سید بشیر احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید بشیر احمد
Syed Bashir Ahmad.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 2 جنوری 1952 (67 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پلوامہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش پلوامہ  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد 4 بیٹے اور 1 بیٹی
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سید بشیر احمد (پیدائش 2 جنوری 1952 شیکھر، ضلع پلوامہ جموں و کشمیر میں)[1][2] ایک کشمیری سیاست دان ہیں۔ انھوں نے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی سماجی بہبود کے لیے کام کیا ہے اور کمزور طبقات کے کاز کی ترجمانی کرتے ہیں۔ بشیر احمد راجپورہ انتخابی حلقے سے رکن قانون ساز اسمبلی ہیں۔[3] اور جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی پٹیشن کمیٹی کے کرسی نشین ہیں۔[4]

پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

وہ چھوٹی عمر ہی سے سیاست سے وابستہ ہو گئے تھے اور جنتا دل، انڈین نیشنل کانگریس اور جان مورچہ سے منسلک رہے ہیں۔ جب 1996ء میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے میں سید بشیر پلوامہ حلقے سے جنتا دل کی طرف سے بطور امیدوار نیشنل کانفرنس کے امیدوار کی مخالفت میں کھڑے ہوئے، لیکن معمولی فرق سے ہار گئے۔[5]

1999ء میں، انھوں ںے دوسرے رہنماؤں کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر پیپلز پارٹی ڈیمو ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) قائم کی، اس کی قیادت سابق وزیر داخلہ بھارت اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کر رہے تھے۔ 2002ء میں، انھوں نے راجپورہ حلقے سے انتخاب میں حصہ لیا اور جیت گئے، مفتی محمد سعید کی سربراہی میں بننے والی حکومتی کابینہ میں وہ وزیر تعلیم بنائے گئے۔[2][6] بعد میں وہ پی ایچ ای، آبپاشی اور سیلاب کی روک تھام اور سڑکوں اور عمارتوں کے ادارے کے نگران بنائے بنائے گئے۔[7] 2008ء کے انتخابات میں بھی جیت گئے تھے۔[6]

جولائی 2005ء میں، عسکریت پسندوں نے مصروف بڈشاہ چوک سری نگر میں بشیر احمد پر اس وقت جان لیوا حملہ کیا جب وہ سول سیکرٹریٹ جا رہے تھے۔ وہ تو بچ گئے لیکن ان کے دو محافظ (پی ایس او) اور ایک شہری فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گئے۔[8][9]

جولائی 2014ء میں، پی ڈی پی نے 2014ء اسبملی انتخابات کے لیے سید بشیر احمد کا نام نکال دیا۔ جلد ہی راجپور حلقے سے ان کی جماعت کے سینکڑوں کارکن گلیوں میں نکل آئے اور پلوامہ میں ہاؤسنگ کالونی کے باہر بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے۔ مظاہرین میں اعلیٰ سیاست دان اور قانون ساز اسمبلی کے ارکان بھی شامل تھے۔۔ مظاہر نے جماعت مخالف نعرے بازی کی اور مفتی محمد سعید کے خلاف بھی کہ انھوں نے کیوں بشیر احمد کو نظر انداز کیا[10] سید بشیر نے بعد میں انکشاف کیا کہ انہیں نام نکالنے سے پہلے اعتماد نہیں لیا گیا تھا جس میں اس سے قبل راجپور کے انتخابی حلقہ سے جماعت کے امیدوار کے طور پر بھی ان کا نام شامل نہیں کیا گیا تھا اور وہ صرف فون پر بتایا گیا تھا کہ امیدواروں کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔[11]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.jammulinks.com/completedetail.php?tablename=MLA&namefield=Mr.%20Syed%20Bashir%20Ahmad%20Shah
  2. ^ ا ب Syed Bashir Ahmad
  3. "List of Honorable Members of J&K Legislative Assembly – 5. Ahmad, Shri Syed Bashir"۔
  4. Govt. of Jammu & Kashmir, Director Of Information & Public Relations :: News Description
  5. IndiaVotes AC: Pulwama 1996
  6. ^ ا ب Rajpora Election 2014, Results, Candidate List and winner of Rajpora Assembly (Vidhan Sabha) Constituency, Jammu And Kashmir
  7. The Tribue India
  8. The Tribue India
  9. The Hindu : Front Page : Attack on another Kashmir Minister
  10. Syed Bashir’s workers protest outside Mufti’s Gupkar residence
  11. http://www.kashmir-today.net/row-drabus-candidature-pdp-created-devil-deep-sea-situation-syed-bashir/