فیروز خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فیروز علی خان
Feroz Ali Khan
فائل:Feroz khan.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 25 ستمبر 1939  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بنگلور   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 27 اپریل 2009 (70 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بنگلور   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پھیپھڑوں کا سرطان[*]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
رہائش ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بھارتی
نسل افغان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نسل (P172) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
شریک حیات سندری (1965–1985)
اولاد فردین خان (بیٹا)
لیلی خان (بیٹی)
عملی زندگی
پیشہ اداکار، فلم ایڈیٹر، پروڈیوسر، ڈائریکٹر
مادری زبان ہندی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان ہندی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
سالہائے فعالیت 1960–2007
اعزازات
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین معاون اداکار (عن عمل:Aadmi Aur Insaan) (1971)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر


بالی وڈ کے نامور اداکار۔ بنگلور میں پیدا ہوئے۔ والد پٹھان جب کہ والدہ ایرانی نسل سے تعلق رکھتی تھیں۔ بنگلور سے بمبئی آئے تاکہ فلموں میں کام کر سکیں۔

فلمی زندگی[ترمیم]

فلمی کریئر کی ابتداء دوسرے درجے کی فلموں میں بطور معاون اداکار کے شروع کی تھی لیکن فلم اونچے لوگ میں ان کی اداکاری کو کافی سراہا گیا اور انہیں اوّل درجے کی فلمیں ملنے لگیں۔فلم آدمی اور انسان میں انہیں ان کی اداکاری کے لیے بطور معاون اداکار پہلا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔

ہدایتکاری[ترمیم]

خان نے خود کو محض اداکاری تک محدود نہیں رکھا انہوں نے فلمیں بھی پروڈیوس کیں اور ہدایت کاری کےمیدان میں بھی اپنا لوہا منوا لیا۔ اگر یوں کہا جائے کہ بہ حیثیت ہدایت کار اور فلمساز وہ زیادہ کامیاب تھے تو یہ کچھ غلط نہیں ہو گا۔انیس سو اسی میں انہوں نے فلم قربانی بنائی یہ فلم ان کے کرئیر کی سب سے کامیاب اور باکس آفس ہٹ فلم تھی اس میں انہوں نے پاکستانی گلوکارہ نازیہ حسن سے ایک گیت گوایا ’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے‘ یہ نغمہ بہت ہی مقبول ہوا۔اس فلم کے بعد انہوں نے کئی کامیاب فلمیں بنائیں۔انیس سو چھیاسی میں انہوں نے جانباز بنائی۔اس کے بعد فلم دیا وان جو بہت ہی مقبول ثابت ہوئی اس فلم میں انہوں نے ونود کھنہ کے ساتھ اداکاری بھی کی۔ونود کھنہ کے ساتھ ان کی یہ دوسری کامیاب فلم تھی پہلی فلم قربانی تھی۔لیکن ان کی فلم یلغار کے بعد انہوں نے فلمسازی سے بریک لے لیا۔

آخری عمر[ترمیم]

ہی میں انہوں نے کامیڈی فلم ' ویلکم ' میں کام کیا۔یہ ان کی آخری فلم تھی اس کے بعد سے وہ مستقل بیمار رہنے لگے۔ان کے آخری وقتوں میں ان کے بیٹے فردین خان برابر ان کے ساتھ رہے۔اپنے والد کی تیمارداری کی وجہ سے فردین نے کوئی فلم سائن نہیں کی ۔فیرو خان کو فلمی صنعت میں ان کی کارکردگی کے لیے سن دو ہزار میں فلم فیئر نے لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

سٹائل[ترمیم]

خان کو جانوروں سے بہت محبت تھی اور اسی لیے ان کی ہر فلم میں کوئی نہ کوئی جانور ضرور ہوتا تھا۔خان کا اداکاری کا اپنا انداز تھا۔جس طرح آج کل سلمان خان اپنے سٹائل کے لیے مشہور ہیں اسی طرح کسی وقت فیروز خان جانے جاتے تھے۔خان نے اپنی پوری زندگی بہت ہی شاہانہ انداز میں گزاری۔

  1. آرکیو یو آر ایل: http://web.archive.org/web/20090602065810/http://www.india.com:80/entertainment/movies/bollywood_legend_feroz_khan_dies_70_4382 — حوالہ یو آر ایل: http://www.india.com/entertainment/movies/bollywood_legend_feroz_khan_dies_70_4382
  2. حوالہ یو آر ایل: http://www.britannica.com/EBchecked/topic/1556489/Feroz-Khan
  3. "Light a Candle". Gratefulness.org. اخذ کردہ بتاریخ 2017-04-17.