عصبون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ایک عصبون کی تفصیلی ساخت جس میں جسد (cell body) میں موجود تحت الخلوی (sub cellular) بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
ایک عصبون—شکل میں دیے گئے انگریزی ناموں کے اردو متبادلات ذیل میں درج ہیں۔ انکی مزید وضاحت مضمون کے متن میں شامل ہے ۔۔۔
  1. Cell body = خلوی جسم -- مرکزی حصہ جہاں عموما مرکزہ ہوتا ہے
  2. Axon = محوار -- تار نما جسم جو پیغامات کی ترسیل کرتا ہے
  3. Dendrite = تغصن -- عموما دوسرے عصبون سے پیغامات وصول کرتا ہے
  4. Nucleus = مرکزہ خلیہ کا مرکزہ جہاں وراثی مادہ پایا جاتا ہے
  5. Myelin sheath = میالینی غلاف -- میالین سے بنا ہوا غلاف جو کہ محوار کے گرد ہوتا ہے
  6. Node of Ranvier = عقدہ رانویہ -- میالینی غلاف میں باقاعدہ وقفے
  7. Axon terminal = راس محوار -- محوار کا راس، جہاں وہ اکثر شاخدار ملتا ہے
  8. Schwann cell = شان خلیہ -- شان خلیہ ؛ جومحوار کے گرد میالینی غلاف تیار کرتا ہے

بنیادی طور پر تو یوں کہ سکتے ہیں کے عصبی یا دماغی نظام کے خلیات کو عصبون کہا جاتا ہے مگر طبی لحاظ سے بات اتنی سادہ نہیں کیونکہ دماغ میں صرف عصبون خلیات ہی نہیں پائے جاتے مزید اقسام کے خلیات بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے عصبون کی طبی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ ؛ عصبون دراصل عصبی نظام میں پائے جانے والے ایسے خلیات کو کہا جاتا جو ھجان پیدا کرنے کے قابل یعنی excitable ہوتے ہیں۔ انکو انکو انگریزی میں neuron یا neurone بھی کہا جاتا ہے۔

  • چند الفاظ
  • واحد --- عصبون (neuron)
  • جمع --- عصبونات (neurons)
  • متبادلات
  • عصبی خلیات (nerve cells)
  • عصبی ریشے (nerve fibers)

آسان خلاصہ[ترمیم]

  1. آسان سے الفاظ میں تو یوں کہـ سکتے ہیں کہ عصبون یا دماغی خلیہ ایک ایسا خلیہ ہوتا ہے کہ جو دماغ میں پیدا ہونے والے احکامات کو جسم کے ان تمام اعضاء تک پہنچاتا ہے جن سے کام لینا ہو۔ مثال کے طور پر اگر ایک ہاتھ کی کسی انگلی کو حرکت دیے کر قلم کو پکڑنا ہے تو دماغ سے اس کام کو انجام دینے کے لیۓ پیمامات عصبون کے لمبے تار نما خلیات سے ہوتے ہوئے انگلیوں کے عضلات (muscles) یا پٹھوں تک آتے ہیں اور ان دماغ کے ان احکامات کو پاکر انگلیاں مڑ کر قلم کو پکڑ لیتی ہیں۔ یہ پیغامات عام طور پر برقی شکل میں ہوتے ہیں۔
  2. اسی طرح عصبون ہی جسم کے تمام اعضاء سے اطلاعات لے کر دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ یعنی مثال کے طور پر اگر ہمارا ہاتھ باورچی خانے میں چاۓ کی پیالی تیار کرتے ہوئے گرم گرم برتن سے چھو جاۓ تو ہم فورا ہاتھ کو جھٹک کر الگ کرلیتے ہیں ۔ یہ بھی عصبون کا ہی کارنامہ ہے۔ عصبون یہ اطلاع کہ ہاتھ کسی بہت گرم چیز پر لگ گیا ہے، دماغ (یا مقامی عصبی مراکز) تک پہنچاتے ہیں اور ان کو پہچانتے ہوئے دماغ عصبون کے زریعۓ ہاتھ کے پٹھوں کو حرکت کرکے گرم برتن سے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے۔