شیر علی آفریدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فائل:Sher Ali Afridi.jpg
لارڈ مایو کے قتل کے بعد لی گئی تصویر

شیر علی آفریدی (انگریزی: Sher Ali Afridi) نے 8 فروری 1872ء کو گورنر جنرل ہند لارڈ مایو کا قتل کیا تھا۔ انہیں شیر علی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ قتل کے بعد انہیں جزائر انڈمان و نکوبار کی جیل میں قید کردیا گیا تھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

شیر علی 1860ء کی دہائی میں برطانوی راج کی پنجاب پولس میں ملازم تھے۔[1] وہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے وادی تیرہ گاوں سے تعلق رکھتے تھے اور پیشاور کے کمزشنر کے یہاں ملازم تھے۔[2] انہوں نے امبالہ کی رسالہ ریجیمینٹ میں کام کیا اور جنگ آزادی ہند 1857ء میں روہیل کھنڈ اور ریاست اودھ میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے پریزیڈینسی آرمی کے لئے لڑ رہے تھے۔[3] اپنے حسن اخلاق اور اچھے برتاو کی وجہ سے شیر علی بہت جلد مشہور ہو گئے اور ٹیلر کے بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری انہیں دی گئی۔[4] ایک خاندانی جھگڑے میں انہوں نے پیشاور میں دن دہاڑے اپنے ایک عزیز رشتہ دار حیدر کا قتل کردیا تھا۔[4] انہیں 2 اپریل 1867ء کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا۔ لیکن ایک اپیل کی بنا پر جج کولونیل پولک نے ان کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا۔[4][1] جس کے بعد انہیں جزائر انڈمار و نکوبار میں کالا پانی بھٰج دیا گیا۔ وہاں انہیں پورٹ بلیئر میں بطور حجام کام کرنے کی اجازت مل گئی۔ وہ اپنے حسن اخلاق کے لئے وہاں بھی بہت مشہور رہے۔[4]

لارڈ مایو کا قتل[ترمیم]

فروری 1872ء کو گورنر جنرل ہند لارڈ مایو کا جزائر انڈمان و نکوبار کا دورہ تھا۔ اس وقت وہ جزیرہ برطانوی ہند کے لئے جیل کا کام دیتا تھا جہاں مجرموں اور سیاسی قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔[4] 8 فروری کو لارڈ مایو اپنا کام ختم کرکے شام 7 بجے کشتی کی طرف لوٹ رہے تھے۔ لیڈی مایو بھی ان کی منتظر تھیں تب ہی اچانک انڈھیرے سے شیر علی نمودار ہوئے اور ان پر چاقو سے وار کیا۔ انہیں فورا ہی فرگتار بھی کرلیا گیا لیکن مایو وہیں پر دم توڑ گئے۔

مابعد[ترمیم]

گورنر جنرل ہند کو تاج برطانیہ نامزد کرتا تھا اور اس کا قتل ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس کی وجہ سے حکومت کو سخت دھچکا لگا۔[4] شیر علی دو گوروں کو قتل کرنا چاہتے تھے کیونکہ انہیں جو سزا ملی تھی اس کے وہ حقدار نہیں تھے۔ انہوں نے پورا دن انتظار کیا اور شامل میں گورنر کو قتل کرنے کا موقع پا سکے۔۔[4] بعد میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے گورنر کا قتل خدا کے اشارے پر کیا ہے اور اس میں خدا اس کا معاون و مددگار تھا۔ انہوں نے بڑے شوق سے تصویر کےلئے پوز بھی دیا۔[1] 11 مارچ 1873ء کو انہیں سزائے موت دے دی گئی۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "The Murder of Lord Mayo 1872". andaman.org. اخذ شدہ بتاریخ 18 نومبر 2012. 
  2. ^ ا ب "Sher Ali Afridi". Khyber.org. اخذ شدہ بتاریخ 18 نومبر 2012. 
  3. Hussain، Hamid. "Tribes and Turbulance". defencejournal.org. اخذ شدہ بتاریخ 18 نومبر 2012. 
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج James، Halen. "The Assassination of Lord Mayo : The "First" Jihad?" (PDF). IJAPS,Vol 5, No.2 (جولائی 2009). اخذ شدہ بتاریخ 18 نومبر 2012.