شاہ منجھن شطاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شیخ منجھن شطاری کمال پوری عالم اور صالح بزرگ تھے ، متورع اور فقیہ تھے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں شدت سے کام لیتے اور سختی سے لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے[1]

نسب[ترمیم]

شاہ منجھن شطاری آپ عبد اللہ ابن قاضی خیر الدین کے فرزند ہیں ، آپ کے پدری دادا خلاصۃ العلما٫ قاضی تاج الدین نحوی  ہیں، جو شیخ محمود زندہ پوش قرشی عشقی کی نسل سے ہیں ، جن کی خانقاہ اسلامی شہر بلخ میں تھی ۔

اجداد کی ہندوستان آمد[ترمیم]

جس زمانہ میں قاضی شہاب الدین اور قاضی فخر الدین کا فیض ہندوستان میں جاری تھا ، اس زمانہ میں قاضی تاج الدین نحوی بلخ سے ہندوستان آئے تھے اور شہر لکھنوتی میں قیام فرمایا ،اور مادری دادا زبدۃ السادات قاضی سما٫ الدین دہلوی ہیں ، جو فتوی نویسی کے عالی منصب پر سرفراز اور قتلغ خاں کے لقب سے مشرف تھے۔

شاہ غوث الاولیا٫ کی خدمت میں[ترمیم]

آپ کے پیر بیعت تاج العرفا٫ سید تاج الدین بخاری ہیں ، شاہ منجھن کو حضور غوث الاولیا٫ حضرت غوث گوالیاری کی خدمت میں سفارش کرکےپیش کیا ، اس مدت میں آپ نے جواہر خمسہ حضرت پیر صاحب کی خدمت میں رہ کر پڑھی ، خرقہ خاص جو کوہستان چنار کی ریاضت کے وقت حضرت غوث الاولیا٫ پہنے رہتے تھے آپ کو عطاہوا۔

رائسین کی شیخ الاسلامی[ترمیم]

جس سال شیر خان سوری نے قلعہ رائے سین فتح کرکےاسلام آباد نام رکھا اس سال آپ اپنے وطن لکھنوتی سے رائے سین آئے تھے، ایک مدت تک اس قلعہ کی شیخ الاسلامی و خانقاہ داری کا منصب آپ ہی سے متعلق رہا[2]

قیام سارنگپور اور علوم کا فیضان[ترمیم]

ہنود کے غلبہ پانے کے بعد آپ وہاں سےترک سکونت کرکے سارنگ پورمالوہ میں چلے آئے اور یہیں مکان بنا لیا، شاہ منجھن خلاصہ علما٫ زمانہ شیخ احمدی کے ہم درس تھے ، تمام علوم متداولہ کا محققانہ درس دیا کرتے تھے ، اتنا بڑا عالم اس زمانہ میں ان اطراف میں نہیں تھا اور کتابیں بھی حادثہ کے سبب لوٹ میں جاتی رہی تھیں ، آپ نےہر ایک فن میں اپنی ایجاد سے ایک رسالہ مرتب کیا اور طالبان علوم کو ان سے مستفیض فرماتے رہے، جس کے سبب آپ کے قدوم گرامی کی برکت سے سارنگ پور شیراز بن گیا اور بہت سے اہل کمال وہاں کی دانا گیر خاک میں سکونت پزیر ہوئے، 968ھ میں شہنشاہ اکبر نے-جو اپنے ایک باغی امیر ادھم خاں کی سرکوبی کے لیے وہاں آیا ہوا تھا-[3]  تمام اولیا٫ مالوہ کو سارنگ پور میں جمع فرمایا ،اس وقت آپ کا قیام سارنگ پور ہی میں تھا[4]۔

آشٹہ کا  قیام اور وفات[ترمیم]

جب آپ کا وقت پیری آ پہنچا تو آپ نےخلوت اختیار کی اور قصبہ آشٹہ میں گوشہ نشین ہو گئے ، ربیع الاول 1001ھ میں آپ سارنگ پور آئے اور تمام چھوٹے بڑوں سے معافی تلافی کرکے واپس آشٹہ آگئے، 80 سال کی عمر میں جب  کہ اہل ذکر کے ساتھ جہر فرما رہے تھے جہان فانی کو الوداع کہا[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نزہۃ الخواطر بحوالہ عاشقیہ
  2. اذکار ابرار
  3. مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی
  4. گلزار ابرار
  5. گلزار ابرار از غوثی حسن شطاری