مندرجات کا رخ کریں

شیر خوار بچوں کی اچانک موت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
اچانک شیر خوار بچوں کی موت کا سنڈروم
مترادفپلنگ کی موت، پالنے کی موت
سونے کے لیے محفوظ لوگو
اختصاصبچوں کے امراض
علاماتایک سال سے کم عمر کے بچے کی موت[1]
عمومی حملہاچانک[1]
وجوہاتنامعلوم[1]
خطرہ عنصرپیٹ یا پہلو کے بل سونا، زیادہ گرم ہونا، تمباکو کے دھوئیں کی نمائش، بستر کا اشتراک[2][3]
تشخیصی طریقہتحقیقات اور پوسٹ مارٹم کے بعد کوئی وجہ نہیں ملی۔[4]
مماثل کیفیتانفیکشن، جینیاتی عارضے، دل کے مسائل، بچوں سے بدسلوکی[2]
تدارکنوزائیدہ بچوں کو پیٹھ کے بل لٹا کر سلانا،, چسنی, دودھ پلانا, حفاظتی ٹیکے لگانا[5][6][7]
علاجخاندان سے ہمدردی[2]
تعدد1 in 1,000–10,000[2]

شیرخواروں کی اچانک موت ( SIDS ) جسے بستر کی موت یا پالنے کی موت بھی کہا جاتا ہے، ایک سال سے کم عمر کے بچے کی اچانک ،غیر وضاحتی موت ہے۔ [1] اس کی تشخیص کے لیے ضروری ہے کہ مکمل پوسٹ مارٹم اور موت کے منظر کی تفصیلی تفتیش کے بعد بھی موت کی وضاحت نہ ہو۔ [4] ایس آئی ڈی ایس ، عام طور پر نیند کے دوران ہوتا ہے۔ [2] عام طور پر موت 00:00 اور 09:00 کے درمیان ہوتی ہے۔ [8] عام طور پر جدوجہد کی کوئی آواز یا ثبوت نہیں ہوتا ہے۔ [9]

SIDS کی صحیح وجہ معلوم نہیں ہے۔ [3] عوامل کے امتزاج میں مخصوص بنیادی حساسیت، اضافے کا ایک مخصوص وقت اور ماحولیاتی تناؤ کو تجویز کیا گیا ہے۔ [3] ان ماحولیاتی تناؤ میں پیٹ یا پہلو کے بل سونا، زیادہ گرم ہونا اور تمباکو کے دھوئیں کی نمائش شامل ہو سکتی ہے۔ [3] بسترکا اشتراک سے حادثاتی طور پردم گھٹنا (جسے اکٹھے سونا بھی کہا جاتا ہے) یا نرم چیزیں بھی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ [2] [10] ایک اور خطرے کا عنصروقت سے پہلے پیدایش،یعنی حمل کے 39 ہفتوں سے پہلے پیدا ہونا بھی ہے۔ [7] بچوں کی اچانک اور غیر متوقع اموات (SUIDs) میں تقریباً 80فیصد کی وجہ SIDS ہوتی ہے۔ [2] دیگر 20فیصدکیسز اکثر انفیکشنز ، جینیاتی عوارض اور دل کے مسائل کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ [2] اگرچہ جان بوجھ کر دم گھوٹنے کی صورت میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کو SIDS کے طور پر غلط تشخیص کیا جا سکتا ہے، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ ایسے کیسز 5فیصدسے بھی کم ہیں۔ [2]

ایس آئی ڈی ایس ، کے خطرے کو کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ایک سال سے کم عمر کے بچے کو ان کی پیٹھ پر سلایا جائے۔ [7] دیگر اقدامات میں نگہداشت کرنے والوں سے الگ لیکن ان کے قریب ایک سخت گدے پربغیر کسی کھلی چادر یا تکیہ کے نسبتاً ٹھنڈا ماحول میں سلانا اور چسنی کے استعمال اور تمباکو کے دھوئیں سے بچنا شامل ہیں۔ [5] ما ںکا دودھ پلانا اور حفاظتی ٹیکے لگانا بھی بچائو کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ [5] [6] جو اقدامات مفید نہیں ثابت ہوئے ہیں ان میں پوزیشننگ ڈیوائسز اور بے بی مانیٹر شامل ہیں۔ [5] [6] پنکھے کے استعمال کے ثبوت واضح نہیں ہیں۔ [5] SIDS سے متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی اہم ہے، کیونکہ بچے کی موت اچانک، گواہوں کے بغیر اور اکثر تفتیش سے منسلک ہوتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں ایس آئی ڈی ایس کی شرح میں ایک ہزار میں سے ایک سے دس ہزار میں سے ایک تک تقریباً دس گنا مختلف ہوتی ہے۔ [11] عالمی سطح پر، اس کے نتیجے میں 2015 میں تقریباً 19,200 اموات ہوئیں جو 1990 میں 22,000 اموات سے کم تھیں [12] [13] ایا آے ی ڈی ایس 2011 میں ریاستہائے متحدہ میں ایک سال سے کم عمر کے بچوں میں موت کی تیسری بڑی وجہ تھی [14] یہ ایک ماہ اور ایک سال کی عمر کے درمیان موت کی سب سے عام وجہ ہے۔ [7] تقریباً 90فیصدکیسز چھ ماہ کی عمر سے پہلے ہوتے ہیں اور یہ اکثر دو ماہ سے چار ماہ کی عمر کے درمیان ہوتے ہیں۔ [2] [7] یہ لڑکیوں کے مقابلے لڑکوں میں زیادہ عام ہے۔ [7] "محفوظ نیند کی مہم" والے علاقوں میں شرحوں میں 80 فیصد تک کمی آئی ہے۔ [11]

حوالہ جات:[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت "Sudden Infant Death Syndrome (SIDS): Overview"۔ National Institute of Child Health and Human Development۔ 27 June 2013۔ 23 فروری 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 09 مارچ 2015 
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ HC Kinney، BT Thach (August 2009)۔ "The sudden infant death syndrome"۔ The New England Journal of Medicine۔ 361 (8): 795–805۔ PMC 3268262Freely accessible۔ PMID 19692691۔ doi:10.1056/NEJMra0803836 
  3. ^ ا ب پ ت "What causes SIDS?"۔ National Institute of Child Health and Human Development۔ 12 April 2013۔ 02 اپریل 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 09 مارچ 2015 
  4. ^ ا ب "Centers for Disease Control and Prevention, Sudden Infant Death"۔ March 18, 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ March 13, 2013 
  5. ^ ا ب پ ت ٹ RY Moon، L Fu (July 2012)۔ "Sudden infant death syndrome: an update"۔ Pediatrics in Review۔ 33 (7): 314–20۔ PMID 22753789۔ doi:10.1542/pir.33-7-314 
  6. ^ ا ب پ "How can I reduce the risk of SIDS?"۔ National Institute of Child Health and Human Development۔ 22 August 2014۔ 27 فروری 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 09 مارچ 2015 
  7. ^ ا ب پ ت ٹ ث "How many infants die from SIDS or are at risk for SIDS?"۔ National Institute of Child Health and Human Development۔ 19 November 2013۔ 02 اپریل 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 09 مارچ 2015 
  8. Enid Gilbert-Barness, Diane E. Spicer, Thora S. Steffensen; foreword by John M. Optiz (2013)۔ Handbook of pediatric autopsy pathology (Second ایڈیشن)۔ New York, NY: Springer New York۔ صفحہ: 654۔ ISBN 9781461467113۔ 26 جنوری 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2017 
  9. edited by Marta C. Cohen, Irene Scheimberg (2014)۔ The Pediatric and perinatal autopsy manual۔ صفحہ: 319۔ ISBN 9781107646070۔ 26 جنوری 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2017 
  10. "Ways To Reduce the Risk of SIDS and Other Sleep-Related Causes of Infant Death"۔ NICHD۔ 20 January 2016۔ 07 مارچ 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 مارچ 2016 
  11. ^ ا ب ^ Jump up to:a b Duncan, Jhodie R.; Byard, Roger W. (2018), Duncan, Jhodie R.; Byard, Roger W. (eds.), "Sudden Infant Death Syndrome: An Overview", SIDS Sudden Infant and Early Childhood Death: The Past, the Present and the Future, University of Adelaide Press, ISBN 978-1-925261-67-7, PMID 30035964, archived from the original on 2 July 2020, retrieved 2019-08-01
  12. ^ GBD 2013 Mortality Causes of Death Collaborators (January 2015)
  13. ^ Wang, Haidong; Naghavi, Mohsen; Allen, Christine; Barber, Ryan M.; Bhutta, Zulfiqar A.; Carter, Austin; Casey, Daniel C.; Charlson, Fiona J.; Chen, Alan Zian; Coates, Matthew M.; Coggeshall, Megan; Dandona, Lalit; Dicker, Daniel J.; Erskine, Holly E.; Ferrari, Alize J.; Fitzmaurice, Christina; Foreman, Kyle; Forouzanfar, Mohammad H.; Fraser, Maya S.; Fullman, Nancy; Gething, Peter W.; Goldberg, Ellen M.; Graetz, Nicholas; Haagsma, Juanita A.; Hay, Simon I.; Huynh, Chantal; Johnson, Catherine O.; Kassebaum, Nicholas J.; Kinfu, Yohannes; Kulikoff, Xie Rachel (October 2016). "Global, regional, and national life expectancy, all-cause mortality, and cause-specific mortality for 249 causes of death, 1980-2015: a systematic analysis for the Global Burden of Disease Study 2015". Lancet. 388 (10053): 1459–1544. doi:10.1016/s0140-6736(16)31012-1. PMC 5388903. PMID 27733281. {{cite journal}}: Unknown parameter |displayauthors= ignored (|display-authors= suggested) (help)
  14. ^ Hoyert DL, Xu JQ (2012)