عزت لکھنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عزت لکھنوی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1932  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 16 جنوری 1981 (48–49 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر، بینکار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عزت لکھنوی ( 1932 - 1981 ) پاکستان کے نامور سوز خوان، نوحہ خوان اور شاعر تھے ۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم و تدریس[ترمیم]

مرزا آغا محمد عزت الزماں المعروف عزت لکھنوی 1932 میں شہر لکھنؤ کے محلہ اشرف آباد میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام آغا محمد بدیع الزماں تھا۔ عزت لکھنوی نے ابتدای تعلیم مدرسہ حسینیہ، اما باڑہ میاں داراب علی خان مرحوم، مولوی گنج لکھنؤ میں حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ سلطان المدارس نزد میڈیکل کالج لکھنؤ میں بھی زیرِ تعلیم رہے۔ اس کے بعد شیعہ ڈگری کالج، ڈالی گنج لکھنؤ، لکھنؤ کے طالب علم رہے۔ قانون کی ڈگری انہوں نے لکھنؤ سے حاصل کی۔ اس کے بعد وکالت کا آغاز بذریعہ جگت بہادر، سر یواستو ایڈووکیٹ، مولوی گنج، لکھنؤ کے ساتھ کیا۔ عزت لکھنوی کی شادی 1955 میں ہوئ ۔15 اگست 1958 کو ترکِ وطن کیا اور کراچی پہنچے۔ کراچی کے عدالتی ماحول سے بد دل ہو کر بینک افسری کا امتحان دیا اور حبیب بنک کراچی سے منسلک ہو گئے۔ 1959 میں لکھنؤ جا کر اپنے کنبے کو بھی ہمراہ لے آئے۔ 1963 میں حبیب بنک کی ملازمت ترک کر کے یونائٹیڈ بینک میں ملازمت اختیار کی۔ لیکن جلد ہی پریمئیر بنک کھلنے کا اعلان ہوا اور عزت لکھنوی اس میں ایک اعلی عہدے پر فائز ہوئے ۔1965 میں سٹینڈرڈ بینک کا قیام عمل میں آیا اور وہاں بحیثیت منیجر خدمات انجام دیں۔ اور تا دمِ مرگ اسی سے وابستہ رہے ۔[1]

سوز و سلام اور ذوقِ شاعری[ترمیم]

بچپن ہی میں جب والد کے ہمراہ مسجد اور مجالس میں گئے تو وہاں اذان دینے، مختصر حدیث پڑھنے اور سوز خوانی کرنے کا آغاز کر دیا۔ نانا سید میر نواب علی کے گھر میں سوز خوانی باقاعدگی سے کی۔ شاعری ورثے میں ملی تھی۔ شدید لکھنوی نے سرِ راہ طرحی غزلیں کہلوا کر شعر گوئ کی عادت ڈالی۔ کراچی میں وصی فیض آبادی نے مشقِ سخن کو سنوارا۔ اور شاہد نقوی نے جلا بخشی ۔[2] انہی کا لکھا ہوا نوحہ اب آئے ہو بابا[3] اپنی دلسوز آواز میں پڑھا تو پی، ٹی، وی اور ریڈیو پاکستان پر نشر ہونے کے باعث ملک گیر شہرت نصیب ہوئ۔ عزت لکھنوی نے غزل، قصیدہ، سلام، نوحہ، مرثیہ نعت، مثنوی، رباعی اور قطعہ تمام اصنافِ سخن میں خوب جوہر دکھائے۔

طالب علمی کے زمانے میں شیعہ کالج لکھنؤ میں کوئی بھی تقریب ہوتی تو عزت لکھنوی اپنی آواز میں تلاوت سورہ رحمن اور سورہ و الشمس سے پروگرام کا آغاز کیا کرتے تھے۔ جو راجہ صاحب محمود آباد اور نواب رام پور کو بے حد پسند تھی۔ عزت لکھنوی دورِ طالب علمی میں یونین کے سیکرٹری اور میگزین محراب کے ایڈیٹر بھی رہے ۔

ادبی سرگرمیاں اورانجمن ظفر الایمان میں شرکت[ترمیم]

عزت لکھنوی جب 1958 میں کراچی آئے تو انجمن ظفر الایمان کی داغ بیل پڑ چکی تھی، لہذا انجمن میں شریک ہوئے اور اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ جدوجہد سے اسے روز افزوں ترقی دی۔ عزت لکھنوی کی جدت پسندی نے طرحی شب بیداری کی بنیاد رکھی اور انجمن کو ایک منفرد مقام بخشا عزت لکھنوی کی پرسوز آواز مقبولیت پاتی چلی گئی اور 1976 سے 1979 تک مسلسل تین سال وہ ایران میں منعقد ہونے والی اردو مجالس میں مدعو ہوئے۔ 'کراچی ٹی، وی اسٹیشن جب قائم ہوا تو اس وقت سے لے کر تادمِ مرگ محرم کے شامِ غریباں کی نشریات میں انکا پڑھا ہوا نوحہ نشر کیا جاتا رہا۔ عزت لکھنوی کے مقبول نوحوں میں انکا اپنا لکھا ہوا نوحہ گونج رہی ہے یہ صدا یاحسین " آج بھی محافل و مجالس میں پڑھا جاتا ہے ۔

1971 سے 1974 تک کراچی میں جو میر انیس کے صد سالہ جشن کی تقریابت منعقد ہوئیں ان میں عزت لکھنوی کی نظم بہت مقبول ہوئی جو مسدس میں میر انیس کی شان میں کہی گئی تھی۔ اس کے آخری بند کا آخری شعر حبیب پبلک اسکول، کراچی کی نصابی اردو کتاب میں میر انیس کے حالات زندگی کے ساتھ شامل کیا گیا۔ وہ مکمل بند یہ تھا

نظم کا بند

جوش و اقبال ہوں یا آرزو و شاد و وزیر مونس و انس ہوں ، عارف ہوں کہ ہوں اوج و خبیر
محشر و رشک و صفی ، بحر و نظر و داغ و امیر سب کا ادراک اسی زمزمہ دانی کا اسیر
شبلی و حالی و آزاد کی منزل ہیں انیس
جستجو نام ہے اردو کا تو حاصل ہیں انیس

نمونہِ کلام[ترمیم]

منتخب اشعار

کبھی کچھ رسمِ دنیا اور کبھی کچھ مصلحت مانعحقیقت میں بڑی مشکل ہے جو سچ ہو وہی کہنا

٭٭٭

اک محبت ہے فقط وجہِ بہارِ زندگی ورنہ اس دنیا میں کیا رکھا ہے انساں کے لیے

٭٭٭

غزل کے اشعار

فکر بدلے گی تو پھر لوگ ہمیں پوجیں گےبعد مرنے کے کیا جائے گا چرچہ اپنا
غیر تو وقت پہ کچھ کام بھی آ جاتے ہیں کوئی لیکن کبھی اپنوں میں نہ نکلا اپنا
لوگ تڑپیں گے اگر یاد کبھی آۓ گی ایسا اسلوب یہ انداز یہ لہجہ اپنا

قطعہ

حقیقتوں کو دبائے ہوئے تھے افسانےحقیقتوں کوزباں مل گئی حسین کے بعد
جہاں حسینؑ کے سجدے نے ساتھ چھوڑا تھا وہاں سے بڑھ نہ سکی بندگی حسینؑ کے بعد

نوحہ کے اشعار[4]

کربلا اک آفتاب اور اسکی تنویریں بہت اک کتابِ آگہی جس کی ہیں تفسیریں بہت
ہیں بہتر تن شریکِ مقصدِ ذبحِ عظیم اک خلیلی خواب تھا جس کی ہیں تعبیریں بہت
ذوقِ اکبرؑ نے اذاں میں دے دیا کچھ اور رنگ یوں تو محشر تک سنی جائیں گی تکبیریں بہت

وفات[ترمیم]

دورانِ ملازمت عزت لکھنوی بنک آڈٹ کے سلسلے میں خان پور گئے ہوئے تھے کہ وہاں دل کا دورہ پڑنے کے باعث 16 جنوری 1981 کوانتقال کر گئے۔ ان کے جسدِ خاکی کو کراچی لا یا گیا اور تدفین ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.facebook.com/865532446848521/photos/a.1047910975277333.1073741832.865532446848521/1050297871705310/?type=3&theater مختصر حالاتِ زندگی از آغا محمد قیصر الزماں (برادر عزت لکھنوئ ) بیادِ عزت لکھنوی، خصوصئ سو ینئر، صفحہ 41 ،اشاعت 1981، کراچی
  2. https://rekhta.org/ebooks/urdu-marsiya-pakistan-mein-zameer-akhtar-naqvi-ebooks اردو مرثیہ پاکستان میں، از ضمیر اختر نقوی ،تعارف عزت لکھنوی، صفحہ 420
  3. Ab Aaye Ho Baba ... Old Noha (Izzat Lakhnawi) - Youtube
  4. Izzat Lakhnawi reciting mersia Karbala aik aftab aur is ki tanvirain bhut - YouTube