عبدالحمید صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عبد الحمید صدیقی مرحوم کاتعلق گوجرانوالہ سے تھا۔ وہ روزانہ ریل کار سے لاہور جاتے اور ماہنامہ ترجمان القرآن کی ادارت کے بعد ریل گاڑی سے واپس آتے۔ ان کے صاحبزادے عبد القیوم ایک ٹی چینل کے مشہور رپورٹر ہیں۔ پروفیسر عبد الحمید صدیقی مرحوم21 مئی 1923ء کو گوجرانوالہ کے قریب ایک گاؤں فیروز والہ (ضلع شیخوپورہ) میں پیدا ہوئے۔ بی اے کے بعد محبوب عالم اسلامیہ ہائی اسکول گوجرانوالہ میں استاد مقرر ہو گئے۔ اس دوران ہی انھوں نے اخبارات و رسائل میں مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ابتدا میں وہ مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا عبد الماجد دریابادیؒ سے متاثر تھے مگر پھر مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے متاثر ہوکر جماعت اسلامی میں شامل ہو گئے۔

اسی زمانے میں ایم اے اقتصادیات کے بعد 1951ء میں اسلامیہ کالج گوجرانوالہ میں لیکچرار مقرر ہو گئے۔ بعد میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، لاہور سے وابستہ ہو گئے۔ یہیں آپ نے تصنیف و تالیف کا باقاعدہ کام شروع کر دیا۔ حدیث کی مشہور کتاب مسلم شریف کے انگریزی میں ترجمے سے آغاز کیا۔

ایوب خان کے دورِ آمریت میں جب جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کو سرکاری و نجی اداروں سے نکالا گیا تو اس کی زد میں پروفیسر عبد الحمید صدیقی بھی آ گئے۔ انھوں نے عزیمت کا ثبوت دیتے ہوئے ملازمت چھوڑ دی مگر جماعت اسلامی سے علیحدگی پسندی نہ کی۔

’ترجمان القرآن‘ میں بطور مضمون نگار ان کے مضامین چھپتے رہتے تھے۔ اب مولانا مودودیؒ کی دعوت پر انھوں نے ادارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ وہ ’ترجمان القرآن‘ کا اداریہ ’’اشارات‘‘ لکھتے تھے اور دیگر امور سر انجام دیتے تھے۔ 1959ء سے تاحیات (17 اپریل 1978ء) وہ یہ خدمت سر انجام دیتے رہے۔

ان کے انتقال پر مولانا مودودیؒ نے ان الفاظ میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا کہ وہ شخص اُٹھ گیا جو دین و دنیا کے علوم کا جامع تھا اور جس کے قلم سے اُردو اور انگریزی میں وہ تحریریں نکلیں جو ان شاء اللہ رہتی دنیا تک طالبینِ حق کو نفع پہنچاتی رہیں گی۔

پروفیسر عبد الحمید صدیقی ایک صاحبِ طرز ادیب تھے جنھیں انگریزی، عربی اور اُردو پر یکساں دسترس حاصل تھی۔ وہ محقق، مترجم، صحافی اور معلم بھی تھے۔ اسلام کی نظریاتی برتری اور دیگر افکار و نظام ہاے زندگی کی ہولناکیوں کا بے لاگ تجزیہ ان کا خاص میدان تھا۔ انھوں نے 12 کتابیں اُردو میں، 14 کتب انگریزی میں لکھیں۔ اس کے علاوہ ’’اشارات‘‘ پر مبنی ان کے مقالے، دیگر اخبارات و جرائد کے لیے لکھے جانے والے مضامین کو مرتب کیا جائے تو درجنوں کتابیں سامنے آسکتی ہیں۔