فکنگ، آسٹریا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فکنگ، آسٹریا
(جرمن میں: Fuckingخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ نام (P1448) ویکی ڈیٹا پر
Fucking, Austria, street sign cropped.jpg 

Lage Fucking.gif 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Austria.svg آسٹریا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک (P17) ویکی ڈیٹا پر[1]
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 48°04′00″N 12°51′00″E / 48.066667°N 12.85°E / 48.066667; 12.85  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر
بلندی 478 میٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سطح سمندر سے بلندی (P2044) ویکی ڈیٹا پر
مزید معلومات
اوقات متناسق عالمی وقت+01:00 (معیاری وقت)،00 (روشنیروز بچتی وقت)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
رمزِ ڈاک
5121  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈاک رمز (P281) ویکی ڈیٹا پر
فون کوڈ 06278  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی ڈائلنگ کوڈ (P473) ویکی ڈیٹا پر
جیو رمز 2779155  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر

فک کنگ (جرمن تلفظ: [ˈfʊkɪŋ] ( سنیے), جیسے "بکنگ") ٹارسڈوف کی بلدیہ میں ایک آسٹرین گاؤں[2] ہے [3] ۔یہ سالزبرگ سے 33 کلومیٹر شمال میں جرمن بارڈ کے پاس ہے۔

محض 104 لوگوں پر مشتمل آبادی کے باوجود، اس گاؤں نے اپنے غیرمعمولی نام کی وجہ سے ، شہرت حاصل کرلی ہے، سڑکوں پر اس کے نام والے بورڈ کافی مرتبہ چوری ہو چکے ہیں۔

قیام کی تاریخ[ترمیم]

قیاس کیا جاتا ہے کہ چھٹی صدی عیسوی میں، باواریا کے رئیس فوکو نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔ اس گاؤں کے قیام کو پہلی بار 1070ء میں ریکارڈ کیا گیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالپرتس ڈے فونسن گین یہاں کا رئیس تھا۔ گاؤں کے نام کے حروف تہجی وقت کے ساتھ ساتھ بدلنے کے آثار بھی تاریخ میں ملتے ہیں۔ مثلا 1070ء میں اس کو "وی" سے لکھا جاتا رہا، 1030ء میں "ایف" کے ساتھ لکھا جانا شروع کر دیا گیا۔ فوکنگ سے مراد "فوکو کے لوگ" ہیں۔

آبادی[ترمیم]

آسٹرین مردم شماری 2001 کے مطابق  گاؤں کی آبادی  93 لوگوں پر مشتمل تھی ۔ 2005ء میں آبادی 104 ہوگئی تھی جو 32 گھروں میں رہائش پزیر تھے۔

نام[ترمیم]

فوکنگ اپنے انگریزی حروف سے لکھے جانے والے لفظ "فک" کی وجہ سے مقبولیت حاصل کر گیا ۔

جنگ عظیم دوم کے دوران، برطانوی اور امریکی فوجیوں نےجب سالزبرگ کے قریب پڑاؤ کیا تو وہ اس نام سے بہت محظوظ ہوئے، کیونکہ انگریزی میں یہ ایک گالی کے مترادف تھا۔ گاؤں کے رہنے والے اس نام کے انگریزی مطلب سے واقف نہیں تھے۔ اس کے بعد سے، گاؤں میں سیاحوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔

مقبولیت اور بدنامی[ترمیم]

فکنگ کا گلیاتی نقشہ

ایک گائیڈ کے بقول "گاؤں میں خاص طور پر  برطانوی سیاحوں  میں مقبول ہے۔ کیونکہ جرمن سیاح سالزبرگ میں موزارٹ کی رہائش دیکھنا چاہتے ہیں، جاپانیوں کوبراناؤ میں  ایڈولف ہٹلر کی جائے پیدائش میں دلچسپی ہے، مگر برطانوی صرف  Fucking جانا چاہتے ہیں۔[4] علاقہ میں موجود گیسٹ ہاؤس کی منیجر آگسٹینا لنڈل باؤر نے بتایا کہ علاقہ میں، جھیلیں، جنگلات اور دیگر پرفضا مقامات ہیں، مگر برطانوی خواتین کو اس وقت بہت مایوسی ہوتی ہے جب ان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ "فکنگ کا کوئی پوسٹ کارڈ نہیں ہے"۔[5]

سڑک کنارے لگے فکنگ کے نام سے بورڈوں کی چوری ایک واحد جرم ہے جس کے ارتکاب کی رپورٹ درج کروائی جاتی رہی ہے۔ پولیس اداروں کا کہنا ہے کہ ایسے چوری شدہ بورڈ برطانیہ اور امریکا میں فروخت کئے جاتے ہیں۔ ایک چوری شدہ بورڈ کی جگہ نیا لگانے پر قریب 800 یورو کاخرچہ ہوتا ہے۔ اور سال میں 7 سے 10 بورڈ چوری ہونا ایک عام بات ہے۔ بلدیہ کمیٹی کو نام تبدیل کرنے کی گذارشات موصول ہوئی تھیں ، مگر ان کا موقف یہ ہے کہ اس نام کی تاریخی اہمیت کی وجہ سے اس کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

چوری کی ایک لہر اٹھی ، ایک ہی رات میں گاؤں کے گرد لگے سبھی بورڈ چوری ہو گئے ۔پھر اگست 2005 میں ، لگائے گئے بورڈ وں کو سڑک میں گہری کھدائی کر کے مضبوطی کے ساتھ ویلڈ کر دیا گیا۔بلدیہ حکام کو یقین ہے کہ یہ کام انگریزی زبان بولنے والے سیاحوں کا ہے۔ پولیس کمانڈر شمٹز برگر کا کہنا تھا کہ وہ انگریزی بولنے والے چور سیاحوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا چاہتے ہیں ۔

گاؤں کے جوزف نامی رہائشی کے انٹرنیٹ کے ذریعہ آئی لو فکنگ ان آسٹریا کے نعرے والی ٹی شرٹ بیچنا شروع کی، اور اس کے بقول اس نے 2014 تک، قریب 4000 شرٹس بیچی تھیں۔ وہ اس کام سے بہت خوش تھا اور ویانا میں بھی ایک شاخ کھولنے کا خواہشمند تھا۔

جولائی 2009 ء میں ، بلدیہ نے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ گاؤں گا نصب سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے تاکہ ، سیاح ، فکنگ بورڈ کے سامنے ، سرعام جماع نہ کریں ۔ گاؤں کے میئر فرانز مینڈل نے کہا"ہم کو اپنے گاؤں کے نام میں کوئی مزاح نظر نہیں آتا ۔ہم کسی کو ضرر پہنچانا چاہتے ۔ ہم صرف چاہتے ہیں کہ ہمیں امن اور سکون سے رہنے دیا جائے ، اور میڈیا ہمارے گاؤں کے نام کی بلاوجہ ، تضحیق نہ کرے "۔

2009 میں ، یورپی یونین کی ٹریڈ مارک ایجنسی نے ایک کمپنی کو فکنگ ہیل نامی بیئر فروخت کرنے سے منع کیا۔ اس کمپنی نےفیصلہ کے خلاف اپیل کی ، کہ اس کا نام آسٹریا کے گاؤں سے منسوب ہے، جس پر اس کو اجازت دے دی گئی ۔

تبدیلی نام کی افواہیں[ترمیم]

2012ء میں افواہیں گردش میں رہیں کہ گاؤں کا نام تبدیل کرنے کے لئے، ریفرنڈم کیا جاریا ہے، جب میڈیا نے حکام سے رابطہ کیا تو انہوں نے تمام افواہوں کی تردید کی۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

  • مقامات کے غیر معمولی نام


حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]