سو لفظی کہانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سو لفظی کہانی یا ڈریبل(انگریزی: Drabble) ادب کی ایک ایسی صنف ہے جس میں پورے سو الفاظ ہوں۔[1][2][3] ضروری نہیں کہ اس میں عنوان کے الفاظ کو بھی شامل کیا جائے۔[4] سو لفظی کہانی کا اصل مقصد اختصار ہے، اور مصنف کی صلاحیت کی جانچ کہ وہ ایک محدود دائرے میں دلچسپ اور بامعنی خیالات کا اظہار کیسے کرتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

انگریزي[ترمیم]

سو الفاظ کی کہانیاں لکھنے کا آغاز برمنگھم یونیورسٹی کی سائنس فکشن سوسائٹی نے 1980ء کی دہائی میں کیا تھا۔ انھوں نے 100 الفاظ کی کہانی کو ڈریبل کا نام دیا۔مونٹی پائی تھون (Monty Python) برطانیہ کا ایک مقبول مزاقیہ گروہ تھا جس نے 1969ء سے 1983ء تک ٹی وی پر مزاحیہ کام کیا۔ ان کے پروگرام کا نام پائی تھون فلائنگ سرکس تھا۔مونٹی پائی تھون کے ابتدائی برسوں کے پروگراموں کے متن کو ایک کتاب کی شکل دی گئی تو اس کا نام بگ ریڈ بک رکھا گیا۔[1][4] اس کتاب میں ایک الفاظ کا کھیل یا ورڈ گیم (word game) متعارف کرایا گیا جس کا نام ڈریبل تھا۔ ڈریبل کی بازی وہ فن کار جیت سکتا تھا جو سب سے پہلے ایک ناول لکھ ڈالتا۔ایک نشست میں ناول فقط قصے کہانیوں میں لکھے جا سکتے ہیں۔ برمنگھم یونیورسٹی میں 80 کی دہائی میں ڈریبل کے کھیل کا حقیقت میں آغاز کیا گیا تو شرط یہ رکھی گئی کہ ناول نہیں ، افسانہ لکھنا ہے اور کم نہ زیادہ، پورے سو لفظ استعمال کرنے ہیں۔ 1988ء میں برطانیہ کی بلائنڈ ایسوسی ایشن کی امداد کے لیے 100 لکھنے والوں سے 100 الفاظ کی 100 کہانیاں لکھواکر ایک کتاب شائع کی گئی۔ اس کا نام ڈریبل پروجیکٹ رکھا گیا۔اس طرح ڈریبل پروجیکٹ کے نام سے 1988ء میں پہلی کتاب چھپی۔ دو سال بعد’’ ڈبل سنچری‘‘ اور 1993ء میں ’’ڈریبل ہو‘‘ کے نام سے دو اور کتابیں شائع ہوئیں۔ تینوں کتابیں صرف ایک ایک ہزار چھاپی گئیں اور ان کا دوسرا ایڈیشن کبھی شائع نہیں ہوا۔[5]

اردو[ترمیم]

اردو میں سو لفظی کہانیاں لکھنے کا آغاز مبشر علی زیدی نے کیا ۔ پہلی بار ان کی کہانیوں کو روزنامہ دنیا لاہور نے ان کی کتاب سے اقتباس لے کر شائع کیا ۔ بعد ازاں مستقل اشاعت کی شروعات روزنامہ جنگ اخبار سے مارچ ۲۰۱۴ سے کی ۔ جس کا عنوان “ 100 الفاظ کی کہانیاں “ ہے بعد ازاں ایکسپریس پر بھی لکھا ۔

نمونہ[ترمیم]

ہیلری کلے کی کہانی شام حیرت

بھڑکیلی شوخ رنگ والی شرٹ۔ بہت مختصر سا اسکرٹ۔ پیروں سے اٹھ کر اسکرٹ میں گم ہو جانے والے چست موزے۔ اونچی ایڑی کے سینڈل۔ کانوں میں چمکتی بالیاں، ہاتھوں میں کھنکتے کڑے۔ اس کے ہاتھ کسی مشین جیسی تیزی سے چل رہے تھے۔ کبھی ہونٹ رنگے جا رہے تھے، کبھی غازہ لگایا جا رہا تھا۔ خود کو سنوارنے کا عمل قابل رشک مہارت سے جاری تھا۔ کام مکمل کر کے اس نے آئینے میں اپنا سراپا تنقیدی نگاہوں سے دیکھا۔ اسی وقت اس کی نظر عقب میں موجود بچے کے عکس پر پڑی۔ حیرت سے دیکھنے والے بچے کے منھ سے نکلا، ’’ڈیڈی!‘‘[6]

55 فکشن[ترمیم]

معیار[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]