عبد الرحمن بارکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد عبد الرحمن بارکر
پیدائش فلپ بارکر
3 نومبر 1929(1929-11-03)
سپوکین، واشنگٹن، ریاستہائے متحدہ امریکا[1]
وفات مارچ 16، 2012(2012-30-16) (عمر  82 سال)
منیاپولس، مینیسوٹا، امریکا
پیشہ ماہر لسانیات، عالم، پروفیسر، مصنف
قومیت ریاستہائے متحدہ
دور 1949–2012
اصناف لسانیات، Role-playing games, تخیلہ، Science Fantasy

محمد عبد الرحمن بارکر (پیدائشی نام فلپ بارکر، 3 نومبر 1929 تا 16 مارچ 2012) اردو اور جنوبی ایشیا کے پروفیسر تھے اور ایمپائر آف دی پیٹل تھرون نامی پہلی رول پلیئنگ گیم بنائی۔ اس کے علاوہ فینٹیسی/سائنس فینٹسی پر کئی ناول لکھے جو اس کی تخلیاتی دنیا ٹیکومل سے متعلق تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

واشنگٹن میں سپوکین کے مقام پر پیدائش ہوئی۔ آبا واجداد 1629ء میں امریکا منتقل ہو گئے تھے۔ بارکر کا بچپن واشنگٹن اور ایڈاہو کی ریاستوں میں گزرا۔[1] لڑکپن میں اس کی دلچسپی دیومالائی کہانیوں، تاریخ اور ادب کی طرف منتقل ہو گئی۔ اس کے بعد بغداد کے چور نے جلتی پر تیل چھڑکا۔ اس طرح اس نے اپنی دلچسپی کو کھلونوں کے جنگی کھیلوں پر مرکوز کیا۔ انہی برسوں میں اس نے اپنی تخلیاتی دنیاؤں سولیانو وغیرہ پر کام کیا جو بعد میں ٹیکومل بن گئیں۔ مڈل اور ہائی سکول کی عمر میں اس نے ان کھیلوں کی خاطر کھلونا سپاہی بنائے۔ ابتدائی عمر سے ہی بارکر کی دلچسپی کا محور زبانوں میں بھی بڑھتی چلی گئی کیونکہ آس پاس باسک بچے رہتے تھے اور وہ اپنی مادری زبان میں بات کرتے ہوئے دیگر بچوں کو گفتگو سے نکال دیتے تھے۔[2][3]

تدریسی زندگی اور تخلیقی نیٹ ورکنگ[ترمیم]

1950 میں اور اس سے ذرا قبل جب بارکر یونیورسٹی آف واشنگٹن میں میلویل جیکوبز کے پاس پڑھ رہا تھا، وہ اشاعت کی جانب مائل ہوا اور اس نے مضامین، مختصر کہانیاں اور مقامی کلبزین سنیسٹیرا میں لکھنا شروع کر دیا۔[4] مؤخرالذکر مضمون جیک وینس کی حالیہ شائع ہونے والی کتاب ‘مرتی زمین‘ پر اس کے تبصرے اور اس کتاب کے اقتباسات پر مشتمل تھا۔[5][6][7][8] مزید یہ کہ بارکر نے ان شائع شدہ کتابوں کے مصنفین کے ساتھ خط کتابت جاری رکھی۔ ان میں لن کارٹر بھی شامل تھا جس کی تحریریں اور لسانی تجربات[9] میں بارکر نے کافی دلچسپی لی اور پھر اسی کے ساتھ مل کر اس نے اپنی دنیا تخلیق کر کے اس کے بارے میں لکھا۔[10][11][12]

1951 میں بارکر کو فل برائٹ وظیفہ ملا تاکہ ہندوستانی زبانیں پڑھ سکے اور اسی سال بھارت کے پہلے دورے پر وہ ‘خالص مذہبی وجوہات کی بنا پر‘ مسلمان ہو گیا۔ فائن کے مطابق ‘اسلام بہت عقلی مذہب لگا‘۔[13] تاہم بارکر نے اس وقت اپنی سوچ کے بارے میں بتایا کہ ‘تاج محل پر اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کو سن کر اس پر (ناقابلِ تصور) سرمستی اور سرشاری کی کیفیت طاری ہو گئی تھی‘۔[14]

دیگر تدریسی تعلیم اور کیریئر[ترمیم]

بارکر نے برکلے میں واقع یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے بھی گریجویٹ تعلیم پائی اور کلامیتھ زبان پر مقالہ لکھا اور روایتی داستانوں، روایتی افسانوں، قصوں اور زبانی داستانوں کو جمع کیا اور بعد ازاں ایک گرامر اور ڈکشنری بھی اس زبان پر شائع کی۔[15][16]

بارکر نے 1958/59 سے 1972 تک میک گل یونیورسٹی میں اسلامیات کے ادارے میں بھی پڑھایا۔ 1960 میں جامعہ پنجاب سے دو سال متعلق رہنے کے بعد بارکر انگریزی بولنے والے طلبہ و طالبات کے لیے اردو اور بلوچی تعلیمی مواد میں دلچسپی لینے لگا۔[17] 2010 تک ان میں سے کچھ استعمال ہوتے رہے۔[18] 1972 میں اس نے منیاپولس میں یونیورسٹی آف منیسوٹا میں پڑھانا شروع کر دیا اور یہاں جنوب ایشیائی شعبے کی سربراہی کی اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں ریٹائر ہونے تک کام جاری رکھا۔ اس کے چند سال بعد مالی تنگی کے بعد یہ محکمہ بند کر دیا گیا۔[19]

The forgotten Tolkien[ترمیم]

برکلے میں قیام کے دوران اگرچہ بارکر نے سائنس فکشن/فینٹیسی فینڈم سے تعلق کم کر دیا مگر یکسر ختم نہیں کیا۔[20] اسی دور میں بارکر نے اپنے ساتھی ماہرِ لسانیات بل شیپلے اور وکٹر گولا کے ساتھ مل کر پروٹو گیمنگ پر کام شروع کیا اور تفصیلی مضامین پیش کیے تاکہ اس نئی مجوزہ دنیا کے بارے معلومات پیش کی جائیں۔

مائیک مونارڈ کی جانب سے شروع کی جانے والی گیم Dungeons & Dragons کو دیکھنے کے بعد جب اس کھیل کے اصل ٹیسٹر میں سے ایک لیک جینیوا سے منیاپولیس منتقل ہوا تو بارکر نے اپنی نئی دنیا کو اپنے پیش کردہ اصولوں اور D&D کی میکانیات کی مدد سے بنانا شروع کر دیا۔ چھ ہفتوں کے بعد اسے اگست 1974 میں شائع کیا گیا اور اس کا نام ایمپائر آف دی پیٹل تھرون رکھا گیا اور پھر اس کا کھیل شروع ہو گیا اور اس میں ڈیو آرنیسن جیسے اراکین نے بارکر اور ٹیکومل کو اپنے پسندیدہ ڈنجن ماسٹر اور رول پلیئنگ گیم کہا۔ جب گیری گائیجکس کی توجہ بارکر کے کام کی جانب مبذول ہوئی تو یہ فیصلہ ہوا کہ ٹی ایس آر گیم میکنکس کا نظرِ ثانی شدہ نسخہ پیش کرے گی جس میں بارکر کی مہم جوئی کا محدود شدہ حصہ بھی شامل ہوگا۔ ٹی ایس آر ایمپائر آف دی پیٹل تھرون 1975 میں پیش کی گئی جو جنرل کون ہشتم کے لیے تھی۔ اس طرح یہ ٹی ایس کا شائع ہونے والا رول پلے والا تیسرا کھیل تھا۔ دسمبر 1976 میں ڈریگن میگزین کے اداراتی صفحے پر ٹم کاسک نے ورلڈ آف ٹیکومل اور جے آر آر ٹولکین کی مڈل ارتھ کی سیٹنگ کی گہرائی، داستانوں اور لسانی پسِ منظر کا مقابلہ کیا اور بتایا کہ ‘میرے حساب سے تفاصیل کے حساب سے ایمپائر آف دی پیٹل کو مڈل ارتھ پر وہ فوقیت حاصل ہے جو زیادہ تر کھلاڑیوں کو درکار ہوتی ہے کیونکہ یہ جنگی کھلاڑی نے بنائی ہے جبکہ ٹولکین کا ایسا کوئی پسِ منظر نہیں اور D&D کے شائع ہونے سے قبل فوت ہو گیا تھا اور اس مسئلے پر ذاتی طور پر توجہ نہیں دے سکا۔[21]

سیٹنگز میں دی گئی محدودیت بارکر کو پسند نہیں آئی اور 1977 کے بعد اس نے ٹی ایس آر سے ورلڈ آف ٹیکومل واپس لے لی اور اسے امپیریل پبلشنگ (1978)، ایڈونچر گیمز (1981)، گیم سائنس (1983-1984)، ٹیکومل گیمز (1983-1986)، ڈفرنٹ ورلڈز پبلی کیشنز (1987-1988)، ٹی او ایم ای (1991-1994)، ٹیٹاز ہاؤس آف گیمز (1997-2002)، زٹولا (2002-2003) اور گارڈینز آف آرڈر (2005) کو دیے۔ ڈیو آرنیسن نے بارکر کے ساتھ ذاتی تعلقات کی بنا پر ایڈونچر گیمز کے ساتھ ٹیکومل سے متعلق کئی کتب شائع کیں جن میں فوجی فہرستیں، نقشے اور عام حوالہ جاتی مواد شامل تھا۔ بارکر کا آر پی جی کا ناول دی مین آف گولڈ (جولائی 1984) ٹیکومل پر لکھا گیا اور اسے ڈی اے ڈبلیو نے شائع کیا تھا۔ اگرچہ مہم کی سیٹنگ میں موجود گہرائی، چار بار مختلف ضمیموں کے ساتھ چھپنے اور بارکر کی اپنی شراکتوں اور ایک ہی موضوع پر لکھی گئی پانچ کتب کے باوجود بارکر کی ٹیکومل کے بارے بہت کم سامعین جانتے تھے۔ 2009 میں جرمن جریدے ڈیئر شپیگل نے اسے ‘بھولی بسری ٹولکین‘ کہا۔ مضمون میں دوستوں اور واقف کاروں کے حوالے سے لکھا گیا کہ شاید اس کھیل کی سیٹنگ مغربی معاشرے کے لیے انجان تھیں اور یہ بھی کہ یہ کھیل قبل از وقت پیش کیا گیا تھا کہ اس وقت لوگ ابھی اس تصور سے واقف ہونا شروع ہو رہے تھے کہ نت نئی دنیا میں کیسے کھیلنا ہے۔

2008 میں بارکر نے ٹیکومل فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی جس میں اس کھیل کے پرانے کھلاڑی شامل تھے تاکہ اس کی تخلیقات کے حقوق مستقبل کے حوالے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

بارکر اپنے آبائی کیئر ہوم میں 16 مارچ 2012 کو فوت ہوا۔ اس کی بیوہ کا نام امبرین ہے۔[22]

نامکمل کتابیات[ترمیم]

لسانیات[ترمیم]

بارکر نے کئی زبانوں کی تعلیم حاصل کی اور نہ صرف خود کتب لکھیں بلکہ ان کے لکھنے میں دوسروں کی مدد بھی کی۔ ذیل میں اس جزوی فہرست دی جا رہی ہے: یونیورسٹی آف کیلیفورنیا پریس:

  • کلیمیتھ ٹیکسٹس (1963)
  • کلیممیتھ ڈکشنری (1963)
  • کلیمیتھ گرامر (1964)

میک گل یونیورسٹی کے ادارہ برائے اسلامی تعلیمات کی شائع کردہ:

  • اردو کا ایک کورس (1967)
  • اردو کا اخبار بین (1968)
  • جدید اردو شاعری کا مطالعہ (1968)
  • بلوچی کورس (1969)

کردار نگاری[ترمیم]

ٹیکومل اس نوعیت کی پانچ کھیلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ Hârn اور کو بھی متاثر کیا ہے۔Skyrealms of Jorune

  • Empire of the Petal Throne (1975)

Swords & Glory (1983/4) *

  • Gardasiyal: Adventures in Tekumel (1994)
  • Tekumel: Empire of the Petal Throne (2005)

ناول[ترمیم]

  1. The Man of Gold (1984)
  2. Flamesong (1985)
  3. Lords of Tsámra (2003)
  4. Prince of Skulls (2002)
  5. A Death of Kings (2003)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب M.A.R. Barker۔ "Family Background note by M.A.R. Barker"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-10-13۔
  2. Barker، M.A.R. (Winter 1975). "Tsolyani Names Without Tears". Strategic Review (TSR) (4): 7–9. http://www.tekumel.com/downloads/StrategicReviewVol1No4.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 2009-10-13. 
  3. Kask، Tim (December 1976). "Dragon Rumbles (Editorial)". The Dragon (TSR) (4): 3. http://www.tekumel.com/downloads/Dragon04.pdf. 
  4. Barker's world, later known as Tékumel, was placed as the fourth planet in the Sinistra system.
  5. Barker، Phillip (Fall 1949). "Egyptian Mythology in Fantastic Literature". Fanscient (Portland, OR: Donald B. Day) (9): 41–44. http://sffrd.library.tamu.edu/browse/63660/. 
  6. Barker، Phillip (Spring 1950). "The Language Problem". Fanscient (Portland, OR: Donald B. Day) (11): 28–30. http://www.fanac.org/fanzines/Fanscient/Fanscient11-28.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2009-10-13. 
  7. Barker، Phillip (Summer 1950). "-and the STRONG Shall INHERIT". Fanscient (Portland, OR: Donald. B. Day) (12): 28–31. http://www.fanac.org/fanzines/Fanscient/Fanscient12-28.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2009-10-13. 
  8. Barker، Phillip (Winter 1950). "An Appreciation of The Dying Earth (with a letter from Jack Vance)". Sinisterra (Seattle, WA: The Nameless Ones. (Gertrude Carr and Richard Frahm)) (4): 21–23. 
  9. Lin Carter۔ The Tursai os Llani Alphabet and some remarks on Grammar۔ St. Petersburg, FL۔
  10. "Tékumel :: The World of the Petal Throne"۔ Tekumel.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-04-25۔
  11. Phillip Barker۔ A History of the Nations of the Universe۔ Seattle۔ صفحات 1–7۔
  12. Phillip Barker۔ Remarks Upon the Ts Solyani (by Messìliu Badàrian)۔ Seattle۔ صفحات 1–15۔
  13. Gary Fine۔ Shared Fantasy: Role Playing Games As Social Worlds۔ Chicago: University of Chicago Press۔ آئی ایس بی این 0-226-24944-1۔
  14. Barker، Phillip (1951). "A Letter from Phil Barker/"India Barks"". Sinisterra (Seattle, WA: The Nameless Ones. (Gertrude Carr and Richard Frahm)) 2 (1): 14–25. 
  15. M.A.R. Barker۔ Klamath Texts. University of California Publications in Linguistics (No. 30)۔ Berkeley: یونیورسٹی آف کیلیفورنیا۔ صفحات 7–117۔ (21 Klamath myths collected in 1955-1957)
  16. "OLAC resources in and about the Klamath-Modoc language"۔ Language-archives.org۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-04-25۔
  17. Mumtazul Haque Rehman۔ "The Story of Indo-Pakistani Muslim Community in Montreal, Quebec"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-10-13۔
  18. Frances Pritchett۔ "Readings in Urdu Literature (Spring 2010 Syllabus)"۔ Columbia University۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-10-14۔
  19. "Indira Junghare : Voices From the Gaps : University of Minnesota"۔ Voices.cla.umn.edu۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-04-25۔
  20. Victor Raymond۔ "A Brief History of Roleplaying Games"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-10-14۔
  21. M.A.R. Barker۔ Empire of the Petal Throne۔ لیک جنیوا، وسکونسن: TSR۔ اے ایس آئی این B000G9WH5Q۔
  22. "Gaming Giant M.A.R. Barker Dead At 83"۔ فوربس میگزین۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-03-17۔

بیرونی روابط[ترمیم]