فاطمہ نسومر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فاطمہ نسومر
(قبیلیہ میں: لالا فاطمة نسومر ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Portrait-Fatma N'Soumer.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 10 جولا‎ئی 1830[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عین الحمام  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1863 (32–33 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بنی سلیمان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Algeria.svg الجزائر[1]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فعالیت پسند[1]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان قبائلی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں فرانس کی فتح الجزائر  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فاطمہ نسومر وہ مجاہدہ تھی جس کی داستان الجزائر کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی ہے، ایک ایسی جنگجو جسے خولة_الجزائر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے وہ بہادر خاتون جس نے فرانسیسی استعماری فوج کا جوانمردی سے مقابلہ کیا، اور فرانسیسی جرنیلوں کے مقابلے کے لئے 25000 کا لشکر تیار کیا۔

فاطمہ نسومر کی داستانِ جدوجہد[ترمیم]

اس مجاہدہ کا اصل نام "فاطمہ سید احمد" ہے، جو 1830 میں الجزائر کے مشرق میں واقع "عین الحمام" نامی گاؤں میں پیدا ہوئیں، فاطمہ ایک خالص دینی گھرانے میں پیدا ہوئیں اور کم عمری میں ہی قرآن حفظ کیا، اور اسلامی تعلیمات سے مستفید ہوئیں۔ 1850 میں فاطمہ نسومر نے فرانسیسی استعمار کے خلاف جنگ کا اعلان اس وقت کیا جب وہ فقط "بیس سال" کی تھیں، اور الجزائر میں جاری شریف_بوبغلة کی مزاحمتی تحریک میں شامل ہوئیں، اور ناث_إيراثن گاؤں پر ہونے والے فرانسیسی حملے کو پسپا کرنے والے جتھے کی قیادت کی، جس سے بے شمار نوجوانوں کو مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے کی ترغیب ملی۔

اپنی غیر معمولی قائدانہ صلاحیت کی وجہ سے جیسا کہ اوپر بتایا گیا فاطمہ نسومر" نے سن 1852 میں اس خطے میں جاری مزاحمتی تحریک کی قیادت کی، جس کی وجہ سے فرانسیسی فوج کو اپنی تعداد میں اِضافہ کرنا پڑا۔ چنانچہ فرانسیسی فوج نے جنرل_رونڈون_یچیکارٹ کی سربراہی میں "فاطمہ نسومر" کی مزاحمتی تحریک کو کچلنے کا آغاز کیا، اور دونوں گروپوں میں ایک زبردست جھڑپ ہوئی، چونکہ فرانسیسی استعماری فوج کو جدید اسلحہ اور تربیت یافتہ فوج کی مدد حاصل تھی، اس لئے اس جھڑپ میں فاطمہ نسومر کے لشکر کے 800 سو مجاہد شہید ہوگئے۔ جس کی وجہ سے فاطمہ نسومر کو حکمت عملی کے ساتھ "تاخليجت ناث عيسو" کے علاقے تک پیچھے ہٹنا پڑا۔ فرانسیسی استعمار نے "فاطمہ نسومر" کا پیچھا کرتے ہوئے اُس کی پسپائی کا ناجائز فائدہ اُٹھایا، اور ہمیشہ کی طرح ایک گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا۔ لہذا اُنہوں نے بے شمار مکانات کو تباہ کردیا اور متعدد دیہات کے باشندوں کی نسل کشی کی اور یہاں تک کہ ان کے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔

اس مدت کے دوران میں "فاطمہ نسومر" مزاحمتی جنگجوؤں کے گروہ تشکیل دیتی رہی، جو مختلف معرکوں میں فرانسیسی فوج کو تقصان پہنچاتے رہے۔ "فاطمہ نسومر" اور فرانسیسی فوج کے مابین آخری معرکہ الجزائر کے شہر قسطنطنیہ میں ہوا۔ فرانسیسی جنرل نے خود فوج کی قیادت کی، اور " فاطمہ نسومر "کی فوج کے ساتھ ایک زبردست جنگ ہوئی، لیکن دونوں لشکروں کے مابین بڑے فرق کی وجہ سے فرانسیسی فوج نے یہ جنگ جیت لی۔

وفات[ترمیم]

فرانسیسی فوج نے "فاطمہ نسومر"کو گرفتار کر لیا، اور فوجی عدالت کے ذریعے فرانسیسی فوج پر حملے کرنے اور نقصان پہنچانے کے جُرم میں "" سات سال "" کی قید سُنائی گئی، اور 33سال کی عمر میں قید کے دوران میں ہی اس مجاہدہ کی وفات ہوئی۔ اس مجاہدہ کی مزاحمتی تحریک کا عرصہ تقریباً دو سے ڈھائی سال کا ہے، اس قلیل مدت میں بھی اس مجاہدہ نے فرانسیسی فوج کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://www.oxfordreference.com/view/10.1093/acref/9780195382075.001.0001/acref-9780195382075 — مدیر: ایمائنول کواکو اور ہینری لوئس گیٹس — عنوان : Dictionary of African Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریسISBN 978-0-19-538207-5