شیلا بھاٹیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شیلا بھاٹیا ایک ہندوستانی شاعرہ، ڈرامہ نگار،[1] تھیٹر کی شخصیت [2] [3] اور دہلی آرٹ تھیٹر کی بانی ہیں ،جو ہندوستانی فنون کی مختلف اشکال کے فروغ کے لئے دہلی میں واقع ایک فورم کی حیثیت رکھتا تھا [4] ۔پنجابی اوپیرا، ہندوستانی شکل میں آپریٹک تحریکوں کو شامل کرنے والے ڈانس ڈرامہ کی ایک شکل ہے،جن کی ابتدا شیلا بھاٹیا نےکی ہے۔ انہیں ہندوستان کی حکومت نے 1971 میں چوتھے اعلی ہندوستانی سویلین ایوارڈ پدم شری سے نوازا تھا[5] ایک دہائی کے بعد ، انہیں 1982 میں تھیٹر ہدایتکاری کے لئے سنگت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ ملا [6]

سوانح عمری[ترمیم]

شیلا بھاٹیا موجودہ پاکستان میں1 مارچ 1916 [7] کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئیں۔ [8] بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ، انہوں نے تعلیم (بی ٹی) سے گریجویشن کی اورلاہور میں ریاضی کی استاد کی حیثیت سے ملازمت کرنا شروع کی ،بعد میں ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں شامل ہو گئیں۔[4] بعد میں وہ دہلی چلی گئیں جہاں انہوں نے دہلی آرٹ تھیٹر کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے قائم مقام محکمہ کی سربراہ کی حیثیت سے نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں بھی کام کیا۔ [8] بھاٹیہ کی پہلی پروڈکشن کال آف دی ویلی تھی جو ایک میوزک پروگرام تھا۔[4] [7] اس کے بعد 60 سے زیادہ پروڈکشنز کیں ،[1] جیسے ہیئر رانجھا (1957) ، درد آئے گی دبے پاون (1979) ، سلگڑا دریا (1982) ، عمر خیام (1990) ، نصیب (1997) ، چن بادلہ ڈا ، لوہ کٹ وغیرہ [9]

ایواڈذ[ترمیم]

حکومت ہند نے انھیں 1971 میں پدم شری کے شہری اعزاز سے نوازا تھا۔[5] انہیں 1982 میں بہترین ہدایت نامے پر سنگت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ بھی ملا۔ [6] اگلے سال ، انھیں غالب ایوارڈ (1983) دیا گیا ، اس کے بعد پنجابی آرٹس کونسل کا ایوارڈ ملا۔[8] انہیں 1986 میں دہلی انتظامیہ اور 1997 میں کالیداس سمن کی جانب سے بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ ملا۔ [8] وہ پنجابی اکیڈمی (2000) کے ذریعہ اردو اکیڈمی ایوارڈ [8] کی بھی مالک تھیں۔

وفات[ترمیم]

شیلا بھاٹیا کا 17 فروری 2008 کو 91 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ [7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Ananda Lal (ed.) (2004). The Oxford Companion to Indian Theatre. Oxford University Press. ISBN 9780195644463. 
  2. "Aesthetics of Indian Feminist Theatre". Rup Katha. 2015. اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2015. 
  3. Susie J. Tharu, Ke Lalita (1993). Women Writing in India: The twentieth century. Feminist Press. صفحہ 688. ISBN 9781558610293. 
  4. ^ ا ب پ "Rich tributes paid to Sheila Bhatia". The Hindu. 23 February 2008. اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2015. 
  5. ^ ا ب "Padma Shri" (PDF). Padma Shri. 2015. اخذ شدہ بتاریخ 11 نومبر 2014. 
  6. ^ ا ب "Sangeet Natak Akademi Award". Sangeet Natak Akademi. 2015. 30 مئی 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2015. 
  7. ^ ا ب پ "Shiela Bhatia – A legend of Indian Operas passes away". Stage Buzz. 2008. اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2015. 
  8. ^ ا ب پ ت ٹ Kartik Chandra Dutt (1999). Who's who of Indian Writers, 1999: A-M. Sahitya Akademi. صفحہ 1490. ISBN 9788126008735. 
  9. Habib Tanvir (2014). Memoirs. Penguin. صفحہ 400. ISBN 9789351182023.