غبطہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

غِبطہ سے (رشک)کے مجازی معنی مراد لیے جاتے ہیں۔
کسی شخص میں خوبی دیکھی اس کو اچھی حالت میں پایا اس کے دل میں یہ تمنا ہے کہ میں بھی ویسا ہوجاؤں مجھے بھی وہ نعمت مل جائے یہ حسد نہیں اس کو غبطہ کہتے ہیں جس کو لوگ رشک کہتے ہیں۔[1] حسد حرام ہے، احادیث میں اس کی بہت مذمت واردہوئی۔ حسد کے یہ معانی ہیں کہ کسی شخص میں خوبی دیکھی اس کو اچھی حالت میں پایا اس کے دل میں یہ آرزو ہے کہ یہ نعمت اس سے جاتی رہے اور مجھے مل جائے اور اگر یہ تمنا ہے کہ میں بھی ویسا ہوجاؤں مجھے بھی وہ نعمت مل جائے یہ حسد نہیں اس کو غبطہ کہتے ہیں جس کو لوگ رشک سے تعبیر کرتے ہیں۔[2] ﷲتعالیٰ نے فرمایا:جو لوگ میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں ان کے لیے نُور کے منبر ہوں گے، انبیا و شہدا ان پر غبطہ کریں گے۔[3]

حسدو غبطہ میں فرق[ترمیم]

حسد یہ ہے کہ تمنایہ کرے کہ یہ چیز اس کو مل جائے اور اس سے چھن جائے۔ غبطہ ورشک۔ جو چیز اس کے پاس ہے اسی چیز کی تمنا کرے۔ اس کی شریعت نے اجازت دی اور حسد سے روک دیا۔ کسی کی نعمت کے زوال کی تمنا کرنا حسد کہلاتاہے اور یہ حرام ہے اور کبھی کبھا ر حسد کا اطلاق غبطہ (رشک ) پربھی ہوتاہے۔ اس سے مراد کسی کی نعمت اپنے لیے بھی طلب کرناہے اسے رشک کہتے ہیں اس حدیث میں حسد کا یہی معنی مراد ہے اور یہ ایک اچھی تمنا ہے اور اس پر ثواب دیا جائے گا ۔

غبطہ اور احادیث[ترمیم]

اے اللہ ! اپنی صلوۃ اپنی رحمتیں اور برکتیں ان پر نازل فرما جو رسولوں کے سردار ہیں اور متقین کے امام ہیں، تمام نبیوں کے آخر ہیں سیدنا محمد جو تیرے بندے اور رسول ہیں خیر کے امام اور قائد ہیں، رسول رحمت ہیں(اللھم ابعثہ مقاما محموددا بغبطہ الاولون ولاخرون) اے اللہ ! ان کو ایسے مقام محمود پر فائز فرما جس پر تمام اولین اور آخرین رشک کریں۔[4] فرمانِ نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :کسی نے پوچھا کیا غبطہ نقصان دیتا ہے؟ فرمایا نہیں مگر اتنا جتنا کانٹے جھاڑی کو۔ غبطہ حلال ہے وہ یہ کہ کسی کی برائی تو نہ چاہے مگر خدا سے اس طرح کی نعمت اپنے لیے بھی مانگے اور اسی کو مناقشہ بھی کہتے ہیں اور اس پر بھی مجازاً کبھی اطلاق حسد ہوتا ہے جیسا کہ صحیحین میں آیا ہے ابن مسعود سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حسد (یعنی رشک) کرنا (جائز) نہیں ہے مگر دو آدمیوں کے بارے میں ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور وہ اس کو نیک کاموں میں (برابر) خرچ کرتا رہے اور دوسرا وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت دی ہو اور وہ اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور اس کو سکھاتا ہو۔
اس حدیث میں حسد سے مراد غِبْطَہ یعنی رشک ہے اور دوسرے کی نعمت کی اپنے لیے تمنا کرنا غبطہ کہلاتاہے جبکہ اس کی نعمت کے زوال کی تمنا نہ کی جائے۔ احمد نے قتادہ بن نعمان (رض) سے روایت کیا کہ وہ قریش کے پاس گئے اور ان سے بہت اچھا سلوک کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے قتادہ! قریش کو گالیاں نہ دینا۔ شاید کہ تو ان میں سے بعض کے مقابلے میں حقیر جانتے ہوں اور جب تو ان کو دیکھے تو ان پر رشک اور غبطہ کرنے لگے اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ قریش سرکش ہوجائیں گے تو ان کو اس رتبہ اور مقام سے آگاہ کرتا جو ان کو رب کریم کے پاس حاصل ہے۔ اسی لیے حدیث شریف میں فرمایا گیا حسد کرنا منافق کا کام ہے، مومن کا نہیں، مومن غبطہ یعنی رشک کرتا ہے اور حاسد حسد، (المومن یغبط والمنافق یحسد،)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بہارشریعت،ج3،حصہ 16،ص542
  2. الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراھیۃ، الباب الثالث والعشرون في الغیبۃ
  3. سنن الترمذي،کتاب الزھد،باب ماجاء في الحب في اللہ
  4. سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :906