صلاحیتوں پر ایمان لائے بغیر نہیں رہ سکتے۔

خلیل الرحمن اعظمی کی نظر میں[ترمیم]

آپ نے اردو غزل کا جائزہ لینے میں کافی دیدہ ریزی کی ہے۔ تمام رنگوں اور طرزوں کا احاطہ کیا ہے۔

سجاد مرزا کی نظر میں[ترمیم]

ساحل احمد کے نام اور کام کو آج کا کج فکر نقاد کسی سورت بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ انھوں نے اپنے خونِ جگر سے جن چراغوں کو فروزاں کیا ہے ان کی روشنی آنے والی صدیوں میں تا دیر سلامت رہے گی۔

حوالہ جات[ترمیم]