محمد اجمل خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ومعروف ماہر نباتیات.جنوری 2017 ء میں ڈاکٹر اجمل خان نے وائس چانسلر کا منصب سنبھالنے کے بعد جامعہ میں داخلوں،امتحانات،سیکیورٹی،ملازمین کی تعیناتیوں اور مالی وانتظامی امور میں بہت سی اہم تبدیلیاں کیں ہیں جن سے تدریس وتحقیق میں خاطر خواہ بہتری آئی۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر اجمل خان یکم جولائی 1952 ء کو پیدا ہوئے، سرکاری اسکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعدجامعہ ملیہ کالج سے انٹر کیا،1970 ء میں بی ایس سی آنرز(باٹنی) اور1974 ء میں جامعہ کراچی سے ہی ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی

تدریس[ترمیم]

1975 ء میں جامعہ کراچی میں بحیثیت ریسرچ آفیسر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور 1977ء میں بحیثیت لیکچرررتعینات ہوئے،1985 ء میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے جبکہ 1989 ء میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور 1996 ء میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔اوہائیویونیورسٹی امریکا سے 1985 ء میں پی ایچ ڈی کیا اور 2010 ء میں جامعہ کراچی سے ڈی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر اجمل خان نے اپنے طویل تدریسی وتحقیقی کیرئیر میں بیشمار اعزازات حاصل کیے اور مختلف بین الاقوامی جامعات چین،جرمنی،قطر،سعودی عرب،دبئی،برطانیہ اور امریکا میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیں۔

اعزازات[ترمیم]

صدر پاکستان نے ڈاکٹر اجمل خان کو ان کی سائنسی خدمات پر 2001 ء میں تمغہ حسن کارکردگی اور 2007 ء میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔کامسٹک کے مطابق ڈاکٹر اجمل خان کا شمار اسلامی دنیا کے پانچ بڑے ماہر نباتیات میں ہوتاہے۔ڈاکٹراجمل خان گذشتہ 44 سالوں سے تدریس وتحقیق کی سرگرمیوں میں ہمہ وقت مصروف تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان 2001 ء سے پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے منتخب فیلو ہیں جبکہ 2004 ء سے دی ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز اور2011 ء سے اسلامک اکیڈمی آف سائنسز کے منتخب فیلو ہیں۔ڈاکٹراجمل خان کو چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی جانب سے اعزازی پروفیسر (Adjunct)کا درجہ تفویض کیا گیا۔ہائرایجوکیشن کمیشن پاکستان نے ان کو ڈسٹینگوشڈنیشنل پروفیسر کے اعزاز سے نوازاجبکہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز نے اپنا سب سے بڑا اعزاز ڈسٹینگوشڈپروفیسر آف دی ائیر 2008 ء دیا۔

خدمات[ترمیم]

ڈاکٹر اجمل خان کی زیر سرپرستی ہائرایجوکیشن کمیشن اور جامعہ کراچی کے تعاون سے انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلو فائٹ یوٹیلائزیشن کا قیام عمل میں لایا گیا،جس کا بانی ڈائریکٹر بھی ان کو مقررکیا گیا اور 2009 ء سے انسٹی ٹیوٹ ہذا کی یونیسکوچیئر کے سربراہ بھی رہے۔مذکورہ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا مقصد ہیلوفائٹ ریسرچ کے لیے معاونت فراہم کرنا ہے۔ڈاکٹر اجمل خان کی ٹیم نے انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلو فائٹ یوٹیلائزیشن میں شورزدہ اور بنجر زمینوں پر اگنے والے غیر روایتی چارے پر کامیاب تحقیق کی جس کو قومی سطح پیٹنٹ(Patent)کیا گیا۔نیز اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تھر کے علاقے میں جدید ٹیکنالوجی سے ایک کامیاب پائلٹ پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیاجس کی مدد سے قحط سالی سے متاثرہ علاقوں میں بھی یہ چارہ اُگایا جاسکتا ہے۔جامعہ کراچی سے بحیثیت میریٹوریس پروفیسر ریٹائر ہونے کے بعد2012 ء میں ڈاکٹر اجمل خان قطرشیل پروفیسریل چیئر کے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پروگرام میں تعینات کیے گئے اورفوڈ سیکیورٹی پروگرام قطر یونیورسٹی میں بطورکوآرڈینیٹر تعینات ہوئے۔سینٹر برائے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ قطر یونیورسٹی کے قیام کے لیے ان کا کلیدی کرداررہاہے اور فوڈ سیکیورٹی پروگرام کے سربراہ بھی رہے ہیں۔

تصنیفی کام[ترمیم]

ڈاکٹر اجمل خان نے اب تک ایک درجن سے زائد کتابیں اور400 سے زائد تحقیقی مقالے تحریر کیے جن کا مجموعی امپیکٹ فیکٹر250سے زائد،RG انڈیکس۔40.65،H۔ انڈیکس62 اور10۔Iانڈیکس 200ہے۔نیز پروفیسر خان نے تاحال 04 تحقیقی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے اورآپ کی تحقیق کااندازہ 15000 سے زائد مقالوں کے حوالہ جات سے لگایا جاسکتا ہے۔

وفات[ترمیم]

پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب 4 مئی 2019 کو حرکت قلب بندہوجانے کے باعث آغاخان اسپتال میں انتقال کرگئے۔ان کی نمازجنازہ جامعہ کراچی کی جامع مسجد ابراہیم میں بعد نماز عصر اداکی گئی۔بعد ازاں انہیں جامعہ کراچی کے قبرستان میں سپردخاک کیا گیا

حوالہ جات[ترمیم]

کامران اعظم سوہدروی