غز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قزاقستان میں اغوز یابگو ریاست، 750-1055
اغوز ترک قومی نشان

* مسلمان جغرافیہ دانوں محمودکاشغری، رشید الدین اور ابوزید البلخی ترک قبائل کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ جو ترک قبائل بلاد اسلام کے قریبی ہمسائے تھے۔ ان میں ایک قبیلہ غز تھا۔ جسے اغوز بھی پکارا جاتا تھا اور اسی نسبت سے بلاد اسلام میں ترکی النسل قبائل کو اغوز کہا جاتا تھا۔ اغوز یا غز ْقبیلے نے دوسرے ترک قبائل کے ساتھ غالباً چوتھی اور پانچویں صدی ہجری درمیان اسلام قبول کر لیا تھا۔ (دیکھے ترک)

  • غز قبیلے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سلجوقی فرمانروا سلطان سنجر کے دور میں خراسان آئے تھے۔ سلطان سنجر نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ مگر جنگ میں اس کے لشکرکو شکست ہو گئی اور وہ خود بھی قید ہو گیا تھا۔ غزوں نے خراسان کے بعد غزنہ اور کرمان پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ یہ علاقے انہوں نے خسروشاہ غزنوی سے چھینے تھے۔ (منہاج سراج طبقات ناصری جلد اول، 964۔ 205۔ 145) مقامی حکمران ان سے مقابلے میں عاجز آ گئے تھے۔ سلطان جلال الدین خوارزم شاہ خطا سے لشکر لے کر آیا اور خوارزم ان سے خالی کریا۔ سلطان سیف الدین غوری نے غزوں کو نکالنے کی کوشش کی مگر لشکر غوری نے شکست کھائی اور وہ مارا گیا۔ بالاآخر سلطان غیاث الدین غوری نے غزوں سے غزنہ، کابل اور زابلستان خالی کروائے۔ (منہاج سراج طبقات ناصری جلد اول، 745۔ 536۔ 246) مگر غز افغانستان کے علاقے میں پہلے سے رہائش پزیر تھے اور مقامی حکمرانوں کے لشکروں میں شامل تھے۔ سلطان جہاں سوز کے لشکر میں بھی غز تھے اور سلطان سنجر سے مقابلے کے وقت دوسرے ترکی لشکر کے ساتھ غز بھی سلطان سنجر کے ساتھ جاملے۔ شار اور سقران قبیلے کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ بھی غز تھے۔ خاص کر شاروں سے غوریوں کے اچھے تعلقات تھے۔ بعد کے دور میں بھی غز غوریوں کے لشکر میں شامل تھے۔ سلطان جلال الدین علی کے لشکر میں بھی غز شامل تھے۔ (منہاج سراج طبقات ناصری جلد اول، 526۔ 396۔ 807)
  • ہنوں کو افغانستان سے نکالنے میں ترکوں نے ساسانی فرمانروا کی مدد کی تھی۔ مگر جلد ہی اس علاقے پر ان کا اقتدار قائم ہو گیا تھا۔ برہمن شاہی یا ہندو شاہی سے پہلے جو خاندان حکمران تھا اس کو ترک بتایا جاتا

ہے۔ اس کی تصدیق اس طرح ہوتی ہے کہ ان کے ناموں میں کلمہ تگین شامل تھا۔ اس خاندان کی یاد گار زابلستان میں تگین آباد شہر تھا۔ جو انہوں نے آباد کیا تھا۔ اس کے محل وقوع کا اب تعین نہیں کیا جاسکا ہے۔ غزنی کا ابتدائی نام گنجہ یا غزنک بتایا جاتا ہے یہ بھی غالباً غز کا معرب ہے اس کو بھی غالباً غزوں نے بسا یا تھا۔ (دیکھے کشتری خاندان)(غزنی۔ معارف اسلامیہ)

  • برصغیر میں آباد گوجروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہنوں کے ہم نسل اور ان کے بعد آئے تھے۔ غز جو غرز بھی کہلاتے تھے غالب امکان یہی ہے کہ یہ گجر یا گوجر بدل گیا ہے۔ کیوں کے ہند آریائی میں ’غ‘ ’گ‘ میں بدل جاتا ہے۔ (دیکھے گوجر)