شاہی بحریہ
شاہی بحریہ (Royal Navy) برطانیہ کی مسلح افواج کا سب سے قدیم شعبہ ہے۔ اٹھارویں صدی کے اوائل سے بیسویں صدی کے وسط تک یہ دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترین بحریہ تھی، جس نے اٹھارویں، اُنّیسویں اور ابتدائی بیسویں صدی میں سلطنت برطانیہ کو دنیا کی غالب قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سرد جنگ کے زمانے میں یہ بنیادی طور پر ایک آبدوز دشمن قوت بن گئی تھی، جس کا مقصد سوویت آبدوزوں کو تلاش کرنا اور نشانہ بنانا تھا، جو شمالی بحر اوقیانوس میں بہت زیادہ متحرک ہو گئی تھیں۔ سوویت اتحاد کے خاتمے کے بعد اِکّیسویں صدی میں اس کی بنیادی توجہ عالمی سطح پر ایک مرتبہ پھر بحری مہمات پر مرکوز ہو گئی ہے۔
کل گنجائش کے اعتبار سے شاہی بحریہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی بحریہ ہے۔ اس وقت بحریہ میں 90 سند یافتہ بحری جہاز ہیں جن میں طیارہ بردار جہاز، آبدوزیں، بارودی سرنگیں تباہ اور گشت کرنے والے جہاز و کشتیوں کے علاوہ شاہی بیڑے کے مددگار جہاز بھی شامل ہیں۔
اپریل 2006ء کے مطابق بحریہ کے مستقل اراکین کی تعداد 39 ہزار 400 ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Robert Tittler؛ Norman L. Jones (2008)۔ A Companion to Tudor Britain۔ John Wiley & Sons۔ ص 193۔ ISBN:978-1405137409
- 1 2 3 "Quarterly service personnel statistics: 1 October 2025"۔ Ministry of Defence۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-12-07
- ↑ Military Aircraft: Written question – 225369 (House of Commons Hansard) آرکائیو شدہ 26 اگست 2016 بذریعہ وے بیک مشین, parliament.uk, March 2015
- ↑ Since April 2013, Ministry of Defence publications no longer report the entire strength of the Regular Reserve; instead, only Regular Reserves serving under a fixed-term reserve contract are counted. These contracts are similar in nature to the میری ٹائم ریزرو۔
- ↑ In Royal Navy parlance, "commissioned ships" invariably refers to both آبدوز and surface ships. Non-commissioned ships operated by or in support of His Majesty's Naval Service are not included.
- ↑
- ↑



