فرزانہ باری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فرزانہ باری
فرزانہ باری
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 7 مارچ، 1957
قومیت پاکستان
عملی زندگی
مادر علمی یونیورسٹی آف سسیکس، مملکت متحدہ
پیشہ استاد، سابقہ ڈائریکٹر جینڈر سٹدیز قائد اعظم یونیورسٹی
کارہائے نمایاں سماجی کارکن، فیمنسٹ، رکن وومین ڈیموکریٹک فرنٹ اور عوامی ورکرز پارٹی

فرزانہ باری (ولادت: 7 مارچ 1957ء) ایک پاکستانی استاد، فیمنسٹ اور انسانی حقوق کی علمبردار کارکن ہیں۔ وہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہء جینڈر سٹڈیز کی سابقہ ڈائریکٹر رہ چکی ہیں۔ [1][2][3]

پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

فرزانہ باری نے 25 سال سے زائد عرصے پر محیط جینڈر سٹڈیز کے شعبہ میں مہارت حاصل کی ہے۔ انھوں نے یونیورسٹی آف سسیکس، مملکت متحدہ سے سوشیالوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی جس میں ان کی تحقیق کا موضوع تھا "خاندانی نظام میں عورت کا مقام اور ملازمت کے اثرات"۔ وہ خواتین کے معاشی، سیاسی اور سماجی حقوق کے تحفظ کی خاطر پالیسی سازی میں بھی اپنا کردار نبھاتی رہی ہیں۔ ان کی حالیہ تحقیق کا موضوع خواتین کی سیاست میں یکساں نمائندگی تھا۔[4][5][6] وہ پاکستان میں پہلے جینڈر سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے بنانے والوں میں سے ہیں۔[7]

انسانی حقوق اور حقوق نسواں[ترمیم]

فرزانہ باری ایک انسانی حقوق کی کارکن ہیں اور معاشرے میں انصاف اور صنفی برابری کی قائل ہیں۔[8][9] انھوں نے پدر شاہی کے زیر اثر پنپنے والے جرگہ نظام کی مخالفت کی۔[10][11][12]

2013ء میں فرزانہ باری نے ایک تحقیق کی جس کے مطابق گیارہ ملین خواتین کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ انھیں شناختی کارڈ کی تیاری تک رسائی نہیں دی گئی تھی۔[13] جنوری 2014ء میں انھوں نے کوہستان میں ہونے والے تشدد کے واقعے کی تفتیش و تحقیقات کی درخواست کی جس میں بےگناہ لڑکیوں کو ایک شادی میں ناچنے کی سزا کے طور پہ موتر کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔[14][15][16] ان کی ان کوششوں کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے مجرموں کی نشاندہی کی اور انھیں عمر قید کی سزا دی گئی۔[17][18]

اگست 2015ء میں انھوں نے ضلع قصور میں 300 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے کے خلاف احتجاج کیا جنھیں 2006 سے 2014 تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔[19] مئی 2016ء میں انھوں نے خاوندوں کی طرف سے بیویوں کی پٹائی کو قانونی قرار دیئے جانے کے خلاف آواز بلند کی اور اسے غیر انسانی فعل قرار دیا۔[20] پاکستان میں غیرت کے نام پہ قتل کئے جانھے کے واقعات کے خلاف فرزانہ باری سرگرم رہیں اور اس کے خلاف بل پاس کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔[21][22][23][24][25]

وومین ڈیموکریٹک فرنٹ

فرزانہ باری وومین ڈیموکریٹک فرنٹ کی رکن ہیں جوخواتین کی ایک فیمنسٹ سوشلسٹ جمہوری تنظیم ہے۔[26][27] بطور ڈبلیو ڈی ایف کارکن انھوں نے عورت مارچ منعقد کرانے میں دیگر کارکنان کے ساتھ کام کیا۔[28]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Dawn.com، Naveed Siddiqui (21 اکتوبر 2016). "Kohistan video case: Girls declared alive by SC had actually been killed, says Bari". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 
  2. "Discrimination: For women in rural areas, healthcare not a basic right". The Express Tribune (بزبان انگریزی). 7 جولائی 2013. 
  3. Welle (www.dw.com)، Deutsche. "Young Pakistani girls learn to speak up for their rights | DW | 9. نومبر 2011". DW.COM. 
  4. "Democracy, the Political and Social Movements in Europe and South Asia: An Intercontextual Dialogue" (PDF). German Academic Exchange Service (DAAD). 
  5. "Call for greater role of women in politics". The Express Tribune (بزبان انگریزی). 31 اگست 2017. 
  6. Zakaria، Rafia (21 ستمبر 2016). "The thorny question of quotas". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 
  7. "Brother found guilty of murdering Pakistani model in 'honor killing'". NBC News (بزبان انگریزی). 
  8. Pakistan Liberation Movement interview with Dr. Farzana Bari. Vimeo. اخذ شدہ بتاریخ 9 مارچ 2016.  Check date values in: |access-date= (معاونت)
  9. "WDF pays tribute to women who stood up against dictatorship". The Nation (بزبان انگریزی). 16 فروری 2020. 
  10. Blind justice: Reforms can make jirgas more representative، Tribune.com.pk، 27 فروری 2014
  11. Pakistan clerics say women don't need to cover up، Enca.com، 20 اکتوبر 2015
  12. "Decree controversy: Civil society activists seek abolition of CII". The Express Tribune (بزبان انگریزی). 14 مارچ 2014. 
  13. "Taliban, taboos bar millions of women from Pakistan vote". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 25 اپریل 2013. 
  14. Rights activist Farzana Bari for reopening of Kohistan video case، Geo.tv، 29 جنوری 2014
  15. Reporter، The Newspaper's Staff (7 اپریل 2017). "SC asks Nadra to verify Kohistan girls' identity". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 
  16. "Dr. Farzana Bari accuses ANP leaders and KP police for protecting the people behind Kohistan killings". Daily Times. 2 اپریل 2019. 
  17. Bhatti، Haseeb (2 جنوری 2019). "Girls in 2011 Kohistan video were killed, Supreme Court told". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 
  18. "Three Sentenced for Years-old 'Honor' Killings". Newsweek Pakistan. ستمبر 6, 2019. 
  19. Luavut Zaid, INTERVIEW: ‘This has gone on for a long, long time’ –Dr Farzana Bari، Pakistantoday.com، 15 اگست 2015
  20. Tim Craig, Pakistani husbands can ‘lightly beat’ their wives, Islamic council says، Washingtonpost.com، 27 مئی 2016
  21. "Pakistani woman's body found by roadside after marriage deal goes awry". South China Morning Post (بزبان انگریزی). 16 جولائی 2020. 
  22. Raja، Katharine Houreld, Shafait (29 مئی 2014). "Pakistan PM: honor killing of pregnant woman was 'unacceptable'". Reuters (بزبان انگریزی). 
  23. Pakistan unanimously passes legislation to try to stop 'honor killings'، Pri.org، 6 اکتوبر 2016
  24. "Brother found guilty of murdering Pakistani model in 'honor killing'". NBC News (بزبان انگریزی). ستمبر 27, 2019. 
  25. "Afzal Kohistani: 'Honour killing' whistleblower shot dead". BBC News. 7 مارچ 2019. 
  26. "WDF holds two-day political school". Women Democratic Front. 23 جون 2019. 
  27. "Islamabad's Women's Day مارچ was met with violent opposition from conservative agitators · Global Voices". Global Voices (بزبان انگریزی). 13 مارچ 2020.  [مردہ ربط]
  28. Yasin، Aamir (11 مارچ 2020). "Aurat مارچ organisers demand judicial probe into Islamabad stone pelting incident". DAWN.COM (بزبان انگریزی).