مندرجات کا رخ کریں

شاہی بحریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
شاہی بحریہ
شاہی بحریہ کا لوگو
قیام1546؛ 480 برس قبل (1546)[1]
ملکمملکت متحدہ کا پرچم مملکت متحدہ
قسمبحریہ
کرداربحری جنگ
حجم
حصہہز میجسٹیز نیول سروس
نیول اسٹاف کے دفاتروائٹ ہال، لندن
عرفیتسینئر سروس
نصب العین"Si vis pacem, para bellum"  (لاطینی)
(If you wish for peace, prepare for war)
رنگ  نیوی بلیو
  سفید
  سنہرا
مارچQuick – "Heart of Oak" Play
Slow – Westering Home (de facto)
بیڑہ
ویب گاہwww.royalnavy.mod.uk
کمان دار
سربراہ مسلح افواج اور لارڈ ہائی ایڈمرل چارلس سوم
اول رئیس بحری اور چیف آف دی نیول اسٹاف جنرل Sir Gwyn Jenkins
Second Sea Lord and Deputy Chief of the Naval Staff Vice Admiral Paul Beattie
Fleet Commander Vice Admiral Steve Moorhouse
Warrant Officer to the Royal Navy Warrant Officer Class 1 Jamie Wright
طغرا
سفید اینسائن[پ]
بحری جھنڈا[ت]
مثلثی
شاہی رنگ
اڑائے جانے والے طیارے
حملہWildcat HMA2
ایف-35 لائیٹننگ
لڑاکاایف-35 لائیٹننگ
گشتیMerlin HM2
Wildcat HMA2
جاسوسCommando Wildcat AH1
RQ-12A Wasp UAV
RQ-20 Puma UAV
Peregrine rotary-wing UAV
مشاقAvenger T1
Juno HT1
Prefect T1
Tutor T1
ٹرانسپورٹCommando Merlin HC4/4A

شاہی بحریہ (Royal Navy) برطانیہ کی مسلح افواج کا سب سے قدیم شعبہ ہے۔ اٹھارویں صدی کے اوائل سے بیسویں صدی کے وسط تک یہ دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترین بحریہ تھی، جس نے اٹھارویں، اُنّیسویں اور ابتدائی بیسویں صدی میں سلطنت برطانیہ کو دنیا کی غالب قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سرد جنگ کے زمانے میں یہ بنیادی طور پر ایک آبدوز دشمن قوت بن گئی تھی، جس کا مقصد سوویت آبدوزوں کو تلاش کرنا اور نشانہ بنانا تھا، جو شمالی بحر اوقیانوس میں بہت زیادہ متحرک ہو گئی تھیں۔ سوویت اتحاد کے خاتمے کے بعد اِکّیسویں صدی میں اس کی بنیادی توجہ عالمی سطح پر ایک مرتبہ پھر بحری مہمات پر مرکوز ہو گئی ہے۔

کل گنجائش کے اعتبار سے شاہی بحریہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی بحریہ ہے۔ اس وقت بحریہ میں 90 سند یافتہ بحری جہاز ہیں جن میں طیارہ بردار جہاز، آبدوزیں، بارودی سرنگیں تباہ اور گشت کرنے والے جہاز و کشتیوں کے علاوہ شاہی بیڑے کے مددگار جہاز بھی شامل ہیں۔

اپریل 2006ء کے مطابق بحریہ کے مستقل اراکین کی تعداد 39 ہزار 400 ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Robert Tittler؛ Norman L. Jones (2008)۔ A Companion to Tudor Britain۔ John Wiley & Sons۔ ص 193۔ ISBN:978-1405137409
  2. 1 2 3 "Quarterly service personnel statistics: 1 October 2025"۔ Ministry of Defence۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-12-07
  3. Military Aircraft: Written question – 225369 (House of Commons Hansard) آرکائیو شدہ 26 اگست 2016 بذریعہ وے بیک مشین, parliament.uk, March 2015
  1. Since April 2013, Ministry of Defence publications no longer report the entire strength of the Regular Reserve; instead, only Regular Reserves serving under a fixed-term reserve contract are counted. These contracts are similar in nature to the میری ٹائم ریزرو۔
  2. In Royal Navy parlance, "commissioned ships" invariably refers to both آبدوز and surface ships. Non-commissioned ships operated by or in support of His Majesty's Naval Service are not included.
  3. 1630–1707
    قرون وسطیٰ – 1707
    1707–1800
  4. 1545–1606
    قرون وسطیٰ – 1606
    1606–1800