غلام احمد فروغی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غلام احمد فروغی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1861  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تجارا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1919 (57–58 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
رہائش بھوپال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

حافظ غلام احمد فاروغی (1861ء تا 1919ء) ریاست بھوپال میں عربی اور فارسی زبان کے ایک نامور عالم تھے۔ انہیں سب سے پہلے سلیمانیہ اسکول میں "مولوی سربراہ" کے طور پر تعینات کیا گیا اور پھر انہوں نے جہانگیریہ اسکول اور بطور استاد پڑھانا شروع کیا۔ یہ دونوں اسکول اپنے معیار کے لحاظ سے بھوپال میں بہت مشہور تھے۔

سوانح حیات[ترمیم]

غلام احمد تجارہ میں 22 محرم الحرام 1278 ہجری بمطابق 1861 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ 1867ء میں چھ سال کی عمر میں وہ بھوپال اپنے والد غلام منصور کے ساتھ آئے۔ انہوں مے نو سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اپنے والد کے علاوہ انہوں نے مولانا فدا علی فارغ مرادآبادی سے پڑھنا شروع کیا۔ انہیں بھوپال میں جہانگیرآباد کے مدرسہ فارسی میں بطور استاد مقرر کیا گیا اور اس کے بعد سلیمانیہ اسکول میں 'مولوی سربراہ' قائم کیا گیا۔انہوں نے جہانگیریہ اسکول میں بھی پڑھایا۔[1]

گرچہ وہ ایک معالج کے طور پر مشہور نہیں ہیں پھر بھی انہوں نے بہت سے مریضوں کا علاج کیا۔ محلہ ابراہیم پورہ میں ان کی ادویات کی دکان ہےاور وہ بہت سی مرکب ادویات تیار کرتے ہیں۔ ان کی تیارکردہ بہت سی ادویات کا ذکر حاکم سید کرم حسین کی "بیاض" میں موجود ہے۔

کتابیں[ترمیم]

ایک عالم ہونے کے ناتے انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں جن میں سے کچھ کتابیں ٹکسٹ بکس کے طور پر اسکولوں میں تجویز کی گئیں۔ انہوں نے پانچ عدد علمی لغتیں بھی لکھیں جن مینں خلیق باری طرز میں فارسی و عربی خط تحریر، ہندوائی الفاظ اور جملے امیر خسرو کی شان میں شامل تھے۔

پانچ لغتیں: -فیض شاہ جہانی[2]

-نصاب بے نظیر

-حیات عزیزی

-قادر نامہ فاروغی[3]

-نظر سلطانی

شادی اور بچے[ترمیم]

ان کی پہلی شادی اجمیر کے کوتوال قاضی وحید الدین کی بیٹی، امتیاز بیگم سے ہوئی۔ یہ شادی 12 سال کی عمر میں تجارہ میں 22 شوال 1390 ہجری بمطابق 1873 عیسوی کو وقوع پزیر ہوئی۔ اس شادی سے محمد زبیر، ابوسلام، مختار جہان، بلقیس بیگم، مرغوب النساء اور مقصود جہاں پیدا ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Hakim Syed Zillur Rahman۔ "Chapter: Ghulam Ahmad Faroghi"۔ Hayat Karam Husain۔ Aligarh/India: Ibn Sina Academy of Medieval Medicine and Sciences۔ صفحات 218–222۔ آئی ایس بی این 978-81-906070-5-6۔
  2. Faiz Shah Jahani by Ghulam Ahmad Faroghi, Mufid-i Aam Press, Agra, 1308 AH / 1890 AD
  3. Qadir Nama Faroghi by Ghulam Ahmad Faroghi, Nizami Press, Kanpur, 1318 AH / 1900 AD