علاء الدین حسین شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علاء الدین حسین شاہ
سلطانِ بنگال
شاہِ بنگال
معیاد عہدہ 1494ء - 1519ء
پیشرو شمس الدین مظفر شاہ
جانشین نصیر الدین نصرت شاہ
نسل نصیر الدین نصرت شاہ
وفات 1519ء
مذہب اسلام

علاء الدین حسین شاہ (بنگالی: আলাউদ্দিন হোসেন শাহ)؛ مدت حکومت: 1494ء – 1519ء)[1] عہد وسطی کے اواخر میں بنگال کے خود مختار سلطان تھے جنہوں نے حسین شاہی خاندان کی بنیاد رکھی۔[2] علاء الدین اپنے پیشرو حبشی سلطان شمس الدین مظفر شاہ کے قتل کے بعد تخت سلطنت پر متمکن ہوئے۔ مظفر شاہ کے عہد حکومت میں علاء الدین وزیر تھے۔ سنہ 1519ء میں علاء الدین کی وفات کے بعد نصیر الدین نصرت شاہ ان کے جانشین ہوئے۔

ابتدائی زندگی اور تاج پوشی[ترمیم]

حسین شاہ کا اصل نام سید حسین تھا۔ 1788ء کی تاریخ ریاض السلاطین سے معلوم ہوتا ہے کہ حسین شاہ شریف مکہ سید اشرف الحسینی المکی کے بیٹے تھے۔[3] ریاض السلاطین کے مصنف غلام حسین سلیم زیدپوری اور محمد قاسم فرشتہ دونوں نے انہیں سید لکھا ہے جس سے ان کے عرب نژاد ہونے کی تائید ہوتی ہے۔ نیز ان کے سکے پر بھی سلطان حسین شاہ بن سید اشرف الحسینی کندہ ہوتا تھا۔[3]

تاہم یہ بنگال کیسے پہنچے اور شمس الدین مظفر شاہ کے وزیر کیسے بنے یہ امور ہنوز پردہ خفا میں ہیں۔ غالباً وہ پہلے ضلع مرشد آباد کے گاؤں چاندپارہ میں مقیم تھے، کیونکہ وہاں حسین شاہ کے ابتدائی برسوں کے آثار ملتے ہیں۔ سنہ 1494ء میں اسی گاؤں میں سلطان حسین شاہ نے ایک مسجد بھی تعمیر کروائی تھی۔[3][4][5] نیز یہاں شیکر دیگھی نام کا ایک تالاب بھی حسین شاہ سے منسوب ہے۔[5]

ابتدا میں وہ خفیہ طور پر باغیوں کے ساتھ تھے لیکن بالآخر علانیہ طور پر ان کی سربراہی کرنے لگے اور موقع پاتے ہی قلعہ کا محاصرہ کر لیا۔ قلعہ میں مظفر شاہ اپنے چند ہزار سپاہیوں کے ساتھ محصور تھا، اسی اثنا میں سلطان مظفر شاہ کا قتل ہو گیا۔ سولہویں صدی عیسوی کا مورخ نظام الدین لکھتا ہے کہ سلطان مظفر کو حسین شاہ نے پائکوں (محل کے محافظوں) کی مدد سے قتل کروایا تھا۔ مظفر شاہ کے قتل کے بعد بنگال میں حبشی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔[1]

مذہبی رواداری[ترمیم]

علاء الدین حسین شاہ کا عہد حکومت اپنی رعایا کے تئیں مذہبی رواداری برتنے میں معروف ہے۔ تاہم آر سی مجمدار نے لکھا ہے کہ اڑیسہ کی مہموں میں اس نے کچھ مندر تباہ کیے تھے جس کا ورنداون داس ٹھاکر نے چیتنیا بھگوت میں تذکرہ کیا ہے۔[6] عہد وسطیٰ کے مشہور و معروف سنت چیتنیا مہاپربھو اور ان کے پیروکار علاء الدین کے عہد حکومت میں پورے بنگال میں بھکتی کی تبلیغ کیا کرتے تھے۔[7] جب حسین شاہ کو چیتنیا مہاپربھو کی مقبولیت کا علم ہوا تو اس نے اپنے قاضیوں کو ہدایت دی کہ مہاپربھو کو روکا نہ جائے، وہ جہاں جانا چاہیں انہیں اس کی اجازت ہے۔[6] کچھ عرصے بعد حسین شاہ کے انتظامی عملے میں موجود دو اعلی درجے کے ہندو افسران، دبیر خاص روپا گوسوامی اور صغیر ملک سناتن گوسوامی بھی چیتنیا مہاپربھو کے معتقدین میں داخل ہو گئے۔[7]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Majumdar, R.C. (ed.) (2006). The Delhi Sultanate, Mumbai: Bharatiya Vidya Bhavan, pp.215-20
  2. Sailendra Sen۔ A Textbook of Medieval Indian History۔ Primus Books۔ صفحات 120–121۔ آئی ایس بی این 978-9-38060-734-4۔
  3. ^ ا ب پ AM Chowdhury۔ "Husain Shah"۔ بہ Sirajul Islam؛ Ahmed A. Jamal۔ Banglapedia: National Encyclopedia of Bangladesh۔ Asiatic Society of Bangladesh۔
  4. Pratip Kumar Mitra۔ "Kherur Mosque"۔ بہ Sirajul Islam؛ Ahmed A. Jamal۔ Banglapedia: National Encyclopedia of Bangladesh۔ Asiatic Society of Bangladesh۔
  5. ^ ا ب "Chronological History of Murshidabad"۔ Independent Sultanate of Gauda۔ District Administration۔ مورخہ 2011-07-16 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-05-04۔
  6. ^ ا ب Majumdar, R.C. (ed.) (2006). The Delhi Sultanate, Mumbai: Bharatiya Vidya Bhavan, p.634
  7. ^ ا ب Majumdar, R.C. (ed.) (2006). The Delhi Sultanate, Mumbai: Bharatiya Vidya Bhavan, pp.513-4
ماقبل 
حبشی سلطنت
(شمس الدین مظفر شاہ)
سلطنت بنگال
حسین شاہی خاندان

1493–1519
مابعد 
نصیر الدین نصرت شاہ