سرفروشی کی تمنا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

سرفروشی کی تمنا بسمل شاہجہاں پوری (جن کا اصلی نام رام پرساد تھا) کی ایک مشہورغزل ہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
رہ روئے راہِ محبت رہ نہ جانا راہ میں لذتِ صحرا نوردی دورئ منزل میں ہے
وقت آنے دے بتادیں گے تجھے اے آسمان ہم ابھی کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
اے شہید ملک و ملت تیرے جذبوں پر نثار تیری قربانی کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
دور ہو اب ملک سے تاریکی بغض و حسد بس یہی حسرت یہی ارماں ہمارے دل میں ہے
ساحل مقصود پر لے جا چل خدارا ناخدا اپنے ارمانوں کی کشتی بڑی مشکل میں ہے
اب نہ اگلے ولولے ہیں نہ ارمانوں کی بھیڑ ایک مٹ جانے کی حسرت اب دلِ بسمل میں ہے

بسمل کی درج بالا غزل انقلابی قیدی جیل سے پولیس کی لاری میں عدالت میں جاتے ہوئے، عدالت میں مجسٹریٹ کو چڑھاتے ہوئے اور عدالت سے لوٹ کر واپس جیل آتے ہوئے کورس کے روپ میں گایا کرتے تھے۔ بسمل کی شہادت کے بعد تو یہ تخلیق سبھی انقلابیوں میں زبان زد عام ہو گئی تھی۔ جتنی تحریر اوپر دی گئی ہے وہ لوگ اتنی ہی گاتے تھے۔

بعد میں یہ نظم سب سے پہلے 1965ء میں منوج کمار کی فلم ’’ شہید آن دا لائف ‘‘ بھگت سنگھ میں‌شامل کی گئی تھی۔دوبارہ آج کے دور میں اسے کچھ مبدل سطور کے ساتھ 2002ء میں ہندی فلم ’’ لیجنڈ بھگت سنگھ ‘‘ میں‌شامل کیا گیا اس کے بعد 2006ء میں اس کی سطور ’’ رنگ دے بسنتی ‘‘ میں استعمال کی گئیں،اور یہی نظم ایک بار پھر 2009ء میں اورنگ کاشیاپ کی فلم ’’ گلال‘‘ میں بھی شامل کی گئی۔

مکمل نظم[ترمیم]

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
رہروئے راہِ محبت رہ نہ جانا راہ میں
لذتِ صحرا نوردی دوری منزل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

کرتا نہیں کیوں دوسرا کچھ بات چیت
دیکھتا ہوں میں جسے وہ چپ تیری محفل میں ہے
اے شہید ملک و ملت تیرے جذبوں پر نثار
تیری قربانی کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

وقت آنے دے بتا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
کھینج کر لائی ہے سب کو قتل ہونے کی امید
عاشقوں کا آج جمگھٹ کوچہ قاتل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ہے لئے ہتھیار دشمن تاک میں بیٹھا ادھر
اور ہم تیار ہیں سینہ لئے اپنا ادھر
خون سے کھیلیں گے ہولی گر وطن مشکل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ہاتھ جن میں ہو جنون کٹتے نہیں تلوار سے
سر جو اٹھ جاتے ہیں وہ جھکتے نہیں للکا ر سے
اور بھڑکے گا جو شعلہ سا ہمارے دل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ہم جو گھر سے نکلے ہی تھے باندہ کے سر پہ کفن
جان ہتھیلی پر لئے لو، لے چلے ہیں یہ قدم
زندگی تو اپنی مہمان موت کی محفل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

یوں کھڑا مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار
کیا تمناِئے شہادت بھی کِسی کے دِل میں ہے
دل میں طوفانوں کی ٹولی اور نسوں میں انقلاب
ہوش دشمن کے اڑا دیں گے ہمیں روکو نہ آج
دور رہ پائے جو ہم سے دم کہاں منزل میں ہے

وہ جِسم بھی کیا جِسم ہے جس میں نہ ہو خونِ جنون
طوفانوں سے کیا لڑے جو کشتیِ ساحل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے[1]

ایک پنہاں حقیقت[ترمیم]

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے یہ غزل جب ہمارے کان میں پڑتی ہے ذہن میں رام پرساد بسمل کا نام ابھر آتا ہے ۔ یہ غزل رام پرساد بسمل کی علامت سی بن گئی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس مطلع کے خالق رام پرساد بسمل نہیں بلکہ اس کے خالق شاعر بسمل عظیم آبادی ہیں اور ان کے مجموعہ کلام حکایت ہستی میں کچھ دیگر مختلف اشعار کے ساتھ موجود ہے۔ مگر رام پرساد بسمل نے بھی اسی مطلع کو لے کر اسی زمین پر غزل کہی تھی۔ اور آخری ایام میں ان کا ورد زباں رہی۔

بسمل شاہجہاں پوری سیاست کے علاوہ شعروادب کابھی ذوق رکھتےتھے۔ بسمل شاہجہاں پوری کی غزل سرفروشی کی تمنا عالمی شہرت یافتہ ہے۔ مقدمے کےدوران ان کی کئی نظمیں مشہور ہوئیں، حکام نے ان کے کلام پر پابندی عائد کردی۔ زمانےکی دست برد سے سرفروشی کی تمنا محفوظ غزل ہے اس کے ابتدائی چار شعر اورمقطع"بندے ماترم" نامی رسالہ میں اور بقیہ اورمقطع 1929ء میں "پشپانجلی"میں شائع ہوئے تھے۔ پوری نظم لائق توجہ ہے۔

البتہ رام پرساد نے اپنی غزل میں مقطع کو نہیں لیا تھا لیکن اس کی جگہ اس نے اسی زمین پر ایک اور غزل کہی جو “زندگی کا راز“ کے نام سے مشہور ہے اس میں مقطع رام پرساد کا ہے۔ وہ یہ ہے۔

چرچا اپنے قتل کا اب دشمنوں کے دل میں ہے دیکھنا ہے یہ تماشا کون سی منزل میں ہے ؟
قوم پر قربان ہونا سیکھ لو اے ہندیو ! زندگی کا راز مضمر خنجر قاتل میں ہے !
ساحل مقصود پر لے چل خدارا ناخدا ! آج ہندوستان کی کشتی بڑی مشکل میں ہے !
دور ہو اب ہند سے تاریکی بغض و حسد اب یہی حسرت یہی ارماں ہمارے دل میں ہے !
بام رفعت پر چڑھا دو دیش پر ہوکر فنا بسمل' اب اتنا ہوش باقی ہمارے دل میں ہے !

محققین کی آراء[ترمیم]

  • رام پرساد بسمل اور اشفاق اللہ خان پر تحقیق کر نے والے سدھیر کہتے ہیں، "سرفروشی کی تمنا" کو رام پرساد بسمل نے گایا ضرور تھا، لیکن یہ غزل بسمل عظیم آبادی کی ہے۔"
  • مؤرخ پروفیسر امتیاز بھی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ غزل بسمل عظیم آبادی کی ہی ہے۔ پروفیسر امتیاز کے مطابق، ان کے ایک دوست خود۔
  • رضوان احمد اس غزل پر ایک تحقیق کر چکے ہیں، جسے کئی قسطوں میں انہوں نے اپنے اخبار ' عظیم آباد ایکسپریس' میں شائع کیا تھا۔
  • بسمل عظیم آبادی کے پوتے منور حسن بتاتے ہیں کہ یہ غزل آزادی کی لڑائی کے وقت قاضی عبد الغفار کی میگزین 'صباح' میں 1922ء میں شائع ہوئی تو انگریز حکومت تلملا گئی تھی۔ایڈیٹر نے خط لکھ کر بتایا کہ برطانوی حکومت نے پرچے کو ضبط کر لیا ہے۔ دراصل، اس غزل کا ملک کی جنگ آزادی میں ایک اہم کرداررہا ہے۔

یہ غزل رام پرساد بسمل کی زبان پر ہر وقت رہتی تھی۔ 1927ء میں سولی پر چڑھتے وقت بھی یہ غزل ان کی زبان پر تھی۔ بسمل کے انقلابی ساتھی جیل سے پولیس کی لاری میں جاتے ہوئے، کورٹ میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوتے ہوئے اور لوٹ کر جیل آتے ہوئے ایک سر میں اس غزل کو گایا کرتے تھے۔

بسمل عظیم آبادی کی غزل[ترمیم]

عظیم آبادی کی غزل یہ ہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار لے تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
وائے قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے
رَہ روِ راہِ محبت! رہ نہ جانا راہ میں لذت صحرا نوردی دوری منزل میں ہے
شوق سے راہِ محبت کی مصیبت جھیل لے اک خوشی کا راز پنہاں جادہ منزل میں ہے
آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار آئیں وہ شوق شہادت جن کے دل میں ہے
مرنے والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے یہ غنیمت وقت ہے خنجر کفِ قاتل میں ہے
مانعِ اظہار تم کو ہے حیا ، ہم کو ادب کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے
میکدہ سنسان ، خم الٹے پڑے ہیں ، جام چور سر نگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے
وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ وہ ارماں کی بھیڑ صرف مٹ جانے کی اک حسرت دلِ بسملؔ میں ہے

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. یہ انگریزی ویکیپیڈیا سے منقول غزل ہے جو وہاں پر غلطی سے بسمل عظیم آبادی کے نام کر دی گئی ہے۔